Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

سائنس اور ادب کے امتیازات – ڈاکٹر معیدالرحمن

by adbimiras جنوری 6, 2022
by adbimiras جنوری 6, 2022 0 comment

ایک ایسے دور میں جب کہ سائنس اور ٹیکنالوجی نے تمام مظاہر حیات کے ساتھ ساتھ انسان کے داخلی شعور پر بھی غلبہ حاصل کرلیا ہے، ادب کے وجود اور اس کی اہمیت پر غور و خوض کرنا وقت کا تقاضا بن گیا ہے۔ کریلا اور نیم چڑھا صارفیت نے بھی ادب کے وجود کے تئیں شکوک پیدا کردیے ہیں۔ صارفی حربوں نے لوگوں کو یہ باور کرانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے کہ وہی مضمون معیاری ہے جو مادی منفعت کا حامل ہو۔ نتیجے میں شعر و ادب سے خطرناک حد تک بے توجہی کا منظرنامہ اہل نظر سے مخفی نہیں۔

سائنسی غلبے کے سبب ادب کے طرز وجود پر یہ سوالیہ نشان قائم ہونے لگا ہے کہ شعر و ادب کا کام محض وادیِ تخیل میں ٹامک ٹوئیاں مارنا ہے۔ ارضی حقائق سے فرار اس کا وطیرہ ہے۔ زندگی کے تلخ حقائق سے گھبراکر حسن و عشق کے سائے میں پناہ لینا ہے۔

ان نکتوں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مسائل سائنس اور ادب کے طرز عمل اور طرز فکر سے ناواقفیت کا نوزائیدہ ہے۔ اسی فکر کا شاخسانہ یہ بھی ہے کہ حقیقت تک رسائی کے لیے شعر و ادب کی بہ نسبت سائنس مؤثر طریقہ ہے۔

اس موضوع کی تہہ میں اترنے کے لیے ان سوالات پر غور کرنا لازمی ہے کہ سائنس کا موضوع کیا ہے، سائنس کا طریقۂ کار کیا ہے، سائنس میں کس طرح نتائج کا استخراج کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ادب کے موضوع، مزاج اور طریقۂ کار کے تجزیے سے مسائل کی تفہیم ممکن ہے۔

یہ امر بدیہی ہے کہ سائنس کا موضوع اشیا ہے۔ اس کی ساخت، خصوصیات اور دیگر عناصر کی شمولیت کے سبب اس میں رونما ہونے والی تبدیلیاں سائنس کے دائرۂ کار میں آتی ہیں۔ اس میں مفروضے کو بنیاد بناکر تجزیہ اور مشاہدہ کے ذریعے کوئی نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے۔ سائنس کے مطابق علم اسے کہتے ہیں جسے تجربہ گاہ میں ثابت کیا جاسکے۔ جس چیز کو ثابت نہ کیا جاسکے وہ احاطہ علم سے خارج ہے۔ جہاں تک ادب کا معاملہ ہے تو ادب کا مرکزی موضوع انسان ہے۔ انسان کے جذبات، اس کے داخلی، خارجی کوائف، اس سے متعلق مظاہر جیسے سماج، معاشرہ، سیاست، مذہب۔ ان اداروں کی رسومیات اور ان کے تقاضوں کی تعمیل یا انحراف کے سبب جو پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں ادب ان سب کو اپنی گرفت میں لینے کی سعی کرتا ہے۔ ادب کا طریقۂ کار سائنس کے برعکس وجدانی ہوتا ہے۔ غالب کا ایک شعر دیکھیے         ؎

قطرہ میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کل

کھیل لڑکوں کا ہوا دیدۂ بینا نہ ہوا

غالب کا یہ شعر ادب کے وجدانی طرز ادراک کی بہترین وضاحت کرتا ہے۔ شعر و ادب دیدۂ بینا سے کام لیتا ہے۔ قطرہ میں دجلہ دیکھ لینا اور جزو میں کل کا مشاہدہ کرلینا ادبی طرز تفہیم ہے۔

