Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
روبرو (انٹرویو)

حقانی القاسمی سے انٹرویو – ڈاکٹر غلام نبی کمار

by adbimiras فروری 1, 2022
by adbimiras فروری 1, 2022 0 comment

حقانی القاسمی صاحب’’مشاہیر ادب سے مکالمہ‘‘ میں آپ کا خیر مقدم کیا جاتا ہے۔ حقانی صاحب مجھے اس بات کا بڑا فخر ہے کہ ادب میں آپ نے اپنی صلاحیت کی بنیاد پربہت کم وقت میںنام اور مقام دونوں کو حاصل کیا ہے۔آپ نے تنقید اور ادبی صحافت میں ناقابل فراموش خدمات انجام دی ہیں۔آپ کی الگ الگ موضوعات پر متعدد تصانیف شائع ہوکر داد و تحسین پا چکی ہیں۔اس کے علاوہ ’’استعارہ‘‘،  ’بزمِ سہارا‘‘،’’اندازِ بیاں‘‘اور ادب’’اردو دنیا‘‘ کا نام آپ کے ساتھ خاص طور پر جوڑا جاتا ہے۔آپ ادب کے ریگزار میں خوب غوط زن ہوئے ہیں بلکہ آپ نے اپنی پوری عمر عزیز زبان و ادب کی آبیاری ہی کے لیے وقف کر رکھی ہے اور تاحال اسی کام میں منہمک نظر آتے ہیں۔آپ سے اس سے قبل بھی انٹرویو لیے جا چکے ہوں گے لیکن یہ انٹرویو میرے خیال سے ان میںسے ان شائ اللہ بہت اہم ثابت ہوگا۔کیوں کہ اس کے قارئین آئندہ کی نسل ہے اور ہم سب بہ خوبی جانتے ہیں کہ آج کی نسل آپ کی شخصیت اور ادبی وتنقیدی خدمات سے کس حد تک آگاہ ہیں۔اس کڑی میں آپ سے گفتگو کا یہ موقع میرے لیے یادگار ثابت ہوگا مجھے اس کی پوری امید ہے۔آئیے پہلے چند رسمی سوالات سے گفتگو شروع کرتے ہیں اور اس کے بعد آپ کے ادبی کارناموں اور موجودہ ادبی منظرنامے کے حوالے سے بھی بھرپور گفتگو کی جائے گی:

غلام نبی کمار:       حقانی القاسمی صاحب سب سے پہلے اپنا خاندانی پس منظر اور پیدائش و پرداخت کے حوالے سے بتائیں۔

حقانی القاسمی:      سیمانچل کا ایک شہر ارریا ہے وہیں ایک چھوٹا سا گائوں ہے جس کا نام بگڈھرا ہے۔ یہیں 15؍جولائی1970کومیں پیدا ہوا۔

میرا یہ گائوں تعلیمی اعتبار سے بہت ترقی یافتہ ہے ۔ سب سے پرانا مڈل اسکول اسی گائوں میں ہے اطراف و اکناف کے لوگوں نے اسی اسکول سے تعلیم حاصل کی ۔ میرا یہ گائوں اسٹیٹ کہلاتا تھا۔اس گائوں کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے اکثر گھروں میں میٹرک اور گریجویٹ ہیںاور بہت سے افراد تدریسی پیشے سے بھی وابستہ ہیں۔ کئی تو ہیڈ ماسٹر بھی رہ چکے ہیں۔ میرے ہی گائوں کے ماسٹر منصور صاحب تھے جو ڈہٹی اسکول ارریامیں ہیڈ ماسٹر تھے ۔ ماسٹر مسلم تھے جو پلاسی ہائی اسکول میں انگریزی کے استاد تھے۔ ارریا کے مشہور تعلیمی ادارہ آزاد اکیڈمی میں میرے گائوں کے ماسٹر قمر مسعود انگریزی کے استاد تھے اور وہ ایک اچھے صاحب قلم بھی ہیںجنھوں نے ’اوراقِ زندگی‘ کے عنوان سے اپنی خودنوشت بھی لکھی ہے اور اپنے گائوں بگڈھرا کی تاریخ کے ساتھ ساتھ اپنی بہت سی یادوں کو قارئین سے شیئر کیا ہے۔ ماسٹر سوتی لال کا شمار بھی اچھے استادوں میں ہوتاہے۔وہ اب پلاسی میں رہتے ہیں مگر اپنے گائوں سے رشتہ برقرار ہے۔ میرے گائوں کی خاص بات یہ رہی کہ یہاں اسکولی تعلیم کا رواج زیادہ تھا ۔ اس لیے یہاں مفتی اور مولوی سے زیادہ تعداد ماسٹروں کی ہے ۔ بہت کم لوگ ایسے ہیں جنھیں ان پڑھ کہا جا سکے۔

