"ہاورڈ ورلڈ ریکارڈ لندن نے "موسٹ نمبرز آف کسٹمائزڈ عربک کیلی گرافی آرٹ بائی این انڈی ویجوئل” کے خطاب سے نوازا”
بھوپال کی نوجوان خطاط اور کیلی گرافی بلاگر مدثرہ ندیم کو ہاورڈ ورلڈ ریکارڈ لندن نے "موسٹ نمبرز آف کسٹمائزڈ عربک کیلی گرافی آرٹ بائی این انڈی ویجوئل”کے خطاب سے نوازا ہے. ہاورڈ ورلڈ ریکارڈ، لندن کی جانب سے اعزاز کے طور پر انھیں سند اور تمغہ دیا گیا ہے.
مدثرہ ندیم نے خطاطی کا فن مدھیہ پردیش اردو اکادمی میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ذریعے چلائی جارہی خطاطی کی کلاس میں سیکھا ہے. انھوں نے اگرچہ انگریزی میڈیم اسکول سے تعلیم حاصل کی ہے مگر انہیں خطاطی کا فن ورثے میں ملا ہے. پیشے سے انٹیریر ڈیزائنر مدثرہ اپنے کیلی گرافی سے لگاؤ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ مجھے پینٹنگ کا پہلے سے ہی شوق تھا اور میرے نانا محمد عزیز جاگیردار بھی خطاطی کرتے تھے جس کا اثر بہرحال مجھ پر پڑا اور اس میدان میں میری دلچسپی کا باعث ہوا. انہوں نے مزید کہا کہ بھوپال میں خصوصاً نوجوان نسل میں کوئی اس طرف توجہ نہیں دے رہا تھا اور میں نے ہمیشہ دوسروں سے ہٹ کر کچھ کرنا چاہا چنانچہ فن خطاطی کا شوق ہی مجھے مدھیہ پردیش اردو اکادمی تک لے آیا اور میں نے مدھیہ پردیش اردو اکادمی میں این سی پی یو ایل کے ذریعے چلائی جا رہیں کیلی گرافی کلاسز میں داخلہ لے لیا.. میں بہت ممنون و متشکر ہوں خصوصاً مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی کی جن کی محنتوں کا ثمرہ ہے کہ اردو اکادمی میں مجھ جیسے طلبا کو کیلی گرافی سیکھنے کا موقع مل رہا ہے. ساتھ ہی میرے استاد محترم وکیل بستوی اور محترم محمد زاہد کی جو پوری دلچسپی اور دل جمعی سے اس فن کو اپنے طالب علموں تک پہنچا رہے ہیں اور انہوں نے پوری توجہ سے میرے اس شوق کو پروان چڑھانے میں میری رہنمائی فرمائی اور مجھے کیلی گرافی کی باریکیاں سکھائیں..”
واضح رہے کہ مدثرہ ندیم بہترین آرٹسٹ ہیں. ان کے بنائے ہوئے مصوری کے نمونے قومی اور بین الاقوامی سطح پر بھی مقبول ہو چکے ہیں. وہ دبئی کی عالمی نمائش میں بھی حصہ لے چکی ہیں. اور اب وہ کیلی گرافی اور مصوری کی آمیزش سے کچھ نئے تجربات کرنے میں یقین رکھتی ہیں خصوصاً ان کی خواہش ہے کہ ان کے بنائے ہوئے طغرے اور خطاطی کے نمونے اہل ذوق کی توجہ کا مرکز بن سکیں.
جہاں آج نوجوان نسل اردو سے دور بھاگ رہی ہے، وہاں مدثرہ اور ان جیسی لڑکیاں ہمارے لیے ان روشن چراغوں کی مانند ہیں جو اپنی روشنی سے نئی نسل کو راہ دکھاتے ہیں.
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