علم حاصل کرنے کے دو ذرائع ہیں، ایک مشاہدہ دوسرا وجدان۔ سائنس کی بنیاد مشاہدہ اور تجربہ پر ہے اور ادب کا ذریعہ ادراک وجدان ہے۔ یہ بات محتاج دلیل نہیں کہ ہر علم صداقت اور حقیقت تک رسائی حاصل کرنے کا مدعی ہوتا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ صرف سائنس کے علمیاتی حربوں سے حقیقت کا حصول ممکن ہے نہ ہی وجدانی طرز سے، بلکہ ادراک حقیقت و صداقت کے لیے وجدان اور تجربہ دونوں وسائل کا متناسب امتزاج لازمی ہے۔ اسی سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ سائنسی مطالعات کے نتیجے میں جو علم حاصل ہوتا ہے وہ کیسا ہوتا ہے اور ادبی مطالعات سے اخذ شدہ علم کی نوعیت اور فطرت کیسی ہوتی ہے۔ محمد ہادی حسین نے سولہویں صدی کے مصنف ڈوگلس بش کی کتاب سائنس اور انگریزی شاعری کی تلخیص پیش کی ہے۔ ان کا درج ذیل اقتباس اس ضمن میں معاون ہوسکتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

شاعر کو فطرت سے جو خاص ملکہ ودیعت ہوتا ہے اس کو ملحوظ رکھتے ہوئے وہ ایک ایسا شخص ہوتا ہے جس نے اپنے آپ کو انسانی تجربہ کے متعلق ایک زاویہ نگاہ وضع کرنے اور پھر اس زاویہ نگاہ کا اظہار کرنے کے لیے وقف کردیا ہو۔ یہ ایک عمومی اور سیدھی سادی سی تعریف ہے، لیکن اس میں بھی یہ پہلو نکلتا ہے کہ شاعر زندگی اور انسان کی قدر و قیمت کا کسی نہ کسی حد تک معتقد ہوتا ہے۔ شاعر کو جو بصیرت نصیب ہوتی ہے اس کا سرچشمہ صرف اس کا تخیلی وجدان نہیں ہوتا بلکہ اس کا ذاتی تجربہ بھی اور وہ علم بھی جو اس کو اپنے تجربے کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات ملاحظہ طلب ہے کہ موجودہ زمانے میں علم بیش از بیش سائنس کی صورت اختیار کرتا چلا جاتا رہا ہے، لیکن سائنس جس کا کام فطرت کے متعلق تحقیق پذیر صداقتوں اور فطرت پر غلبہ پانے کے وسائل کا دریافت کرنا ہے، زندگی اور انسان کی قدر و قیمت اور وقار سے کوئی سروکار نہیں رکھتی۔ ارباب سائنس انسانوں کی حیثیت سے ان چیزوں کا شعور رکھتے ہوں تو یہ ایک علیحدہ بات ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ انسان کو بہ زعم خود ایک ربانی نظام میں جو مرکزی حیثیت حاصل تھی سائنس نے اسے اس حیثیت سے معزول کردیا ہے۔‘‘ (بحوالہ مغربی شعریات، ص 269-70)

ہربرٹ ریڈ نے انجانی چیزوں کی ہیئت کے عنوان سے ایک کتاب تصنیف کی ہے۔ محمد ہادی حسین نے اس کی تلخیص پیش کی ہے۔ اس کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ادب سے حاصل ہونے والے علم کی نوعیت کیا ہوتی ہے۔ وہ تحریر کرتے ہیں:

’’حقیقت کا جو علم فنونِ لطیفہ کے ذریعے حاصل ہوتا ہے وہ آپ اپنی قسم کا علم ہوتا ہے اور حقیقت کے اس علم کا ہم رتبہ نہیں ہوتا جو سائنس یا فلسفیانہ تفکر سے حاصل ہوتا ہے۔‘‘ (بحوالہ مغربی شعریات، ص 256)

غالب کا ایک شعر دیکھیے:

بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے

ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

شعر میں کاروبار دنیا کی بے بضاعتی کا بیان ہے۔ شعر کا متکلم کہتا ہے کہ اس دنیا میں جتنے واقعات رونما ہوتے ہیں ان کی اہمیت بچوں کے کھیل سے زیادہ نہیں ہے۔ یہ نتیجہ مشاہدے کی بنیاد پر اخذ کیا گیا ہے۔ یہ عمل سائنسی طریقۂ کار سے مماثل ہے، لیکن شاعر نے اس نتیجے تک رسائی کے عمل میں اپنے موقف پر اصرار کیا۔ شاعر نے ایک عام تجربے یا واقعے کو اپنے انفرادی نقطہ نظر کے ساتھ پیش کیا۔ سائنس دنیا کے ختم ہونے پر یقین رکھتی ہے، لیکن اس کے بارے میں اقداری فیصلے کے اظہار سے گریز کرتی ہے۔ اس کا موقف بھی انفرادی نہیں ہوتا ہے، بلکہ ایسے تعمیمی نتیجے پر مبنی ہوتا ہے جو سب کے لیے ازروئے عقل قابل قبول ہو۔

سائنس اپنے نتائج کے ضمن میں حتمیت اور قطعیت کی مدعی ہوتی ہے۔ ادب حتمیت اور قطعیت کے برعکس امکان کی بات کرتا ہے۔ غالب کا ایک شعر ملاحظہ کیجیے:

ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یارب

ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پا پایا

یہ شعر انسانی فکر اور انسانی حوصلے کی وسعت پر مشتمل ہے۔ زیر نظر شعر میں اس دنیا کے تمام ایجادات، تمام ترقیات اور نت نئے انقلابات کو انسانی تمنا کا محض ایک قدم قرار دیا گیا ہے۔ اس میں ایک ایسے انسان کا ذکر ہے جس کی تمنا کا وفور محدود نہیں ہے، جو اس کائنات کی امکانی ترقیوں کو بھی اپنے ایک نقش پا کے برابر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور خدا سے نہایت دلیری سے کہتا ہے کہ اے میرے خدا! اپنی تمنا کا دوسرا قدم کہاں رکھوں۔ شعر کا پہلا مصرعہ متعدد معنوی جہات کا حامل ہے۔ یہ کائنات جو ثری سے ثریا تک کو محیط ہے، اس کے علاوہ کوئی اور دنیا ہو تو بتائیے تاکہ میں وہاں اپنی فتح کا علم بلند کروں یا یہ کہ اے میرے خدا! ہماری خواہشات کے پیش نظر یہ دنیا محدود ہے، ہماری جولاں گاہی کے لیے یہ عرصہ کائنات تنگ ہے۔

ادب اور سائنس دونوں کا مقصد زندگی کی سچائیوں کی تلاش ہے، زندگی کی تفہیم ہے، لیکن دونوں کے طریقۂ کار اور طرز ادراک مختلف ہیں۔

کسی کمپنی کا ایک ملازم جس کی تنخواہ مختصر اور خاندان بڑا ہے۔ اقتصادی زبوں حالی کے سبب اس شخص نے خودکشی کرلی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ وجہ سامنے آئی کہ اس کی موت زہر کھانے سے ہوئی۔ اگر غور کیا جائے تو اس کی موت کی اصل وجہ وہ غربت ہے جس نے اسے اپنی زندگی کو خود ختم کرنے کے لیے مجبور کیا۔ اب اگر ڈاکٹر غربت کو اس کی موت کا سبب قرار دے تو یہ غیر سائنسی عمل ہوگا۔ اور اگر ادیب اس کی ہلاکت کی وجہ زہر خوری کو قرار دے تو یہ غیر حقیقی رویہ ہوگا۔ خودکشی کی اصل وجہ صرف زہر یا صرف معاشی تنگ دستی کو قرار دیا جائے تو درست نتیجے تک رسائی کے لیے صرف ایک ہی پہلو کو مدنظر رکھنے کا عمل تصور کیا جائے گا۔

شعر و ادب کی تشکیل و تعمیر میں وجدان کے علاوہ ذاتی تجربہ، مشاہدہ اور دیگر علوم سے واقفیت کا اہم رول ہوتا ہے۔ ان سب کو جذبہ اساس فراہم کرتا ہے جب کہ سائنس جذبات کی نفی کرتی ہے۔ جذبات کا سرچشمہ دل ہے۔ تمام جذبات میں عشق و محبت کو سب سے اعلیٰ و ارفع تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسے کائنات کے وجود میں آنے کا محرک اور راز حیات تسلیم کیا جاتا ہے۔ عالمی ادب کے ساتھ ساتھ اردو شاعری میں عشق و محبت اور دل کے موضوع پر بکثرت اشعار ملتے ہیں۔

