کتابِ نورس، مرتبہ پروفیسرنذیراحمد (ایک تجزیاتی مطالعہ) – ڈاکٹرعقیل احمد
کلاسیکی متون کوجدیداصولِ ترتیب کے مطابق جن علمائے محققین نے مرتب ومدوّن کیاہے، ان میں ایک نام پروفیسر نذیراحمد (متوفی۲۰۰۸) کابھی ہے۔ آپ ادبیاتِ فارسی کے نامورمحقق ہیں، اس کے علاوہ آپ ماہرغالبیات، کتبہ شناس، فرہنگ ساز اوردکنی ادب کے ماہرکی حیثیت سے بھی مشہور ہوئے۔
ان کی تحقیق کا دائرہ کار تو فارسی ادبیات سے متعلق ہے لیکن انہوں نے دکنی ادب پربھی توجہ کی اورمتعدد فن پارے دریافت کیے اور ترتیب وتدوین کے بعد اسے شائع بھی کیا۔ ان میں کتاب نورس اورپرت نامہ قابل ذکرہیں۔زیرِ نظر مضمون کتاب ’نورس ـ‘سے متعلق ہے۔
کتاب نورس ابراہیم عادل شاہ کے ۵۹گیتوں اور ۱۷دوہروں کامجموعہ ہے، جس کے متعدد ہم عصرنسخے پروفیسر صاحب نے جمع کیے اوران کی روشنی میں ایک مستندومکمل متن مع ترجمہ تیارکرکے اپنے مقدمہ، حواشی اورفرہنگ کے ساتھ ۱۹۵۵ میں سرفرازقومی پریس( لکھنؤ)سے شائع کرایا۔
آغازِ کتاب میں۲۰صفحات پرمشتمل مرتب نے ایک تعارف تحریرکیاہے، جس میں تدوین سے قبل پیش آنے والے مراحل، مثلاً نسخوں کی حصولیابی کی کوشش، اس سلسلے میں دیگراہل علم اشخاص سے خط وکتابت اور اسفار وغیرہ کا ذکر کیا ہے نیزنسخوں کی نوعیت، نقائص اوربے ترتیبی ،موضوع اورزبان کی دشواری وغیرہ کی طرف بھی اشارہ کیاہے، جس سے اندازہ ہوتاہے کہ کتاب نورس کی ترتیب وتدوین کاکام کتنامشکل اوردشوارگزارتھا۔
تعارف کے بعد ایک طویل تحقیقی اورعلمی مقدمہ ہے جو(ص۷سے ص۶۳تک) ۵۴صفحات پرمشتمل ہے۔ اس مقدمے میں درجِ ذیل عنوانات قائم کیے گئے ہیں:
۱۔مصنّف،۲۔کتاب نورس،۳۔کتاب کاعنوان،۴۔تاریخِ تصنیف،۵۔دیباچہ،۶۔ترجمہ،۷۔کتاب نورس کی زبان، ۸۔کتاب نورس کی ادبی اہمیت،۹۔نسخوں کی کیفیت پرتفصیلی گفتگوکی گئی ہے۔
مقدمہ کے آغاز میں پروفیسرصاحب نے عادل شاہ ثانی کامختصراً مگرجامع تعارف کرایاہے۔
ابراہیم عادل شاہ ثانی کوکم عمری ہی میں بادشاہت مل گئی تھی، وہ فطری طورپرقابل اورذہین تھا۔ فنون لطیفہ سے کافی دلچسپی تھی، اس کے عہدمیں بیجاپور کی ادبی وعلمی ترقی ہوئی، بادشاہ کی سرپرستی میں اس کے درباری علما وفضلا نے مختلف علوم وفنون پر متعددکتابیں تصنیف کیں، تاریخ سے بھی دلچسپی تھی، فارسی زبان پرقدرت حاصل تھی، موسیقی سے رغبت تھی، شاعری کادلدادہ تھا، موزوں طبیعت کامالک تھا، بلند درجے کاناقدتھا، خوش نویسی سے بھی شغف تھا، دکنی زبان کے ساتھ ساتھ سنسکرت، برج بھاشا اور ہندودیومالا پرعبورحاصل تھااور لفظ نورس سے الفت تھی ۔
کتاب نورس:
کتابِ نورس علم موسیقی سے متعلق ایک مختصر کتاب دکنی نظم میں ہے۔ اس میں راگ یاراگنی کوعنوان قراردے کراس کے تحت بادشاہ کے نظم کیے ہوئے گیت درج کردیے گئے ہیں۔ یہ ۱۷راگوں کے ذیل میں کل ۵۹گیت اور ۱۷دوہے ہیں۔ ہرراگ کے تحت جوابیات ہیں وہ کبھی دومصرعوں پرکبھی تین اورکبھی چارمصرعوں پرمشتمل ہیں۔ تین مصرعوں کااستعمال عام طورپر ہواہے۔
مرتب متن نے ان گیتوں کوموضوع کے اعتبارسے مندرجہ ذیل چارحصوں میں منقسم کیاہے:
(۱)اکثرگیتوں میں ہندودیومالاکی تلمیحات پائی جاتی ہیںمثلاً شیو، پاربتی، سرستی، گنیش ،اندروغیرہ
(۲)ایسے بھی گیت پائے جاتے ہیں جن میں حضرت گیسودرازسے پرخلوص عقیدت مندی کااظہار کیاگیا ہے۔
