مرجان! کیا آج بھی سیر کو نہیں چلو گی ! کل بھی تم بمشکل چلنے پر رضامند ہوئیں تھیں ، کیا بات ہے؟ اسماء کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ بولی ۔۔
کوئی بات نہیں آپی! بس دل نہیں چاہتا کہیں جانے کو! مرجان بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ بولی۔
کیوں نہیں چاہتا دل طبیعت ٹھیک ہے؟ اور تم آجکل کچھ اداس اداس نظر آتی ہو وجہ کیا ہے؟
"اداس” یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر خاموش رہی، پھر نہایت غم بھرے لہجے میں کہا، اسماء آپی! میں اصل میں اداس نہیں بلکہ فکرمند ہوں ۔
کیوں؟ اسماء نے فکرمند ہوکر پوچھا ۔ کیوں کا اب کیا کہوں آپی میرے اعمال اور کوششوں کا نتیجہ کل سامنے آجاۓ گا۔۔۔ اللہ مجھ پر رحم کرے، وہ گڑگڑاتے ہوئے کہنے لگی۔
آخر بات کیا ہے، کیوں ایسی بہکی بہکی باتیں کررہی ہو؟ اسماء قدرے پریشان ہوتے ہوئی بولی۔
آپکو معلوم ہے نا کل میرا، دسویں بورڈ کا نتیجہ نکلنے والا ہے۔
تو اس میں فکرمند ہونے کی کیا ضرورت تم تو کافی ذہین بچی ہو ماشاء اللہ۔۔۔ چلو اب اٹھو اورسیر کوچلو اسطرح طبیعت بھی بہل جاۓ گی۔
"آپ مجھے سیر کیلے مجبور نہ کریں، میرا بالکل دل نہیں چاہ رہا، آپی ! ابو جی جو بھی بات کرتے ہیں وہ اکثر صحیح ثابت ہوتی ہے، اس بار کہہ رہے تھے کہ تمہارا اس دفعہ انگلش میں پاس ہونا مشکل ہے ، مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے ابو جی کی بات ضرور ٹھیک ہو جائے گی ، ہاۓ اللہ جی اگر خدانخواستہ میں فیل ہوگئی تو اگلی کلاس میں کیسے جاؤں گی مجھے تو آگے کالج میں پڑھنے کا کتنا شوق ہے۔” یہ کہتے آواز بھرا گئی اور آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے۔
پگلی رونے سے کیا ہوگا بھلا، رزلٹ تو آنے دو پہلے ہی رو رو کر حالت خراب کررہی ہو ” اسماء نے اسکے آنسو پوچھتے ہوۓ کہا۔ ” اٹھو ہاتھ منہ دھو لو اور کوئی کتاب وغیرہ پڑھو تاکہ تمہارا اس طرف سے دھیان ہٹےہٹے، اچھا اب میں جارہی ہوں ” وہ بیڈ سے اٹھتے ہوۓ بولی۔
میری سہلیاں انتظار کررہی ہونگی، یہ کہہ کر وہ چلی گئیں۔
مرجان کو کسی پل چین نہ تھا، کبھی اٹھتی، کبھی بیٹھتی کبھی بے چین ہوکر ٹہلنے لگتی۔۔۔۔ پھر سوچتی کہ پرچے تو اچھے ہوۓ تھے پھر کیا وجہ ہیکہ میرے دل کو اس قدر بے چینی ہے، کیا اس لیے کہ امتحان کے دنوں میں اس قدر مصروف تھی کہ نماز بھی چھوڑ دی تھی، آپی اکثر مجھ سے پوچھا کرتیں کہ تم نے نماز ادا کرلی تو میں پیچھا چھڑا نے کیلے کہہ دیتی کہ ہاں میں ابھی نماز سے فارغ ہوئی ہوں ، اور وہ یہ سن کر مسکرا دیتی تھیں اللہ جانے کیوں! اکثر آپی کہتی کہ تمہارے چہرے سے تو وضو کیا ہوا معلوم ہی نہیں ہورہا تو میں پیچھا چھڑا نے کہہ دیتی کہ ہاں پچھلی نماز کا ہی کیا ہوا تھا،
باجی کہتی، دیکھو مرجان! اگر تم نے اللہ پاک کو یاد نہ رکھا تو اللہ پاک بھی تمہیں فراموش کر دینگے، اور اس طرح تم اللہ پاک کی رحمت سے دور ہو جاؤ گی ، (ایک دم کانپ کر) ہاۓ کہیں آپی کی بات صحیح نہ ہو جائے۔ ۔۔۔ میں نے سچ مچ ان دنوں کبھی اللہ پاک کو یاد نہیں کیا، بلکہ الٹا اپنے سہلیوں کے ساتھ ملکر کلاس کی ان چار لڑکیوں کا مذاق اڑاتی جو اسکول میں آکر بھی نماز کی پابندی کرتی تھیں، ہم سہلیاں طنزاً انہیں ملانیاں کہہ کر پکارتی تھیں لیکن مجال ہے کہ انہوں نے کبھی ہماری باتوں کا برا منایا ہو ہمیشہ خوش دلی سے ہنس کر آگے بڑھ جاتیں تھیں اور تو اور وہ پڑھنے میں بھی تیز تھیں،
