منزہ احتشام گوندل ایک ایسی افسانہ نگار ہیں جنہوں نے اپنے ارد گرد تمام حالات واقعات کو دیکھا ان کی جانچ پرکھ کر کے ان واقعات اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا ہے- منزہ احتشام گوندل کی کہانیاں پڑھ کر عورت کے جسمانی استحصال مدرسوں میں موجود داڑھیوں والے دہشت گرد اور تعلیمی اداروں میں موجود نام و نہاد استادوں کے کئی گھناؤنے روپ سامنے آتے ہیں جنہوں نے استاد جیسے اعلٰی رتبے پر فائز ہو کر ہر طرف خوف و ہراس پھیلایا ہوا ہے- جنہوں نے کتنے معصوموں کا روشن مستقبل چھین کے ابدی نیند سلا دیا ہےمنزہ ان کو نشانہ بناتی ہیں-ان استادوں کی جنسی لذتیت اور بچوں کی چیخیں قاری کے ذہن میں گونجنے لگتی ہیں جن کو سننے والا کوئی نہیں منزہ ان گھناؤنے کرداروں خلاف آواز بلند کرنا اپنا فرض سمجھتی ہیں- عورتوں اور بچوں کے ساتھ ہونے والی ان زیادتیوں کا ذکر کر کے مغموم ہو جاتی ہیں- ہماری شاعری، کتابیں ،قانون فطرت اور موسم کہتے ہیں کہ عورت محبت کی علامت ہے محبت کرنے کی اہل ہے دوسری طرف عورت کا کسی سے محبت پاکیزہ محبت کا اظہار بھی گناہ کبیرہ سمجھا جاتا ہے- اگر کسی کو ایسی کہانی کا علم ہو جائے تو معاشرہ اس کے درپے ہو جاتا ہے اس کا جینا محال ہو جاتا ہے- ایسی غلطی کا ارتکاب کرنے والیوں کو تمام عمر طنز و تمسخر کا نشانہ بنایا جاتا ہے- افسانہ ” کبالہ ” بھی اسی نوع کا ہےاقتباس ملاحظہ ہو
“ عدالت نے اس کی درخواست کو مبنی بر حماقت قرار دیا اور اسے سرزنش کی کہ آئندہ وہ حکم یعسوف جیسے کسی معزز ربی کو بدنام کرنے کی سازش نہ کرے اور بہتر ہے کسی نوجوان سے شادی کر کے— ایک باکردار مذہبی عالم کے متعلق ایسے پراگندہ خیال رکھنا ہی اول تو جرم ہے اور اگر اس نے یہ جرم کر ہی لیا تھا تو یوں عدالت میں آکے اسے ایک معزز عالم کو بدنام نہیں کرنا چاہیے تھا "-
یہاں بھی عورت پر پابندیاں ہیں قانون عورت کو زبان بند رکھنے کا حکم دیتا ہے اس کے برعکس ایک بااثر فرد یا مذہبی سکالر کو بدنامی سے بچانے کی کوشش کرتا ہے- ایک مرد اگر اسی کیفیت سے دوچار ہے تو معاشرہ اس پر کوئی قدغن نہیں لگاتا یہ مزہب کا لیبل داڑھی چہرے پر سجائے تمام کاروائیاں کر گزرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں صرف معاشرے کی آنکھوں سےبچتے بچاتے کسی چور راستے کی تلاش میں ہوتے ہیں-اسی تناظر میں اقتباس ملاحظہ
“ میں تم سے عمر میں دوگنا بڑا ہوں تم معصوم اور پاکیزہ ہو— ایک مذہبی انسان کا سب سے بڑا امتحان جنس اور عورت ہے- تم نے یا میرے رب نے مجھے اس امتحان میں ڈالا ہے تو نکالے گا بھی وہی- وہ مجھے استقامت بخشے — میں تمہیں ہم کنار کروں- تمہارے ابلتے لہو کی حدت اپنے بدن کی حرارت سے ٹھنڈا کروں میں ایسا سوچ تو سکتا ہوں مگر کر نہیں سکتا- ہم میں سے ہر شخص سماج کے قاعدے قوانین اور اپنے خود ساختہ اصولوں کا قیدی ہوتا ہے”- معاشرے میں ہونے والی تمام برائیوں کا مرتکب صرف عورت کو ٹھہرایا جاتا