(۳)کچھ گیت ایسے بھی ہیں جن میں عادل شاہ کی خانگی زندگی کاعکس ملتاہے۔
(۴)کتاب نورس میں معتدبہ حصّہ ایسے گیتوں پرمشتمل ہے جوعاشقانہ مضامین کے حامل ہیں۔
کتاب کاعنوان:
مرتب کے مطابق اس مجموعہ کوعام طورپر نورس سے یادکیاگیاہے، لیکن وہ اس سے متفق نہیں۔ ان کی تحقیق یہ ہے کہ کتاب کاپورانام ’’کتاب نورس‘‘ ہے، دلیل کے لیے مرتب نے ظہوری کی (سہ نثرسے اورملک قمیؔ کی کلیات ملک قمی ؔسے ایک ایک اقتباس بھی بہ طورِ حوالہ پیش کیاہے، ان دونوں اقتباسات میں اس تصنیف کو’’کتاب نورس‘‘ سے ہی مخاطب کیاگیاہے۔
تاریخِ تصنیف: مرتب نے کتاب نورس کے زمانۂ تصنیف متعین کرنے کی کوشش کی ہے اور داخلی وخارجی شواہدکی روشنی میں اس کازمانہ تصنیف۱۰۰۴ھ اور۱۰۰۸ھ کے درمیان بتایا ہے اورتصنیف کے وقت بادشاہ کی عمر۳۰سال کے قریب بتائی ہے۔ اس سلسلے میں ان کاایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
’’کتاب مذکورمیں چاندسلطان کاذکراس طرح ہواہے گویاوہ بقیدحیات ہے۔ چاندبی بی کوچاندسلطان کالقب ۱۰۰۴ھ کے وسط میں ملاتھا۔ اس کاقتل دوسری اردلی بہشت ۱۰۰۸ھ کوعمل میں آیا۔ اگرچہ اکبرنامہ میں ۱۰۰۹ھ کے ضمن میں چاندسلطان کے قتل کاواقعہ مندرج ہے لیکن یہ غلط ہے کیونکہ اردلی بہشت ذی قعدہ کی آخری تاریخوں میں پڑاتھا اوراس ہجری مہینہ کا سنہ ۱۰۰۸ھ ہی تھا۔ اس اعتبارسے کتاب کی تصنیف ۱۰۰۴ ہجری کے بعد اور ۱۰۰۸ہجری سے قبل ثابت ہوتی ہے۔ ظہوریؔ نے کتاب مذکور کادیباچہ لکھاجوغالباً کتاب کی تکمیل کے وقت لکھاگیا ہوگا۔ چونکہ ظہوریؔ کاورودبیجاپور ۱۰۰۴ھ کے قبل ثابت نہیں ہوسکتا اس سے کتاب نورس کی تکمیل ۱۰۰۴ھ اور۱۰۰۸ھ کے درمیان ہوئی ہوگی۔‘‘
(کتاب نورس ،مرتبہ نذیراحمد ،لکھنؤ،طبع اول ۱۹۵۵ئ ، مقدمہ ص۱۹)
دیباچہ: ایک دیباچہ کتاب نورس کے لیے ظہوریؔ نے ابراہیم عادل شاہ کے ایماپرتحریرکیاتھا جوزبان وبیان کے لحاظ سے منفرد وممتاز تھا۔ یہ دیباچہ اگرچہ شاملِ کتاب نہیں ہے لیکن مرتب نے اپنے مقدمے میں اس پر تحقیقی گفتگوکرکے اس کے تمام نکات کوواضح کردیا ہے۔
ایک دیباچہ کتاب نورس کے لیے ملک قمی ؔ نے بھی تحریرکیاتھاپروفیسرنذیراحمدکے مطابق جب ظہوریؔ کادبیاچہ اس کے مخصوص اندازِتحریر کی وجہ سے مشہورہوا اورلوگوں نے خیال کیا کہ ملک اس طرح کی نثرلکھنے پرقادرنہیں ہے تو اسی جذبۂ رشک نے ملک کوبھی دیباچۂ نورس لکھنے پرمجبورکیا۔
بہرحال ملک اور ظہوری دونوں نے کتاب نورس کے دیباچے لکھے، دونوں کے دیباچے فارسی میں ہیں۔ پروفیسرصاحب تحریرکرتے ہیں:
’’ظہوری کادیباچہ مقدم ہے اس لیے قیاس ہوتاہے کہ اس کواصل کتاب کے ساتھ شامل ہونے کاموقع ملا ہوگا ممکن ہے بعد کے نسخوں میں دونوں شامل ہوئے ہوں۔۔۔بہ ظاہر کچھ زمانہ گذرنے کے بعد دیباچہ اصل کتاب سے الگ ہوگیا اوراس کی مقبولیت کے سامنے ابراہیم عادل شاہ کاچراغ نہ جل سکا۔ دیباچہ ظہوری سہ نثرمیں شامل ہوکر کلاسیکی مرتبہ تک پہنچ گیا جب کہ کتاب نورس کانام تاریخ کے صفحات تک محدود رہ گیا۔‘‘(ایضاً،ص۲۳)