میرا تعلق ایک متوسط خاندان سے ہے۔ میرے پردادا باقر علی کے پاس زمین جائداد تو تھی لیکن جب میں نے آنکھیں کھولیں توجائداد وغیرہ ختم ہو چکی تھی برائے نام کچھ زمینیں بچی تھیں ۔ میرے دادا حکیم محمد خلیل الرحمن تھے جنھوں نے مختلف اسکولوں میں تدریسی فرائض انجام دیے اور بعد میں طبابت کا پیشہ اختیار کیا۔ ان کے لکھے ہوئے بہت سے نسخے ابھی بھی موجود ہیں۔ ان کی تحریر بڑی خوب صورت تھی۔ کوئی بڑی ڈگری نہیں تھی مگر فارسی، انگریزی اور اردو تینوں زبانوں سے اچھی واقفیت تھی۔ میرے والد جناب عبد الصمد نے صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کی تھی۔ شروع میں ادھر اُدھر مدرسی کی اور بعد میں سرکاری ملازمت سے وابستہ ہو گئے۔ تنخواہ زیادہ نہ تھی مگر سکون اور اطمینان سے زندگی بسر کی ۔ تنگ دستی کے باوجود اپنے تمام بچے اور بچیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی ۔ میں اپنے گائوں کا پہلا علی گیرین اور پہلا فاضلِ دیوبند ہوں ۔ میرے بڑے بھائی ڈاکٹر عبد الرب بھی فلاحی اور علیگ ہیں ۔ میرے دوچھوٹے بھائی عبد الرحمٰن اور عبد الرحیم اور چھوٹی بہن مریم فاطمہ بھی جامعۃ الفلاح بلریا گنج  اعظم گڑھ سے فارغ ہیں۔ بڑے بھیا عبد الاحد نے مطلع العلوم ، کمن گڈھا، بنارس سے تعلیم حاصل کی اور وہیں انھوں نے کتابت بھی سیکھی ۔ میری ایک بہن بی بی کلثوم نے بھی واجبی تعلیم حاصل کی ۔ میری ماں بی بی شمس النسا یتیم تھیں ۔ بچپن ہی میں ان کے والدین فوت ہو گئے تھے ۔ دوسری کلاس میں تھیں کہ ان کی شادی ہو گئی ۔

غلام نبی کمار:       آپ نے کہاں تک کس ماحول میں اور کن کن تعلیمی اداروں سے اپنے علم کی پیاس بجھائی ہے؟

