پروفیسر ہوِوالا (1937-2020ء) کا پورا نام صبر جمشید ہوِوالا تھا۔ صبر جمشید ان کی کنیت اور ہوِوالا خانوادہ کا نام تھا۔ بنیادی طور پر ان کا تعلق بمبئی کے ایک پارسی گھرانے سے تھا، جہاں ان کی پیدائش ۱۹۳۷ء ہوئی۔ ابتدائی اور کالج کی تعلیم بمبئی سے ہی حاصل کی۔ وہ خود ذکر کرتی تھیں کہ مشہور فلم اداکار امجد خان ان کے کلاس فیلو تھے۔ بی۔ اے کے بعد ایران چلی گئیں اور وہیں تہران یونیورسٹی سے پی۔ایچ۔ ڈی کی سند حاصل کی۔ان کی پی ایچ۔ ڈی کا مقالہ ‘پارسیان ہند کی ایران سے مہاجرت کے حوالے سے تھا۔ اس کے بعد ستر کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں جب جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی اپنے قیام کے شروعاتی مرحلہ میں تھا تو وہ 1971ء میں بحیثیت لکچرر مقرر ہوئیں اور تقریباً 35 سال تدریسی خدمات انجام دیں۔ پروفیسر اظہر دہلوی اور پروفیسر ہووالا شعبہء فارسی کے بانی اساتذہ تھے۔ ساتھ ہی وہ اس یونیورسٹی کے اولین دور کے اساتذہ میں سے تھے۔ چونکہ اسی دور میں جے۔این۔یو کے اسکول آف لینگویجز میں ایک مشترکہ شعبہ کا قیام عمل میں آیا تھا جسکا نام غالباً سینٹر آف ایشین اسٹڈیز ہوا کرتا تھا۔ جس میں فارسی، عربی اور جاپانی وغیرہ کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اس وقت فارسی میں دو اساتذہ کی تقرری عمل میں آئی۔ ایک اسوسیٹ پروفیسر کے طور پر ڈاکٹرعبد الودود اظہر صاحب کا اور دوسرے ڈاکٹر ھووالہ کا اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر تقرری ہوئی۔ پروفیسر عبد الودود اظہر مرحوم نے بھی ایران سے تعلیم حاصل کی تھی۔ انھوں نے راماین کے فارسی ترجمہ پر پی ایچ۔ ڈی کی تھی۔ اس شعبہ کا قیام جدید فارسی کی تعلیم و تعلم کیلئے ہوا تھا۔ خود پروفیسر ھووالا کا تخصص بھی جدید فارسی ہی تھی۔ وہ عموماً گفتاری فارسی، شعر جدید اور فارسی ڈرامہ پڑھاتی تھیں۔ خاص طور سے انھوں نے گوہر مراد کے ڈراموں کو درس میں متعارف کرایا ۔ اس کے علاؤہ کلاسیکی شعراء میں خیام اور رومی میں ان کی دلچسپی قابل ذکر ہے۔ جدید اور معاصر شعراء میں بالخصوص نیما، فروغ فرخزاد، سہراب سپہری، شاملو، اخوان ثالث وغیرہ سے دلچسپی رکھتیں تھیں اور ان موضوعات پر آپ نے پی ایچ۔ ڈی بھی کرائیں۔ چنانچہ فروغ فرخزاد کی شاعری کے حوالے سے پروفیسر عین الحسن صاحب (سابق صدر شعبہء فارسی، اور ڈین، اسکول آف لنگویزز، جواہرلال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی، اور اب شیخ الجامعہ، مولانا آزاد یونیورسٹی، حیدرآباد)، فارسی میں جدید ادبی رجحانات پر پروفیسر عبدالحلیم اخگر ( صدر شعبہء فارسی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی) اور جدید شعری تجربات اور سہراب سپہری کے حوالے سے راقم کا پی ایچ۔ ڈی کا مقالہ ہے، جب کہ پروفیسر سید اختر حسین صاحب(شعبہء فارسی، جواہرلال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی) نے ایک تذکرہ کی تصحیح و ترتیب کا کام کیا اور ڈاکٹر مکیش کمار سنہا نے اقبال کی فارسی شاعری کے حوالے سے ۔ پی ایچ۔ڈی مقالے کی رہنمائی کے حوالے سے ان کا اپنا ایک خاص رویہ تھا اور وہ یہ کہ وہ بہت محتاط طور پر ریسرچ طلباء کا انتخاب کرتی تھیں۔ چنانچہ ان کی سرپرستی میں پی ایچ۔ڈی مقالے لکھنے والوں کی تعداد معدودے چند ہے۔ جدید ادب اور ادبی رویوں کے ساتھ ساتھ پروفیسر ہووالا کی معاصر نسائی رویوں، شاعرات اور فکشن نگاروں میں بھی دلچسپی تھی اور اس کے حوالہ سے مقالہ بھی تحریر کیا۔اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جس زمانے میں وہ ایران میں طالب علم تھیں وہ زمانہ خود ان ادبی و فکری رویوں کے عروج کا رہا۔بیسویں صدی میں چالیس سے ستر کی دہائیوں کو ایک طرح سے شعر نو اور جدید شعری اور ادبی رویوں کے فروغ کے نقطہء نظر سے دور طلائی کہنا نادرست نہ ہوگا۔ کیونکہ یہ وہی دور ہے جب بہار اور ان کے معاصرین جدید رویوں کی داغ بیل ڈال رہے تھے اور اس کی وکالت کررہے تھے تو دوسری طرف نیمایوشیج نے شعر نو کے عنوان سے ایک نئے شعری تجربے کو متعارف کرایا جو دیکھتے دیکھتے ایک ادبی انقلاب کی صورت اختیار کر گیا اور اس کے پیروکاروں کی ایک مضبوط کھیپ تیار ہوگئی۔ بلکہ حقیقت یہ بھی ہے کہ اس دور کے تقریباً تمام ممتاز ایرانی شعراء اس کے پیروکاروں میں شامل تھے جن بطور خاص نادر نادرپور، فروغ فرخزاد، رہی معیری، شاملو، سہراب سپہری، فریدون مشیری، اخوان ثالث وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ پروفیسر ہووالا اور ان کے معاصر ہندوستانی طلباء جو ایران میں زیر تعلیم رہے، انھیں ان شخصیات سے کم و بیش براہ راست یا بالواسطہ طور پر استفادہ کا موقع رہا۔ مذکورہ دور میں وہاں تعلیم حاصل کرنے والوں کے ابتدائی کارواں میں شامل لوگوں میں کلکتہ کے پروفیسر محمد اسحاق، پروفیسر عطا کریم برق، اور دہلی سے پروفیسر امیرحسن عابدی تھے اور ان کے بعد پروفیسر عبدالودود اظہر دہلوی، پروفیسر شریف النسا انصاری، پروفیسر ہووالا، پروفیسر شمس الدین، پروفیسر رضیہ اکبر وغیرہ شامل ہیں۔ ان حضرات نے اس دورکو دیکھا، اور ساتھ ہی انھیں مشاہر اساتذہ سے استفادہ کا موقع ملا، جن میں معروف محقق اور تاریخ ادبیات فارسی کے مصنف پروفیسر ذبیح الله صفا، زبان شناس پروفیسر پرویز ناتل خانلری، ادیب اور ناقد پروفیسر محمد علی اسلامی، لغت شناس پروفیسر محمد معین، محقق و ناقد پروفیسر زرینکوب، ادیب و ناقد پروفیسر سعیدی سیرجانی، وغیرہ خاص طور سے شامل ہیں۔ پروفیسر خانلری بعد میں وزیر تعلیم بھی ہوئے اور ہندوستان کے دورے کے موقع پر شعبہ فارسی، جواہرلال نہرو یونیورسٹی کو تحفتاً لنگویز لیب اور کتابیں پیش کیں۔ پروفیسر ہووالا کے اساتذہ میں پروفیسر محمد علی اسلامی ندوشن اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر شیریں بیانی ابھی بھی بقید حیات ہیں۔ ان سے انکا رابطہ بھی تھا اور آخر تک رہا۔ 2001ء میں سفر ایران کے دوران راقم کے ہاتھوں پروفیسر ہووالا نے ان کے نام خطوط بھی ارسال کیے۔ بعد میں بھی راقم کو ان اساتذہ سے ملنے کا موقع ملا اور 2003 ء جب شعبہ فارسی، جے این یو۔ دہلی میں خیام کے حوالے سے کانفرنس ہوا تو اس موقع پر بھی دونوں اساتذہ تشریف لائے۔ ان کے علاوہ معروف مورخ اور استاد پروفیسر باستانی پاریزی اور دیگر ممتاز اساتذہ بھی کانفرنس میں شامل ہوئے۔
پروفیسر ہووالا اپنی رائے اور نظریات کا اظہار بغیر کسی لاگ لپیٹ کے کرتی تھیں۔ اس حوالے سے وہ کسی مصلحت کی قائل نہ تھیں۔ اسلامی انقلاب آنے کے بعد حجاب کا سلسلہ شروع ہوا تو وہ ایک طرح سے اسکی ناقد تھیں اور دہلی میں واقع ایران کلچر ہاؤس نہیں جاتی تھیں۔ بعد میں ایک کلچرل کونسلر آئے تو انہوں نے میڈم سے کہا کہ آپ کے لئے یہ پابندی نہیں ہے، تو وہ کچھ پروگراموں میں کلچر ہاؤس گئیں اور وہاں بھی حجاب نہیں کرتی تھیں، لیکن اس کا ذکر بھی لازم ہے کہ جب قرآن کی تلاوت ہوتی تو وہ احتراماً ضرور سر پر آنچل رکھ لیتی تھیں۔ انکی بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ کلاس کے معاملے میں وقت کی بہت پابند تھیں۔ ڈسپلن کے ساتھ وہ کلاس لیتی تھیں۔ ایک بار ایسا ہوا کہ پاؤں میں موچ کی وجہ سے ڈیپارٹمنٹ نہیں جا سکتی تھیں، تو اپنے گھر پر ہی کلاس لیتی رہیں۔ ان کے حوالے بہت ساری خوشگوار یادیں بھی ہیں۔ اچھے موڈ میں ہوتیں تو گھر پر دعوت کا اہتمام کرتیں، پرانی تصوریں دکھاتیں، جے این یو کے ابتدائی دور کے دلچسپ قصے سناتیں، خوش گپیاں ہوتیں۔
انہوں نے ترجمے کے کام بھی کئے جس میں بچوں کی کہانیوں کا فارسی سے ہندی ترجمہ شامل ہے، جس کا عنوان غالبا چنی منی کہانیاں ہے۔ وہ گجراتی زبان اور اس کے ادب سے بخوبی واقف تھیں، بلکہ اسے اپنی مادری اور ثقافتی زبان کہتی تھیں۔ ساتھ ہی اردو ہندی سے بھی واقف تھیں۔ چنانچہ یونیورسٹی میں قیام کے آخری دنوں میں ایک فارسی گجراتی ڈکشنری ترتیب دی جو ایران کلچر ہاؤس سے شایع ہوئی۔ یہ انکا ایک اہم کام ہے۔فارسی زبان اور ان تدریسی خدمات کے اعتراف میں انھیں صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے 2003ء ایوارڈ سے نوازا گیا۔ وہ اپنے طلباء کی بھی بہت حوصلہ افزائی کرتی تھیں۔ جیسا کہ ذکر ہوا ان کے پی ایچ ڈی طلباء کی تعداد کم تھی، عام طور پر ایک وقت میں ایک دو طالب علم ان کے زیر نگرانی رہے۔ سب کے بارے میں تو مجھے اطلاع نہیں ہے پر جن کے بارے میں جانتا ہوں، ان میں پروفیسر سید عین الحسن صاحب، ان کے بعد پروفیسر سید اختر حسین صاحب، پروفیسر عبدالحلیم صاحب ہیں۔ ایک صاحب اورتھے جنہوں نے صرف "ایم فل” کیا تھا محمد طالب شاید انکا نام تھا، ایم، فل کرکے انہوں نے چھوڑ دیا۔ پھر میں تھا۔ میں نے سہراب سپہری کی شعر و شاعری کے حوالے سے کام کیا۔ اور میرے بعد مکیش کمار سنہا نے ان کے ساتھ پی ایچ ڈی کی۔ طبعاً عام طور پر سخت اور متلون مزاج مانی جاتی تھیں، اسلئے لوگ ان سے خائف بھی رہتے تھے لیکن انکی ایک خوبی یہ تھی کہ اگر کوئی شاگرد یا طالب علم کسی پریشانی میں ہو یا بیمار پڑ جائے تو وہ اس کے لئے ہر طرح کی مدد فراہم کرتی تھیں۔ مثال کے طور پر ایک طالب علم تھے جو براھما پترا میں رہتے تھے ان کو برین ٹیومر ہو گیا۔ ظاہر ہے یونیورسٹی کے محدود وسایل ہوتے ہیں لیکن وہ خود جاکر وائس چانسلر سے ملیں اور زیادہ سے زیادہ انکی مدد کروائی۔اور ہسپتال گئیں، ہم لوگوں کو کہا ۔ ہم لوگوں نے ہوسٹل میں چندے کیے۔ پھر ان کو متاہل طلباء کا ہوسٹل مہاندی دلوایا کیونکہ وہ شادی شدہ تھے۔ پھر ان کے پاس جاتیں اور احوال پرسی کرتی تھیں۔ آخری جو ان سے ملاقات رہی ہے وہ اپریل ٢٠١٩ء میں دہلی میں ہوئی۔ پروفیسر عین الحسن صاحب کو پرسیڈنٹ ایوارڈ ملا تھا،اور مجھے بھی صدر جمہوریہ کا مہرشی بادرائن ایوارڈ ملا تھا۔اس موقعے پر وہ تشریف لائی تھیں اورراشٹرپتی بھون کے علاوہ اشوکا ہوٹل میں اس کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس موقع پر ان سے ملاقات ہوئی۔ اس وقت بھی سرحال تھیں اور بظاہر صحت اچھی تھی۔ خوب باتیں ہوئیں، خوشی کا اظہار کیا اور مبارکباد دی۔ آخری برسوں میں سوشل میڈیا، خاص طور سے فیس بک پر بھی دیکھتا تھا۔بہت ایکٹیو رہتی تھیں۔ فیس بک پر کوئی چیز ہوتی تو اس پر کمنٹ کرتیں، حوصلہ افزائی کرتی تھیں۔ پھر اچانک ان کی طبیعت کی ناسازی کی خبر آئی اور 6/ اگست 2020ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کی زندگی اور شخصیت کے حوالے سے محمد رضا ترکی کے اشعار یاد آرہے ہیں:
باران که رفت خاطره را پشت سر گذاشت
چشم هزار پنجره را خشک و تر گذاشت
پاییز هم به نوع خودش منصفانه زیست
هر شاخہ ای که رست، کنارش تبر گذاشت
اور جدید فارسی شاعر سہراب سپہری کا یہ شعر یاد آ جاتا ہے جسے وہ اکثر سناتیں اور پڑھتی تھیں:
زندگی تر شدن پی در پی
زندگی آب تنی کردن در حوضچه اکنون است
رخت ها را بکنیم
آب در یک قدمی است
پروفیسر اخلاق احمد آہن
شعبہ فارسی، جواہرلال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


2 comments
آداب عرض
بهت عمده زندگی کے تلخ و شیریں لمحات کو خوبصورت انداز میں پیش کیا۔ یادوں کے دریچے میں ان کا وہ ہنستا ہوا چہرہ اور انکی خسین و دلکش آواز آج بھی نغمگیں ھے ۔وہ میری شریک کار تھیں انھوں نے مجھے بھی خیام کا عاشق بنایا۔ آللہ تعالیٰ اپنے بندوں
کے لئے رحیم کیرم ہے ۔یادش بخیر
سیدہ بلقیس فاطمہ حسینی
بهترین مقاله، جیسے میڈم کی زندگی آنکھوں کے سامنے ابھی دیکھ رہے ہیں