ترجمہ: چونکہ کتاب نورس دکنی زبان میں تھی، غیرہندوستانی فارسی داں طبقہ نہ اس سے لطف اندوز ہی ہوسکتا تھا اورنہ داددے سکتاتھا، لہٰذا عادل شاہ نے درباری علما کوشرح نویسی کی خدمت پرمامورکیا، جنھوںنے کتاب نورس کے فارسی ترجمے کیے ،لیکن مرتب متن کے مطابق عموماًلوگ اس ترجموں کے بارے میں خاموش ہیں البتہ عبدالرزاق یمنی نے اشارہ کیاہے کہ اس کے بعض جملے فارسی قالب میں ڈھالے گئے ۔مرتب متن نے اس سلسلے میں ملک اورظہوری کابھی بیان نقل کیاہے اوراس سے مندرجہ ذیل نتیجہ اخذ کیا ہے:
(الف)غیرہندوستانیوں کومستفیدکرنے کے خیال سے ترجمہ ہوا۔
( ب)نورس کے ابیات کی شرح ہوئی
(ج)شرح متن سے مختصرتھی
لکھتے ہیںہیں:
’’ترجمہ میں بڑی عرق ریزی ہوئی مگرکسی کاترجمہ حسب منشانہ ہوا۔چنانچہ یہاں تک حک واصلاح ہوئی کہ وہ بادشاہ کی تصنیف قرارپایا۔‘‘
ایک ترجمہ بانکی پور کے نسخۂ کتاب نورس کے ساتھ فارسی میں شامل ہے، پروفیسر صاحب کے مطابق یہ ترجمہ نثرمیں ہے اورتقریباً تحت اللفظ ہے اور اس میں کافی اختصار برتاگیاہے۔ مرتب کاقیاس ہے کہ یہ وہی ترجمہ ہے جوبادشاہ کے حکم سے عمل میں آیاتھا ،لیکن یہ بہت معیاری نہیں ہے حالانکہ ظہوری اور ملک وغیرہ علمائے وقت کی سرپرستی میں اس طرح کی غیرمعیاری چیزقرین قیاس نہیں۔ لکھتے ہیں:’’چونکہ بہت سے لوگوں نے ترجمہ کیاتھا ممکن ہے ان میں سے کسی کاترجمہ ہو جوبہت معیاری نہ ہواہو۔‘‘(ص۲۷)
کتاب نورس کی زبان: مرتب نے کتاب نورس کی لسانی خصوصیات پر تفصیل سے گفتگوکی ہے ، مقدمہ کایہ حصہ ۹صفحات پرمشتمل ہے ۔ وہ تحریرکرتے ہیں:
’’اس کتاب کی اہمیت اس کی لسانی خصوصیات کی بناپر بہت زیادہ ہے، ابراہیم عادل شاہ کی تصنیف ہونے کی وجہ سے عام طورپر یہ قیاس کیاجاتاہے کہ اس کی زبان خالص دکھنی ہے لیکن یہ قیاس پوری طرح صحیح نہیں ہے۔‘‘ (ص۲۷)
اس کے بعد کتاب نورس کی مندرجہ ذیل پانچ خصوصیات کابیان ہے:
(الف)یہ کوئی باقاعدہ مسلسل نظم نہیں ہے بلکہ الگ الگ اشعار ہیں جوکیابہ لحاظ اندازِ بیان اور کیا باعتبار زبان وغیرہ ایک دوسرے سے اس قدرمتفاوت ہیں کہ ان میں کوئی مشترک عنصرنظرنہیں آتا۔
(ب)دکنی نظمیں عام طورسے فارسی عروض کے سانچے میں ڈھالی گئی ہیں چنانچہ دکنی شاعروں نے فارسی اوزان کی پابندی کی ہے مگرکتاب نورس میں اس کی پابندی نہیں ہے۔
(ج)فارسی کے اصناف سخن قدیم اردو اوردکھنی میں بھی رائج ہوئے مگران میں سے کسی ایک کا تعلق کتاب نورس سے قائم نہ ہوسکا۔
(د)اس کتاب کے زیادہ ابیات دکھنی میں ہیں لیکن کچھ اشعار ایسے ہیں جن میں برج بھاشا، اودھی ،راجستھانی اورپنجابی اثرات بھی پائے جاتے ہیں۔ بہرحال عمومی طور پر دکھنی رنگ غالب ہے۔
(ہ)اشعارمیں عربی وفارسی الفاظ بہ کثرت استعمال ہوئے ہیں لیکن سنسکرت الفاظ یاتواصل شکل میں یاترمیم شدہ حالت میں اس طرح پائے جاتے ہیں کہ اگردونوں قسم کے اشعار الگ الگ لکھ دیے جائیں توکوئی شخص ہرگز یہ قیا س نہیں کرسکتاکہ یہ ایک ہی کتاب کے اجزائ اورایک ہی مصنف کے اشعارہیں۔
اس کے بعد مرتب متن نے نورس سے متعلق پندرہ لسانی خصوصیات کاذکرکیاہے ، ذیل میں اختصارکے ساتھ انہیں پیش کیاجاتاہے:
(۱)اسما کو فعل کے طورپر استعمال کرنا یعنی اسمائ سے مصادر بنالینا ۔مثلاً:چتر (تصویر) سے چترنا(تصویر کھیچنا) دیپ سے دپنا (روشن کرنا)وغیرہ ۔
( ۲)کچھ اسما ایسے مقرر کرلیناجو اورزبانوں میں نہ پائے جاتے ہوں۔ مثلاً سنسکرت میں چترکار (مصوّر) ہے مگر مصنف نے چترسے چتاری اسم فاعل بنالیاہے ۔