آپی کا کہنا ہیکہ جو لوگ نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ہر لمحہ اللہ پاک کو یاد کرتے ہیں اللہ پاک انہیں کبھی نہیں بھولتے اور ہمیشہ کامیاب کرتے ہیں۔ ۔۔۔۔خیر کل معلوم ہو جائے گا کہ کون کتنے پانی میں ہیں۔۔ ایسے ہی خیالات کا ہجوم اسکے دماغ پر چھایا ہو اتھا کہ اسے نیند نے آلیا۔۔
صبح کی سپیدی کسی کیلے پیغام مسرت اور کسی کیلے پیغام غم لیکر آئی، نسیم السحر کے خوشگوار جھونکے کسی خوش نصیب کے دل کو اور زیادہ خوش کردیتے تو کسی غمگین دل کو اور غمگین۔ مرجان بھی جلدی جلدی نماز سے فارغ ہوکر کمرے کی کھلی کھڑکی کے سامنے آکر بیٹھ گئی آج رزلٹ آنا تھا اور وہ امید وپیم کی عجیب کیفیت کا شکار تھی کبھی تصور ہی میں کامیابی کا خیال کرکے خوش ہوجاتی۔۔۔۔ اور کبھی فیل ہونے کے اندیشے سے لرز اٹھتی۔۔۔
اچانک کسی نے پیچھے سے آکر اسکی آنکھوں کو بند کیا اور وہ بیزاری سے ان ہاتھوں کو ہٹاتے ہوۓ کہنے لگی کہ چھوڑئیے بھائی جان آپ کو ہر وقت مذاق سوجھتا ہے یہاں تو یہ حال ہے
بقول شاعر
نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی
تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں۔
اوہو، اب مان لو یہی تمہاری قسمت ہے۔ بھائی جان افسردہ لہجے میں بولے۔۔
کیوں کیا ہوا؟؟ مرجان نے گھبرا کر پوچھا۔
یہی کہ تم فیل ہوگئی ہو بھائی جان رزلٹ کارڈ اسکی جانب بڑھاتے ہوۓ بولے۔ یہ سننا تھا کہ اسکے پیروں تلے زمین نکل گئی۔۔۔ ایک دم اسکا سر چکرا گیا اور وہ بے ہوش ہوگئی، یہ دیکھ سب گھر والے اسکی جانب دوڑے کوئی ہاتھ پیر سہلانے لگا تو کوئی منہ پر پانی کے چھینٹے ڈالنے لگا، کوئی پنکھا جھلنے لگا، چند منٹ میں مرجان کو ہوش آگیا، ہوش میں آتے ہی وہ زار و قطار رونے لگی، سبھی نے دلاسہ دیا لیکن بے سود وہ برابر روۓ جارہی تھی اسی حالت میں دوپہر ہوگئی اسے معلوم ہوچکا تھا کہ کلاس کی وہ چاروں لڑکیا ں جنکا وہ مذاق اڑایا کرتی تھیں وہ سب فرسٹ ڈویژن پاس میں پاس ہوئی تھیں انہی کے متعلق سوچتے سوچتے اسکی آنکھ لگ گئی۔
نیند میں دیکھتی ہے کہ وہ ایک خوبصورت سرسبز و شاداب باغ میں کھڑی ہے جہاں رنگ برنگ پھول کھلے ہوۓ ہیں، قسم قسم کے میوہ دار درخت، اطراف نہریں بہہ رہی ہیں جنہیں دیکھ جنت کا گماں ہورہا تھا وہ رزلٹ کے غم میں آہستہ آہستہ چل رہی تھی تو کیا دیکھتی ہیکہ سامنے سے سامنے سے ایک بزرگ چلے آرہے ہیں۔۔۔ سفید لباس میں ملبوس۔۔۔۔۔ سفید ریش۔۔۔ پروقار چہرہ ہاتھ میں تسبیح لیے اسکے قریب آکر ہری ہری گھاس پر بیٹھ گئے اور اسے بھی بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے پوچھنے لگے۔۔
کیا بات ہے بیٹی! تم اتنی اداس کیوں ہو؟
بابا جی میں امتحان میں فیل ہوگئی ” مرجان غمگین لہجے میں بولی ۔۔
"کس امتحان میں تم فیل ہوئی بیٹی؟ ” بزرگ نے اسکے سر پر دست شفقت پھیرتے ہوۓ کہا۔
دسویں جماعت کے بورڈ امتحان میں "یہ کہتے ہوۓ اسکی آنکھیں ڈبڈباگئیں۔
"پھر کیا ہوا دوبارہ دے لینا”!