حقانی القاسمی:      میں نے اپنی ابتدائی تعلیم گائوں کے مدرسہ اور سرکاری مڈل اسکول میں حاصل کی۔ علیٰ الصباح مدرسہ اور دس بجے اسکول جاتا۔ میں حساب میں کمزور تھا، سو (100) میں صرف دس نمبر حاصل ہوئے تھے۔ اس لیے میں حساب سے ہمیشہ بھاگتارہا اور آج بھی بھاگ رہا ہوں۔ والد صاحب کی ملازمت کی وجہ سے مختلف علاقوں کے مدارس و مکاتب میں تعلیم کا سلسلہ جاری رہا ۔ چھوٹے چھوٹے مدرسوںمیں بھی مختصر وقفے کے لیے رہنا پڑا مجھے یاد آتا ہے کہ میں نے موہنیا، پلاسی کے مدرسے میں بھی پڑھا اور جب ابو نیپال سے متصل جوگبنی میں تھے تو میں نے وہاں  کے بھی کسی مدرسے میں جس کا نام شاید محمودیہ تھا کچھ دنوں پڑھا تھا اور پھر جامعہ اسلامیہ ڈہٹی سے وسطانیہ چہارم تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز ی، ہندی ، فارسی ، عربی ، سائنس ، جغرافیہ اور ریاضی میں نے وہیں پڑھی ۔یہاں میرے اساتذہ میں مولانا محمد طیب عربی اور ماسٹر قمر الدین انگریزی پڑھا تے تھے ، مولانا انوار الحق فارسی کے استاد تھے ماسٹر محمد سعید اردو پڑھاتے تھے ، ماسٹر حسنین ہندی اور حساب پڑھاتے تھے ۔ اس مدرسے میں بڑی اچھی تعلیم ہوتی تھی ۔ یہاں کے بعد بہار سے باہر نکلا تو بنارس آکر پناہ ملی۔ یہیں کے مدرسہ مطلع العلوم کمن گڈھا  میں عربی دوم میں داخلہ ہوا یہاں کے اساتذہ بھی جلیل القدر تھے مولانا نور الحسن ، مولانا طاہر حسین گیاوی ، مولانا غلام مجتبیٰ قاسمی ، مولانا انوار احمد اعظمی اور مولانا ارشد اعظمی وغیرہ سے صرف و نحو ، فقہ وغیرہ کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد جامعہ اسلامیہ ریوڑی تالاب بنارس سے چہارم تا ششم پڑھا۔ اس مدرسے میں بھی بہت قابل اساتذہ تھے۔ بنارس کے بعد دیوبند دوسری منزل تھی یہاں سے فضیلت اور تکمیل ادب عربی کا کورس مکمل کیااس کے بعد مدرسے کے ماحول سے نکل کر اسکول ، کالج کی آزاد فضا میںسانس لینے کا خیال آیا تو مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ میں داخلہ لے لیا جہاں سے عربی میں ایم۔ اے اور ایم فل کی ڈگریاں لیں۔ ایم ۔اے میں امتیازی نمبرات سے کامیابی ملی مجھے اپنے کلاس میں پہلی پوزیشن ملی پھر بعد میں پتا چلا کہ فیکلٹی آف آرٹس میں میرے سب سے زیادہ نمبر ہیں۔ اس کے بعد یہ پتا چلا کہ یونیورسٹی کی تمام فیکلٹیز میں میرے سب سے زیادہ نمبرات ہیں ۔صرف ایک افغانی لڑکا جس کے نمبرات مجھے سے زیادہ تھے۔  اس زمانے میں یونی ورسٹیز کے ٹاپرس کو یوم جمہوریہ کی تقریب میں بطور خاص بلایا جاتا تھا تو اس سال قرعہ فال میرے نام نکلا میں یوم جمہوریہ کی تقریب میں شریک ہوا اور پہلی بار اس وقت کے وزیر اعظم انجہانی راجیوگاندھی کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ان کے چہرے پر بڑی معصومیت تھی وہیں اٹل بہاری باجپئی جی کو بھی دیکھا وزارت تعلیم کی طرف سے ہم لوگوں کی نگرانی کے لیے جو آفیسر مامور تھے تو انھوں نے اٹل بہاری باجپئی جی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیوچر کے پردھان منتری ہیں اور ان کی بات سچ ثابت ہوئی۔ علی گڑھ میں ٹاپ کرنے کی وجہ سے اساتذہ اور طلبا میں میری قدر و قیمت بڑھی اسی زمانے میں میں نے جی آر ایف اور نیٹ کا مقابلا جاتی امتحان بھی پاس کر لیا تھا ۔ اورینٹل اسٹریم کا شاید میں پہلا فرد تھا جس نے یہ ٹیسٹ کوالیفائی کیا تھا۔ ویسے مدرسے کے زیادہ تر طلبا بی۔ اے میں داخلہ لیتے تھے اس لیے جنرل اسٹڈیز ان کے لیے مشکل نہیں تھا مگر میں نے ڈائرکٹ ایم۔ اے میں داخلہ لیا تھا اور بہت سے موضوعات میرے لیے نامانوس تھے ٹیسٹ آف ریزنگ تو میرے لیے ایک دردِ سر تھا پھر بھی فضل ربی سے کل ہند سطح پر عربی زبان میں جو چار طلبا کامیاب ہوئے تھے ان میں ایک نام میرا بھی تھا ۔اسکالر شپ ملنے کی وجہ سے ریسرچ کی راہ آسان ہو گئی ۔ میں نے علی گڑھ سے ہی فلسطین کے چار ممتاز شعرا پر ایم فل کیا اور فلسطینی کہانیوں پر میری ایچ ڈی تھی یہ بھی تقریباً مکمل تھی مگر شورشِ دوراں نے جمع کرنے کی مہلت نہ دی ۔ غمِ روزگار نے دہلی میں صحافت سے جوڑ دیا ۔ یہ میری زندگی کی سب سے بڑی حماقت تھی ۔ صحافت کی ملازمت نے میرے سارے رشتے ناطے چھین لیے۔ ساری آرزوئیں سلب کر لیں، میں پانی پہ خواب لکھتا رہا اور بچپن کے سارے خواب چکنا چور ہوتے چلے گئے۔ میرے بیشتر احباب آج بڑے عہدوں اور مناسب پر ہیں مگر میں آج بھی در ، در کی خاک چھان رہا ہوں۔

