ذاکر فیضی کی افسانوی دنیا – سِکندر علی شکن
یوں تو عہد حاضر میں اردو کے لا تعداد کہانی نویس ہیں جو اپنی سوچ و صلاحیت کے مطابق کہانیاں تخلیق کرتے رہتے ہیں لیکن کچھ ارباب ادب ایسے بھی ہیں جن کے قلم کی باز گشت بر صغیر ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک میں جہاں جہاں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے وہاں وہاں سنائی دیتی ہے، انہیں ارباب ادب کی فہرست میں ڈاکٹر ذاکر فیضی صاحب بھی ہیں۔ آپ کا شمار عہد حاضر کے ممتاز افسانہ نویسوں میں ہوتا ہے
آپ کے بیشتر کہانیاں اردو کے معتبر رسائل میں شائع ہو چکی ہیں۔ ذاکر فیضی کی کہانی ‘ ٹوٹے گملے کا پودا ‘ پاکستان سے شائع ایک افسانوی انتخاب’سر خاب’ میں شامل ہے ۔آکاشوانی دلی اور رامپور سے آپ کی کئی کہانیاں نشر ہو چکی ہیں۔ موصوف کے فن کا اندازہ ان کی کتاب ‘ نیا حمام ‘ سے لگایا جا سکتا ہے ۔یہ کتاب دو سو تین صفحات کی ہے جن میں کل پچیس کہانیاں اور پانچ افسانچے شامل ہیں۔ جن کے نام یوں ہیں۔۔۔۔ نیا حمام، ٹوٹے گملے کا پودا، فنکار، ٹی۔او۔ڈی، وائرس، اسٹوری میں دم نہیں، ایک جھوٹی کہانی، ہریا کی حیرانیاں، میں آدمی وہ انسان، اتفاق، میرا کمرہ، جنگ جاری ہے، ہم دھرتی پر بوجھ ہیں، عجوبے کا عجائب گھر، گیتا اور قرآن، آدمی مانو، مردوں کی الف لیلہ، کوڑا گھر، ورثے میں ملی بارود، ہٹ بے کلائمکس، اخبار کی اولاد، بدری، لرزتی کھڑکی، دعوت نون ویج اور افسانچے اس طرح ہیں۔۔۔ جھٹکے کا گوشت، اکیسویں صدی کی داستان، دلہن، انسان کی موت، کپڑوں میں پیشاب کرنے والے۔
فیضی صاحب نے یہ کتاب اپنی شریک حیات ثنا خان کے نام منسوب کی ہے وہ کتاب کے انتساب میں رقمطراز ہیں:
”اپنی شریک حیات ثنا خان کے نام جنہوں نے مصنوعی غصے کے ساتھ مجھ سے کہا تھا کہ اگر جلد ہی آپ کی کہانیوں کی کتاب شائع نہیں ہوئی، تو میں سب سے کہہ دوں گی: ذاکر فیضی فرضی رائٹر ہیں۔کتاب آپ کے ہاتھ میں ہے، شکر خدا کا اس نے مجھے فرضی کہانی کار ہونے سے بچا لیا”۔
اگر کتاب میں شامل کہانیوں کی بات کریں تو ‘ نیا حمام ‘ یہ کہانی میڈیا کے ارد گرد گھومتی پھرتی ہے۔ کہانی میں فیضی صاحب نے بڑے فنکارانہ انداز میں میڈیا کے حقیقی چہرے سے نقاب کشائی کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
رائٹرنے کہا … ’’ سر!میں نے اس طرح لکھا ہے کہ ہمارے چینل کی ٹیم ریلوے پر ڈاکومینٹری فلم بنا رہی ہے ۔ جس کے لیے چینل کا رپورٹر اور کیمرہ مین اپنے چھپے کیمرے کے ساتھ ایک ٹرین کے فرسٹ کلاس کمپارٹمنٹ میں داخل ہوتے ہیں ۔ اس کمپارٹمنٹ میں ایک جوڑا اپنی اندھی بچّی کے ساتھ موجود ہے ۔ ہم چھپے کیمرے سے ان کی حرکتیں قید کریں گے۔ سر ! واضح رہے کہ ہم کیمرے کو ایسے اینگل سے رکھیں گے کہ بچّی کے ماں باپ کی صرف ٹانگیں ہی دکھیں ، چہرے نہیں … اچانک ہم دیکھتے ہیں ۔ وہ شخص جو بچّی کا باپ معلوم ہوتا ہے وہ بچّی کو اٹھاکر دروازے سے باہر پھینک دیتا ہے ۔ ٹرین اس وقت ایک پُل سے گزرہی ہے ۔ ان لوگوں کا ارادہ شاید بچّی کو ندی میں پھینکنے کا ہوتا ہے۔ لیکن بچّی پُل ایک کھمبے سے ٹکراکر پُل کے اندر ہی گرجاتی ہے ۔
پُل پار کرتے ہی ایک چھوٹے اسٹیشن پر ٹرین رکتی ہے… اس سے پہلے کہ ہم ان کو پکڑیں وہ پستول کی نوک پر ہماری پہنچ سے دور ہوجاتے ہیں ۔ کیمرہ مین دوڑ کر اُس مقام پر پہنچتا ہے، جہاں بچّی کو پھینکا گیا ہے ، بچّی مر چکی ہے … سر! ہم یہاں سے لائیو ( Live) ٹیلی کاسٹ کریں گے اور سر بریکنگ نیوز میں بچّی کا کلوز اپ لیا جائے گا۔ تب ہم فخر سے کہیں گے یہ نیوز صرف ہمارے پاس ہے کسی دوسرے چینل کے پاس نہیں ‘‘