ہاۓ بابا جی یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں "سب مجھے فیل کہیں گے اور مجھے آگے کالج میں پڑھنا تھا۔ ”
"کالج میں کس لیے؟ ”
بابا جی! آپ تو اللہ کے پسندیدہ بندے ہیں آپ سے کیا چھپانا، مجھے لگتا ہے جب تک میں کالج میں داخلہ نی لے لوں زندگی میں نمایاں کامیابی نہیں حاصل کرسکتی، میری دلی خواہش ہیکہ میری زندگی عیش وعشرت کی زندگی ہو، رہنے کیلے شاندار گھر، خدمت کیلے نوکر، بڑی بڑی گاڑیاں، خوبصورت مہنگے لباس، جس طرف بھی نکلوں لوگ حیرت سے مجھے دیکھتے رہ جائیں، اور ساتھ ہی میرا علمی رعب بھی سب پر چھایا رہے۔
” کیا تمہاری تعلم کا مقصد نمایاں حیثیت سے زندگی بسر کرنا ہی ہے؟ ”
ہاں! تو اور کیا۔۔ اب میری سہلیاں کالج میں چلی جائیں گی اور میں بد نصیب پھر اسکول کیلے رہ جاؤں گی ” نہایت درد بھرے لہجے میں کہا۔
تم یہ عیش و عشرت کی زندگی تھوڑے عرصے کیلے چاہتی ہو یا ہمیشہ کیلے۔۔؟ ”
ہمیشہ کیلے ” مرجان نے جواب دیا۔
"خوب’! اب سمندر کی طرف دیکھو، کیا اسکا کنارہ نظر آرہا ہے؟
‘بالکل نہیں”
اب یہ دیکھو پانی سے لبریز پیالہ، اور اب بتاؤ کہ تم اس سمندر جتنی انواع اقسام کی نعمتیں چاہتی ہو جو کبھی ختم نہ ہوگی یا اس پیالے جتنی ".؟
بابا جی! اس شخص کے پاگل ہونے میں کوئی شک نہیں جو سمندر جتنی نعمتیں چھوڑ کر اس حقیر پیالے پر قناعت کرے۔۔۔ ‘
تو اے میری بچی! تم کیوں اس پیالے کی پیچھے لگی ہو، سمندر کیلے کوششیں کیوں نہیں کرتی”
معاف کیجیے میں آپکا مطلب نہیں سمجھی! مرجان کچھ ناسمجھی سے کہنے لگی۔۔
دیکھو میری پیاری بیٹی! ! یہ دنیاوی نعمتیں اس پیالے کے پانی کے برابر ہیں اور آخرت کی لاانتہا، سمندر کی مثال تو بس تمہیں سمجھانے کیلے دی ہے ورنہ تو وہ سمندر سے بھی بہت زیادہ ہیں جنکا ہم تصور نہیں کرسکتے، اب بتاؤ تم ان لافانی نعمتیں چھوڑ کر اس دو گھونٹ پیالے پر اکتفا کرو گی؟
کچھ دیر خاموش چھائی رہی پھر اس سکوت کو توڑتے ہوۓ وہ بولی, بابا جی ایسے کیسے ہوسکتا ہے کہ میں غیر فانی لاانتہا نعمتوں کو چھوڑ کر اس فانی نعمتوں کی خواہش کروں! آپ بس مجھے اس لا انتہا نعمتوں کو پانے کا طریقہ بتائیے۔۔۔ خواہ کچھ بھی ہو میں یہ حآصل کرکے رہوں گی۔