غلام نبی کمار :       حقانی صاحب آپ کی تعلیم مدرسے میں ہوئی ہے اس لیے اس بات کا ذکر مناسب ہے ۔ مدرسے سے باہر کی تعلیم میں آپ کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟

حقانی القاسمی:      میری تعلیم کا آغاز ہی اسکول سے ہوا اور انتہا بھی اسکول کے توسیعی سلسلہ یونی ورسٹی پر ہوا یعنی مبتدا اور خبر میں بہت حد تک مماثلت ہے ۔ مدرسے اور اسکول کی فضا میں زیادہ فرق اس لیے محسوس نہیں کیا کہ میں نے جس مدرسے سے تعلیم حاصل کی وہاں کا نصاب اسکول سے مختلف نہیں تھا بلکہ کچھ سبجیکٹس اسکول سے زیادہ ہی تھے۔ میرے خیال میں بہار کے شمس الہدیٰ بورڈ سے ملحقہ مدارس کا نصاب تعلیم بہت جامع اور مکمل ہے ۔ وہ اسکول اور مدرسے کی تفریق کو مکمل طور پر ختم کر دیتاہے ۔ آج مدارس میں ایسے ہی نظام تعلیم کی ضرورت ہے جہاں تمام زبانوں نے ساتھ عصری موضوعات کی بھی تعلیم دی جائے ۔ مجھے کہیں بھی کوئی اجنبیت محسوس نہیں ہوئی میرے لیے اسکول اور مدرسہ دونوںیکساں ثابت ہوئے ۔ بلکہ مدرسے میں مجھے زیادہ ترتیب اور تنظیم نظر آئی جو مطالعاتی مرکوزیت مدارس میں ہے وہ اسکولوں اور کالجوں میں کم دیکھنے کو ملتی ہے۔

غلام نبی کمار:       مدرسے کے کن اساتذہ او رعلما و فضلا سے مستفیض ہوئے ہیں چند نام بتائیں؟