ہے، ان سنجیدہ حالات کا موجب مرد ہوتا ہے جو ایسی قربانی دے کر لاوارث بچے پیدا کرنے کے بعد الگ ہو کر پاکباز بن جاتا عورت اس لاوارث بچے کو لے کر ذلت کا سامنا کرتی رہتی ہے- گند کے ڈھیروں پر کلبلاتےبے گناہ ہر سال آوارہ کتوں اور کیڑے مکوڑوں کی خوراک بن جاتے ہیں ،ان کو جنم دینے والے کسی اور دنیا میں گم ہو چکے ہوتے ہیں- اپنی ذاتی تسکین رات کے اندھیروں یا کسی چور دروازے سے کر کے پارسا بن کر مسجدوں کے منبروں پر کھڑے ہو کر لوگوں کو راہ ہدایت کی طرف بلاتے رہتے ہیں- ایک عورت توہین آمیز رویوں کا سامنا کرتی رہتی ہے-
منزہ احتشام گوندل ان منافقتوں،بندشوں اور رسموں کے خلاف ہیں جہاں رسوائی کے کٹہرے میں صرف عورت کھڑی ہوتی ہے- جہاں انسانی گوشت سب سے سستا ہے صاحب اقتدار گوشت سے اپنی ہوس کی محفلیں سجاتے ہیں- لڑکیوں اور درس گاہوں میں پڑھنے والے معصوم بچوں کو رات کے کھانے کے طور پر استعمال کرتے ہیں،- منزہ احتشام نے اپنے ارد گرد بکھری کائنات کو موضوع بنایا ہے- جہاں امراء اور نواب اپنی بیٹیوں کو ظلم وتشدد کا نشانہ بناتے خود طاقت کے بل پر وہی کام سر انجام دیتے ہیں- کسی لڑکی کی پسند اور محبت کو گالیسمجھ کر کسی دوسرے خوش حال خاندان میں بیاہنے کی بجائے ،ایک سمجھ دار،سلجھی ہوئی لڑکی کو خاندانی رسمیں نبھاتے ہوئے خاندان کے کسی شرابی سے بیاہ دیا جاتا ہے-،یا گولی کے نشانے سے ابدی نیند سلا دیا جاتا ہے- منزہ احتشام اس ظالم سماج کو سامنے لاتی ہیں، جہاں کسی لڑکی کے اچھے کپڑے اپہننے، سجنے سنورنے کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے- منزہ کمزور لڑکیوں کے احتجاجی رویوں سے جنم لینے والی کہانیاں تخلیق کرتی ہیں- منزہ احتشام کے کردار اپنی فطری خواہشوں کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں جن پر ان کا کنٹرول نہیں ہے- گناہ سے ملنے والی ذلت اور ندامت سے بچنے کی تمام کوششوں کے باوجود اپنے جسمانی تقاضوں سے مجبور ہو جاتے ہیں- منزہ کی تمام کہانیاں اس معاشرے کے گرد گھومتی ہیں جس میں بسنے والے مرد مکار، عیار اور گناہ آلود ہیں- عورتیں اور بچے ان طاقتوروں کے ہاتھوں کھلونا بننے والے لوگ ہیں- منزہ ایک چابکدست مصور ہیں ،ان کا موضوع استحصال ذدہ کے صاحب اختیار لوگوں کے ہاتھوں کمزور مخلوق ہے- ایسے معاشروں میں ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو عبرت ناک سزائیں دی جاتی ہیں- معتبر اور معزز انتہائی گھٹیا حرکتیں کرکے پردوں میں چھپ جاتے ہیں-
منزہ کا افسانہ ” وجود ” بھی اسی قبیل کی کہانی ہے جس میں عورت کی کوئی اہمیت نہیں چاہے وہ مصنف بن جائے، پڑھ لکھ کر کسی اعلٰی عہدے پر فائز ہو جائے معاشرہ اس کو کمتر ثابت کرنے کی پوری تگ ودو کرتا ہے، تنگ نظری ،تعصب اور سوچ میں کوئی فرق نہیں آتا-متعصب لوگ کسی کمزور پہلو کی تلاش میں سر گرداں رہتے ہیں-مردانہ معاشرے میں مرد کوئی چھوٹا سا کارنامہ سرانجام دے تو آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے اس کی شہرت کو چار چاند لگ جاتے ہیں-اس حوالے سے اقتباس ملاحظہ ہو
