زبان کا تعلق تقریر و تحریر یعنی بولنے اور لکھنے سے ہے۔ مادری زبان میں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے زبان آپ کے لیے کوئی مسئلہ نہیں بنتی ہے۔ آپ بہت آسانی سے تقریر و تحریر کے ذریعہ اپنے دل کی بات کہہ لے جاتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ مادری زبان کے تمام الفاظ، محاورات، کہاوتوں اور اظہار و بیان کے سارے اصول و ضوابط پر آپ کو عبور حاصل ہوتا ہے۔ بہت ساری کمیوں کے باوجود بھی آپ بہت اعتماد کے ساتھ مادری زبان میں اپنی بات رکھ لیتے ہیں۔
مادری زبان کے علاوہ مختلف مقاصد کے تحت آپ نئی زبان بھی سیکھتے ہیں۔ سیکھنے کے عمل میں آپ زبان کے الفاظ و محاورے اور استعارات و تشبیہات یاد کرتے ہیں۔ نئی زبان میں استعداد پیدا کرنے کے لیے اسے خوب پڑھتے اور سنتے ہیں۔ آپ کی محنت رنگ لاتی ہے اور اس کی اچھی سمجھ بوجھ پیدا ہو جاتی ہے۔ نئی زبان سیکھتے ہوئے بہت جلد ایک مرحلہ ایسا آتا ہے جب آپ کو لگنے لگتا ہے کہ اس زبان میں آپ آسانی سے بات کر سکتے ہیں۔ آپ اپنے من میں جملے بھی بنا لیتے ہیں۔ لیکن جب آپ کسی کے سامنے کچھ بولتے ہیں تو چند جملوں کے بعد آپ کی زبان لڑکھڑانے لگتی ہے۔ الفاظ آپ کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ سے گرامر کی غلطیاں ہونے لگتی ہیں۔ پھر آپ کی زبان پر تالا لگ جاتا ہے اور آپ خاموش ہو جاتے ہیں۔
نئی زبان کے ابتدائی طالب علموں کے ساتھ اکثر یہ ہوتا ہے کہ وہ دوران گفتگو اٹک جاتے ہیں۔ کیا اس کی وجہ الفاظ کی کمی ہوتی ہے؟ کیا گرامر کی عدم جانکاری زبان کو Block کر دیتی ہے؟ ظاہر ہے اس کا جواب نفی میں ہو گا۔ نئی زبان بولتے ہوئے درمیان میں رک جانا در اصل یہ بتاتا ہے کہ آپ گھبراہٹ اور تناؤ کے شکار ہیں۔ لفظ اگر رکاوٹ ہوتا تو یہ مسئلہ مادری زبان کے ساتھ بھی ہوتا۔ کیونکہ مادری زبان میں آپ اکثر و بیشتر نا موزوں الفاظ کے ذریعہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ آپ کسی شئے کا نام نہیں جانتے تو اسے مختلف طریقے سے سمجھاتے ہیں۔ ایک لفظ کے بدلے مختلف الفاظ اور جملے میں اپنی بات کہتے ہیں اور اپنے مخاطب کو اپنی بات سمجھا دیتے ہیں۔ آپ مادری زبان میں مخصوص لفظ کے بھولنے یا اس کا علم نہیں ہونے پر تناؤ میں نہیں آتے اور نہ ہی اس پر شرم و عار محسوس کرتے ہیں۔ آپ بھولے ہوئے لفظ کے معنی سے قریب تر الفاظ استعمال کرتے ہیں اور اپنی بات جاری رکھتے ہیں۔ مادری زبان کی طرح اجنبی زبان میں بھی آپ بعض دفعہ لفظ بھول جاتے ہیں۔ یہاں لفظ بھولتے ہی آپ تناؤ میں آ جاتے ہیں اور شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ تناؤ اور گھبراہٹ کی وجہ سے بھولے ہوئے لفظ کی جگہ پر متبادل یا اس کے معنی سے قریب تر الفاظ کی تلاش میں آپ ناکام ہو جاتے ہیں۔ گھبراہٹ، تناؤ اور شرمندگی آپ کی زبان پر تالا لگا دیتی ہے۔ آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے پاس الفاظ کی کمی ہے لیکن در اصل آپ کی گھبراہٹ آپ کی زبان کو جکڑ دیتی ہے۔ گھبراہٹ اور تناؤ میں انسان مادری زبان میں ٹھیک سے گفتگو نہیں کر پاتا تو غیر مادری زبان میں بھلا کیسے کر پائے گا؟