(۳)دکنی جمع بنانے کاعام اصول یہ تھاکہ اس کے آخرمیں ’’اں‘‘کااضافہ کرتے تھے خواہ وہ اسم مذکر ہویا مونث ،مثلاً بات سے باتاں، لوگ سے لوگاں، پلکھ سے پلکھاں، خوشی سے خوشیاں وغیرہ۔
(۴)اول توافعال بہت کم استعمال ہوئے مگرجو آئے ہیں ان میں عام طورپر دکنی اندازہے مثلاًماضی کی حالت میں ’’ی‘‘کااضافہ جیسے ’لایا‘سے ’لیایا‘،’دیکھا‘سے ’دیکھیا‘،’رہا‘سے ’رہیا‘وغیرہ۔
(۵)فعل کی جمع اسی قاعدے سے بناتے ہیں جس طرح اسم کی جمع جیسے دھولتی سے دھولتیاں، جھومتی سے جھومتیاں ، کیری سے کیریاں وغیرہ۔
(۶)عموماً فاعل اگرجمع مونث ہے توفعل میں بھی وہی صیغہ استعمال ہواہے۔ مثلاً دھولتیاں جھومتیاں مدشراب بھگن، سب سہیلیاں وغیرہ۔
(۷)فارسی اورعربی کے الفاظ کی صورت سادہ کردی ہے ۔مثلاًعجب کواجب، ترازو کوتراجو ،کاغذ کو کاگت، خط کوکھت وغیرہ۔
(۸)اسی طرح سنسکرت کے الفاظ میں بھی ترمیم ہوئی ہے۔ مثلاً پری تم کے بجائے پیترم، شویت کے بجائے سیت، پاردھی کے بہ جائے پاردی وغیرہ۔
(۹)دکھنی الفاظ جواس وقت رائج تھے، ان کااستعمال عام طورپر ہواہے۔ مثلاًناد(آواز)،ہتھی( ہاتھی)،جانوا(زنّار)، کیری (کس کی)،درکھ(درخت)،مت(مست)،نسن دن(رات دن ) ، دیشت(دیکھنا)، نار (عورت)،دیسنا(دیکھنا)، ناری(عورت)، منج(مجھ کو)،سندری(عورت)،تج(تجھ کو)،مون(منہ) ۔
(۱۰)بعض اسم میں’ی‘بڑھاتے ہین اوربعض میں ’ن‘وائو یاالف، جیسے کرن سے کیرن ،دل سے دیل ، دن سے دین، برسات سے برسانت، سیپی سے سینپی، سکھ سے سوکھ، دکھ سے دوکھ، چن سے چون وغیرہ اور بعض لفظوں میں حرفوں کومقدم یا موخر کردیتے ہیں جیسے گناہ کے بجائے گنہا، سراہیں کے بجائے سرہائیں،پریت کے بجائے پیرت وغیرہ ۔
(۱۱)بعض حروف (علّت ،تشبیہ وغیرہ)خاص دکھنی رنگ میں استعمال ہوئے ہیں۔ جیسے کدھو، تھیں، سوں کون، کر، بون ،ہور وغیرہ۔
(۱۲)ضمائر کی پابندی میں کوئی خاص اصول نہیں برتاگیا۔ ضمیرفاعلی کااستعمال بہت ہی کم ہے۔
(۱۳)اسم اشارہ قریب کے لیے’یے‘اوربعیدکے لیے’وہ‘‘استعمال ہواہے۔
(۱۴)سب رس کے زمانے میں جب دوالفاظ کی تکرار ہوتی تھی توان کے درمیان ’’یے‘‘ کااضافہ کرتے تھے مثلاً ’گھرگھر ‘کو’گھرے گھر‘، ’دردر‘کو’درے در‘اور’ٹھارٹھار‘کو’ٹھارے ٹھار‘ لکھتے تھے۔ مگرکتابِ نورس میں تکرارِ الفاظ بغیر’یے ‘کے اضافے کے موجودہے جیسے جم جم، جگ جگ، گھر گھر، محل محل وغیرہ۔
(۱۵)تذکیروتانیث کاخیال بعض جگہ نہیں کیاگیاہے ۔مثلاً صفت اورجیبھ مذکراستعمال ہواہے۔
(۱۶)’ہے‘کے علاوہ آجھے کا بارباراستعمال مختلف زبانوں کی یکسانیت کاپتہ دے رہاہے۔
اسی طرح سے کتاب نورس میں برج بھاشاکابھی جابہ جااستعمال ہواہے۔ اس سے متعلق چندمثالیں ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:
(۱)کوئی کے بجائے کوئومثلاً
حوراں پریاں چھپیاں کوڈاگاس کوئوپتال
(۲)’میری پتلی‘کے بجائے ’پوتری میرو‘مثلاً
زلف تیری ، گلی آنکس پوتری میروہین ہتی
(۳)اکھیں بہ معنی ’کہیں‘یااکھوں’کہوں‘
پیارے چاند اکھوں کنت دن دوئی دکھی
من چاہئے سونس بھئی ہم تم رہیں اب سکھی
اخیرمیں زبان سے متعلق پروفیسرصاحب تحریرکرتے ہیں:
’’کتاب نورس کی زبان اس وقت کی مروجہ دکھنی سے ایک اورلحاظ سے نہ صرف مختلف تھی بلکہ بہت زیادہ مشکل ہوگئی تھی۔ اس میں سنسکرت کے الفاظ بہت کثرت سے استعمال ہوئے۔ علاوہ بریں اس میں ہندودیومالا کے بہت سے حوالے ملتے ہیں۔ جن سے عام طورپر لوگ روشناس نہیں۔ مگر بایں ہمہ کتاب کامعتدبہ حصہ آسان گیتوں پر مشتمل ہے خصوصاً جوگیت سیدحسینی گیسودراز کی مدح میں ہیں یاجن میں عاشقانہ جذبات کااظہار ہے ان کی زبان سلیس اور سادہ ہے۔‘‘(ص۳۴)
کتاب نورس کی ادبی اہمیت: پروفیسرصاحب کے مطابق کتاب نورس کامرتبہ ادبی نقطۂ نظرسے اس قدربلندہے کہ اس کوادبی شہ پاروں کے زمرہ میں جگہ ملناچاہیے۔ مرتب نے کتاب نورس سے متعدد ادبیات مع تشریح بہ طورنمونہ درج کی ہیں جس سے ابراہیم عادل شاہ کی بلندفطرت پوری طرح نمایاں ہوجاتی ہے اور ان کی ادبی اہمیت کابھی اندازہ ہوجاتاہے۔ ذیل میں چندمثالیں بہ طورنمونہ پیش کی جاتی ہیں:
(۱)
اس فراقوں ہواٹکڑے ٹکڑے دلا
سمرن کیتی سب لی چون چون ملا
ترادھیان امرت اب مرنامشکلا
’’میرادوست مجھ سے رنجیدہ ہوکرچلاگیا، اس فراق میں میرادل ٹکڑے ٹکڑے ہوگیالیکن میں نے دل کے ٹکڑوں کو چن کرتسبیح بنالی اور اس کے نام کا ورد کرنا شروع کردیا اس کادھیان چونکہ آب حیات کی طرح حیات بخش واقع ہواہے لہٰذا اب مرناناممکن ہوگیا ہے۔‘‘(ص۳۶)
(۲)
سوم دورسیت مُدسیام مانونین سندری روپ لچھن
بادرانچرتاپَرمُرت لاگے کب گپت کب پرگٹ دِسے بدن
’’چاندکی سفیدی وسیاہی سے ایسامعلوم ہوتاہے کہ وہ ایک خوبصورت عورت ہے۔ بادل چاندکے چہرے پر ایساہے جیسا کسی حسین کے چہرہ کاآنچل جو ہواکی وجہ سے کبھی چھپ جاتاہے اورکبھی کھل جاتاہے، کیسی بدیع ولطیف تشبیہ ہے۔‘‘(ص۳۹)
مقدمے کے آخرمیں مرتب نے زیرِنظر قلمی نسخوں کی کیفیت بیان کی ہے، جدیدترتیب وتدوین کایہ اصول ہے کہ جب کوئی مرتب ومدون کسی مطبوعہ یاغیرمطبوعہ نسخے کی ترتیب وتدوین کاکام انجام دیتاہے تودورانِ ترتیب جتنے نسخے پیش نظرہوتے ہیں اس کی مکمل تفصیلات مقدمے میں یاآخرمیں ضمیمے کے طورپربیان کردیتاہے۔اس کی بہترین مثالیں مولاناعرشی اوررشیدحسن خاں کی مرتبہ کتابوں میں دیکھنے کوملتی ہیں۔
لہٰذا پروفیسرصاحب نے بھی جدیداصولِ تدوین کے مطابق نسخوں کی کیفیت بیان کی ہے۔ اس ضمن میں انھوںنے امورِ ذیل کی وضاحت کی ہے۔
۱۔نسخے کاسائز،۲۔اس کی ضخامت،۳۔ہرصفحے میں سطروں کی تعداد،۴۔نسخے کاخط،۵۔متن کی روشنائی ۶۔اول وآخرکے اوراق کی مکمل کیفیت،۷۔عنوان کی کیفیت،۹۔نسخے کی اوراق کی کیفیت(بے ترتیبی اورکرم خوردگی کے لحاظ سے)،۱۰۔کاتب کانام، ۱۱۔اس کاتعارف ،لیاقت علمی، ۱۲۔متعلقہ نسخے کی خصوصیات ، ۱۳۔سرورق کی کیفیت ،۱۴۔سنہ تالیف،۱۵شواہدوقرائن،۱۶۔متن میں املائی غلطیاں،۱۷۔کاتب کے تسامحات اور غلطیاں، ۱۸۔مہرکی کیفیات، ۱۹۔استنباطِ نتائج وغیرہ۔
مقدمہ کے بعداصل متن کاسلسلہ شروع ہوتاہے، یہ حصّہ (ص۶۳سے ص۱۱۲تک) ۴۹صفحات پرمحیط ہے۔ اس مجموعے میں ۱۷؍راگوں کے ذیل میں کل ۵۹گیت اور۱۷دوہے ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
۱۔بھوپالی(۲)،۲۔رام کری(۲)،۳۔بھیرو(۶)،۴۔جحیز(۱)،۵۔مارو(۲)،۶۔اساوری(۲)،۷۔دیسی(۱)، ۸۔پوریا(۱)، ۹۔براری (۱)، ۱۰۔ٹوڈی (۴)، ۱۱۔لار (۵) ،۱۲۔گوری(۲)،۱۳۔کلیان(۴)،۱۴۔دھناسری(۲)،۱۵۔ کنڑایا کرناٹی(۱۹) ۱۶۔کیدارا (۴) ۱۷۔نوروز (۱)کل تعداد۵۹ ہے۔
انہوں نے جن ۹نسخوں کے بموازنے سے کتاب نورس کے متن کوتیارکیاہے ،وہ سارے نسخے ناقص اور بے ترتیب تھے جس کی وجہ سے اس کتاب کی ترتیب وتدوین نہایت دشوارتھی۔ ا س سلسلہ میں وہ لکھتے ہیں:
’’سال سواسال کی کوشش سے نونسخ مجھے دستیاب ہوگئے۔ مگریہ سب ناقص اوربے ترتیب تھے موضوع اور زبان کی دشواری ۔ الفاظ کاصحت کے ساتھ پڑھانہ جانا۔ صفحوں پرہندوسوں یادوسرے نشان کی عدم موجودگی اور ہرنسخے کی الگ ترتیب کی بناپرتمام نسخوں کی ترتیب کاکام جس قدردشوار تھااس کااندازہ صرف وہی لگاسکتے ہیں جن کو اس طرح کے کام سے سابقہ پڑاہو۔‘‘(ص۶)
جن نسخوں کی مددسے متن کی تدوین کی گئی ہے ،وہ درج ذیل ہیں:
۱۔نسخہ کتاب نورس (الف) مملوکہ دفتردیوانی ومال سنٹرل ریکارڈآفس ،حیدرآباد
۲ ۔ایضاً (ب) سالارجنگ میوزیم حیدرآباد (دکن)
۳۔ایضاً (ج) مملوکہ پروفیسرحسین علی خاں حیدرآباد، دکن
۴۔ایضاً (د) پرنس آف ویلزمیوزیم، ممبئی
۵۔ایضاً (ی) مملوکہ سالارجنگ میوزیم حیدرآباد،دکن
۶۔ایضاً (ف) حیدرآباد میوزیم حیدرآباد،دکن
۷۔ایضاً (گ) کتابخانہ خدابخس خاں بانکی پور، پٹنہ
۸۔ایضاً (ج) کتاب خانہ رام پور(رضالائبریری)
۹۔ایضاً (ل) سالارجنگ میوزیم حیدرآباد،دکن
مندرجہ بالانسخوں کی علامات بالترتیب ا،ب،ج،د،ی،ف،گ،چ،ل،قراردی گئی ہیں۔مرتب نے ’’کتابِ نورس‘‘ کے اس متن میں گیتوں کی ترتیب اول الذکر تین نسخوں کے مطابق رکھی ہے۔ اس لیے کہ یہ تینوں نسخے بادشاہ کے عہد کے ہیں۔ ان تینوں میں نسخۂ اول کوترجیح دی گئی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’کتاب نورس کے اس متن میں تمام گیت پہلے تین نسخوں کے اعتبارسے ترتیب دیے گئے ہیں۔ یعنی ایک راگ کے تمام گیت ایک ساتھ درج ہوئے ہیں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ تینوں نسخے بادشاہ کے عہدمیں مرتب ہوئے تھے مگران میں بھی خصوصیت سے نسخۂ اول کی ترتیب پیش نظرہے کیونکہ بہرحال اولاً اس کو دونوں نسخوں پرایک گونہ وجہ ترجیح حاصل ہے، ثانیاًوہ تیسرے سے ملتاجلتاہے، ثالثاًوہ سب سے زیادہ اشعار کوحاوی ہے۔‘‘(مقدمہ ص۶۱۔۶۲)
دوران تدوین مندرجۂ ذیل امورکابھی اہتمام کیاگیاہے:
۱۔نسخوں کے بعض قدیم طرزِاملاکوترک کردیاگیاہے۔ مثلاً ٹ،ٹھ،ڈ،ڈھ،ڑ،ڑھ،ڑاں،گ، گھ کے بجائے ت، تھ، د، دھ، ر،رھ، ن،ک،کچھ ،کے نیچے تین نقطے لگائے گئے تھے مرتب نے اس طرح کے طرزاملامیں مخطوطات کی پیروی نہیں کی ہے اوراسے رائج الوقت املاکے تحت لکھاہے۔
۲۔مخطوطات میں بعض الفاظ دوطرح پرملتے ہیں:مثلاً
آپیں، اپیں، آچرج، اچرج، اُتّم ،اُتم ،اوپماں، اُپماں۔پُور،پُر،پرنم،پُنم،جوتی، جوت، دینکر،دنکر، دھنی دھن وغیرہ ۔اس متن میں مرتب نے یہ دونوں شکلیں باقی رکھی ہیں۔
۳۔چونکہ کتاب نورس قدیم دکنی الفاظ پرمبنی ہے نیز برج بھاشا اورسنسکرت کے الفاظ بھی جابہ جاپائے جاتے ہیں، قدیم ونامانوس الفاظ کی کثرت ہے جس کی وجہ سے متن کاپڑھنا مشکل ہے لہٰذا مرتب متن نے قرأت میں آسانی کے لیے اعراب کااہتما م کیاہے جس کی وجہ سے متن کی قرأت میں آسانی ہوگئی ہے۔
۴۔ جیساکہ ماقبل ذکرہوچکاہے کہ مرتب نے کتاب نورس کو ۹نسخوں کی مددسے مرتب کیاہے ان تمام نسخوں کے متن میںکثرت سے اختلافات تھے۔ مرتب نے اُن تین نسخوں کوبنیادبنایاجو ابراہیم عادل شاہ کے عہدکے تھے۔ دیگرنسخوں کے اختلافات کوحاشیے(فٹ نوٹ) میں درج کردیاہے۔ راقم کے شمارکے مطابق اختلاف نسخ کی تعداد ۳۹۱ہے۔ ذیل میں چندمثالیں بہ طورنمونہ پیش کی جاتی ہیں:
دوہرا ۱؎
نَورَس سُورجُگ جُگ جُوتی آنُڑسَروۡگُنِی یُوسَتۡ سرسُتی ماتاابراہیم پرسادبھَیۡ دُونی
درمقا ۲؎بھوپالی نَورَس ۳؎
حضرت مُحمد جگت ترگُرگُسائیں تودرگہ چُمک مِیرومَنۡ سَارۡ
انترا ۵؎
تِرلُوک جَپَت تُونا نوپاوِیں پَران کی پُران اَچرِج۶؎ مہاپِیۡر۷ ؎ اَ بۡلَابَلی تونہیں سانچُواوتَار
مذکورہ بالامثالوں میں جن الفاظ کے اختلافات حاشیے میں درج کیے گئے ہیں، وہ الفاظ درجِ ذیل ہیں:
۱؎ دوہرا ۲؎ درمقام ۳؎ نوررس ۴؎ تودَرگہ چُمَک مہرومن سَار
۵؎ انترا ۶۔ اَچۡرِج ۷؎ پیر
ذیل میں اختلافِ نسخ ملاحظہ فرمائیں:
۱؎ یہ لفظ مختلف نسخوں میں مختلف آیاہے، ’ا‘میں دوہرہ’ب‘میں دوہڑہ ،دوہرہ ’د‘،’و‘،’ی‘میں دوہڑا ،دوہرااور دوہا ’ف‘میں دوہرا ،دہرا،دہڑا ’’گ‘‘میں دہرا۔ متن میں ہرجگہ ’’دوہرا‘‘درج ہواہے۔
۲؎ یہ لفظ’م‘اول مفتوح سے بھی آیاہے، مگرمتن میں م مضموم ہی درج ہواہے۔
۳؎ ا:ـغائب
۴؎ یہ مصرع مرقع عادل (ورق ۱۸ب) میں عبدالرشید کے خط نسخ میں درج ہے۔
۵؎ ا:غائب
۶؎ ب: اچرَچ د:اچرج ی:اچرج۔
۷؎ پَیر (حاشیہ ص۶۳)
ترجمہ کتاب نورس:متن کے بعد ترجمہ کاسلسلہ شروع ہوتاہے۔ یہ حصہ (ص۱۱۳سے ۱۴۱تک)۲۸صفحات پرمشتمل ہے۔ چونکہ کتاب نورس کی زبان نہایت قدیم ونامانوس اورمشکل ترین زبان ہے۔ لہٰذا مرتب متن نے گیتوں کاترجمہ بھی پیش کردیاہے۔ یہ ترجمہ آسان اورعام فہم زبان میں ہے۔ ترجمے کے حصے میں ہرصفحے پرحواشی لگائے گئے ہیں۔یہ حواشی بعض الفاظ کی تشریح، تلمیحات کی وضاحت ،تاریخی واقعات، بعض عمارتوں اوراشخاص وغیرہ کے متعلق ہیں، راقم نے مطالعہ کے دوران ان حواشی کوشمارکیا تواس کی کل تعداد ۹۳معلوم ہوئی۔حواشی کے ا س اہتمام سے ترجمہ میں تحقیقی شان پیداہوگئی ہے اورترجمہ طوالت سے بھی محفوظ رہاہے۔ بہ طورنمونہ کتاب نورس کے چندابیات کامتن مع ترجمہ اوراس کے متعلق حواشی ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:
۱۔گیت نمبر۸:درمُقام بَھیرَو ۱؎ ونَورَس۲؎
مُکھ ۳؎ گورا۴؎پَھٹِک تِلکۡ چھائی اَدَھر
تِلک اَکُشۡتَا سُواِیسُوراَگِنۡ نِیتَر
بَین
تِلَک چَندَن بیچ اَکُشۡتَامَنڈل سَمُدر مدھ۵؎ میرُو پَربَتَا
یواُوپَماں۶؎ مُومَن لاگے نِس پَتِی۷؎ لَچھَّن دَھرتا
اَبھُوگ
اُوپۡما۸؎ آگہُوں بھَال ۹؎ تِلک جَگتَّر
کَون گنک کَسِے کَسُوٹی کَر
اِبراہیم ہیم پَرچِت تَارِ کا۱۰؎ مَدُھوتّہ پر
ترجمہ:[محبوب کاگورا چہرہ بلّور ہے ،ہونٹ کاعکس تلک اورچاول کی تلک شیوکی تیسری ۱؎ آنکھ کی آگ۔
سرخ چندن کے درمیان چاول کاسفید نشان ایسامعلوم ہوتاہے گویاسمندرمیں میرو ۲؎ پریت ہے جس کے گرد سورج گھوم رہاہے۔ میرے دل میں تلک کی تشبیہ کچھ اس طرح آرہی ہے کہ تلک چاند کے منہ پر کاداغ یادھبّہ ہے۔‘‘
پیشانی کی تلک کسوٹی ہے جس پرسوناپرکھاجاتاہے ،ابراہیم کے پتلی کے موم سے سونے کی آزمائش ۳؎ کی ہے۔] (ترجمہ ۱۱۸)
مذکورہ ترجمہ کے بعض الفاظ کی تشریح یاوضاحت حاشیے میں اس طرح کی گئی ہے۔ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:
۱؎ انھوں نے اپنی تیسری آنکھ کی آگ سے کامدیو (خواہش نفسانی) کو جلا دیا تھا۔
۲؎ میروپربت جوسمندر کے درمیان واقع ہے ہندودیومالا میں کافی اہم ہے۔
۳؎ کہاجاتاہے کہ آزمائش کے وقت سوناموم کے ذریعے سے کسوٹی پر سے اٹھاتے ہیں۔ عاشق محبوب پر نظر کرتاہے اوراس کے تلک کاعکس پتلی کے موم کے ذریعہ آنکھوں میں جمع کرلیتاہے یہی سونے کی آزمائش ہے۔‘‘ (ترجمہ ص۱۱۸)
مذکورہ بالا مثالوں سے اندازہ ہوجاتاہے کہ کتاب نورس کا متن کتنا غیرمانوس ہے، اورپروفیسرصاحب کاترجمہ کتناسادہ اور سلیس ہے ۔
تلمیحات: کتاب نورس میں ہندودیوی دیوتائوں کے بہت سے قصے ملتے ہیں۔ اگرچہ ترجمے کے ضمن میں بعض کی صراحت ہوچکی ہے لیکن مرتب نے قارئین کی آسانی کے لیے متن میں استعمال شدہ تلمیحات کویکجاکر کے مختصراً ان کی تشریح کردی ہے ،چنداسلامی تلمیحات اورعہدابراہمی کی چندچیزوں کی بھی تصریح کی گئی ہے ۔ یہ تلمیحات حروف تہجی کے اعتبارسے درج کی گئی ہیں۔ ان کی کل تعداد ۴۶ہے۔چندمثالیں ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:
۱۔اپچھرا۔ ’’راجا اندرکے دربارکی پریاں اپسرا کہلاتی ہیں۔ ان کے علاوہ بعض اوراپسرائیں ہیں ۔جن میں سے کچھ کیلاس پررہتی ہیں اورکچھ مہروپر اپچھرا اپسرا کی دوسری شکل ہے۔‘‘(ص۱۴۲)
۲۔آخرت۔’’قیامت کی پریشانی ضرب المثل ہے ۔کہاجاتاہے کہ اس روز آفتاب سوا نیزہ پرآجائے گا اور سارے لوگ شدت گرمی سے عاجز ہوجائیں گے۔‘‘(ص۱۴۳)
۳۔لکشمی۔’’دولت کی دیواوروشنویعنی پروردگار عالم کی بیوی۔‘‘(ص۱۴۹)
۴۔ گگن محل۔ ’’علی عادل شاہ اول کابنوایا ہوامحل جوبیجا پور میں ہنوز پایا جاتا ہے۔‘‘ (ص۱۴۸)
فرہنگ:ـ چونکہ کتاب نورس کی زبان گیارہویں صدی ہجری کی ہے، قدامت کی وجہ سے اکثر اس کے الفاظ غیرمانوس ہیں، عہد کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ زبانیں بھی ارتقائ کے مدارج طے کرتی رہتی ہیں، بہت سے الفاظ متروک ہوجاتے ہیں، یازمانے کے انقلاب کے ساتھ الفاظ بھی نکھرسنور کر دوسری شکل اختیارکرلیتے ہیں۔ زبان والفاظ کی تبدیلی کی وجہ سے نئے عہد کے قارئین قدماکی تصنیفات وتالیفات سے خاطرخواہ فائدہ حاصل نہیں کرپاتے ہیں۔
مرتب نے کتاب کے آخرمیں فرہنگ کا بھی اہتمام کیاہے ۔یہ (ص۱۵۱سے ۱۶۸تک) ۱۸صفحات پرمشتمل ہے۔ اس فرہنگ کودوحصوں میں منقسم کیاگیاہے۔
۱۔ فرہنگِ اول ۲۔فرہنگِ دوم
۱۔فرہنگِ اول: پروفیسرصاحب کے مطابق یہ فرہنگ نسخہ’’ی‘‘کے شروع میں ’’لغات بہ زبانِ ہندی‘‘ کے عنوان سے درج ہے۔ اس میں کچھ الفاظ حروف تہجی کے اعتبارسے ہیں اورباقی بے ترتیب۔ مرتب متن نے وہ سب الفاظ حروف تہجی کے اعتبارسے ترتیب دے کرکتاب نورس کے آخرمیں شامل کردیے ہیں ۔یہ فرہنگ ۳۷۸؍الفاظ پر مشتمل ہے۔ بعض بعض مقامات پرلفظوں کے معنی میں مرتب نے اضافہ کیاہے اوراسے امتیاز کے لیے قوسین میں درج کیاہے۔
۲۔فرہنگِ دوم:یہ اضافۂ مرتب ہے۔ یہ کل ۱۵۹؍الفاظ پرمشتمل ہے۔ یہ بھی حروف تہجی کے اعتبارسے ہے۔
مجموعی طورپریہ فرہنگ ۵۳۷؍الفاظ پرمشتمل ہے۔ دونوںفرہنگ کے اہتمام سے کتاب نورس کے اکثرمشکل الفاظ اور متن کی توضیح وتفہیم میں آسانی ہوگئی ہے۔
مذکورہ بالا مثالوں سے کتاب نورس کی تدوین کے طریق کار کابہ خوبی اندازہ ہوجاتاہے۔ پروفیسر نذیر احمدایک مستند محقق تھے۔ان کاطریق کاریہ تھاکہ کسی نتیجے کے استنباط کے لیے تمام داخلی وخارجی شواہدکوبروئے کار لایا جائے اورپھران کی روشنی میں نتائج کااستخراج کیاجائے۔
ڈاکٹرعقیل احمد
اے ۔پی ۔ایس۔ ایم۔کالج،برونی
بیگوسرائے،بہار
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