اس ضمن میں میر کے اشعار ملاحظہ کیجیے:

لوگ بہت پوچھا کرتے ہیں کیا کہیے میاں کیا ہے عشق

کچھ کہتے ہیں سر الٰہی کچھ کہتے ہیں خدا ہے عشق

میر کو کائنات کے ہر ذرّے میں عشق ہی عشق نظر آتا ہے      ؎

عشق ہی عشق ہے جہاں دیکھو

سارے عالم میں بھررہا ہے عشق

عشق ہے طرز و طور عشق کے تئیں

کہیں بندہ کہیں خدا ہے عشق

عشق معشوق عشق عاشق ہے

یعنی اپنا ہی مبتلا ہے عشق

اسی طرح دل کے موضوع پر بکثرت اشعار موجود ہیں          ؎

ٹوٹا جو کعبہ کون سی یہ جائے غم ہے شیخ

کچھ قصر دل نہیں کہ بنایا نہ جائے گا

قائم چاندپوری

ہر دھڑکتے پتھر کو لوگ دل سمجھتے ہیں

عمریں بیت جاتی ہیں دل کو دل بنانے میں

بشیر بدر

سائنس کی وکالت کرنے والے احباب کو ادب کی اظہاری تدابیر بھی برگشتہ کرتی ہیں۔ ادب میں عام طور پر اظہاری وسائل کے لیے تشبیہ، استعارہ کنایہ اور مبالغہ جیسی صنعتوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ان سب اظہاری تدابیر کی بنیاد تخیل پر ہے۔ فن کار دو اشیا کے مابین نقطہ اشتراک و اختلاف کی تلاش کے ذریعے اپنا تخلیقی و فنی نظام مرتب کرتا ہے۔ ادبی و فنی جمالیات کی اساس بھی انہی جدلیاتی الفاظ پر استوار ہوتی ہے۔

بودلیر شاعری کی اس خصوصیت کو عالمگیر مماثلت (Universal analogy) سے تعبیر کرتا ہے۔ بودلیر کے خیالات کو محمد ہادی حسین ان الفاظ میں ادا کرتے ہیں:

’’شاعری کا منبع وہ عالمگیر مماثلت (Universal analogy) ہے جو فلکی و ارضی، حقیقی و مجازی، باطن و ظاہر کو مربوط کرتی ہے۔ شاعر علامات کے ذریعے ان کے ربط باہمی کو بے نقاب کرتا ہے۔‘‘ (مغربی شعریات، ص 387)

عالمگیر مماثلت کو سمجھنے کے لیے کچھ اشعار ملاحظہ کیجیے۔ اردو شاعری میں حسن محبوب کو چاند کے حوالے سے بیان کرنے کا رویہ عام ہے۔ میر کا مشہور شعر دیکھیے:

 

پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے

پر ہمیں ان میں تمھیں بھائے بہت

ایک معروف جدید شاعر فرحت احساس کا شعر اس ضمن میں دیکھیے        ؎

چاند بھی حیران دریا بھی پریشانی میں ہے

عکس کس کا ہے کہ اتنی روشنی پانی میں ہے

مذکورہ اشعار میں حسن محبوب کا اظہار چاند کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ چاند اور محبوب میں مشترک اوصاف کیا ہیں۔ دیکھیے چاند سے کیا کیا تصورات ہمارے معاشرے سے وابستہ ہیں۔ چاند سے چمک کا تصور وابستہ ہے، ٹھنڈک کا تصور وابستہ ہے۔ رخ محبوب کو بھی درخشاں و تاباں کہا جاتا ہے۔ محبوب کو دیکھنے سے قلب کو  راحت ملنے کا تصور رائج ہے۔ چاند میں قوت کشش ہوتی ہے، اس لیے سمندر میں سب سے زیادہ مدوجزر چودہویں رات میں ہوتا ہے۔ رخ محبوب میں بھی کشش ہوتی ہے۔ عاشق بے اختیار ہوجاتا ہے۔ چاند سے متعلق ایک نظریہ اور ہے وہ ہے پاگل پن کا۔ انگریزی میں چاند کو Lunar کہتے ہیں۔

