یہ بات بڑے تواتر کے ساتھ کہی جا رہی ہے کہ اقبال پر کام اس قدر ہو چکا ہے کہ مزید کی گنجائش نہیں رہی، چنانچہ اب یہ بات ایک مفروضے کی حیثیت اختیارکرچکی ہے اور اقبال کے فکر و فن پر مزید غور و فکر سے احتراز کیا جانے لگا ہے۔
یہ بیان عظمتِ اقبال کے اعتراف میں نہیں دیا جاتا، اس کا مقصد محض یہ ہے کہ اقبال کی شخصیت یا فکر و فن پر مزید کام کو روکا جا سکے؛ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک اقبال پر بنیادی نوعیت کا کام بھی نہیں ہوا، چہ جائیکہ کام کی گنجائش پر گفتگو کی جائے۔ ہر بڑے اور اہم موضوع کے ساتھ یہ بدقسمتی وابستہ ہو جاتی ہے کہ ہر کہ و مہ اس پر طبع آزمائی شروع کر دیتا ہے، نتیجتاً معیاری تحریروں کی نسبت خس و خاشاک کی بہتات ہو جاتی ہے، جس سے یار لوگوں کو شور و شغب کا موقع مل جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اقبال کے اردو فارسی شعری مجموعوں اور ان کے کلیات کے علاوہ اقبال کی نثری تحریروں کو اب تک سائنٹفک اور تدوین کے جدید معیارات کے مطابق شائع نہیں کیا جا سکا۔ مدت سے اس بات کی ضرورت محسوس کی جاتی رہی ہے کہ ان منتشر نگارشات کو کسی ایک مجموعے میں حسنِ ترتیب کے ساتھ پیش کیا جائے۔ یہ کام اداروں کی سطح پر کرنے کا تھا، لیکن بوجوہ اب تک اس جانب کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جا سکا، چنانچہ کئی برسوں کے انتظار اور اضطراب کے بعد اس بوجھ کو یہ ناتواں خود ہی اٹھا لایا۔اگرچہ اداروں کے وسائل اور فرد کی بساط کا فرق ظاہر ہے، تاہم راقم نے ممکن حد تک کوشش کی ہے کہ نثرِ اقبال کا ایک ابتدائی خاکہ پیش کر دیا جائے، جس پر بعد میں ترمیم و اضافہ سے ایک مکمل کلیات کی راہ ہموار ہو سکے۔
گمان ہو سکتا ہے کہ نثر اقبال میںعلامہ کی تمام تر نثر شامل ہو گی؛ لیکن ایسا نہیں ہے، اس میں درج ذیل نثر شامل نہیں کی جا سکتی تھی:
۱ مکاتیبِ اقبال، چاہے وہ کلیاتِ مکاتیبِ اقبال میں شامل ہو سکے ہوں یا بعد میں دریافت ہوئے ہوں۔ ان میں وہ خطوط بھی شامل ہیں، جو کتب و رسائل سے متعلق تقاریظ یا آرا پر مشتمل ہیں۔
۲ علم الاقتصاد اس میں شامل نہیں، البتہ نمونے کے طور پر اس کا دیباچہ شامل کیا جا سکتا ہے۔
۳ تاریخِ تصوف مدوّنہ ڈاکٹر صابر کلوروی۔
۴ ملفوظات پربالعموم اقبال کی نظر نہیں پڑی، چنانچہ تدوینی نقطہ نظر سے انھیں اقبال کے خیالات تو کہا سکتا ہے، الفاظ نہیں؛ البتہ وہ ملفوظاتی تحریریں، جو حیاتِ اقبال میں شائع ہو چکی تھیں اور بادی النظر میں اقبال کی نظر سے گزر چکی تھیں، انھیں قابلِ اعتنا سمجھا جائے گا۔
mmm
اقبال کی نثر کے متعدد مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں۔ سب سے پہلے ان کے مندرجات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
مضامینِ اقبال مرتبہ تصدق حسین تاج: (۱۹۴۳ء)
اقبال کا اوّلین نثری مجموعہ احمدیہ پریس حیدرآباد دکن کے تصدق حسین تاج نے مرتب کر کے شائع کیا۔ اس مجموعے میں کُل چودہ تحریریں شامل ہیں، جن میں سے ایک خط، یعنی ’فلسفہ سخت کوشی‘۱اور پانچ تحریریں تراجم ہیں، یعنی’جنابِ رسالت مآبؐ کاادبی تبصرہ‘۲، ’ملّتِ بیضا پر ایک عمرانی نظر‘۳، ’خطبہ صدارت آل انڈیا مسلم لیگ ۱۹۳۰ء‘۴، ’ختمِ نبوت‘۵اور ’دیباچہ مرقعِ چغتائی‘۶۔ یوں اس مجموعے میں نثریتحریروں کی تعداد آٹھ رہ جاتی ہے، یعنی تین دیباچے (۱) ’مثنوی اسرارِ خودی‘،(۲) ’مثنوی رموزِ بے خودی‘، (۳) ’پیامِ مشرق‘؛تین مضامین (۴) ’اردو زبان پنجاب میں‘، (۵) ’قومی زندگی‘، (۶) ’جغرافیائی حدود اور مسلمان‘؛ ایک تقریر (۷) ’تقریر انجمن ادبی کابُل‘ اور ایک ترجمہ (۸) ’زبانِ اردو‘۔
مقالاتِ اقبال مرتبہ سید عبدالواحد معینی: (۱۹۶۳ء)
اقبال کے نثر پاروں پر مشتمل دوسرا مجموعہ سید عبدالواحد معینی نے مقالاتِ اقبال کے نام سے مرتب کر کے شائع کیا۔ مجموعے میں چوبیس تحریریں شامل ہیں، جن میں سے دس تحریریں مضامینِ اقبال سے لی گئی ہیں، ایک آثارِ اقبال سے؛ جب کہ ’اقبال کے دو خطوط ایڈیٹر وطن کے نام‘۷اور ’خلافتِ اسلامیہ‘۸(انگریزی سے ترجمہ) کا تعلق براہِ راست زیرِ نظر موضوع سے نہیں، یوں گیارہ تحریریں نثر اقبال سے تعلق رکھتی ہیں۔ ’تقاریظ‘ کی ذیل میں تین کتابوں پر اقبال کی راے درج کی گئی ہے، جس سے یہ تعداد تیرہ ہو جاتی ہے؛ یعنی ایک دیباچہ(۱) دیباچہ اسرارِ خودی دوم؛چار مضامین (۲) ’بچوں کی تعلیم و تربیت‘، (۳) ’اسرارِ خودی اور تصوف‘، (۴) ’تصوفِ وجودیہ‘، (۵) ’سرِّ اسرارِ خودی‘؛تین تقاریر (۶) ’پین اسلام ازم‘، (۷) ’اسلام اور علومِ جدیدہ‘،(۸) ’خطبہ عید الفطر‘؛ ایک مصاحبہ (۹) ’ایک دلچسپ مکالمہ‘ اور تین تقاریظ (۱۰) امتحان میں پاس ہونے کا گُر، (۱۱) حریتِ اسلاماور (۱۲) سوانح علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی اورایک تحریری تقریر(۱۳) ’اراکینِ انجمنِ حمایتِ اسلام کے نام‘[انجمنِ حمایتِ اسلام کے تعلیمی عزائم کیا ہونے چاہییں]۔
انوارِ اقبال مرتبہ بشیر احمد ڈار: (۱۹۶۷ء)
یہ مجموعہ بنیادی طور پر اقبال کی متفرق تحریروں پر مشتمل ہے، جس میں موضوعاتی تقسیم کا خیال نہیں رکھا گیا، بلکہ ایک ہی طرح کی تحریریں مختلف مقامات پر بکھر کر رہ گئی ہیں۔
مضامین دو مقامات پر منقسم ہیں؛ اول صفحہ ۲۵ سے ۴۹ تک چھ تحریریں دی گئی ہیں، جن میں سے تین مکاتیب کی ذیل میں آتی ہیں، یعنی ’سودیشی تحریک و مسلمان‘۹، ’نبوت پر نوٹ۱‘۱۰اور ’نبوت پر نوٹ۲‘۱۱اور ایک مصاحبہ ’مذہب و سیاست کا تعلق‘۱۲انگریزی زبان سے ترجمہ ہے؛ باقی میں سے (۱) ایک شعر کی تشریح، ایک مصاحبہ (۲) اقبال سے مجید ملک کی ملاقات کا حال۱۳ اور ایک تقریر (۳) اقبال کی ایک تقریر۱۴اردو میں ہے ۔دوسری جگہ صفحہ ۲۴۷ سے ۲۷۹ تک تین مضامین دیے گئے ہیں، جن میں ’حکماے اسلام کے عمیق تر مطالعے کی دعوت‘۱۵انگریزی سے ترجمہ ہے، البتہ (۴) ’علمِ ظاہر و علمِ باطن۱۶، (۵) مضمون اور’مسلمانوں کا امتحان‘۱۷کے نام سے ایک مصاحبہ نئی تحریر ہے۔ یوں ان حصوں سے اقبال کی پانچ تحریریں، یعنی ایک مضمون، ایک تشریح، دو مصاحبے اور ایک تقریر فراہم ہوتی ہے۔
’بیانات‘ کے تحت ایک (۲۸؍ دسمبر ۱۹۲۷ء ) تلخیص کی صورت میں ہے، دوسرا (۱۹؍ دسمبر ۱۹۲۷ء) نامکمل ہے، البتہ تیسرابیان (۱) اتحاد کانفرنس کلکتہ سے متعلق، اکتوبر ۱۹۲۷ء مکمل ہے۔
صفحہ ۲۱ سے دو درسی کتب پر شریک مرتبین کے ساتھ اقبال کے دو دیباچے دیے گئے ہیں۔ ان میں سے (۱) اردو کورس (باشتراک حکیم احمد شجاع)کی ترتیب میں تو اقبال کی شمولیت مسلمہ ہے۱۸، جب کہ (۲)تاریخِ ہند (باشتراک لالہ رام پرشاد) میں اقبال کے کسی قسم کے اشتراک کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، بلکہ اس کے مندرجات سے یقین ہو جاتا ہے کہ اقبال کا اس کتاب یا اس کے دیباچے سے کوئی تعلق نہیں۱۹۔ ان دونوں تحریروں کو ضمائم میں جگہ دینی چاہیے۔
