دکن میں اردو شاعری کے آثار و شواہد ہمیں پندرھویں صدی عیسوی سے ملنے شروع ہوتے ہیں۔ سولہویں اور سترھویں صدی کے آتے آتے دکن کی غزلیہ شاعری کے نقوش بہت واضح ہوچکے تھے۔ ان غزل گو شعرائ کی کہکشاں میں چند اہم نام ہیں : مشتاق بیدری، فیروز بیدری، حسن شوقی، ملاخیالی، طبعی گولکنڈوی، لطفی، سیدمحمود، سلطان محمد قلی قطب شاہ، دہدار فانی، ملاوجہی، ظہور ترشیزی، عطائی، شاہ سلطان ثانی، غواصی، مقیمی ، نصرتی، ملک خوشنود، شغلی بیجاپوری، ایاغی ، ہاشمی بیجاپوری، قریشی بیدری، احمدگجراتی، علی عادل شاہ ثانی شاہی، ابوالحسن تاناشاہ، عطائی، فرخ، سنائی، دولت شاہ بیجاپوری وغیرہ ہیں۔
دکن کے ان تمام شعرائ کے کلام کے مطالعے سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی شاعری میں ارضیت، مقامیت ، ہندواساطیر سے گہری دلچسپی، ہندوستانی تہذیب و تمدن کی روشن روایات کی بوقلمونی، حسن و عشق کی نیرنگیاں اور ہجرووصال کی دل گداز کیفیات کا بحربیکراں موجیں مار رہا ہے۔
دکن کے تمام شعرائ کی غزلوں میں محبوب کا تصور ایک گوشت پوست کے زندہ اور متحرک انسان کا ہے اور خاص بات یہ ہے کہ یہ محبوب امرد نہیں بلکہ صنف نازک ہے جس نے دکن کی ادبی اور فکری روایات کو اظہار کی لذت عطا کی ہے اور زبان کی تشکیل و تعمیر کو نئے زاویے عطا کیے ہیں۔ اپنی بات کی وضاحت کے لیے میں یہاں صرف چند دکنی شعرائ کے اشعار کے نمونے پیش کرتا ہوں :
(۱) فیروزؔ بیدری :
خوباں منیں ورساز توں ‘ خوش شکل خوش آواز توں
بہو رنگ کرتی ناز توں ‘ چنچل ‘ سلکھن چھند بھری
(۲) مشتاقؔ بیدری :
کہیا مشتاقؔ ناری سوں ‘ رھتے تم کاں ‘ جو میں آوں
کہی واں گھر اہے میرا ‘ اگن کی جاں گلی ہے ‘ آ
(۳) ملاخیالیؔ :
تجہ کیس گھنگھرو والے ‘ بادل پٹیاں ہیں کالے
تِس مانگ کے اجالے ‘ بجلیاں اٹھیں گگن میں
(۴) حسن شوقیؔ :
ہر یک بھنواں جیوں طاق ہے ‘ عالم ترا مشتاق ہے
نے جفت امّا طاق ہے تیری جہاں بانی سبب
(۵) طبعیؔ گولکنڈوی :
جا باغ میں پُہل تھے کڑی ڈالی پکڑ توں ہات میں
طبعیؔ کے انکھیاں میں دسے ڈالیاں پہ پاتے پات چاند
(۶) احمدؔگجراتی :
گھنگھٹ جب زرزری مکہ پرتے موہن دور کر نکلے
مقابل ہوئے نا ہرگز اگر سورِ سحر نکلے
(۷) علی عادل شاہ ثانی شاہیؔ
تج نین کے نگر میں لالن وطن کیے ہیں
تب انجمن کے لوگاں خلوت اسے کتے ہیں
(۸) نصرؔتی بیجاپوری :
چندر بدن کہیا تو کہی موں سنبھال بول
سورج مکھی کہیا تو کہی یوں نہ گھال بول
(۹) محمدامین ایاغیؔ :
دیکھنے اے پری تجے ہر دم
حق تے منگتا ہوں بالے بال انکھیاں
(۱۰) ابوالحسن تانا شاہ :
اے سر و گل بدن تو ذرا ٹک چمن میں آ
جیوں گل شگفتہ ہو کو مری انجمن میں آ
(۱۱)فرخؔ :
ناکل پڑے گھر میں منجے نا بھار نکلوں تو قرار
اس چلبلی کو دیکھنے دل کوں لگی ہے چٹپٹی
(۱۲) سنائیؔ :
ٹک تو خدا خاطر مجے نزدیک اپنے کھینچ لے
رھونگا ترے لگ پاؤں سوں گھنگھرو ہو کھل کھل بولتا