حقانی القاسمی:      میرے مدرسے کے سارے اساتذہ جلیل القدر اور معروف شخصیات ہیں۔ ان سے علمی دنیا اچھی طرح واقف ہے ۔ میرے ابتدائی اساتذہ میں مولانا محمد طیب تھے جن کا تعلق دربھنگہ سے تھا ۔ میرے ایک استاد مولانا طاہر حسین گیاوی مناظر اسلام کی حیثیت سے پورے ہندوستان میں مشہور ہیں۔مفتی ابوالقاسم نعمانی جو اس وقت دارالعلوم دیوبند کے مہتمم ہیں جامعہ اسلامیہ بنارس میں میرے استاد تھے اور مجھ سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ ان کا اندازِ تدریس بہت عمدہ تھا۔ وہیںمولانا نظام الدین اسیر ادروی بھی تھے۔ صاحب طرز ادیب اور پختہ قلم کار جنھوں نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ متبنی کی شرح بھی لکھی اور جمعیت علمائ ہند کی تاریخ بھی ۔ ان کی تحریر میں جو سلاست و روانی ہے وہ قابل رشک ہے۔ اردو کے ممتاز ناقد و محقق پروفیسر ظفر احمد صدیقی بھی جامعہ اسلامیہ ریوڑی تالاب، بنارس میں میرے استاد تھے ۔ ان سے میں نے تفسیر بیضاوی اور متن الکافی پڑھی ہے ۔ وہ اس وقت بنارس ہندو یونی ورسٹی میں استاد تھے اور بعد میں مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ میں اردو کے پروفیسر ہوئے۔ جامعہ اسلامیہ ہی میں میرے استاد مولانا افتخار احمد اعظمی ، مولانا توقیر احمد جونپوری اور مولانا عزیر احمد اعظمی بھی تھے۔  دیوبند کے اساتذہ میں شیخ الحدیث مولانا نصیر احمد خان ، مفتی سعید احمد پالن پوری، مولانا معراج الحق ، ملا بہاری، مولانا نعمت اللہ اعظمی، مولانا عبدالحق اعظمی،مولانا ارشد مدنی، مولانا نور عالم خلیل امینی، مولانا عبد الخالق مدراسی، مولانا ریاست علی ظفر بجنوری قابل ذکر ہیںاور یہ وہ اساتذہ ہیں جو علمی اور دینی حلقوں میں بہت عزت و احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔ مجھے ان اساتذہ کی محبتیں اور شفقتیں حاصل رہیں ۔ ان اساتذہ سے اگر تعلیم نہ ملتی تو شاید میرے لیے زندگی بے معنی اور بے کیف ہو جاتی۔ ان کی تعلیم و تربیت کا اثر ہے کہ کچھ لوگ مجھے بھی علمی اور ادبی حلقے میں جانتے اور پہچانتے ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ احسان مند ہوں اپنے گائوں کے مدرسے کے منشی فاروق ، مولوی سراج الدین اور اسکول کے ماسٹر پنو منشی کا جن سے میں نے الف، بے ،تے اور دارا داور روزی کتابیں پڑھی اور اس کتاب کا ایک کردار پھول کماری ابھی تک میرے ذہن میں زندہ ہے۔ ابتدائی درجات کے اساتذہ میرے لیے بہت محترم ہیں اور میرے لیے وہی خشت اول کی حیثیت رکھتے ہیں کہ ان ہی کی تدریس سے میری تعلیمی دیوار کج ہونے سے محفوظ رہی ۔

غلام نبی کمار:       کیا آپ کے خاندان میں کوئی ایسی علمی و ادبی شخصیت گزری ہے جن سے آپ متاثر ہوئے ہوں؟

حقانی القاسمی:      خاندان میں باضابطہ کوئی علمی ادبی شخصیت تو نہیں ہے مگر ہمارے خاندان میں علم و ادب کا بڑا اچھا ذوق رہا ہے۔ میرے دادا کے پاس طبی کتابوں کا اچھا ذخیرہ تھا۔ بیاضِ کبیر پہلی بار میں نے اپنے گھر ہی میں دیکھی۔ والد محترم کو مطالعہ کا بہت شوق ہے۔ انھوں نے اپنے گاؤں میں ایک لائبریری بھی قائم کی تھی۔ میرے گھر میں کتابوں کا بہت عمدہ ذخیرہ ہے۔ پرانے زمانے کے بہت سے رسائل کی فائلیں میرے گھر میں محفوظ ہیں۔ رسالہ مولوی، منادی، بیسویں صدی اور شمع کے بہت سے شمارے میرے گھر میں ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سی اہم کتابیں بھی ہیں۔ والد صاحب اکثر رسائل و جرائد منگوایا کرتے تھے اور انھیں پڑھنے سے بہت زیادہ دلچسپی ہے ۔ آج جب کہ ان کی عمر 80 سے متجاوز ہے مگر عینک لگائے بغیر کتابوں کے مطالعے میں مصروف رہتے ہیں۔ میں نے انگریزی، اردو اور حساب کی تعلیم اپنے والد سے ہی حاصل کی ہے۔ انھوں نے کوئی مضمون تو نہیں لکھا مگر مجھے جو خطوط لکھا کرتے تھے وہ بے حد اہم ہیں۔ اس سے ان کی تحریر کی پختگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

غلام نبی کمار:       دو چار باتیں آپ کی ازدواجی زندگی سے متعلق ہوں تو زیادہ بہتر ہوتا کیوں کہ قارئین یہ جانتے ہیں کہ جب تک ایک انسان گھریلوں زندگی میں جکڑا رہتا ہے تب تک اسے پڑھنے لکھنے میں بھی دشواریاں پیش آتی ہیں۔اس حوالے سے آپ کیاکہنا چاہیں گے؟