Lunar eclipse، Solar eclipse جیسے الفاظ انگریزی لغات میں درج ہیں۔ انگریزی لغات میں پاگل کے لیے Lunatic کا لفظ بھی مذکور ہے۔ محبوب کے لیے پاگل ہوجانے کا مضمون اردو شاعری میں اس قدر عام ہے کہ وہ محتاج دلیل نہیں۔

اب دیکھیے چاند اور محبوب کے درمیان کتنی مماثلتیں ہیں جو عام لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہیں۔

ارباب سائنس ادبی متن کے متعدد معنوی ابعاد کے حامل ہونے کے سبب اسے حقیقت سے بعید بیان قرار دیتے ہیں۔ ادبی اظہار کا وہ حربہ جسے حاملین سائنس قدرے زیادہ مشکوک سمجھتے ہیں، وہ مبالغہ ہے۔ کسی صفت کی زیادتی کو مبالغہ کہتے ہیں۔ یہ ایک ایسی شاعرانہ تدبیر ہے جسے ادب میں بھی بعض مکاتب فکر نے مبنی بر دروغ خیال کیا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مبالغہ حقیقت کے اظہار کا ایک مؤثر ترین ذریعہ ہے۔ غالب کا ایک شعر دیکھیے        ؎

عرض کیجے جوہر اندیشہ کی گرمی کہاں

کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا

اس شعر میں وحشت کے محض اندیشے کی وجہ سے صحرا کے جل جانے کا بیان ہے۔ وحشت کے اندیشے کی گرمی اتنی شدید ہے کہ اس سے صحرا کے جل جانے کا مضمون نظم کیا گیا ہے۔ مقصود وحشت کی زیادتی کو دکھانا ہے۔ شاعر نے یہ اسلوب اس لیے اختیار کیا کہ وحشت کی شدت کو قاری بھی محسوس کرسکے۔ شاعر کا کمال یہ ہے کہ اس نے خیال اور جذبے جیسی لطیف اور مجرد شے کی بیکرانی کو ایک حسی تجربے میں منقلب کردیا۔ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ سائنس ابھی تک جذبات کی پیمائش کے لیے کوئی پیمانہ ایجاد کرنے سے قاصر ہے۔

سائنس کی اہمیت تسلیم کرنے کے باوجود یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ سائنسی تسلط کے سبب انسانی تخیل کی پرواز محدود ہوتی جارہی ہے۔ تعقل پسندی اور علت و معلول پر مبنی طرز فکر کی بنا پر انسان کا وجدان سے رشتہ کمزور پڑتا جارہا ہے۔ نتیجے کے طور پر شعرا و ادبا عظمت کی اس منزل پر فائز ہونے میں ناکام ہورہے ہیں، جو ہمارے قدما کا امتیاز تھا۔

منطقی طرز فکر سے اپنے شعر و ادب کو پرکھنے کے سبب داستان جیسی اہم صنف کو بھی ہم شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اردو شعر و ادب میں داستان ہی وہ صنف ہے جو ہمارے تخیل کی لامحدودیت اور اس کی فعالیت پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہے۔ اپنے ثقافتی سرمایے سے واقفیت اور لسانی ذخیرے میں اضافہ کرنے کے علاوہ یہ صنف ہمارے تخیل کو بھی جلا بخشتی ہے۔ کلیم الدین احمد نے اپنی کتاب فن داستان گوئی میں کیا پتے کی بات کہی ہے:

’’اگر ہم کولرج کے الفاظ پر عمل کریں تو داستانوں سے کافی لطف حاصل کرسکتے ہیں۔ اگر ہم اپنی بے اعتقادی کو بہ رضا و رغبت معرض التوا میں ڈال دیں۔ اگر ہم تخیل کی اس موہوم پیداوار کا عارضی طور پر اعتبار کرلیں تو ہمارے لیے ایک دلچسپ دنیا کا دروازہ کھل جائے گا اور اس دنیا کی سیر محض تضییع اوقات نہ ہوگی، بلکہ ہمارے تخیل ہمارے دماغ ہماری روح کو تازگی اور فرحت بخشے گی۔‘‘