ولیؔ اورنگ آبادی نے جب شاعری کا آغاز کیا تو اس کے سامنے فارسی شاعری کی طویل روایات کے ساتھ انہی دکنی شعرائ کی غزلیہ شاعری استفادے کے لیے موجود تھی، جس سے ولیؔ نے اپنی شعری کائنات کو منور کیا۔
ولیؔ ایک البیلا ،شوخ ،جمال پرست اور خوش گو سخن ساز تھا، جس نے اپنے پیش رو دکنی شعرائ کی شعری روایات کے حسن و جمال، شاعرانہ خوبیوں، امتیازات اور معیارات کو برتتے ہوئے اردو غزل کو نئے شعری امکانات سے خوش گوار بنایا اور اپنی خداداد صلاحیتوں سے غزل کے دائرے کو ایسی معنویت، وسعت، گہرائی اور عالمگیریت عطا کی کہ آج تک کسی نے اس دائرے سے باہر قدم نہیں رکھا۔ ولیؔ نے بجاطور پر کہا ہے کہ ؎
ہر ذرۂ عالم میں ہے خورشیدِ حقیقی
یو بوجھ کے بلبل ہوں ہر اک غنچہ وہاں کا
ولیؔ اورنگ آبادی کے شعری اظہار کا مرکزی موضوع حسن اور عشق کے روحانی اور مادی رنگوں سے شرابور ہے کیوں کہ ولیؔ کے لئے ؎
شغل بہتر ہے عشق بازی کا
کیا حقیقی کا کیا مجازی کا
اِس عشقِ مجازی کا درس بھی ولیؔ کو اُس کے محبوب ہی نے دیا ہے۔ ایک دلچسپ مکالمہ ملاحظہ کیجیے ؎
مجھے بولیا ‘ کہ گر عشق حقیقی سوں تو واقف نئیں
تو بہتر یوں ہے ‘ جا دامن پکڑ عشق مجازی کا
تو ولیؔ اعتراف کرتا ہے ؎
سنیا ہوں جب سوں یو نکتہ ولیؔ شیریں سخن سیتی
لگیا ہے تب سوں شیوہ جی کوں میرے عشق بازی کا
ولیؔ کا یہی عشقِ مجازی اپنے ارضی محبوب سے منسوب ہے۔ جس کا تعلق حقیقی زندگی سے ہے، قدم قدم پر، ولیؔ ایک غزل کے بعد دوسری غزل میں صنف نازک کے حسن و جمال کی تعریف و توصیف میں لطف اور سرخوشی کی تمام پناہ گاہوں کو تلاش کرتا ہے اور محبوب کے ’’حسن حیرت بخش‘‘ کو جذبے کی صداقت اور شدت کے ساتھ یوں پیش کرتا ہے کہ ؎
ہوا ہے صورتِ دیوار زاہد کنج عزلت میں
یہی اس حسنِ حیرت بخش کی ظاہر کرامت ہے
اپنے پیش رو دکنی شعرائ کی تقلید میں ولیؔ بھی اپنے محبوب کو مختلف ناموں جیسے امرت بچن، خوش دہن، موہن، لالن ، ساجن، گُن بھری، پیتم ، مان بھری چنچل، شیریں بچن وغیرہ کے ناموں سے مخاطب کرتا ہے۔ یہ محبوب شوخ ‘ فتنۂ رنگیں ادا ‘ پاک نفس ‘ سخن فہم اور باحیائ ہے۔ یہ محبوب ماورائی‘ تخیلاتی اور تصوراتی روشنی کا پیکر نہیں ہے بلکہ آدابِ عشق سے واقف ایک زندہ نامیاتی کردار ہے۔
سرشاری کے عالم میں ولیؔ اپنے محبوب کے قدِموزوں‘ رفتار و گفتار‘ لب و رخسار‘ غزالی آنکھوں‘ کمان دار ابروؤں‘ زلفوں حتی کہ جسم کے بے شمار اعضائ کی خوبصورت تصاویر پیش کرتا ہے جو تشبیہات اور استعارات کی دلاویزی سے سجی سنوری ہیں ؎
تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گا
جادو ہیں تیرے نین غزالاں سوں کہوں گا
زلف نیئں تجھ مکھ پر اے دریائے حُسن
موج ہے یہ چشمۂ خورشید کی
مرے دل کوں کیا بے خود تری انکھیاں نے آخر کوں
کہ جیوں بے ہوش کرتی ہے شراب آہستہ آہستہ
زاہد چلا ہے صورت محراب دیکھ کر
ابرو دکھا کے اُس کوں پریشاں نکو کرو
اپس کی زلف کافر کیش کی جھلکار ٹک دکھلا