اس مجموعے میں تقاریظ پانچ مقامات پر منقسم ہیں۔ پہلی مرتبہ تقاریظ کا سلسلہ صفحہ ایک سے شروع ہوتا ہے۔ ان میں سے بعض تقاریظ خط کی صورت میں ہیں، مثلاً پریم پچیسی از پریم چند۲۰، ایجوکیشن مترجمہ خواجہ غلام الحسنین۲۱، بیوی کی تعلیم از خواجہ حسن نظامی۲۲، شعری مجموعہ از ثاقب کانپوری۲۳، کلیاتِ عزیز از خواجہ عزیزالدین لکھنوی۲۴، اردو قاعدہ حیدرآباد۲۵، نسیمِ سلیم از محمد عبدالسلام سلیم۲۶، گلزارِ عثمانی از محمد عبدالقوی فانی۲۷، مسدسِ حالی۲۸، اعجازِ عشق از شاطر مدراسی۲۹، ہندوستانی کی اسلامی تاریخ مصنّفہ مولوی کرام الٰہی صوفی۳۰؛جب کہ بعض کا صرف اصلاح سے، مثلاً عبدالعلی شوق سندیلوی کے نام چار۳۱ اور حاجی محمد احمد خاں کے نام دو خطوں۳۲۔ اس حصے میں تین تقاریظ (۱) کلامِ طور از غلام محمد طور، (۲) بدیہہ گوئی ازہوش بلگرامی، (۳) مرقعِ رحمت از عبدالرؤف شوق اور(۴) رسالہ ہمایوں پر راے اور (۵) ایک سند ’جراح محمد عاشق‘درج ہیں۔
تقاریظ کے دوسرے حصے (صفحہ۲۴۲) میں تین تحریریں ہیں، جن میں فتحِ قسطنطنیہ از حاجی بددردالدین احمد۳۳ اور ہفتہ وار مسجد از سید سرور شاہ گیلانی۳۴ خطوط ہیں، جب کہ صرف(۶)جامع اللغات مؤلفہ خواجہ عبدالمجید تقریظ ہے۔
تیسری مرتبہ تقاریظ کے زیر عنوان صفحہ (۲۸۳-۲۸۴) پر تین تحریریں دی گئی ہیں، جن میں سے قرآن آسان قاعدہ از خواجہ حسن نظامی۳۵ اور اخبار الصنادید از مولوی نجم الغنی رامپوری۳۶ خطوط ہیں، جب کہ (۷) مصباح القواعد از مولوی فتح محمد جالندھری تقریظ ہے۔
چوتھی دفعہ (صفحہ ۲۹۲-۲۹۵) پر بغیر عنوان کے خطوں کے درمیان دو اسناد دی گئی ہیں، (۸) ایک حکیم ظفریاب علی کے لیےاور (۹) دوسری کاسموپولیٹن فلم کمپنی کے لیے؛ جب کہ ان کے درمیان قواعدِ اردو از مولوی محمد اسماعیل میرٹھی پر دو۳۷ اور کفرِ عشق از پنڈت امر ناتھ مدن ساحر دہلوی۳۸ سے متعلق ایک خط دیا گیا ہے۔
پانچویں سلسلہ (صفحہ ۳۱۴) میں صرف ایک تحریر ہے، یعنی لسان الغیب از میر ولی اللّٰہ، جو ایک خط۳۹ پر مشتمل ہے۔ گویا ان پانچ حصوں سےکُل نو تحریریں، یعنیپانچ تقاریظ، ایک راے اور تین اسناد فراہم ہوئی ہیں۔
گویا اس مجموعے میں سولہ تحریریں ملتی ہیں، یعنی ایک مضمون (۱) ’علمِ ظاہر و علمِ باطن‘، ایک تشریح (۲) ’ایک شعر کی تشریح‘؛ چھ تقاریظ و آرا (۳) ہمایوں، (۴) کلامِ طور، (۵)بدیہہ گوئی، (۶) مرقعِ رحمت، (۷) جامع اللغات، (۸)مصباح القواعد؛ تین متفرق تحریریں (۹) محمد عاشق فنِ جراحی، (۱۰) حکیم ظفریاب علی، (۱۱) کاسموپولٹین فلم کمپنی؛ ایک تقریر (۱۲) ’اقبال کی ایک تقریر‘؛ ایک بیان (۱۳) ’اتحاد کانفرنس کلکتہ سے متعلق‘ اور دو مصاحبات (۱۴) ’اقبال سے مجید ملک کی ملاقات کا حال‘ اور (۱۵) ’مسلمانوں کا امتحان‘۔
گفتارِ اقبالمرتبہ محمد رفیق افضل: ۱۹۶۹ء
تقاریر، بیانات اور مکاتیب پر مشتمل اس مجموعے کا مواد’سب کا سب لاہور کے دو روزناموں زمیندار اور انقلاب کی صرف اُن جلدوں سے لیا گیا ہے، جو ریسرچ سوسائٹی آف پاکستان کی لابئریری میں محفوظ ہے‘۴۰۔ مجموعے میں ۱۱۲ + ۵(ضمیمہ) تحریریں شامل ہیں۔ سبھی اردو مندرجات موضوعِ زیرِ بحث سے متعلق نہیں، بلکہ بعض خطوط ہیں، بعض انگریزی سے تراجم ہیں اوربعض رپورٹیں ہیں۔
’سپاسِ تبریک‘،’مدیرِ انقلاب کے نام مکتوب‘، ’مدیر انقلاب کے نام مکتوب‘، ’سر آغا خاں کے نام تار‘، ’گورنر پنجاب کے نام تار‘، ’علامہ اقبال کا مکتوب‘، ’صدر خلافت کے تار کا جواب‘، ’ڈاکٹر انصاری کے نام تار‘، ’تیسری گول میز کانفرنس میں شرکت سے پہلےبیان‘، ’مسلمان ہندوؤں میں جذب ہو جائیں یا اپنا مستقبل آپ بنائیں‘ (بنام مدیرِ ہمدم)، ’مدیرِ انقلاب کے نام مکتوب‘، ’جاوید کے نام مکتوب‘، ’وائسراے کے نام تار‘، ’وائسراے کے نام تار‘، ’محمد ظاہر شاہ کے نام‘، ’وزیرِ اعظم افغانستان کے نام‘، ’صدر نیشنل لیگ لندن کے نام تار‘، ’وائسراے کے نام تار‘، ’جمعیتِ اقوام کو تار‘کے علاوہ ’اسلام اور بالشوزم‘۴۱،’لکھنؤ کانفرنس‘۴۲، ’مسلم طلبہ کے نام پیغام‘۴۳، ’علامہ اقبال کا شکریہ‘۴۴اور ’خواتین مدارس کے سپاس نامے کا جواب‘۴۵بھی خطوط ہیں۔
’سلطان ابنِ سعود اور حکومتِ حجاز پر اظہارِ خیالات‘۴۶، ’ہنگامہ لاہور پر بیان‘۴۷، ’مسلمانانِ پنجاب کو تنظیم کی ضرورت‘۴۸،’پنجاب کونسل میں تقریر‘۴۹، ’نہرو کمیٹی رپورٹ پر تبصرہ‘۵۰، ’ہنگامہ افغانسان کے متعلق بیان‘۵۱، ’اپر انڈیا مسلم انڈیا‘۵۲، ’بھوپال کانفرنس پر بیان‘۵۳، ’مؤتمر عالمِ اسلامی میں تقریر‘۵۴، ’مؤتمر عالمِ اسلامی پر تاثرات‘۵۵، ’گول میز کانفرنس اور سفیر سپین کے متعلق بیان‘۵۶، ’فرقہ وار اعلان کے متعلق بیان‘۵۷، ’انڈیا بل کے متعلق بیان۱۸؍ جولائی ۱۹۳۵ء‘۵۸، ’گول میز کانفرنس میں علامہ کی مصروفیات‘۵۹ اور ’پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نام پیغام، ۱۹؍ ستمبر ۱۹۳۷ء‘۶۰پندرہ تحریریں انگریزی سے ترجمہ ہیں۔
مشترکہبیانات اور اپیلوں میں اکیس مندرجات شامل ہیں،(۱) ’جامعہ ملّیہ کے لیے اپیل‘، (۲) ’آئینی کمیشن سے تعاون‘، (۳) ’مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس ۱۹۲۷ء کے اجلاس کے متعلق بیان‘، (۴) ’ملکی حالات اور آئینی کمیشن سے تعاون‘، (۵) ’لیگ کا اجلاس دہلی ۱۹۲۹ء‘، (۶) ’گول میز کانفرنس‘، (۷) ’سائمن کمیشن رپورٹ پر تبصرہ‘، (۸) ’اپر انڈیا مسلم کانفرنس‘، (۹) ’بھوپال کانفرنس‘، (۱۰) ’مظلومینِ کانپور کی امداد کے لیے اپیل‘، (۱۱) ’یومِ کشمیر منانے کے لیے اپیل‘، (۱۲) ’مظلومینِ کشمیر کی امداد کے لیے اپیل‘، (۱۳) ’بنگال اور پنجاب میں مسلمانوں کی اکثریت‘، (۱۴) ’مسلمان جداگانہ انتخاب ترک کرنے کے لیے تیار نہیں‘، (۱۵) ’ادارہ معارفِ اسلامیہ‘،(۱۶) ’آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی اپیل‘، (۱۷) ’سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کی نمائندگی، ۷؍ جولائی ۱۹۳۴ء‘، (۱۸) ’علامہ اقبال اور فیروز خاں نون کا فیصلہ‘،[پنجاب کونسل کے لیے میاں عبدالعزیز کی نامزدگی](۱۹) ’انڈیا بل کے متعلق بیان,۳؍جولائی ۱۹۳۵ء‘، (۲۰) ’انڈیا بل کے متعلق بیان، ۱۸؍ جولائی ۱۹۳۵ء، (۲۱) ’مسلمانانِ پنجاب کے نام اہم اپیل‘۔چونکہ ان کے بارے میں وثوق سے نہیں جا سکتا کہ یہ اقبال کی تحریریں ہیں، مشترکہ تحریریں ہیں یا پھر ان پر محض اقبال کے دستخط ہیں؛ اس لیے انھیں اقبال کی نثر میں شامل نہیں کیا جا سکتا، تاوقتیکہ یہ اقبال سے ثابت نہ ہو جائیں۔
گفتارِ اقبال میں ’مسلم ثقافت کی روح کا خلاصہ‘ کے عنوان سے نامکمل رپورٹ نقل ہوئی ہے۔ ’مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک انجمن کا قیام‘ اور ’علامہ اقبال جنوبی ہند میں‘ رُودادیں ہیں، چنانچہ یہ دونوں مندرجات اردو نثر سے تعلق نہیں رکھتے۔
اقبال کی اردو نثر میں دو تحریری پیغام، یعنی (۱) ’یومِ غالب پر پیغام‘۶۱، (۲) ’پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نام پیغام‘۶۲اور تین تحریری بیانات شامل ہیں، یعنی (۳)’مسٹر چنتامنی کی قوم پرست جماعت کے متعلق بیان‘،(۴) ’نادر خان ہلالِ احمر فنڈ‘۶۳، (۵) ’ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کی نمائندگی‘۶۴اور (۶) ’جامعہ ملّیہ کی اعانت کے لیے اپیل‘۶۵۔
تقریری حوالے سے تیس مندرجات کی فہرست یہ ہے،(۱) ’شہنشاہِ انگلستان پر اظہارِاعتماد‘، (۲) ’مسٹر گوکھلے کے مسودۂ تعلیم لازمی کی تائید میں‘، (۳) ’انجمنِ حمایتِ اسلام کی جنرل کونسل میں تقریر‘، (۴) ’کونسل کی امیدواری کے لیے اعلان‘، (۵) ’انتخابی جلسے میں تقریر۱‘، (۶) ’انتخابی جلسے میں تقریر۲‘، (۷) ’انتخابی جلسے میں تقریر۳‘،(۸) ’برادرانِ وطن کو اتحاد و رواداری کی دعوت‘، (۹) ’مذہب اور سائنس؟‘، (۱۰) ’فرقہ وار نیابت اور جداگانہ حلقہ ہاے انتخاب‘، (۱۱) ’تحریکِ سول نافرمانی کا التوا‘، (۱۲) ’ابتلا کا دَور‘، (۱۳) ’سوراج اور مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ‘، (۱۴) ’بنگال اور پنجاب کی اکثریتیں‘، (۱۵) ’آل پارٹیز مسلم کانفرنس دہلی‘، (۱۶) ’انجمن ہلالِ احمر مدراس سے خطاب‘، (۱۷) ’شریعتِ اسلام میں مرد اور عورت کا رُتبہ‘، (۱۸) ’برطانیہ کی یہود نوازی کے خلاف احتجاج‘، (۱۹) ’متحدہ اسٹیج بناؤ‘، (۲۰) ’جلسہ عام سے خطاب‘: مسلمانوں میں کوئی قابلِ ذکر اختلاف نہیں، (۲۱) ’جلسہ عام سے خطاب‘:مغلپورہ انجینئرنگ کالج، (۲۲) ’مغلپورہ کالج تحقیقاتی کمیٹی‘، (۲۳) ’یومِ کشمیر پر تقریر‘، (۲۴) ’دہلی میں سپاس ناموں کا جواب‘، (۲۵) ’آل انڈیا مسلم کانفرنس‘، (۲۶) ’اسلامی تاریخ کو نصاب سے خارج کرنے کے متعلق ارشادات‘،(۲۷) ’جواب سپاس نامہ جمعیت الاسلام‘، (۲۸) ’اسلامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ‘، (۲۹) ’خطبہ صدارت اجلاس ادارہ معارفِ اسلامیہ‘ اور(۳۰) ’تحریکِ خلافت۱‘۔
بیاناتمیں تیرہ مندرجات شامل ہیں، یعنی (۱)’اخبار پرتاب کے بیان کی تردید‘،(۲) ’آئینی کمیشن کے متعلق راے‘، (۳) ’لیگ کے اجلاس کے بعد آئینی کمیشن کے متعلق راے‘، (۴) ’اپر انڈیا مسلم کانفرنس‘، (۵) ’بھوپال کانفرنس پر بیان‘، (۶) ’اقبال اور وزارتِ کشمیر‘، (۷) ’علامہ اقبال کا پیغام‘، (۸) ’گاندھی اور وزیرِ اعظم کی خط کتابت پر تبصرہ‘، (۹) ’پونا کا سمجھوتا‘، (۱۰) ’پین اسلام ازم کی اصطلاح فرانسیسی صحافت کی ایجاد ہے‘، (۱۱) ’ جدہ مکہ ریلوے‘اور(۱۲) ’مسلم انڈیا سوسائٹی اور مسلم لیگ‘۔
ایک مصاحبہ (۱) ’قانونِ ازدواج صغر سنی پر خیالات‘ اور گفتگو کی ذیل میں چار تحریریں، یعنی (۲) ’حاجی جمال محمد کو خراجِ تحسین‘، (۳) ’علامہ اقبال پورٹ سعید میں‘، (۴) ’مذہب کی قوت‘، (۵) ’انجمن حمایتِ اسلام کی صدارت سے استعفیٰ‘ اور (۶) ’علامہ اقبال سے میاں رشید احمد کی ایک ملاقات‘بھی نثر اقبال میں شامل ہیں۔
گویا اس مجموعے سے ۵۴؍ تحریریں دستیاب ہوئی ہیں؛ یعنی پانچ تحریریں بیانات، تیس تقاریر، تیرہ بیانات، ایک مصاحبہ اور چار گفتگوئیں۔
اَوراقِ گم گشتہمرتبہ رحیم بخش شاہین:۱۹۷۵ء
مرتب نے دیباچے میں اپنے اس مجموعے میں پانچ طرح کی تحریروں کی نشاندہی کی ہے؛ یعنی (۱) وہ کلام، جو باقیاتِ اقبال کی کسی کتاب میں شامل نہیں؛ (۲) وہ تحریریں، جو نوادرات کے کسی مجموعے میں دستیاب نہیں؛ (۳) وہ تحریریں یا کلام، جو ناقص حالت میں بعض مجموعوں میں شامل ہے؛ (۴) وہ تحریریں، جو اقبال کے قریبی دوستوں اور عقیدت مندوں نے یادداشتوں کے طور پر اقبال کے زمانے یا بعد کے دَور میں قلم بند کیں اور (۵) بعض انگریزی تحریروں کے تراجم۔
’ترجمانِ حقیقت کا خطاب‘ میں شامل دو تحریریں، یعنی ’اسلام اور علومِ جدیدہ‘ اور ’پین اسلام ازم‘ کے عنوان سےمقالاتِ اقبال میں شامل ہو چکی تھیں۔
’حیات بعد موت کا اسلامی نظریہ اور سائنس‘۶۶، ’میاں سر محمد شفیع کی وفات پر تعزیتی بیان‘۶۷، ’اقبال اور جناح‘۶۸، ’اقبال میرا معلم‘۶۹، ’اسرائیلی فتنہ اقبال کی نظر میں‘۷۰ اور’وہ کتاب جو اقبال لکھنا چاہتے تھے‘۷۱ انگریزی سے تراجم ہیں۔
’بنام خواجہ حسن نظامی‘، ’بنام مُلّا واحدی‘، ’بنام خواجہ غلام السیدین‘، ’بنام اکبر الٰہ آبادی‘، ’بنام صادق الخیری‘، ’بنام خواجہ حسن نظامی‘، ’بنام سجاد حیدر یلدرم‘، ’بنام سید غلام شبیر بخاری‘، ’بنام محمد سعید الدین جعفری‘(تین خطوط)، ’بنام وحشت‘، ’بنام سر ولیم روئن اسٹائن‘(دو خطوط)، ’بنام حکیم رحمت اللّٰہ شاہ‘ (تین خطوط)، ’بنام خلیفہ شجاع الدین‘، ’بنام سردار احمد خاں‘، ’بنام وحید احمد مسعود بدایونی‘ (تین خطوط)، ’بنام ڈاکٹر ہاشمی‘، ’مکتوب بنام والد بزرگوار‘، ’بنام خواجہ سجاد حسین‘، ’بنام فضل کریم‘، ’بنام جسٹس شیخ دین محمد‘ کے علاوہ ’قرآن آسان قاعدہ‘۷۲ اور ’یومِ غالب پر پیغام‘۷۳ بھی خطوط میں شامل ہیں۔
’مثنوی اسرارِ خودی‘، ’سرّ الوصال ڈاکٹر اقبال‘، ’ایک قطعہ‘، ’ایک قطعہ تاریخ‘، ’اسرارِ خودی کا جواب‘، ’اقبال علی گڑھ میں‘، ’عظمت موت کے دروازے پر‘، ’خواجہ حسن نظامی کا تعزیتی شذرہ‘، ’مولانا حسرت موہانی کی تنقید‘، ’کلامِ اقبال پر تنقید‘، ’زمانہ کانپور کا نوٹ‘، ’اکبری اقبال‘، ’رابندر ناتھ ٹیگور کا خط‘، ’تذکرۂ خندہ گل کی ایک عبارت‘، ’مولانا ابوالکلام آزاد کا تعزیتی بیان‘ اقبال سے متعلق تحریریں ہیں۔
’کبھی اے حقیقتِ منتظر‘، ’فاطمہ بنت عبداللّٰہ‘، ’حضرت صدیقؓ‘، ’اقبال کی بعض نظموں کے ابتدائی متن‘، ’اقبال کے آٹو گراف‘، ’ایک تحریر‘، ’تین فارسی شعر‘، ’ایک شعر‘، ’ایک شعری مکالمہ‘، ’روح الذہب‘، ’پیامِ اقبال بملّت کہسار‘، ’اے کہ بعد از نبوت شد بہر مفہومِ شرک‘ اور’تقابلی نظمیں‘کا تعلق کلامِ اقبال سے ہے۔
’حادثہ کانپور‘، ’اقبال کا قیامِ دہلی‘، ’دہلی کا دَورہ‘، ’حسن نظامی سے ملاقات‘، ’علامہ اقبال اور راشد الخیری‘، ’اقبال کا سفرِ میسور‘، ’علامہ اقبال اور مصر کا تبلیغی وفد‘، ’اقبال انجمن حمایتِ اسلام میں‘، ’دو شعر‘، ’پہلا یومِ اقبال‘، ’علامہ اقبال کے انتخاب کی رُوداد‘، ’علامہ اقبال الٰہ آباد میں‘، ’بانیِ پاکستان اور شاعرِ مشرق‘، ’علامہ اقبال وفات پا گئے‘، ’تذکرۂ اقبال‘ اور’سفر ولایت سے واپسی‘ رُودادیں ہیں۔
’علامہ اقبال اور حکیم محمد یوسف حسن‘، ’امین حزیں سیالکوٹی کو اقبال کا مشورہ‘، ’علامہ اقبال اور مولانا مودودی‘، ’علامہ اقبال اور مولانا مودودی۲‘، ’علامہ اقبال سے ایک ملاقات‘، ’علامہ اقبال اور سیاست‘، ’نادر خاں اور اقبال‘، ’علامہ اقبال کے حضور ایک عظیم ناول نگار‘، ’علامہ اقبال کا ایک گمنام ممدوح‘، ’اقبال اور وحید احمد مسعود بدایونی‘، ’مولانا احمد رضا خاں کے بارے میں راے‘، ’علامہ اقبال اور غلام جیلانی برق‘، ’میرا اقبال‘، ’علامہ اقبال بمبئی میں‘، ’اقبال چند یادیں‘، ’ایک گنجِ گراں مایہ کی تلاش‘، ’اقبال کا طرزِ تدریس‘، ’اقبال کا بچپن‘، ’چند لمحے علامہ اقبال کے ساتھ‘، ’اقبال اور جلیل قدوائی‘، ’ایک یادگار ملاقات‘، ’خواجہ عبدالوحید کی ڈائری میں ذکرِ اقبال‘، ’علامہ اقبال کی زندگی کا ایک دن‘، ’علامہ اقبال کے ترانے کی شانِ نزول‘، ’ڈاکٹر اقبال کے ہاں‘، ’اقبال مسجدِ قرطبہ میں‘، ’اقبال میری نظر میں‘، ’اقبال اور مولانا غلام رسول مہر‘، ’اقبال اور مولانا علم الدین سالک‘، ’اقبال اور مولانا حامد علی خاں‘، ’اقبال میرا روحانی سہارا‘، ’علامہ اقبال اور حکیم احمد شجاع‘، ’استاد سے شاگرد کی چند ملاقاتیں‘، ’حضرت علامہسے ایک ملاقات‘ اور’شاد و اقبال‘یادداشتوں اور ملفوظات سے متعلق تحریریں ہیں۔
مذکورہ بالا انگریزی سے تراجم، مکاتیب، اقبال اور کلامِ اقبال سے متعلق تحریریں، رُودادیں،یادداشتیں ملفوظات تالیفِ زیر نظر سے متعلق نہیں؛ البتہ تیرہتحریروں کو نثر اقبال سے نسبت ہے، یعنی دو نظموں کا پس منظر (۱) نظم گورستانِ شاہی، (۲) نظم شکریہ؛تین تقاریظ (۳)موازنہ صلیب و ہلال، (۴) گل کدہ،(۵)تحفہ امانیہ؛ چار آرا (۶) نیرنگِ خیال ۱۹۲۴ء، (۷) نیرنگِ خیال ۱۹۲۸ء، (۸) ماہنامہ انتخاب، (۹)عالمگیر ۱۹۲۸ء؛ایک سند (۱۰)کتاب آرا؛ ایک وصیت (۱۱) علامہ اقبال کی وصیت جاوید کے ناماور دو بیانات (۱۲) ’ڈاکٹر اقبال کی پیشین گوئی‘ اور(۱۳) ’حالاتِ حاضرہ‘۔
اقبال اور انجمنِ حمایتِ اسلاممرتبہ محمد حنیف شاہد: ۱۹۷۶ء
یہ تالیف کتب خانہ انجمنِ حمایتِ اسلام نے شائع کی۔ اس کے مندرجات میں سے ’انجمنِ حمایتِ اسلام، پس منظر اور خدمات‘، ’اقبال اور انجمن، رُکنیت سے صدارت تک‘ اور ’شاعرِ انجمن‘ کو موضوعِ زیرِ بحث تعلق نہیں، البتہ ان کے بعد ’ترجمانِ انجمن‘ میں چند تحریریں نثرِ اقبال سے متعلق ہیں، جن میں سے تین، یعنی’مذہب اور سائنس‘،’انجمن کی جنرل کونسل کی صدارت‘ اور ’انجمنِ حمایتِ اسلام کی صدارت سے استعفیٰ‘ اس سے قبل گفتارِ اقبال میں شامل ہو چکی ہے۔
اقبال کی نثر کے حوالے سے اس تالیف میںچھ تحریریں، جن میں ایک پس منظر(۱) نظم ’شمع اور شاعر‘ کا پس منظر،اور پانچ تقاریر(۲) ’تحریکِ خلافت۲‘، (۳) ’انجمنِ حمایتِ اسلام کی جنرل سیکرٹری شپ‘، (۴) ’مسلم ثقافت کی رُوح‘، (۵) ’نواب بہاولپور کی خدمت میں سپاس نامہ‘ اور(۶) ’انجمنِ حمایتِ اسلام کے مالی معاملات‘شامل ہیں۔
اقبال کے نثری افکارمرتبہ عبدالغفار شکیل:۱۹۷۷ء
عبدالغفار شکیل کا مرتبہ مجموعہ اقبال کے نثری افکار کے نام سے انجمن ترقی اردو (ہند) دہلی سے شائع ہوا۔ اس مجموعے میں کُل چونتیس میں سےپچیس تحریریں دیگر مجموعوں سے لی گئی ہیں، مثلاًگیارہ تحریریں (’زبانِ اردو‘، ’اردو زبان پنجاب میں‘، ’قومی زندگی‘، ’دیباچہ اسرارِ خودی‘، ’رسولؐ فنِ شعر کے مبصر کی حیثیت میں‘،’ دیباچہ رموزِ بے خودی‘، ’دیباچہ پیامِ مشرق‘، ’اسلام اور قومیت‘۷۴، ’ملتِ بیضا پر ایک عمرانی نظر‘، ’فلسفہ سخت کوشی‘، ’دیباچہ مرقعِ چغتائی‘) مضامینِ اقبالسے، دو (’دیباچہ علم الاقتصاد‘، ’محفل میلاد النبی‘)آثارِ اقبال سے، آٹھمقالاتِ اقبال(’بچوں کی تعلیم و تربیت‘، ’خلافتِ اسلامیہ‘، ’اسرارِ خودی اور تصوف‘، ’سرِ اسرارِ خودی‘، ’تصوفِ وجودیہ‘، ’کابل میں ایک تقریر‘،’خطبہ عید الفطر‘، ’ علمِ ظاہر و باطن‘) اور سات(’ایک شعر کی تشریح‘، ’مسلمانوں کا امتحان‘، ’مذہب و سیاست کا تعلق‘، ’سودیشی تحریک‘، ’نبوت۱‘، ’نبوت۲‘، ’حکماے اسلام کے عمیق تر مطالعے کی دعوت‘) انوارِ اقبال سے؛البتہ تین، یعنی ’اسرارِ خودی پر اعتراضات کا جواب‘۷۵، ’اسلامیات‘۷۶ اور’علم الانساب‘۷۷ کی نوعیت خطوط کی ہے اور’شعبہ تحقیقاتِ اسلامی کی ضرورت‘۷۸ اور ’سالِ نَو کا پیغام‘۷۹نگریزی سے ترجمہ ہے؛یوں اس مجموعے میں ایک تحریر اضافہ ہے، یعنیایک تقریر (۱) ’اسلامی یونیورسٹی‘۔مجموعے میں فہرستِ مضامین میں حصہ اوّل ۱ سے ۲۹ کو محیط ہے، جب کہ دوسرا حصہ ۳۰ سے ۳۴ کے بجاے سہواً ۲۸ سے ۳۲ شمار کیا گیا ۔
حیاتِ اقبال کی گم شدہ کڑیاں مصنّفہ محمد عبداللّٰہ قریشی: مئی ۱۹۸۲ء
یہ کتاب محمد عبداللّٰہ قریشی کے آٹھ مقالات پر مشتمل ہے، جو سب سے سب یادداشتوں پر مشتمل ہیں۔ ان میں بیشتر سابقہ کتب میں موجود ہیں، صرف (۱)وجدانی نشتر پر راے نثراقبال میں اضافہ ہے۔
مضامینِ اقبال مرتبہ تصدق حسین تاج :اشاعتِ دوم ۱۹۸۵ء
مضامینِ اقبال کے دوسرے ایڈیشنمیں مزید تین تحریروں کا اضافہ ہوا، لیکن تینوں، یعنی ’اقبال کے ایک غیر مطبوعہ انگریزی خطبے کا اردو ترجمہ‘۸۰، ’خطبہ صدارت آل انڈیا مسلم کانفرنس اجلاس ۲۱؍ مارچ ۱۹۳۲ء‘۸۱اور ’حیات بعد موت کا اسلامی نظریہ‘۸۲انگریزی تحریروں کے تراجم ہیں۔
حیاتِ اقبال کے چند مخفی گوشے مؤلفہ محمد حمزہ فاروقی: مارچ ۱۹۸۸ء
یہ تالیف نیشنل بنک آف پاکستان لائبریری کراچی، ادارہ تحقیقاتِ پاکستان دانش گاہِ پنجاب اور لاہور میوزیم کی لائبریری میں روزنامہ انقلاب کے فائل سے اقبال سے متعلق تحریروں کا مجموعہ ہے۔ اس کا بیشتر حصہ رُودادوں، خبروں، اشتہارات اور اداریوں پر مشتمل ہے، تاہم کچھ نثری تحریریں بھی شامل ہیں، جن میں سے ’کیا قومیت کی بنیاد جغرافیائی وطن ہے‘ (جغرافیائی حدود اور مسلمان) مضامینِ اقبال(۱۹۴۳ء) میں؛ ’رسالہ ہمایوں‘ انوارِ اقبال (۱۹۶۷ء) میں؛ ’ادارۂ معارفِ اسلامیہ کا افتتاحی اجلاس‘(’خطبہ صدارت اجلاس ادارہ معارفِ اسلامیہ‘)، ’حضرت علامہ کے اعزاز میں ایک شاندار اجتماع‘ (’اسلامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ‘) اور’جواب سپاس نامہ جمعیت الاسلام‘،گفتارِ اقبال (۱۹۶۹ء) میں؛ ’رسالہ عالمگیر‘ اوراقِ گم گشتہ (۱۹۷۵ء) میں شامل ہے؛ جب کہ ’علامہ اقبال کی طرف سے سپاسِ تہنیت‘(سپاسِ تبریک) خط ہے اور ’کابل یونیورسٹی اور اقبال‘۸۳،’پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نام پیغام،۱۹؍ ستمبر ۱۹۳۷ء‘، ’پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نام پیغام،۹؍ اکتوبر ۱۹۳۷ء‘۸۴ اور ’سالِ نَو کا پیغام‘ انگریزی سے ترجمہ ہیں،البتہ یہچار تحریریں اضافات ہیں؛ یعنی تین تقاریظ (۱) تاریخِ اسلام، (۲)صحابیات، (۳) کلیاتِ طبِ جدید اور ایک گفتگو (۴) قرطبہ کی عدیم المثال مسجد۔
مقالاتِ اقبالمرتبہ سید عبدالوحد معینی + محمد عبداللّٰہ قریشی: اشاعتِ دوم ۱۹۸۸ء
مقالات کے دوسرے ایڈیشن میں محمد عبداللّٰہ قریشی نے مزید نو تحریروں کا اضافہ کیا، جن میں سے چھ، یعنی ’اسلام اور تصوف‘۸۵، ’اسلام ایک اخلاقی خیال کی حیثیت سے‘۸۶، ’حکماے اسلام کے عمیق مطالعے کی دعوت‘(یہ تحریر انوارِ اقبال میں شامل ہو چکی ہے)، ’حکمرانی کا خداداد حق‘۸۷، ’لسان العصر کے کلام میں ہیگل کا رنگ‘۸۸، ’افغانستانِ جدید‘۸۹انگریزی تحریروں کے ترجمے ہیں اور ’اسلام کا مطالعہ زمانۂ حال کی روشنی میں‘۹۰ایک خط ہے؛ چنانچہ نثر اقبال کے ضمن میں دو تحریریں باقی بچتی ہیں، جن میں سے ’علمِ ظاہر و علمِ باطن‘ نامی مضمون انوارِ اقبال میں اور’شریعتِ اسلام میں مرد اور عورت کا رُتبہ‘ کے عنوان سے تقریر گفتارِ اقبال میں شامل ہو چکی ہیں۔
نگارشاتِ اقبال مرتبہ زیب النسا:۱۹۹۳ء
یہ مجموعہ اقبال کے دیباچے، تقاریظ اور آرا پر مشتمل ہے۔ فہرست کے مطابق ان تحریروں کی تعداد انسٹھ ہے، لیکن اندراج ۳۳اور ۵۶ ایک ہی راے سے متعلق ہے اورچھ تحریریں انگریزی سے تراجم ہیں، چھ مقالاتِ اقبال سے؛ دسانوارِ اقبال سے؛ نواوراقِ گم گشتہ سے اور تین حیاتِ اقبال کی چند مخفی گوشے سےلی گئی ہیں۔ یوں چوالیس نثر پارے گزشتہ مجموعوں میں شامل ہو چکے ہیں؛ایجوکیشن، اعجازِ عشق،فتحِ قسطنطنیہ،پریم پچیسی،المعلم، قرآن آسان قاعدہ، اخبار مسجد،نفسیاتِ تعلیمی۹۱، نظامِ عمل۹۲، سرگزشتِ اقبال۹۳’علامہ راشد الخیری کی وفات پر اظہارِ تعزیت‘ خطوط ہیں؛ جب کہ ایک اندراج (۲۵۔رسالہ نیرنگ خیال) مکرر ہے؛ البتہیہگیارہ تحریریں اضافہ ہیں؛ یعنی پانچ نظموں کا پس منظر (۱) نظم آفتاب، (۲) نظم نالۂ فراق، (۳) نظم حسن اور زوال، (۴) غزل، (۵) نظم فلسفہ غم؛تین تقاریظ (۶) ہیر رانجھا، (۷) پیامِ امین، (۸)نظموں کا انتخاب؛ دو آرا(۹)رسالہ توحید، (۱۰)الحکیماور ایک اصلاح (۱۱) ’انجمن حمایتِ اسلام کے دعوت نامے پر علامہ اقبال کے چند جملے‘؛ جب کہ ایک مشترکہ دیباچہ اردو کورسپانچویں جماعت کے لیے۹۴بھی نگارشات میں شامل ہے، جو ضمیمہ میں نقل کیا جا سکتا ہے۔
علامہ اقبال کی اردو نثر از پروفیسر عبدالجبار شاکر، مقالہ ۱۹۹۵ء، مطبوعہ ۲۰۱۷ء
پروفیسر شاکر نے علامہ کےتیرہ تحریروں کواپنے مقالے میں حواشی و تعلیقات کے ساتھ مدوّن کیا، جن میں سے چھ (’اردو زبان پنجاب میں‘، ’قومی زندگی‘، ’دیباچہ مثنوی اسرارِ خودی‘، ’دیباچہ مثنوی رموزِ بے خودی‘، ’دیباچہ پیامِ مشرق‘، ’جغرافیائی حدود اور مسلمان‘) پہلی مرتبہ مضامینِ اقبال میں شامل ہو چکی ہیں؛ پانچ (’بچوں کی تعلیم و تربیت‘، ’اسرارِ خودی اور تصوف‘، ’سرِاسرارِ خودی‘، ’تصوفِ وجودیہ‘، ’دیباچہ مثنوی اسرارِ خودی دوم‘) مقالاتِ اقبال میں اور ایک (’علمِ ظاہر و علمِ باطن‘) انوارِ اقبال میں چھپ چکی ہے؛ البتہ پیامِ مشرق طبعِ دوم کا دیباچہ پہلی مرتبہ کسی مجموعے میں شامل ہوا ہے، چنانچہ یہ دیباچہ یہیں سے مستعار ہے۔
علامہ اقبال اور روزنامہ زمیندارمرتبہ ڈاکٹر اختر النسا،۲۰۱۱ء
روزنامہ زمیندار لاہور کی بعض فائلوں سے بعض مندرجات گفتارِاقبال (مرتبہ محمد رفیق افضل) کا حصہ بن چکے ہیں، البتہ ان کی تحقیق سے مزید تحریریں دستیاب ہو گئیں، جنھیں انھوں نے زیرِ بحث مجموعے میں جمع کر دیا۔
پہلے باب ’متونِ اقبال‘ میں ’تقاریر‘ کے تحت تیرہ مندرجات شامل ہیں، جن میں سے تین (’صوبہ سرحد اور اصلاحات‘،’تخفیفِ محاصل اور ترقیِ تعلیم‘، ’معاملہ اراضی کا نظام بدلا جائے‘)انگریزی سے اردو ترجمہ ہیں؛ جب کہ ایک (’اقبال کے سفرِ اندلس کا تذکرہ‘) رُوداد؛ البتہ نو تحریروں پہلے سے اقبال کے نثری مجموعوں میں شامل ہو چکی ہیں، یعنی ’مسٹر گھوکھلے کے مسودہ تعلیم لازمی کی تائید میں تقریر‘، ’شہنشاہِ انگلستان پر اظہارِ اعتماد‘، ’انجمنِ حمایتِ اسلام کی جنرل کونسل میں تقریر‘، ’انتخابی جلسے میں تقریر۳‘[مسلمانو! متحد ہو جاؤ]، ’ہندو اپنے مسلم آزار رویے کی اصلاح کریں‘، ’فرقہ وار نیابت اور جداگانہ حلقہ ہاے انتخاب‘ اور ’مسلمانوں میں کوئی قابلِ ذکر اختلاف نہیں‘گفتار اقبال میں؛ ’مذہب اور سائنس‘گفتارِ اقبال اور اقبال اور انجمنِ حمایتِ اسلام میں اور ’مسلم ثقافت کی رُوح‘ اقبال اور انجمنِ حمایتِ اسلام میں شامل ہو چکی ہیں۔ بیانات میں ’تعلیم یافتہ اشخاص کی بے روزگار‘ اور ’اشاعتِ اسلام کے عظیم الشان نظام کی ضرورت‘انگریزی سے ترجمہ ہیں، ’مسٹر چنتا منی کی قوم پرست جماعت‘ گفتارِ اقبال میں شامل ہو چکا ہے؛ جب کہ دو مشترکہ بیانات (۱) ’اردو اخبارات پر الزام‘، (۲) ’بھوپال میں مسلم زعما کا اجتماع‘[مسلمانو! متحد ہو جاؤ] اضافہ ہیں۔چار تبصروں میں سے تاریخِ اسلام پر تقریظ اس سے قبل مقالاتِ اقبال اور ہمایوں پر راےانوارِ اقبال میں شامل ہو چکی ہے؛ البتہ(۱) ’جانوروں کے حالات و خصائل کے متعلق اقبال کی راے‘ اور(۲) دینِ کامل پر اقبال کی راے اضافات ہیں؛ جب کہ اس باب سے’مکاتیب‘، ’تار‘ اور ’شاعری‘ کا تعلق ہمارے موضوع سے نہیں ہے۔
دوسرے باب ’تصانیفِ اقبال کے بارے میں‘ کی ذیل میں سات مضامین، تیس اشتہارات، سات اطلاعات، چھ رپورٹوں، چار تجزیوں، چھ تبصروں، دو تاروں اور پانچ منظومات، کوئی بھی نثرِ اقبال سے متعلق نہیں۔
باب سوم ’سوانحِ اقبال، زمانی ترتیب سے‘ کی ذیل میں ’جلسوں میں شرکت، مختلف عہدوں پرتعیناتی اور متفرق مصروفیات‘ پر مشتمل اکتیس رُودادیں شامل ہیں، جن میں سے ایک (’علامہ اقبال اور کونسل کی امیدواری‘) گفتارِ اقبال میں ’کونسل کی امیدواری کے لیے اعلان‘ کے نام سے تقاریر کے تحت شامل ہو چکی ہے۔ اسی باب میں مراسلات کے عنوان سے چار تحریریں شامل ہیں، یوں اس باب سے کوئی نثری تحریر حاصل نہیں ہوتی۔
چوتھے باب ’انجمنیں اور ادارے‘ میںسے ’انجمنِ حمایتِ اسلام کا ستائیسواں سالانہ اجلاس‘ میں نظم ’شمع اور شاعر‘ کا پس منظر اقبال اور انجمنِ حمایتِ اسلام میں اور ’جامعہ ملیہ اسلامیہ کےلیے اپیل‘ کے عنوان سے ایک مشترکہ اپیل گفتارِ اقبال میں شائع ہو چکی ہیں۔
کتاب کا پانچواں باب ’معاصرین اور احباب‘ اور چھٹا ’افکار و حوادث‘ میں نثر اقبال سے متعلق کوئی تحریر شامل نہیں۔یوں اس مجموعے سے دو مشترکہ بیانات،دو تقاریظ حاصل ہوئیں۔
متفرق ماخذ:
آثارِ اقبال (مرتبہ غلام دستگیر رشید: ستمبر ۱۹۴۴ء) بنیادی طور پر یہ کتاب حیات و فکرِ اقبال سے متعلق یادداشتوں اور مضامین پر مشتمل ہے، البتہ کتاب کے آخر میں اقبال کی درج ذیل دو تحریریں شامل کی گئی ہیں، یعنی (۱) دیباچہ علم الاقتصاد اور ایک تقریر (۲) محفلِ میلادالنبیؐ۔
روزگارِ فقیرجلد دوم (مرتبہ فقیر سید وحید الدین: ۱۹۶۴ء) یادداشتوں پر مشتمل ہے، البتہ اس کے صفحہ ۵۶-۵۹ پر جاوید کے نام اقبال کی ایک وصیت درج ہے، جس کی تصدیق زندہ رُود (۶۱۴-۶۱۵) سے بھی ہوتی ہے۔
اقبال اکادمی پاکستان کے مجلہ اقبال ریویو کے شمارے جولائی ۱۹۷۸ء میں اقبال سے متعلق’باقیات‘کے نام سے مرحوم محمد حنیف شاہد کی پیش کردہ نادر و نایاب تحریروں میں ولیم ہنری ڈیویس کی ایک نظم (Songs of Joy) کا ترجمہ از اقبال نقل کیا گیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس ترجمے سے متعلق بعد کے نثری مجموعوں میں کہیں ذکر نہیں ملتا۔ اقبال کا یہ ترجمہ پہلی مرتبہ ان کے کسی نثری مجموعے میں شامل ہو رہا ہے۔
تصانیفِ اقبال کا تحقیقی و توضیحی مطالعہ(ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی: نومبر ۱۹۸۲ء) کا براہِ راست تعلق ہمارے موضوع سے نہیں،لیکن اسرار و رموز کے دیباچے کی شمولیت کی وجہ سے اس کا ذکر ناگزیر ہے اور محقق نے بجا لکھا ہے کہ ’یہ دیباچہ علامہ اقبال کے کسی نثری مجموعے میں شامل نہیں، اس لیے اسے یہاں نقل کیا جاتا ہے‘۹۵۔
اقبال کے شعری مجموعے:
اقبال کی نثر کی تلاش میں ان کے شعری مجموعوں کی طرف پہلی مرتبہ رجوع کیا جا رہا ہے۔ بات تو حیرت ہی کی ہے کہ شعری مجموعوں میں نثر کو تلاش کرنا چہ معنی دارد؟ لیکن اقبال نے اپنی بعض نظموں، مثلاً(۱) ’فاطمہ بنتِ عبداللّٰہ‘ (بانگِ درا)، (۲) ’جُوے آب‘، (۳) ’ٹالسٹاے‘، (۴) ’کارل مارکس‘، (۵) ’آئن سٹائن‘، (۶) ’نیٹشا‘ (پیامِ مشرق)، (۷) ’قید خانے میں معتمد کی فریاد‘، (۸) ’عبدالرحمٰن اوّل کا بویا ہوا کھجور کا پہلا درخت‘، (۹) ’غزل۱ حصہ دوم، (۱۰) ’خوشحال خاں کی وصیت‘، (۱۱) ’ابوالعلا معری‘(بالِ جبریل)، (۱۲) ’سر اکبر حیدری صدرِ اعظم حیدرآباد دکن کے نام‘ (ارمغانِ حجاز اردو) کے عنوانات کے ساتھ یا پاورقی وضاحتی جملے درج کیےہیں؛ اسی طرح ان مجموعوں میں ۲۷؍تلمیحات و اشارات کو واضح کیا ہے، ۳۹؍مقامات پر تصریحات درج کی ہیں اور۱۵؍مشکل الفاظ کے مفاہیم تحریر کیے ہیں۔ یہ تمام مختصر و مفصل عبارات زیرِ نظر مجموعے میں شامل کر لی گئی ہیں۔
mmm
درج بالا اعداد و شمار سے نثرِ اقبال کا جو گوشوارہ بنتا ہے، وہ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں کتب کے لیے مخففات استعمال کیے گئے ہیں:
| مضامین | دیباچے(۳)، مضامین (۳)، تقریر (۱)، ترجمہ (۱)=۸ |
| آثار | دیباچہ (۱)، تقریر (۱)=۲ |
| مقالات | دیباچہ (۱)، مضامین (۴)،تحریری تقریر (۱)، تقاریر (۳)، مصاحبہ (۱)، تقاریظ (۳)=۱۳ |
| روزگار | وصیت نامہ (۱)=۱ |
| انوار | مضمون (۱)،تشریح(۱)، تقاریظ (۵)، راے (۱)، اسناد (۳)، بیان (۱)، تقریر (۱)، مصاحبات (۲)=۱۵ |
| گفتار | تحریری پیغام (۲)، تحریری بیانات (۴)، تقاریر (۳۰)، بیانات (۱۲)، مصاحبہ (۱)، گفتگوئیں (۵)=۵۴ |
| اوراق | پس منظر (۲)، تقاریظ (۳)، آرا (۴)، سند (۱)، وصیت(۱)، بیانات (۲)=۱۳ |
| انجمن | پس منظر (۱)، تقاریر (۵)=۶ |
| نثری افکار | تقریر (۱)=۱ |
| اقبال ریویو | ترجمہ (۱)=۱ |
| کڑیاں | تقریظ (۱)=۱ |
| تصانیف | دیباچہ (۱)=۱ |
| مخفی گوشے | تقاریظ (۳)، گفتگو (۱)=۴ |
| نگارشات | پس منظر (۵)، تقاریظ (۳)، آرا(۲)، اصلاح (۱)=۱۱ |
| اردو نثر | دیباچہ (۱)=۱ |
| زمیندار | تقاریظ (۲)=۲ |
| کلامِ اقبال | پس منظر (۱۲)، تلمیحات و اشارات (۲۷)، تصریحات (۳۹)، مفاہیم (۱۵)=۹۳ |
| کُل=۲۲۷ |
یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایک گوشوارہ نثر کی اقسام کے حوالے سے بھی مرتب کر دیا جائے، تاکہ پڑتال بھی ہو سکے اور یہ بھی معلوم ہو جائے کہ نثر میں اقبال کی ترجیحات کیا رہی ہیں:
| دیباچے=۷ | مضامین و مقالات=۸ | وصیت نامے=۲ | |||
| کلام کا پس منظر=۲۱ | تلمیحات و اشارات=۲۷ | تصریحات=۳۹ | |||
| مفاہیم=۱۵ | تقاریظ=۲۰ | آرا=۷ | |||
| اسناد؍اصلاح=۵ | تحریری بیان،تقریر،پیغام=۷ | تراجم=۲ | |||
| تقاریر=۴۲ | بیانات=۱۵ | مصاحبات=۴ | |||
| گفتگو=۶ | کُل تحریریں=۲۲۷ |
مذکورہ بالا تحریروں کے علاوہ اقبال کے تین مشترکہ دیباچے اور اکیسمشترکہ بیانات اور اپیلیں بھی دستیاب ہیں، جنھیں اُس وقت تک ضمائم میں پیش کرنا چاہیے، جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ انھیں اقبال نے از خود تحریر کیا ہے۔
mmm
اگرچہ اقبال کی دستیاب نثری تحریروں کو پیش کرنے میں ترتیب کے کئی انداز ہو سکتے ہیں، جس میں سب سے سہل زمانی اعتبار سے پیش کرنا ہے؛ لیکن اقبال کی تحریریں مختلف موضوعات، مختلف معیارات، مختلف انداز اور مختلف اسالیب کی حامل ہیں؛ چنانچہ ان تمام مشکلات کو دیکھتے ہوئے علمی وقار اور سنجیدہ قارئین کے نقطہ نظر کو ملحوظ رکھتے ہوئے درج بالا ترتیب کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر تحریر کو شامل کرتے وقت اس کی اشاعتوں کی تفصیل دے دی جائے اور بنیادی ماخذ سے براہِ راست استفادہ کیا جائے۔
نثرِ اقبال میں ان کی گفتار کو شامل کیا جائے، البتہ اقبال کی گفتار میں سے وہی تحریریں لی جائیں، جو ان کی زندگی میں شائع ہوئیں اور بادی النظر میں اقبال کی نظر سے گزریں۔ اقبال کی جو تحریر ان کی نظر سے گزر گئی، اسے ان کی نثر تصور کیا جا سکتا ہے، کیونکہ جہاں کہیں انھوں نے مطبوعہ تقریر، بیان یا گفتگو کے بارے میں اختلاف کیا ہے، اس کے بارے میں خطوط ضرور لکھے ہیں۔ اس قسم کے بعض خطوط کلیاتِ مکاتیبِ اقبال میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
اقبال کی ’نثر‘ پر مشتمل مختلف مجموعوں میں سے نثرِ اقبال کا کھوج لگانا بجاے خود ایک کٹھن مرحلہ ہے۔ اس سلسلے میں ایک دُشواری اس لیے بھی در آتی ہے کہ نثر کے نام پر اقبال کی اردو نثر اور اقبال کی انگریزی نثر سے تراجم میں امتیاز نہیںکیا گیا اور تراجم کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اسلوبِ اقبال کے اوصاف بیان ہوتے رہے ہیں۔
نثرِ اقبال کا یہ ابتدائی خاکہنہایت عجز و انکسار اوراس وعدے کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہےکہ اس سلسلے میں جستجو جاری رکھی جائے گی، تاکہ مستقبل قریب میں نثرِ اقبال کا ایک مکمل مجموعہ شائقینِ اقبال کے لیے پیش کیا جا سکے۔
qqq
حواشی اور حوالے:
۱ بنام نکلسن، ۲۴؍ جنوری ۱۹۲۱ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال دوم، ص ۲۲۷-۲۳۷
۲ یہ مضمون انگریزی زبان میں Prophet’s Criticism of Contemporary Arabian Poetry کے عنوان سے New Era میں ۲۸؍جولائی ۱۹۱۷ء کو شائع ہوا تھا۔ اسی ماہ مولانا ظفر علی خاں نے اپنے پرچے ستارۂ صبح میں اس کا ترجمہ شائع کر دیا، رفیع الدین ہاشمی کے خیال میں، غالب امکان ہے کہ یہ ترجمہ انھوں نے خود ہی کیا ہو گا۔ (تصانیفِ اقبال، ص۳۳۹)
| ۳ | The Muslim Community: A Sociological Study, Speeches, Writings & Statements of Iqbal, p 118-137 |
| ۴ | Presidential Address Delivered at the Annual Session of the All India Muslim League, 29th December 1930, Speeches, Writings & Statements of Iqbal, p 3-29 |
| ۵ | Islam and Ahmadism, 10th June1935, Speeches, Writings & Statements of Iqbal, p 214-240 |
| ۶ | Muraqqa-i-Chughtai, p not mentioned |
۷ بنام مولوی انشاء اللّٰہ خاں، ۱۲؍ ستمبر۱۹۰۵ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال اوّل، ص ۹۴-۱۰۷+۲۵؍ نومبر ۱۹۰۵ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال اوّل، ص ۱۰۹-۱۱۷
| ۸ | Political Thought in Islam, Sociological Reviews London 1908, Hindustan Review Allahabad, December 1910 (p 527-533) & January 1911 (p 22-26), Speeches, Writings & Statements of Iqbal, p 138-154 |
۹ بنام منشی دیا نگم نرائن، مارچ ۱۹۰۶ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال اوّل، ص ۱۱۹-۱۲۴
۱۰ بنام نذیر نیازی، اکتوبر ۱۹۳۵ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال چہارم، ص ۲۱۲-۲۱۴
۱۱ بنام نذیر نیازی،اکتوبر ۱۹۳۵ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال چہارم، ص۲۱۹-۲۲۰
۱۲ یہ انٹرویو مدراس کے ایک اخبار سوراجیہ کو دیا گیا۔ اخبار چونکہ اردو کا نہیں، اس لیے غالب امکان ہے کہ اقبال نے انگریزی میں اظہارِ خیال کیا ہو گا۔
۱۳ انوارِ اقبال میں بشیر احمد ڈار نے اس مصاحبے کا ماخذ درج نہیں کیا، کتابیاتِ اقبال سے بھی اس سے متعلق کچھ اطلاع نہیں ملتی۔ خوش قسمتی سے راقم کو کارواں لاہور کا سالنامہ ۱۹۳۴ء مل گیا، جس کے اداریے میں یہ تمام مصاحبہ نقل ہوا ہے۔
۱۴ اقبال نے یہ تقریر ۳۰؍دسمبر ۱۹۱۹ء کو لاہور میں موچی داروازے کے باہر ایک جلسہ عام میں کی تھی، چنانچہ اس کا اردو زبان میں ہونا ناگزیر ہے۔
| ۱۵ | 0A Plea for Deeper Study of the Muslim Scientists, Islamic Culture Hyderabad Deccan, April 1929, P 201-209, Speeches, Writings & Statements of Iqbal, p 168-178 |
۱۶ اقبال کا یہ مضمون وکیل امرتسر کی اشاعت ۲۸؍ جون ۱۹۱۶ءمیں شائع ہوا تھا۔
۱۷ محمد دین فوق نے اسلامی تصورات سے متعلق اقبال سے چند سوالات کیے تھے، جن کے جوابات کو انھوں نے مختصراًاپنے ہفتہ وار اخبار کشمیری میں ۱۴؍جنوری ۱۹۱۳ء کو شائع کیا تھا۔
۱۸ علامہ اقبال اور حکیم احمد شجاع نے چھٹی ساتویں اور آٹھویں جماعت کے لیے جدید اردو نصاب ترتیب دیا۔ یہ تینوں کتابیں گلاب چند کپور اینڈ سنز بُک سیلرز و پبلشرز انارکلی لاہور سے۱۹۲۴ءمیں شائع ہوئیں اور ۱۲؍ جنوری ۱۹۲۵ء کو نصابی کتب کی حیثیت سے ان کی منظوری ہوئی۔ تینوں کتابوں کے لیے ایک ہی دیباچہ لکھا گیا۔ یہ کتب مشترکہ پیشکش تھیں، چنانچہ قیاس ہوتا ہے کہ دیباچہ بھی دونوں کے اشتراک سے لکھا گیا ہو گا، لیکن ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کی تحقیق کے مطابق، ’یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ دیباچہ مکمل طور پر یا اس کا زیادہ تر حصہ اقبال کا تحریر کردہ ہے‘۔ (تصانیفِ اقبال، ص ۴۰۹) اس کے بعد انھوں نے اقبال کے مضمون ’بچوں کی تعلیم و تربیت‘ کے بعض اقتباسات کا دیباچے کے مندرجات سے موازنہ کر کے اپنی راے کا ثبوت دیا ہے۔
۱۹ اقبال کے مسلمہ تصورات و خیالات کے برعکس اس کتاب کے مندرجات پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی لکھتے ہیں کہ سرورق پر بطور مصنّفین ’شیخ محمد اقبال صاحب‘ اور ’لالہ رام پرشاد صاحب، ایم اے، پروفیسر ہسٹری، گورنمنٹ کالج لاہور‘ کے نام درج ہیں، ورنہ مندرجاتِ کتاب کے بغور مطالعےسے واضح ہوتا ہے کہ کتاب لالہ رام پرشاد کی تحریر تو ہو سکتی ہے، مگر علامہ کا کتاب کے مباحث و مندرجات سے کچھ علاقہ نہیں۔(تصانیفِ اقبال، ص ۴۲۰)
۲۰ بنام منشی پریم چند، ۲۲؍اگست ۱۹۱۵ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال اوّل،ص۳۹۹
۲۱ بنام خواجہ غلام الحسنین، ت ن، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال اوّل، ص ۸۳
۲۲ بنام خواجہ حسن نظامی، ۲۶؍ جنوری ۱۹۱۷ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال اوّل، ص۵۵۴-۵۵۶
۲۳ بنام ثاقب کانپوری، ت ن، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال سوم، ص ۱۴۴-۱۴۵۔ رفیع الدین ہاشمی نے اس مجموعہ کلام کا نام متاعِ درد بتایا ہے۔ (تصانیفِ اقبال، ص ۲۵۴)
۲۴ بنام خواجہ وصی الدین، ۹؍ جون ۱۹۳۱ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال سوم، ص ۲۱۶-۲۱۹
۲۵ اندازِ تخاطب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خط ہے، لیکن ابھی تک یہ کسی مجموعۂ مکاتیب میں نہیں ملا۔ محمد سجاد مرزا بیگ دہلوی کی مزید دو کتب پر بھی اقبال کے خطوط ملتے ہیں۔ (۱) حکمتِ عملی مطبوعہ ۱۹۰۶ء پر، مکاتیب چہارم، ص ۹۴۱ اور الانسان مطبوعہ ۱۹۱۱ء پر، مکاتیبِ چہارم، ص ۹۴۷
۲۶ بنام عبدالسلام سلیم، ۵؍نومبر ۱۹۳۰ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال سوم، ص ۱۷۳-۱۷۴
۲۷ یہ خط انگریزی میں ہے۔ بنام عبدالقوی فانی، ۲۱؍ مئی ۱۹۳۲ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال سوم، ص ۲۸۲
۲۸ بنام اظہر عباس، ۸؍ نومبر ۱۹۳۵ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال چہارم، ص ۲۲۲-۲۲۳
۲۹ بنام شاطر مدراسی، (۱) ۲۴؍ فروری ۱۹۰۵ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال اوّل، ص ۹۲؛ (۲) ۱۶؍ مارچ ۱۹۰۵ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال اوّل، ص۹۳؛ (۳) ۲۹؍ اگست ۱۹۰۸ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال اوّل، ص ۱۵۰-۱۵۱
۳۰ بنام مولوی کرم الٰہی صوفی، قبل از نومبر ۱۹۱۱ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال اوّل، ص ۱۳۰-۱۳۱
۳۱ بنام شوق سندیلوی، (۱) ۴؍ نومبر ۱۹۱۹ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال دوم، ص ۱۴۶؛ (۲) ؟ نومبر ۱۹۱۹ء، ص۱۵۵؛ (۳) ؟؍ نومبر ۱۹۱۹ء، ص ۱۵۶؛ (۴) ؟؍ نومبر ۱۹۱۹ء، ص ۱۵۶
۳۲ بنام محمد احمد خاں، (۱) ۲۹؍ مارچ ۱۹۱۹ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال دوم، ص ۷۶؛ (۲) ۲۸؍ ستمبر ۱۹۲۰ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال دوم، ص ۲۰۴-۲۰۵
۳۳ بنام حاجی بدرالدین احمد، ۱۹۱۴ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال چہارم، ص ۹۵۱
۳۴ بنام سید سرور شاہ گیلانی، ۱۹۳۶ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال چہارم، ص ۲۶۳-۲۶۴
۳۵ بنام خواجہ نظام الدین، ۲۷؍ ستمبر ۱۹۲۲ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال دوم، ۳۹۰-۳۹۱۔ انوارِ اقبال میں محض ایک جملہ دیا گیا ہے۔
۳۶ بنام مولوی نجم الغنی رامپوری، ۱۴؍ دسمبر ۱۹۱۸ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال اوّل، ص ۷۹۵
۳۷ بنام مولوی محمد اسماعیل میرٹھی،(۱)۲؍ نومبر ۱۹۱۲ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال اوّل، ص ۲۴۵-۲۴۶؛ (۲) ۲۵؍ جنوری ۱۹۱۵ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال اوّل، ۳۴۰
۳۸ بنام ساحر دہلوی، ۲۶؍ ستمبر ۱۹۳۷ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال چہارم، ص ۵۸۳-۵۸۴
۳۹ بنام میر ولی اللّٰہ، ۱۹۱۴ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال چہارم، ص ۹۵۶
۴۰ مقدمہ گفتارِ اقبال، ص ہ
۴۱ بنام مدیر زمیندار، ۲۳؍ جون ۱۹۲۳ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال دوم، ص ۴۵۳-۴۵۷
۴۲ بنام شوکت علی اور شیخ عبدالمجید سندھی، ۸؍ اکتوبر ۱۹۳۲ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال چہارم، ۱۰۸۷
۴۳ بنام محمد نعمان، اکتوبر ۱۹۳۷ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال چہارم، ص۵۷۶-۵۷۷
۴۴ بنام مدیر زمیندار، ۳؍اکتوبر ۱۹۲۶ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال دوم، ص ۶۵۰-۶۵۱
۴۵ بنام مدیر انقلاب، شروع فروری ۱۹۲۹ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال سوم، ص۵۵-۵۶
۴۶ Muslim Outlook کے نمائندے کے سوال کا جواب
۴۷ Tribune کے نمائندے کے سوال کا جواب
۴۸ Muslim Outlookکے نمائندے کے سوال کا جواب
| ۴۹ | The Punjab Legislative Assemble Debates, Vol: X-B, Part-I, p |
۵۰ Associated Press کو بیان
۵۱ Tribune کے نمائندے کے سوال کا جواب (گفتارِ اقبال، ص۸۴-۸۶)
۵۲ Muslim Outlook کے نمائندے کے سوال کا جواب (گفتارِ اقبال، ص ۱۰۹-۱۱۱)
۵۳ Statesman کے نمائندے کے سوال کا جواب (گفتارِ اقبال، ص ۱۱۹)
۵۴ (گفتارِ اقبال، ص ۱۴۴) یروشلم میں ہونے والی گفتگو اردو میں ممکن نہ تھی۔
۵۵ Civil & Military Gazette کے نمائندے کے سوال کا جواب(گفتارِ اقبال، ص ۱۴۴)
۵۶ Muslim News Serviceکے نمائندے کے سوال کا جواب (گفتارِ اقبال،ص۱۶۷)
۵۷ Associated Press کے نمائندے کے سوال کا جواب (گفتارِ اقبال، ص ۱۸۳)
۵۸ مندرجات کے بغور مطالعے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ۳؍ جولائی ۱۹۳۵ء کے مشترکہ بیان کو بعد میں انگریزی میں بھی جاری کیا گیا اور انقلاب نے اس انگریزی بیان کو ۱۸؍ جولائی ۱۹۳۵ءکواردو میں شائع کیا۔
۵۹ اس رُوداد میں یورپی تقریبات میں اقبال کی گفتگو ؍بیانات اور تقریریں رپورٹ کی گئی ہیں، جن کا انگریزی زبان میں ہونا ناگزیر ہے۔
