یا رب تو مسلماں کو ایمان کا جذبہ دے
چھٹ جائیں اندھیرے سب اسلام کا غلبہ دے
ہوں اہل عرب یا کہ عجمی ہوں اس دنیا میں
تھامیں وہ تیرے در کو ان کو وہ تو رتبہ دے
ہیں کفر کے نرغے میں بندے یہ تیرے سارے
ٹکرائیں وہ شعلوں سے وہ زیست کا حربہ دے
عریاں ہے زمانے میں امت یہ محمد کی
پر نور شعائیں ہوں ، مستور وہ کعبہ دے
ہو عزم مصمم بھی اور قوت فاراں بھی
تسخیر ہو دنیا کی تو پھر سے وہ طیبہ دے
آزادی کے نعروں سے مرعوب ہے شہزادی
ہو قلب میں ایماں کی تفسیر وہ نخبہ دے
سومی ہے کھڑی رہ میں امید لئے یارب
جو پالے رضا تیری وہ توفیق توبہ دے
ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی
آراضی باغ، اعظم گڑھ
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