حقانی القاسمی:      ازدواجی زندگی پُل صراط کی طرح ہوتی ہے۔ ذرا سے قدم ڈگمگائے تو زندگی اجیرن سی ہو جاتی ہے۔ میاں بیوی کے درمیان ذہنی اور جذباتی ہم آہنگی ہے تو زندگی بخیر و عافیت گزر جاتی ہے اور اگر Mental Compabilityنہ ہو تو بڑی دشواریاں پیش آتی ہیں۔ اکثر مشاہیر ادب کی ازدواجی زندگی ناکام گزری ہے۔ آرتھر ملر، لیوٹالسٹائی، ارنسٹ ہیمنگو، نارمن میلر، ڈی ایچ لارنس کی ازدواجی زندگی اذیتوں میں گزری ہے۔ غالب اور فراق کی ازدواجی زندگی بھی کچھ بہتر نہیں تھی۔ دراصل جس ایموشنل اینٹی میسی کی ضرورت ہوتی ہے اس کی کمی کی وجہ سے یہ حالات پیدا ہوئے اسی لیے انگریزی میں اس تعلق سے The Unwanted Wife اور A Husbands Regretجیسے ناول بھی لکھے گئے ہیں۔ آرتھر ملر کی جب مارلن منرو سے شادی ہوئی تو پانچ سال تک وہ کچھ بھی نہیں لکھ سکا۔ اس طرح کی صورتحال سے بہت سے لوگ گزرتے ہوں گے۔ گھریلو ذمہ داریوں کی وجہ سے رکاوٹیں تو آتی ہیں مگر فیملی کی وجہ سے بہت سی آسانیاں بھی ہیں۔ شادی تناؤ کے ساتھ ساتھ توانائی بھی عطا کرتی ہے۔ شادی کا نظام نہ ہوتا توشاید بہتوں کی زندگی عشق اور آوارگی کی نذر ہو جاتی جس کا حاصل افسوس کے سوا کچھ نہیں ہوتا ہے۔

غلام نبی کمار:       اردو ادب اور صحافت کی دنیا میںآپ کو سبھی لوگ جانتے ہیں کیوں کہ آپ نے محنت اور خداد صلاحیتوں سے پوری دنیا میں اپنا لوہا منوایا ہے ۔ کیا آپ نے زندگی میں کوئی ایسا خواب دیکھا تھا کہ آگے جا کر آپ اتنا نام اور شہرت حاصل کرنے والے ہیں ؟

حقانی القاسمی:      نہ مجھے شہرت کی تمنا رہی اور نہ میں اس کا طلبگار رہا ۔ ادبی دنیا میں جو تھوڑی بہت پہچان ہے وہ بس رب کریم کا فضل و احسان ہے ۔ جس ملک میں غالب ؔ اور گاندھی کو بھی بہت سے لوگ نہ جانتے ہوں وہاں یہ احساس کہ پوری اردودنیا مجھے جانتی ہے یہ محض خام خیالی ہے ۔ میرے تو خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں رہی۔ میں ایسا خواب کیسے دیکھ سکتا ہوں؟ جس کی کوئی تعبیر نہ ہو۔ ویسے لوگ اپنی شہرت کے لیے نہ جانے کیسے کیسے حربے استعمال کرتے ہیں ساری حدوں کو پھلانگ جاتے ہیں ۔ بشیر بدر کا بہت اچھا شعر ہے :

شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے

جس شاخ پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے

مجھے شہرت نہیں محبت چاہیے تھی سو وہ مجھے خوب ملی ۔میں اس باب میں خوش نصیب ہوں کہ مجھے بزرگوں ، دوستوں اور سبھی حلقے کے لوگوں کی شفقتیں اور محبتیں حاصل ہیں۔

غلام نبی کمار:       حقانی صاحب آپ کا شمار اردو تنقید کے معماروں میں ہوتا ہے ۔ یہ آپ کی خاکساری ہے جو آپ اس کی نمائش کرتے نہیں پھرتے۔ کیا تنقید میں آپ کی دلچسپی آغاز ہی سے تھی یا اس جانب بعد میں طبیعت مائل ہوئی ؟