کہ زاہد بے خبر دم مارتا ہے پارسائی کا
فصاحت کیا کہوں اُس خوش دہن کی
کسی کا واں نہیں ہوتا سخن سبز
بجائے خود ہے اے رنگیں بہار گل فطرت
تری پلک کا مرے دل میں خارخار ہنوز
ولیؔ کا محبوب اللہ تعالیٰ کی ایسی مخلوق ہے جس کا حُسن سدابہار ہے ۔ کہتا ہے ؎
ہے حسن ترا ہمیشہ یکساں
جنت سوں بہار کیوں کے جاوے
اور یہ بھی ملاحظہ فرمایئے کہ اس حسن میں محبوب میں جہاں عشوے اور نازوادا ہیں وہیں وہ سادگی کا پیکر بھی ہے ؎
سادہ رو ہیں ہمیشہ باعزت
آب نس دن محیط گوہر ہے
اس لئے ولیؔ بار بار اصرار کرتا ہے کہ ؎
سجن کے حسن کوں ٹک فکر سوں دیکھ
کہ یہ آئینہ معنی نما ہے
جیسا کہ اس سے پہلے کہا ہے ولیؔ کا محبوب خیالی یا ماورائی دنیا کا محبوب نہیں وہ آپ کی ہماری دنیا کا ایک زندہ اور جیتا جاگتا کردار ہے ، ہم اسے ولیؔ کے اشعار میں صرف محسوس نہیں بلکہ اسے دیکھتے بھی ہیں، سنتے بھی ہیں اور اس سے مل کر نشاط و کیف میں ڈوب جاتے ہیں۔ یہ محبوب پاک باز اور حیادار ہے ؎
ولیؔ اس گوہر کانِ حیا کی کیا کہوں خوبی
میرے گھر اس طرح آتا ہے جیوں سینے میں راز آوے
ولیؔ کا محبوب سخن آشنا بھی ہے ‘ اسی لیے اُس سے گفتگو کرنے میں وہ ایک خاص لطف سے مسرور و مخمور بھی ہے ؎
سخن کے آشنا سوں لطف رکھتا ہے سخن کہنا
ولیؔ سوں بات کرنا ہے بجا اے دوستاں سمجھو
ولیؔ کا محبوب پاکباز اور باحیا ہے اسی طرح ولیؔ خود بھی پاکباز اور نیک دل انسان ہے اسی لیے کہتا ہے کہ ؎
پاکبازی میں دل کی ہے لذت
صافی درپن میں آب درپن ہے
ہر اک وقت مجھ عاشق پاک کوں
پیاری تری بات پیاری لگے
ولیؔ خوب واقف ہے کہ طرزِعشق آسان نہیں ہے۔ اس میں وفاداری اور ایمان کی استواری سب سے اہم عناصر ہیں اسی لیے جو بوالہوس ہیں انھیں عشق کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ کہتا ہے ؎
اے بوالہوس نہ دل میں رکھ آہنگِ عاشقی
جاں باز عاشقاں پہ یہ دروازہ باز ہے
اور اپنے محبوب کو بھی درس دیتے ہوئے کہتا ہے ؎
چھوڑ اے شوخ طرز خود کامی
مت ہو ہر دیدہ باز کا حامی
ولیؔ اردو شاعری میں بلندپایہ جمال پرست شاعر ہے، اس کی حسن پرستی میں بلا کی سرمستی، کیف، وارفتگی اور والہانہ پن ہے۔ اس حسن پرستی میں ہمیں کوئی جنسی پہلو یا نفسانی خواہشات کا تیڑھ دکھائی نہیں دیتا۔ وہ عامیانہ پن بھی نہیں ہے جو عشق و حسن کے معاملات میں دیگر دبستانِ شاعری کے بعض شعرائ میں دکھائی دیتا ہے۔ ولیؔ اپنے گہرے مشاہدے اور تجربے سے ،حُسن کی تمام سرشاری اور سرور سے، کائنات کے ذرے ذرے میں، حُسن و جمال کامتلاشی ہے اور یہی دکنی شاعری کی ایک سب سے اعلیٰ صفات ہیں۔
آپ ولیؔ کی شاعری پڑھئے اور خود تجربہ کیجیے کہ ولیؔ کے بعد آنے والے سراجؔ اورنگ آبادی، داودؔ اورنگ آبادی، میرتقی میرؔ ، غالبؔ اور دیگر شعرائ کے یہاں ولیؔ کی روح کیسے چہل قدمی کررہی ہے۔
اسلم مرزا
موبائل : 9960053707
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