بابا جی کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ دوڑ گئی، اور وہ کہنے لگے۔ اے میری بیٹی! ان نعمتوں کو حاصل کرنے کا طریقہ بہت آسان ہے یہ کہ تم ایسا علم حاصل کرو جس کے ذریعے تم اللہ تک پہنچ جاؤ، اگر تم ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئی تو تم اس علم کے مطابق عمل کرکے اللہ کی خوشنودی حاصل کرلی تو تم بلاشک وشبہ ان تمام نعمتوں کی حقدار ہوجاؤگی۔۔ ۔۔ لیکن یہ بھی یاد رکھو جو لوگ یہ علم حاصل نہیں کرتے یا اگر کرتے ہیں لیکن عمل نہیں کرتے تو ایسے لوگ ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی میں صرف ذلیل و خوار ہونگے۔
اور اس علم کا تم اس کتاب سے حاصل کرسکتی ہو، بزرگ اسے کتاب پکڑا تے ہوۓ کہنے لگے اور جیسے ہی مرجان نے کتاب کیلے ہاتھ بڑھایا اسکی آنکھ کھل گئی۔
آنکھ کھلنے پر دیکھا کہ اسماء اسے جگارہی تھی۔۔
وہ۔۔۔۔۔ بزرگ کہاں گئے۔؟ وہ آنکھ ملتے کہنے لگی۔ اور۔۔۔۔ وہ۔۔۔ کتاب۔۔۔۔
کوئی خواب دیکھ لیا کیا؟ تم پچھلے کئی گھنٹوں سے سو رہی ہو.. اسماء ہنستے ہوئے کہنے لگی۔۔
جواباً مرجان نے اسے سارا خواب کہہ سنایا ۔۔”کاش میں اس کتاب کا نام جان سکتی۔ ۔ میری بدقسمتی کہ عین وقت پر آنکھ کھل گئی”وہ منہ بسورتے کہنے لگی۔
اور اگر میں تمہیں اس کتابا کا نام بتادوں تو؟..اسماء مسکراتے ہوۓ کہنے لگی۔۔
کیا آپکو پتا ہے؟ وہ تعجب سے بولی! پلیز جلدی بتائیے نا۔ اسکا لہجہ خوشامدانہ تھا۔۔
"قرآن ”
قرآن مجید ” اس نے حیرت سے دہرایا۔
کیا یہی وہ علم تھا جس کی جانب بزرگ نے توجہ دلائی تھی۔ ۔ پھر کچھ ٹہر کر بولی، لیکن آپی میں تو قرآن مجید پڑھا ہے اور کبھی کبھی تلاوت بھی کرلیتی ہوں۔
ہاں! یہی وہ علم ہے اسماء نے متانت سے کہا۔ ” مرجان، تم تلاوت تو کرتی ہو لیکن اسکے مطلب سے واقف نہیں ہو، یہی وجہ ہیکہ تم اسے پڑھتی ہو اور اسکے خلاف بھی چلتی ہو۔ پہلے اسکے مطلب کو اچھی طرح سمجھو اور پوری زندگی اسکے مطابق بسر کرو تب ہی تم ایسے باغوں کی مالک بن سکتی ہو جنکے نیچے نہریں رواں ہو اور ایسے شاندار محل جنکا تصور بھی نہیں کرسکتے، ہر فکر غم پریشانی سے آزاد زندگی، جہاں موت کا بھی خدشہ نہیں ابدی اور لافانی زندگی ہوگی وہ۔۔
ان شاء اللہ آپی.. ! وہ مسکراتے ہوۓ بولی، میں یہ حقیقت اپنی سہلیوں کو بھی بتاؤنگی کی کہ ہمارے تعلم کا مقصد دنیا نہیں بلکہ بلکہ وہ ابدی اور لافانی زندگی ہونا چاہیے۔۔ اس کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا، اپنے چاروں طرف نگاہ دوڑائی تو اسے ہر شے چمکتی محسوس ہورہی تھی۔۔۔۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


2 comments
آپ کے قلم کو اللّٰه جلا بخشے بہت شان دار لکھا ہے افسانہ!!
دیکھیں دل کو بھٹکنے بھی نا دیجئے گا اِس راہ سے!!
بڑی خوش بختی کی بات ہـے یہ♥️💐✨!!!
Ma sha allah msttt