"میرے لفظ اس لیے بے حیثیت ہیں کہ میرا اپنا کوئی وجود نہیں ہے کوئی نام نہیں ہے- یہ دنیا بڑی عجیب ہے— جاوید چوہدری ایک کالم کا اتنا بھاری معاوضہ اس لیے لے رہا ہے اس کا ایک وجود ہےایک ٹھوس اور مستند وجود ”
ایک ایسا تعفن ذدہ معاشرہ جس میں کسی معروف اور جانی پہچانی شخصیت ،پیسے والے آدمی کی اہمیت ہے عام آدمی کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے – جاہلانہ رسوم و رواج جہاں مرد اور عورت کو الگ الگ پیمانوں سے ناپا جاتا ہے- عورت کو اس سے پوچھے بغیر ایک ایسے مرد کے پلے باندھ دیا جاتا ہے رسوم و رواج کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے- ہمارے معاشرے میں عورتوں کی کثیر تعداد جو والدین کی ناک بچاتے بچاتے زندگی تباہ و برباد کر کے اگلہ جہان سدھار جاتی ہے- اس فرسودہ روایات کے قائل معاشرے میں بعض مرد شادی کے بعد عورت کو اپنا زر خرید غلام سمجھتے ہیں- جس سے صرف اور روٹیاں بنانے اور جوتے پالش کروانے کا کام لیا جاتا ہے- عورت کو مجازی خدا آنکھ بھر کے دیکھنا گوارا نہیں کرتے، اس کے خوابوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جاتا ہے- اس حوالے سے اقتباس ملاحظہ ہو
اب وہ پلیٹ سرکا کے اپنے سامنے کر چکے تھےمگر نظریں بد ستور ٹی وی کی سکرین پر جمعی ہوئی تھی— اس نے فریاد کی—پکے ہوئے رسیلے پھل کہ جیسا، نظر زبان اور ہاتھوں کو اختیار سے باہر کر دینے والا بدن جسے وہ کب سے سنبھالے ہوئے تھی- جن ہاتھوں کو یہ پھل توڑنا تھا وہ تو کبھی اس کی جانب نہ بڑھے— جن آنکھوں کو وہ پھل دیکھنا تھا وہ کبھی اس کی جانب نہ اٹھیں جب آنکھیںہی نہ اٹھیں تو ہاتھ کیسے پہنچ سکتے ہیں
عورت کے خواب کرچیاں کرچیاں ہو کر بکھر جاتے ہیں – اس کے خوابوں اور خواہشوں کے مینار دھڑام سے گرا کر تسکین حاصل کی جاتی ہے- ایک بے کس عورت کی روح سے اٹھنے والی دلدوز چیخیں کوئی نہیں سنتا اس کی فطری خواہشوں کو دبا کر سمجھوتہ کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے- یہ تمام مناظر افسانہ نگار کی روح میں پیوست ہیں، وہ ان کو حسین بنا کر پیش نہیں کرتیں بلکہ دکھ اور محرومی سے بھرے اپنی دھرتی کے مناظر سامنے لاتی ہیں- سارا ماحول گناہ اور گندگی میں لتھڑا ہوا نظر آتا ہے- سماجی نظام کے گہرے مشاہدے کے سبب ارد گرد ہونے والے مظالم اور بے بس لوگ ان کے تخلیقی دامن میں پناہ لیتے ہیں-
منزہ احتشام کا افسانہ” تصویر ” بھی دو جنسوں کے درمیان لڑی جانے والی جنگ ہے جس میں مختلف رنگوں کی کئی تصویریں ابھرتی ہیں- جو قاری کی کے ذہن میں معنی کی کئی پرتیں کھولتی ہیں- منزہ احتشام گوندل امن ،آزادی مساوات کی پیغامبر ہیں- ان کی کہانیاں اردگرد بسنے والوں کی جیتی جاگتی تصویریں ہیں- توانائی سے بھر پور حقیقتوں کا ثبوت ہیں- منزہ ان کرداروں کے ساتھ اٹھتی بیٹھتی ہیں، جس وجہ سے تلخ حقیقتوں کا تندو تیز جھونکا ان کی تحریروں میں اتر آتا ہے- انہوں نے ان مظالم کو ٹوٹتے اور زمین کا رنگ بدلتے دیکھا ہے-
