"در نجف”میری بارہ سالہ بیٹی بہت سمجھدار بچی ہںے اور ساتھ ہی معصوم بھی کسی بھی بات پر جلد جذباتی ہو جاتی غصہ جلدی آکر جلد ختم ہوجاتا تھوڑی تنہائی پسند شاید بہت سال تک اکلوتی ہونے کیوجہ سے کیونکہ اس کی پیدائش کے آٹھ سال بعد الللہ نے مجھے بیٹے سے نوازا تھا،اسکول میں بھی اس کے زیادہ دوست نہیں تھے اس کی دوستی مجھ سے ہی تھی لیکن میں اسے اپنی مصروفیت میں زیادہ وقت نہیں دے پاتی تو کبھی وہ اپنی پڑھائی میں مصروف ہوتی اور ایسے میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے اسکول کا بند ہوجانا اسے بہت ڈسٹرب کر گیا وہ تو شکر تھا کہ ہم لاک ڈاؤن سے چند روز پہلے ہی نئے فلیٹ میں شفٹ ہوئے تھے اور آس پاس کے فلیٹس کی بچیوں سے اس کی کچھ کچھ دوستی ہوگئی تھی،کئی مہینے گزر گئے سب کچھ بہتر چل رہا تھا کہ اچانک مجھ در نجف کے مزاج میں چرچراہٹ سی محسوس ہونے لگی میں کسی چھوٹے موٹے کام کے لئے کہوں تو اکتا جاتی اپنے ابو کو بھی کبھی اکھڑا سا جواب دیتی،پھر پڑوسی بھی اس کی شکایت کرنے لگے کہ ان کی بچیوں سے خواہمخواہ الجھتی ہںے تب میں نے اس سے بات کرنے کا طے کیا کہ میری بچی تو واقعی میں ایک بہترین بچی ہںے لیکن تھی تو عمر کے ایسے دور میں جس میں خیالات دو متضاد سمت میں چلتے ہیں۔میں نے اس سے بات کی پہلے اس نے کچھ نہ کہا پھر میرے ناراض ہونے کی دھمکی پر اس نے بتا دیا کہ اسے پڑوس کی بچیاں اچھی نہیں لگتیں۔”لیکن بیٹا وہ تو آپ کی سہیلیاں ہیں۔”لیکن ضروری تو نہیں امی کہ ساری سہیلیاں اچھی ہی ہوں یا مجھے اچھی ہی لگیں۔” "بیٹا،ہم دوست تو اسی کو بناتے ہیں جو ہمیں اچھا لگتا ہںے یا کچھ کچھ ہمارے جیسا لگتا ہںے۔” "وہ اچھی ہوں گی پر میرے جیسی نہیں ہو سکتیں۔”وہ طیش میں بولی۔میں حیران رہ گئی۔”یہ کیا کہہ رہی ہو اور کس لہجے میں کہہ رہی ہو۔”میری پرورش ایسی نہ تھی جس طریقے سے وہ بات کر رہی تھی۔”ہاں امی وہ جیسی ہیں ویسی کیوں نہیں رہتیں جیسا میں کرتی ہوں ویسا ہی کرتی ہیں جس طرح کے لباس میں پہنتی ہوں اس کو کاپی کرتی ہیں وہ اور مجھے پسند نہیں میں میں ہوں میرے جیسا کوئی نہیں ہونا چاہئے۔”میری بیٹی کی باتوں میں زعم تھا۔میں اس پر ہاتھ اٹھا سکتی تھی لیکن یہ اس کا علاج نہ تھا پر میں جانتی تھی کہ اس کا کیا علاج تھا اور کہاں تھا اور اگلے دن میں نے اپنی چھوٹی بہن کے گھر اسے کچھ دنوں کے لئے بھیج دیا اور جس دن اسے واپس آنا تھامیں بیچینی سے اس کا انتظار کر رہی تھی میری بہن نے فون کر کے کہا کہ وہ میرے بہنوئی کے ساتھ آرہی ہںے۔پھر جب میرے بہنوئی نے فون کر کے کہا کہ وہ اسے لفٹ سے ہمارے فلور پر چھوڑ کر آفس کے لئے نکل گئے ہیں تو میں پریشان سی باہر آئی کہ وہ راستے میں کہاں رک گئی۔پورا کوریڈور خالی تھا بس لفٹ کے پاس والے فلیٹ سے باتوں کی آواز آرہی تھی میں اسی فلیٹ کے دروازے تک پہنچ گئی اندر کے منظر نے مجھے مطمئن کرنے کے ساتھ حیران بھی کر دیا اندر اپنی سہیلیوں کے بیچ گھری میری در نجف مسکرا رہی تھی اس کی نظر مجھ پر پڑی تو وہ امی کہتی ہوئی آکر مجھ سے لپٹ گئی پھر اپنی دوستوں کو خدا حافظ کہہ کر میرے ساتھ گھر میں آ گئی
امی آپ نے میری غلط سوچ کا علاج کردیا۔”وہ مسکرا کر بولی میں بھی مسکرادی۔”لیکن یہ بات تو آپ بھی مجھے سمجھا سکتی تھیں خالا کے پاس کیوں بھیجا؟”تمہاری خالا نے تمہیں نہیں بتایا۔”نہیں انہوں نے بس مجھے بہت پیار سے سمجھایا اور میں سب سمجھ گئی،انہوں نے کہا کہ دوست بہت قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں ان سے مقابلہ نہیں ہوتا وہ ہمارے برابر ہوتے ہیں اور اگر ہماری کسی بات کو پسند کرکے اپناتے ہیں تو ہمیں بس بات کو مثبت طور پر لینا چاہیے خوش ہونا چاہیے کہ کوئی ہماری اچھائی کو اپنا رہا ہںے اور انسان ہونے کے ناطے بھی کوئی کسی سے برتر نہیں ہںے۔” "ہاں بیٹا تمہیں یاد ہوگا کہ پچھلا فلیٹ ہم نے اس لئے ہی چھوڑا تھاکہ وہاں کے پڑوسی اچھے نہ تھے ان کی غلط سنگت تم پر اثر انداز ہوسکتی تھی لیکن یہاں تو سب تمہاری اچھی عادت کو اپنارہںے تھے تمہارا سلیقہ تمہارا پاکیزہ پہناوا تمہاری بات چیت کا اچھا طریقہ لیکن تم نے اس بات کو غلط طریقے سے لیا تب مجھے تمہاری خالا کا خیال آیا تمہاری والی عمر میں وہبھی اسی زعم کا شکار ہوئی تھیں جب امی سے ملی سیکھ میں نے انہیں دی تھیں مجھے تو امی نے اچھی بات سکھائی تھیں پر ان کے وقت تک امی نہ رہی تھیں اور تمہیں میں نے اس لئے نہ سکھایا کہ میں اپنی بہن کو وہ موقع دینا چاہتی تھی کیونکہ غلطی سے سیکھنے والا کسی کو زیادہ بہتر سکھا سکتا ہںے۔اور اگر کوئی ہم سے سیکھنا چاہتا ہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کی مدد کریں ۔”میں نے در نجف کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے سمجھایا ۔”جی امی ہم اپنے فرض سے ان شاءاللہ پیچھے نہ ہٹیں گے۔”ہم دونوں ایک عزم سے مسکرا دئیے۔🌹
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