(فن داستان گوئی، ص 32)

انسانی زندگی کو پرکشش بنانے میں جمالیات کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔ تناسب و توازن کے علاوہ انسان کی انفرادیت بھی خوشگوار زندگی کا لازمہ ہے۔ سائنس کا معاملہ یہ ہے کہ وہ ماورائے مادہ مظاہر کو گرفت میں لینے سے قاصر ہے۔ سائنس انسان کی انفرادیت کو معرض بحث میں لانے سے عاجز ہے۔ ادب ہی وہ شے ہے جو جمالیات کو جوہر حیات قرار دیتی ہے۔ وجود کے امتیازات کو ادب ہی قابل احترام اور مرکز اظہار گردانتا ہے۔

شمیم حنفی نے انسان کو سائنس کی جانب سے لاحق خطروں اور اس کے مضمرات کا ذکر کرتے ہوئے، جن نکات کی نشان دہی کی ہے وہ اندیشے ادب کے سلسلے میں بھی صادق آتے ہیں۔

’’مختصر یہ کہ انسان کو سائنس کی طرف سے جو اندیشے لاحق ہیں ان میں دو کی حیثیت مرکزی ہے۔ ایک تو صنعتی معاشرے میں انفرادیت کے زوال کا خوف یعنی فرد کی حیثیت سے انسان کی بے توقیری۔ دوسرے جدید اسلحوں سے اجتماعی موت کا خوف۔ روح پر بھی یلغار ہے اور جسم پر بھی۔ انفرادی اظہار کے راستے اس لیے محدود ہیں کہ معاشرہ اجتماعی مقاصد کا غلام ہے۔ تکنالوجی اقتصادی فلاح کی جویا ہوتی ہے، چنانچہ اجتماعی جدوجہد کی طالب۔ نتیجتاً انسان کو معاشرے سے ناآسودگی کی صورت میں بھی اپنے جذباتی فیصلوں اور انفرادی رویوں پر اجتماعی فیصلوں اور ضرورتوں کو ترجیح دینا پڑتی ہے۔ اس ذہنی فضا میں تہذیب کے اسی تصور کو قبولیت مل سکتی ہے، جس کی بنیادیں مادی ہوں۔ مورخوں کی اکثریت نے اسی لیے انسانی فلاح و نجات کا راستہ صرف مادّی ترقی میں ڈھونڈا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ عہد جدید کے ذہنی اور نفسیاتی مسائل کا حل مزید صنعتی ترقی اور مادّی سہولتوں میں فروغ پر منحصر ہے یا کسی اور وسیلے سے کام لینا ہوگا۔‘‘

(جدیدیت کی فلسفیانہ اساس، ص 204)

شمیم حنفی نے عہد جدید کے انسانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے جس تریاق کی جانب اشارہ کیا ہے وہ ادب ہی ہے۔ ادب انسان کو سائنسی طریقۂ کار سے استفادے کے ساتھ ساتھ وجدان سے اپنا رشتہ استوار کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ کائنات کے بظاہر غیرمربوط عناصر میں داخلی ہم آہنگی کی تلاش سے ایک نظام نو کی دریافت و تشکیل کرتا ہے۔ ادب زمان و مکان میں محصور واقعات کو فنا ہونے سے بچاکر زندہ جاوید بنادیتا ہے۔ صنعتی ترقی کی یبوست سے محفوظ رکھ کر جمالیاتی ارتفاع عطا کرتا ہے۔ انہی وجوہ کی بنا پر اکیسویں صدی میں ادب کا مطالعہ کرنا وقت کا اہم تقاضا بن گیا ہے۔

 

Dr. Moyeedur Rahman
Asst. Professor, Dept of Urdu
Aligarh Muslim University
Aligarh – 202001
Mob.: 8126410482

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
عظیم اللہ ہاشمی کا افسانہ ’’دیدۂ نم ‘‘ – نصراللہ نصر
اگلی پوسٹ
ایک ممتاز سائنس داں کی شعر و ادب سے غیرمعمولی وابستگی مستقبل میں روشن ادبی امکانات کا اشاریہ: پروفیسر شہپر رسول

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں