(الٰہ آباد،پریس ر یلیز)ضیائے حق فاؤنڈیشن کی جانب سے 30جنوری بروز اتوار 2022 کو آن لائن پروگرام ’’ایک شاعر پانچ کلام ‘‘ کا انعقاد کیا گیا،یہ پروگرام مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارم مثلا یو ٹیوب ،فیس بک پر بھی لائیو رہا ،جس کو دنیا بھر کے لوگوں نے سنا ،یہ پروگرام یو ٹیوب چینل ’’اردو ہندی لو ‘‘ پر بھی دیکھا جا سکتا ہے ۔اس پروگرام میں نوجوان قلمکارڈاکٹر کامران غنی صبا (پٹنہ ) نے اپنا کلام پیش کیا ۔یہ بنیادی طور پر شاعر اور صحافت سے جڑے ہوئے ہیں اور بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر نیتیشور کالج ،مظفر پور بہار میں شعبۂ اردو میںدرس و تدریس کا کام انجام دے رہے ہیں ،نئی نسل کے متحرک اور فعال شاعر، ناقد اور بیباک صحافی کامران غنی صبا 22 نومبر 1989 کو علمی و تاریخی شہر عظیم آباد، پٹنہ، بہار میں پیدا ہوئے۔ان کا اصل نام کامران غنی ہے اور قلمی نام کامران غنی صبا ہے۔صبا تخلص ہے۔وہ ایک تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ مجاہد آزادی سید شاہ عثمان غنی کے پر پوتے ہیں۔ ان کے والد ڈاکٹر ریحان غنی کا شمار بہار کے معروف اور بے باک صحافیوں میں ہوتا ہے۔ان کی صحافتی خدمات تقریباً چار دہائیوں پر محیط ہیں۔اپنے اصولوں پر سختی سے کاربند رہنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے کر اپنی زندگی کو صحافت کے لیے وقف کر چکے ہیں۔فی الحال روزنامہ پندار، پٹنہ اور دوردرشن پٹنہ سے وابستگی ہے.کامران غنی صبا کی شاعری کی ابتدا 2007 میں ہوئی،ان کی پہلی غزل روزنامہ فاروقی تنظیم پٹنہ میں شائع ہوئی جس کا ایک شعر ہے۔بتداء میں اپنے چھوٹے ماموں جان سید نصر الدین بلخی سے شاعری پر اصلاح لی بعد میں ماہر عروض محمد یعقوب آسی صاحب مرحوم ٹکسیلا نے انہیں شرف تلمذ بخشا.ان کا کلام برصغیر کے موقر رسالوں میں شائع ہوتا رہا ہے اب تک ان کی دو کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں،۱”۔پیام صبا۔”۔شعری مجموعہ 2017۲۔”منصور خوشتر نء صبح کا استعارہ” 2019۔اب تک انہیں کئی انعامات و اعزازت سے نوازا جا چکا ہے جیسے ۱۔اردو نیٹ جاپان کی طرف سے سال 2013 کا بہترین قلم کار۲۔عوامی نفاذ کمیٹی، پٹنہ کا ایوارڈ۳ روزنامہ تاریخ انٹرنیشنل فرانس کی جانب سے مصطفوی ایوارڈ ۴ المنصور ایجوکیشنل ٹرسٹ کی جانب سے ادبی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ ۵ اکبر رضا جمشید ایوارڈ۔بہت کم عمری میں ہی انہوں نے کافی شہرت پائی ہے بہت سے اہل قلم نے ان کی شاعری کو سراہا ہے ۔ انہیں کلاسیکی شعرا میں حافظ، رومی، غالب، اقبال اور اصغر گونڈوی.اور.دور حاضر کے شعرا میں عرفان صدیقی کا کلام پسند ہے شاعری کے علاوہ وہ ایک بے باک صحافی بھی ہیں اپنی صحافتی زندگی کا باضابطہ آغاز انہوں نے روزنامہ” پندار” پٹنہ کے اسپورٹس ایڈیشن سے 2006 میں کیا. اس کے بعد اردو نیٹ جاپان، ماہنامہ کائنات کولکاتا، سہ ماہی دربھنگہ ٹائمز، سہ ماہی تحقیق دربھنگہ، ماہنامہ نیا کھلونا، کولکاتا، تعمیر افکار سمستی پور وغیرہ سے وہ وابستہ.رہے ہیں۔اس پروگرام میں پڑھے گئی غزلوں کے متفرق اشعار پیش خدمت ہے:
حریمِ دل کہ مقدس ہے ماورائے جنوں
اسی کے فیض سے روشن ہے یہ فضائے جنوں
خدا کے واسطے عقل و خرد کی بات نہ کر
قسم خدا کی ابھی میں ہوں مبتلائے جنوں
قسم خدا کی میں بیعت کروں گا قدموں پر
مرے جنوں کو جو مل جائیں اولیائے جنوں
کسی کا کچھ بھی بھروسہ نہیں، ذرا بھی نہیں
صبا کا کوئی نہیں ہے، نہیں، سوائے جنوں
بتاتے چلے کہ ضیائے حق فاؤنڈیشن اردو ہندی زبان و ادب کے فروغ کے لیے خصوصی کام کرتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے یہ ادارہ وقتا فوقتا مختلف ادبی ،علمی ،لٹریری پروگرام،ویبینار کا انعقاد کرتا ہے ۔جس میں بزرگ شعرأ و ادباء کے ساتھ ساتھ نئے قلم کاروں کو بھی پلیٹ فارم دیا جاتا ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔ادبی خدمات کے سلسلے کو آگے بڑھانے کے نظریے کے تحت اس فاؤنڈیشن نے اب تک کئی اہم پروگرام خصوصا ’’ایک شاعر پانچ کلام ‘‘ میں نوجوان قلم کاروں کو ادبی ،علمی و شعری حلقوں میں متعارف کرانے کا کام کیا ہے ۔اسی سلسلے کی کڑی یہ پروگرام رہا جس میں نوجوان قلم کار کامران غنی صاحب نے اپنا کلام پیش کیا۔ انھوں نے نعت پا ک کے اشعار کے ساتھ اس پروگرام کا آغاز کیا اس کے بعد انھوں نے اپنی بہت خوبصورت پانچ غزلیں سنائی ،کامران غنی غزل کے فن پر بھی کماحقہ قادرنظر آتے ہیں ۔ ان کی زبان سلاست وفصاحت اور نزاکت ونفاست سے آراستہ ہے ۔ روایت اور جدّت کے خوشگوار امتزاج کی حامل ان کی غزلیات کو علامات واستعارات اور خوشنماامیجری کے روپ رنگ سے آراستہ سنگھارنے دلہنوں والی خوبصورتی اور دلکشی عطاکی ہے یہی وجہ ہے کہ ان کاغزلیہ کلام دل کوچھولیتاہے۔اس پروگرام میں کامران غنی صاحب کی ادبی و شعری خدمات اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے سند سے بھی نوازا گیا ،یہ سند ضیائے حق فاؤنڈیشن کے آتھارائز ریپریزنٹے ٹیو محمد ضیاء العظیم صاحب کے دست مبارک سے دیا گیا ۔ہم ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں اس پروگرام کی نظامت و استقبالیہ ڈاکٹر صالحہ صدیقی نے اور اظہار تشکر محمدضیا ء العظیم (برانچ اونر ضیائے حق فاؤنڈیشن پٹنہ )نے انجام دی ۔جس میں دیگر اہم مہمانان میں،ڈاکٹر راہین ،محمد عمر ،میر حسن صاحب (ایڈیٹرتریاق)معروف و مشہور شاعر ذکی طارق بارہ بنکوی ، ابو شحمہ انصاری (نیوز انچارچ)، سعید احمد ،نازیہ امام وغیرہ بھی شامل رہے ۔ضیائے حق فاؤنڈیشن کامران غنی صاحب کے روشن مستقبل کے لیے دعا گو ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