ٹوٹے گملے کا پودا، یہ ایک نفسیاتی افسانہ ہے اس کہانی کی مرکزی کردار حنا ہے جو کہ غیرشادی شدہ ہے اس کے دو بھائی ہیں ، اس کے اباوجداد کسی زمانے میں رئیس ہوا کرتے تھے لیکن اب حنا کے بھائی تنگ دستی میں زندگی گزار رہیں ہیں حنا کے گھر میں ایک خراب نل ہے جسے وہ نہانے کے وقت چپّل مارتی ہے۔ یہ اس کا معمول بن چکا ہے لیکن جب اسے یہ گھر چھوڑنا پڑتا ہے تو وہ آخری بار نل کو مارنے کے لیے چپل اٹھاتی ہے مگر چپل اس کے ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے وہ نل کو پکڑ کر رونے لگتی ہے۔کہانی کی مرکزی کردار حنا کا یہ نفسیاتی پہلو دیکھیں:
اب تو نہانے سے پہلے جب تک وہ نل کو پیٹ نہیں لیتی، اسے چین ہی نہیںملتا۔ کبھی کبھی وہ سوچتی ، وہ ایساکیوں کرتی ہے؟ کیاوہ پاگل ہوتی جارہی ہے؟ کیوں پاگل ہوتی جارہی ہے؟
فکر اسے تب زیادہ ہوئی جب اس کی بے تکلف سہیلیاں اس سے اپنی شادی شدہ زندگی کی رازدارانہ باتیں کرتیںتواس کی آنکھوں کے سامنے نل ہی گھومتارہتا۔ پھراسے گھبراہٹ ہونے لگتی اوراسے کسی مفکر کایہ قول یاد آتا۔۔۔۔۔’’دنیاکاہرانسان ایک ایسی زندگی ضرورجیتاہے، جس کاذکر وہ کسی سے نہیں کرتا‘‘۔ تب وہ سوچتی ، توکیاہرکنواری لڑکی چپل سے نل کوپیٹتی ہے؟
ٹی۔او۔ڈی یہ کہانی ایک احمق بادشاہ کی ہے جو اپنی ریایا پر خواب دیکھنے کا محصول لگاتا ہے اس کو عملی جامہ دینے کے لئے وہ خواب و خیال کا ایک محکمہ تشکیل دیتا ہے جسے یہ کام سونپا جاتا ہے کہ ملک کے ایک انسان کا آپریشن کر کے ایک چھوٹی سی چپ نصب کی جائے جس کی مدد سے کون کون فرد خواب دیکھتے ہیں ان سے محصول لیا جائے اس ملک کا انجام پڑھنے کے لائق ہے ۔انجام ملاحظہ فرمائیں:
’’ کئی لوگوں پر تو اس بات کا ہی ٹیکس لگا دیا گیا کہ وہ خواب دیکھنے کا خواب دیکھ رہے تھے۔۔۔۔ تو پھر دوستوں ! چندسالوں میں ہی صورتِ حال کچھ اس طرح ہو گئی کہ امیر اور اعلی طبقے کے لوگ غیر ممالک میں جا بسے ۔ متوسط طبقے کے لوگوں نے بڑی تعداد میں خود کشی کر لی۔بے شمار لوگ حکومت سے بغاوت کرنے ، فسادات اور بھوک سے مارے گئے۔
ایک سروے کے مطابق کل ۳۳ فیصد آبادی باقی رہ گئی تھی جس نے بنا خوابوں کے جینا سیکھ لیا تھا ۔یہ وہ لوگ تھے جو ایک مشین میں تبدیل ہو چکے تھے ، ان میں انسانی احساسات و جذبات ختم ہو چکے تھے ۔یہ لوگ سانس لیتے تھے ، مشین کی طرح کام کرتے تھے ، مشین میں ڈالے جانے والے تیل ،پیٹرول کی طرح کھانا کھاتے تھے اور جس طرح مشینوں کی کبھی کبھی صفائی ہوتی ہے ، اس انداز میں سیکس کرتے تھے ۔کچھ دیر بستر پر آرام کے لئے ایسے جاتے تھے جیسے مشین چلتے چلتے گرم ہو جاتی ہے تو اس کو ٹھنڈا کرنے کے لئے معمولی وقت کے لئے بند کر دیا جاتا ہے۔ترقّی تنزلّی ، عزّت ، ذلّت ، اچھّائی برائی ان کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔ تمام طرح کی جمالیاتی حس سے وہ ناواقف ہوچکے تھے۔‘‘
اگر افسانچوں کی بات کریں تو ‘کپڑوں میں پیشاب کرنے والے’ یہ ایک شاہکار افسانچہ ہے مرکزی کردار پرائیوٹ اسکول ٹیچر ہے جسے پرنسپل صرف اسے اس بنا پر نکال دیتا ہے کہ وہ کالج کے ملازمین سے خوش اخلاقی سے پیش آتا ہے۔
ذاکر فیضی کی دوسو پچاس روپے کی یہ کتاب مطالعہ کے لائق ہے بہترین کہانیاں لکھنے کے لیے ذاکر فیضی کو بہت مبارک باد۔ امید ہے قارئین یہ کتاب پسند فرمائیں گے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