اگر آپ نئی زبان سیکھ رہے ہیں یا سیکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ بات ذہن میں بٹھا لیں کہ آپ کسی زبان کے تمام الفاظ یاد نہیں کر سکتے۔ لفظوں کا ذخیرہ جمع کرنا اچھی بات ہے۔ آپ الفاظ کے دھنی ہیں تو بات کے بھی دھنی ہو سکتے ہیں۔ لیکن بھولنا انسان کی فطرت ہے۔ لفظوں کا خزانہ رکھنے کے باوجود بھی بہت ممکن ہے کہ دوران گفتگو آپ کوئی لفظ بھول جائیں۔ اس لیے بولنے کے لیے لفظ کے ساتھ اظہار کے مختلف طریقوں کے بارے میں جاننا اور ان پر غور و فکر کرنا بے حد ضروری ہے۔
نئی زبان میں بات کرتے ہوئے اس کے ساتھ مادری زبان والا رویہ اختیار کریں۔ ایک لفظ بھول جائیں تو اس کا متبادل لفظ تلاش کریں۔ متبادل لفظ نہ ملے تو ہاتھ کے اشارے اور چہرے کے ایکسپریشن سے خیالات کی ترسیل کرنے کی کوشش کریں۔ غیر مادری زبان بولتے ہوئے لفظ بھولنے پر جب آپ بے چین ہونے لگیں اور لگنے لگے کہ آپ پھنس رہے ہیں تو خود کو یہ یاد دلائیں کہ مادری زبان میں جب اس طرح کی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو آپ مختلف طریقے سے اپنے خیالات کی وضاحت کرتے ہیں۔ یہ اعتماد اور یقین دوسری زبان کے ساتھ بھی روا رکھیں۔ اجنبی زبان میں بھی مختلف طریقے سے اپنی بات سمجھانے کی کوشش کریں۔ ایک لفظ کی کمی محسوس کریں تو اس کی جگہ پر دوسرے الفاظ استعمال کریں۔ اس مشق سے آپ اجنبی زبان بھی آسانی اور فطری طریقے سے بول پائیں گے۔
نئی زبان سیکھنے کے دوران آپ اکثر پہلے مادری زبان میں سوچتے ہیں اور پھر اپنے ذہن میں ترجمہ کر کے اسے بولتے ہیں۔ یہ ایک بڑی غلطی ہے، لیکن آپ اکثر ایسا کرتے ہیں۔ آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ دو مختلف زبانیں ایک ہی ساختیاتی نظام کے تحت نہیں بولی جا سکتی ہیں۔ ہر زبان میں اس کے اسماء و صفات اور افعال و ضمائر ایک ہی طرح سے استعمال نہیں ہوتے۔ آپ ابتدائی مراحل میں ترجمہ کریں گے تو لازمی طور پر غلط ترجمہ کریں گے۔ اس طرح آپ ایک زبان تو بولیں گے لیکن غلط طرز پر بولیں گے۔ اس عمل سے آپ زبان کے لسانیاتی آہنگ سے مدتوں بے بہرہ رہیں گے۔ ترجمہ کرنے سے بہتر ہے کہ آپ جو زبان سیکھ رہے ہیں اسی میں سوچیں۔ آپ زبان کی ادا کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اس بات پر توجہ مرکوز کریں کہ مذکورہ زبان میں جملے کیسے بنتے ہیں۔ شروعاتی دور میں آپ طویل جملہ بنانے سے گریز کریں اور جلدی جلدی بولنے کی کوشش نہ کریں۔ اپنے خیالات کے بہاؤ پر قابو رکھیں اور انہیں چھوٹے چھوٹے جملوں میں توڑ کر پیش کریں۔ نئی زبان میں بڑا جملہ بنانے میں آپ گرامر کی غلطیاں کر سکتے ہیں۔ مختصر جملے کی تشکیل پر محنت کر کے اپنے خیال کے ساتھ نئی زبان میں تیزی پیدا کریں۔ زبان جب خیال کی رفتار کے ساتھ چلنے لگے تب آپ طویل جملے بنائیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ نئی زبان سیکھنے کے مرحلے میں آپ اس خیال کو ذہن سے نکال دیں کہ دوسرے لوگ آپ کی غلطیوں پر کیا کہیں گے؟ آپ کو لگتا ہے کہ دوسرے لوگ آپ کی غلطی پر ہنسیں گے۔ یہ سوچ آپ کے دل میں گھبراہٹ اور جھجھک پیدا کرتی ہے۔ جہاں تک غلطی کرنے کا سوال ہے تو آپ یہ بات یاد رکھیں کہ کوئی بھی انسان سو فیصد خود اپنی مادری زبان درست نہیں بولتا۔ آپ تو پھر بھی ایک نئی زبان بول رہے ہیں۔ آپ کی غلطی بہت فطری ہے اور ایک طرح سے ضروری بھی۔ نئی زبان بولتے ہوئے گھبراہٹ اور تناؤ پیدا کرنے والی ہر شئے کو نظر انداز کر دیں اور بنا کسی خوف کے بولیں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