۶۰ خط انگریزی میں تھا، جس کا ترجمہ انقلاب مؤرخہ ۹؍ اکتوبر ۱۹۳۷ء کو شائع ہوا۔ (محمد رفیق افضل)
۶۱ ۱۵؍فروری ۱۹۳۷ء کو، جب اقبال گلے کے عارضے میں مبتلا تھے، یومِ غالب کے موقع پر میاں بشیر احمد نے علامہ کا یہ پیغام پڑھ کر سنایا۔
۶۲ ۱۹؍ستمبر ۱۹۳۷ء کو حبیبیہ ہال میں منعقدہ پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے ایک جلسے کے لیے اقبال زیرِ نظر پیغام بھجوایا۔
۶۳ یہ اپیل ہے، جو یقیناً تحریری ہو گی۔
۶۴ یہ بیان اپنے اسلوب اور ترتیب کے اعتبار سے تحریری معلوم ہوتا ہے۔
۶۵ اس بیان کے آخر میں اقبال نے اپنا نام بھی درج کیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تحریری بیان ہے۔
| ۶۶ | Corporeal Resurrection, Muslim Revival Lahore, September 1932, Civil & Military Gazette Lahore, 21st April 1952, Speeches, Writings & Statements of Iqbal, p188-192 |
۶۷ روزنامہ Civil & Military Gazette لاہور، ۹؍جنوری ۱۹۳۲ءکو شائع ہوا، بحوالہ صحیفہ اقبال نمبر ص ۲۲۰
| ۶۸ | Why Iqbal’s choice fell on Jinnah, Daily Pakistan Times Karachi, August 14, 1967 |
| ۶۹ | My Preceptor, Daily Pakistan Times Karachi, April 21, 1961 |
| ۷۰ | Statement on the Report Recommending the Partition of Palestine, July 27, 1937, Speeches, Writings & Statements of Iqbal, p188-192 |
۷۱ ۱۹۲۵ءکے اواخر میں علامہ اقبال نے ارادہ کیا کہ وہ اسلام کے بارے میں اپنی راے کا اظہار کریں اور اپنی اس کاوش کا نام انھوں نے Islam as I Understood it تجویز کیا۔ وہ اس موضوع پر بلند پایہ تحقیقی کام کرنے کے خواہش مند تھے،لیکن مالی پریشانیوں،جسمانی عوارض وغیرہ کی وجہ سے یہ خواہش پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ سکی۔ مئی ۱۹۳۵ء میں جب سر راس مسعود کی کوششوں سے نواب حمید اللّٰہ خاں والیِ بھوپال نے علامہ کا پانچ سو روپے ماہانہ تاحیات وظیفہ مقرر کر دیا تو اقبال اس عظیم کام کے لیے آمادہ ہو چکے تھے۔ انھوں نے ضروری کتب بھی مہیا کر لی تھیں، لیکن مناسب معاون میسر نہ آنے کی وجہ سے سارا منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا۔ علامہ نے اس مقصد کے لیے جو نوٹس مرتب کیے تھے، وہ میاں محمد شفیع (م ش) کے سپردد کر دیے تھے، جنھوں نے ان کو اپنے خط میں منتقل کیا اور غالباً سب سے پہلے ۱۹۵۱ءمیں روزنامہ آفاق لاہور کے ذریعے منظر عام پر لائے۔ (رحیم بخش شاہین)
۷۲ بنام خواجہ حسن نظامی، ۲۷؍ ستمبر ۱۹۲۲ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال دوم،ص ۳۹۰-۳۹۱
۷۳ بنام خواجہ حسن نظامی، ۱۵؍فروری ۱۹۳۶ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال چہارم، ص ۲۸۴-۲۸۵
۷۴ ان میں سے ایک ’اسلام اور قومیت‘ سابقہ مجموعوں میں ’جغرافیائی حدود اور مسلمان‘ کے نام سے شامل ہے۔
۷۵ بنام خواجہ حسن نظامی، ۳۰؍ دسمبر ۱۹۱۵ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال اوّل، ص ۴۴۸-۴۵۷
۷۶ بنام صاحب زادہ آفتاب احمد خاں، ۴؍ جون ۱۹۲۵ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال سوم، ص ۵۸۹-۵۹۶
۷۷ بنام خالد خلیل، اکتوبر ۱۹۲۴ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال دوم، ص ۵۶۷-۵۷۳
| ۷۸ | Speeches, Writings & Statements of Iqbal, p 296-297 |
۷۹ اقبال اُس زمانے میں شدید بیمار تھے، چنانچہ اس بیان کی تیاری میں عبدالمجید سالک نے اقبال کی مدد کی تھی اور بعد ازاں اس بیان کا اردو ترجمہ آل انڈیا ریڈیو لاہور سے یکم جنوری ۱۹۳۸ء کو چھ بجے نشر کیا۔(حیاتِ اقبال کے چند مخفی گوشے، ص۴۰)اس کا ایک ترجمہ لطیف احمد شروانی نے بھی کیا ہے۔ (اقبال کی تقریریں، تحریریں اور بیانات،ص ۲۴۹-۲۵۱)اصل انگریزی متن کے لیے ملاحظہ کیجیے: Speeches, Writings & Statements of Iqbal، ص۲۹۸-۳۰۰
۸۰ ابھی تک تحقیق طلب ہے۔
| ۸۱ | Presidential Address Delivered at the Annual Session of the All India Muslim Conference Lahore, 21st March 1932 |
| ۸۲ | Corporeal Resurrection, Muslim Revival Lahore, September 1932, Civil & Military Gazette Lahore, 21st April 1952, Speeches, Writings & Statements of Iqbal, p188-192 |
۸۳ محمد حمزہ فاروقی کے مطابق، اس کے انگریزی متن اور اردو ترجمے میں اختلاف ہے، بیان کی ترتیب بھی مختلف ہے۔ انقلاب میں مکمل بیان ترجمہ ہو کر شائع ہوا، جب کہ انگریزی اخبارات میں کچھ تبدیلی کے ساتھ شائع ہوا تھا۔ (حیاتِ اقبال کے چند مخفی گوشے، ص ۲۱۱)
۸۴ اقبال نے یہ پیغام میاں محمد شفیع کو انگریزی میں تحریر کرایا تھا، انقلاب میں اس کا ترجمہ شائع ہوا تھا۔ (رَو میں رخشِ عمر از عبدالسلام خورشید، ص ۸۵)
| ۸۵ | Islam and Mysticism, The Nrew Era Lucknow, 28th July 1917, p 250-251, Speeches, Writings & Statements of Iqbal, p 154-156 |
| ۸۶ | Precy of ‘Islam as a Moral and Political Ideal’, Observer Lahore, April 1909, The Hindustan Review Allahabad, July-December 1909, Speeches, Writings & Statements of Iqbal, p 97-117 |
| ۸۷ | Divine Right to Rule, Light Lahore, 30th August 1928, Speeches, Writings & Statements of Iqbal, p 163-167 |
| ۸۸ | Touch of Hegelianism to Lisanul Asr Akbar, The New Era Lucknow, 18th August 1917, p 300, Speeches, Writings & Statements of Iqbal, p 159-161 |
۸۹ اقبال نے یہ پیش لفظ ستمبر ۱۹۳۴ءمیں تحریر کیا اور اس کا ترجمہ محمد عبداللّٰہ قریشی کی فرمائش پر گورنمنٹ کالج جھنگ کے پروفیسر ابوبکر صدیقی نے کیا۔ (مقالاتِ اقبال، طبعِ دوم، ص ۳۶۸)
۹۰ بنام سید محمد سعید الدین جعفری، ۱۴؍ نومبر ۱۹۲۳ء، کلیاتِ مکاتیبِ اقبال دوم، ص ۴۹۳-۴۹۵
۹۱ …’ آپ کی نفسیاتِ تعلیم ان حضرات کے لیے‘… اس جملے سے اس تحریر کا خط ہونا ثابت ہوتا ہے۔
۹۲ …’آپ کی کتاب نظامِ عمل مَیں نے دیکھی‘…اس جملے سے اس تحریر کا خط ہونا ثابت ہوتا ہے۔
۹۳ …’آپ نے یہ کتاب لکھ کر‘… اس جملے سے اس تحریر کا خط ہونا ثابت ہوتا ہے۔
۹۴ اقبال نے یہ کتاب حکیم احمد شجاع کے ساتھ مل کر مرتب کی تھی، چنانچہ گمانِ غالب ہے کہ دیباچہ بھی دونوں نے مشترکہ طور پر تحریر کیا ہو گا؛ لیکن اقبال کے ایک مضمون ’بچوں کی تعلیم و تربیت‘ سے موازنہ کرتے ہوئے ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے لکھا ہے کہ ان میں ایک واضح معنوی اشتراک نمایاں ہے، اس بِنا پر راقم کا خیال ہے کہ سلسلہ ادبیہ کی اس چوتھی کتاب کا دیباچہ بھی اقبال ہی کا تحریر کردہ ہے۔ (تصانیف، ص ۴۱۷) ر ک حاشیہ۲۰؛ لیکن چونکہ ابھی تک اس حوالے سے وثوق سے نہیں کہا جا سکتا، اس لیے اسے مشترکہ دیباچہ ہی تسلیم کرنا چاہیے۔
۹۵ ص۱۲۶۔ یہ دیباچہ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کے توسط سے پہلی مرتبہ کسی مجموعۂ نثر میں شامل ہو رہا ہے۔
ڈاکٹر خالد ندیم
صدرِ شعبہ اردو اور مشرقی زبانیں،
سرگودھا یونیورسٹی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