ایسا معاشرہ جہاں کسی لڑکی کو عجیب و غریب نظروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کہیں اکیلی نظر آجائے تو اوباش قسم کے لوگ ٹافی سمجھ کرجھپٹنا شروع کر دیتے ہیں- اب کسی چھوٹے بچے یا عورت کے چار دیواری سے نکلنے کے بعد زیادہ تر گلی سڑی لاشیں ہی واپس آتی ہیں، چاردیواری کے اندر بھی عدم تحفظ اور بے یقینی کی فضا ہے-
منزہ کا افسانہ ” تقلیب ” جس میں لڑکیوں کو ہمیشہ ذہنی دباؤ میں رکھا جاتا ہے بے جا پابندیاں عائد کی جاتی ہیں ،اس کے برعکس لڑکوں کو ہر قسم کی آزادی میسر ہے-منزہ نے کلف لگی پگڑیوں اور اکڑی ہوئی گردنوں والوں کو افسانے میں سمیٹ کر ان کے غرور پر ہر آن لعنت بھیجی ہے-تمام عمر کے مرد سنجیدہ حالات کے موجب ہوتے ہیں رات کی تاریکیوں میں بری الزمہ ہو کر دن کی روشنی میں لڑکی پر کڑی پابندیاں عائد کرکے اپنے بھیانک چہرے چھپا لیتے ہیں- اقتباس ملاحظہ ہو
م” ماریہ مار غریطہ کی کھرپی اور برش کے نیچے سے نکلنے والے بچے اور ذنوبہ الخلیلی کے رحم سے نکلنے والے بچے کہاں جا کے ملتے تھے کہ میرا تخیل غوطہ کھا کر وہاں پہنچ گیا تھا- عورت دریافت کی وجہ ہے-”
انسانوں کی اکثریت چند درندوں کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہے- فرسودہ روایات اور تہمتیں، سسکتی لاشیں، محرومیاں، تشدد،نا انصافی منزہ احتشام کی کہانیوں کے اہم نقوش ہیں- وہ لوگ جنہوں نے غربت، ظلم، جذبات و احساسات کو روزن سے دیکھا ہو وہ عام آدمی کے جذبات و احساسات کو سمجھنے سے عاری ہیں- منزہ احتشام نے ریاکار مردوں کی ریاکاریوں کو جرات کے ساتھ بیان کیا ہے- افسانہ ” کمرےسے کمرے تک ” جاہلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے جہاں کتابوں کو جلایا جاتا ہے کہ ان سے کچھ حاصل نہیں ہوتا – ایک معصوم لڑکی لالٹین کی زرد مدھم روشنی میں چھپ کے محنت کر کے سی ایس پی آفیسر بن جاتی ہے – اقتباس ملاحظہ ہو
وہ افسر بن گئی تھی- ماں کو دوسری بیٹیوں کے دان دہیز اور بیاہ کی فکر رہتی وہ اکثر سوچتی کی اس نے آخر ماں کا کیا بگاڑا ہے ”
ایک لڑکی کا پڑھ لکھ کر کسی اعلٰی عہدے پر فائز ہونے کے بعد گھر کی تمام ذمہ داریاں سنبھالنا، گھر کے معاشی حالات بہتر بنانے کے لیے رات دن محنت کرنا کمائی کا وسیلہ بنتی ہے- اس کے بعد اس سے صرف پیسے کی غرض رکھی جاتی ہے اس کے جزبات اور ضرورتوں کا خیال نہیں رکھا جاتا- اس کی شادی کے سوال پہ خون کھولنے لگتا ہے، کہ بیاہ کے بعد پیسہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا- اس کی بڑھتی عمر سے بال سفید ہو جاتے ہیں ،تنہائی بڑھتے بڑھتے خون آشام درندوں کا روپ دھار لیتی ہے- پیسے کی ہوس سر چڑھ کے بولتی رہتی ہے-
اس نےکمرے کے اسباب کو باندھا، کپڑے، کچھ جوڑے جوتوں ،کتابوں کے دس بارہ بنڈل، تصویروں کے ایک دو البم ایک چھوٹی سی گاڑی کرایے کی منگوائی اور کمرے کی قید سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہو گئی-
عدم توجہی اسے گھر سے بھاگنے پر مجبور کر دیتی ہے۔منزہ احتشام کے ہاں دیہی معاشرت کی جھلکیاں اپنی جزئیات کے ساتھ موجود ہیں- ایسامعاشرہ جس میں شریف لڑکی اسکو سمجھاجاتاہے جو بزرگوں کی حکم عدولی نہیں کرتی اور خاموشی سے رواج کی قربان گاہ پر اپنی مرضی کے خلاف بھینٹ چڑھ جاتی ہے- جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے بڑھتے مسائل اور انتشار کے ساتھ ساتھ بدلتے طرز احساس کا اظہار ملتا ہے- صنف نازک کی ذہنی اور نفسیاتی الجھنوں کی نشاندہی کی گئی ہے- رسوم و رواج کی جھکڑ بندیاں اور زندگی کی پیچیدگیاں جن کی لپیٹ میں مرد کردار بھی آتے ہیں اور نسوانی بھی، انہوں نے در پیش جنسی مسائل پر بے باکی سے قلم اٹھایا ہے – منزہ احتشام گوندل کے اردگرد اکڑی پگڑیوں والوں کے بیٹیوں کے سر جھکانے کی غلامانہ ذہنیت کوسامنے لایا گیا ہے- جہاں والدین کی مرضی پر بیٹیوں کے سر جھکانے کی رسم موجود ہے اس رسم سے انکار موت کو دعوت دیتا ہے- نئی نسل کے جنسی جذبات کاننگا پن اور عورت کی توہین و تذلیل پر مبنی سماجی نظام سامنے آتا ہے- مولوی عبدالکریم جیسے جنسی پیاسے، اوباش جواری اور امرد پرست جمگھٹے ہر وقت کسی شکار کی تاک میں رہتے ہیں- افسانہ ” آخری خواہش ” سے اقتباس ملاحظہ ہو
میں گاؤں کی بڑ والی مسجد کےاحاطے میں اسی منبر پر کھڑا ہو کر تقریر کرنا چاہتا ہوں جس منبر پر کھڑے ہو کر مولوی عبدالکریم نے خطبہ دیا تھا— نماز کی طرف آو فلاح کی طرف آو ! ہم درانتیاں رکھتے اور چل پڑتے ہم خدا کے لیے جی رہے تھے اور اسی کے لیے مر رہے تھے کہ لوگو میرا فضل حسین مر گیا— اس کی لاش میرے بازوؤں میں تھی- وہ مولوی عبدالکریم کے پاس صبح کا سیارہ پڑھنے گیا تھا
اس دور جب ہر طرف فحاشی اور عریانی کی باقاعدہ ویب گاہیں ہیں جن تک پہنچنا عام آدمی سے لے کر بچوں کے آسان اور سستا ہو گیا ہے- جس سے معاشرتی مسائل زور پکڑتے جارہے ہیں ہر روز کسی بچے اور عورت سے زیادتی کے واقعات پیش آنا غیر معمولی واقعہ ہے- استاد اپنی قدرو منزلت کھو چکا ہے- درس گاہوں میں سر عام زیادتی کے واقعات پیش آتے ہیں-
منزہ احتشام گوندل بھانت بھانت کے لوگوں کے مزاج اور اطوار سے شناسا ہیں- منزہ آزادی کی شیدائی ہیں ،معاشرے کے خوف کی وجہ سے احتجاجی صدائیں بلند نہیں ہوتیں، لڑکیاں اپنے حقوق کے لیے آواز بلند نہیں کرتیں ان کے کردار پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں- کئی قسم کی غلط باتیں ان سے منسوب کر دی جاتی ہیں- منزہ ان تمام باتوں سے بالاتر ہو کر اپنے حق اورسچ کے لیے آواز بلند کرنا چاہتی ہیں تاکہ فرسودہ روایات سے نجات حاصل کی جاسکے-
حواشی و حوالہ جات
افسانوں مجموعہ ،آئینہ گھر، جہلم بک کارنر ،جنوری 2017ء،
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