حقانی القاسمی:      غلام نبی کمار صاحب اردو تنقید کا معمار تو دور کی بات ہے سچ پوچھیے تو میں ابھی تنقید کا مبتدی بھی نہیں ہوں۔ میری ٹوٹی پھوٹی تحریریں اگر تنقید ہیں تو یہ آپ جیسے احباب کا حسن ِ نظر ہے ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ تنقید کی اتنی کڑی شرطیں ہیں اور اتنے بلند معیارات ہیں کہ اس کی کسوٹی پر بہت کم لوگ کھرے اترتے ہیں۔ ابن خلدون نے ناقد کی جو شرطیں لکھی ہیں۔ کیا آج کے عہد کے معروف ناقدین بھی وہ شرطیں پوری کرنے پر کامیاب ہیں؟اور یوں بھی اردو میں ناقد بننے کے لیے جن کتابوں کا مرکوز مطالعہ ضروری ہے وہ کتابیں تو میں نے کبھی پڑھی ہی نہیں۔ نہ مجھے تنقید کی شعریات سے آگہی ہے اور نہ ہی میں انتقاد کے اصولوں سے باخبر ہوں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ میںتخلیقی متون نہایت ارتکاز سے پڑھتا ہوں اور انھیں پڑھ کر میرے ذہن میں جو تاثرات ابھرتے ہیں میں رقم کر دیتا ہوں۔ اسے آپ چاہیں تو تنقید کہہ سکتے ہیں مگر حقیقت میں تنقید بہت مشکل آرٹ ہے۔ ہر کوئی ناقد کے منصب پر فائز نہیں ہو سکتا اس کے لیے کچھ ہی ذہن مخصوص ہوتے ہیں ۔

غلام نبی کمار:       تنقیدی اسمبلاژ، ادب کولاژ، طواف دشت جنوں اور بدن کی جمالیات کے علاوہ آپ کی کون کون سی تنقیدی اورتحقیقی کتابیں شائع ہوئی ہیں؟

حقانی القاسمی:     فلسطین کے چار ممتاز شعرا لاتخف، خوشبو روشنی رنگ، شکیل الرحمن کا جمالیاتی وجدان ، رینو کے شہر میں، دارالعلوم دیوبند کا ادبی شناخت نامہ وہ کتابیں ہیں جن  میں میری تنقیدی ، تاثراتی اور تحقیقی مضامین ہیں ، ان کے علاوہ تکلف برطرف میری ایک کتاب ہے جو ہفت روزہ نئی دنیا میں شائع ہونے والے میرے ادبی، سیاسی اور سماجی کالموں کا مجموعہ ہے ۔ ان کے علاوہ میرے اتنے مضامین ہیں کہ چار پانچ کتابیں تیار ہو سکتی ہیں۔ میرے بہت سے اہم مضامین ابھی کتابی صورت میں نہیں آپائے ہیں ۔

غلام نبی کمار :       آپ کی بعض کتابوں کے نام تو بہت دل چسپ ہیں اور بعض کے نام طبیعت پر بھار ی معلوم پڑتے ہیں ۔ مثلا تنقیدی اسمبلاژ آپ اس بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟

حقانی القاسمی:      کتابوں کے نام رکھنے کے معاملے میں میں بہت محتاط ہوں ۔ طرقِ مطروقہ پر چلنا مجھے قطعی پسند نہیں۔ میں بالکل الگ طرح کے نام اس لیے بھی رکھنا چاہتا ہوں کہ آج کل کتابوں کے نام میں بڑی حد تک یکسانیت اور مماثلت ملتی ہے ۔ ایک ہی جیسے درجنوں نام کی کتابیں بازار میں دستیاب ہیں جن سے کتابوں کی اپنی الگ پہچان قائم نہیں ہو پاتی۔ ناموں کے انبوہ میں گم ہو جاتی ہیں۔ اس باب میں میرا رویہ شکیب جلالی کے اس شعر جیسا ہے:

شکیب اپنے تعارف کے لیے یہ بات کافی ہے

ہم اس سے بچ کے چلتے ہی جو رستہ عام ہو جائے

تنقیدی اسمبلاژ میری بہت گہری فکر کا نتیجہ ہے ۔ بہت سوچنے کے بعد جب مجھے کوئی نام نہ ملا تو میں نے اردو اور انگریزی کے امتزاج کا یہ تجربہ کیا اور خوشی کی بات یہ ہے کہ اس کتاب کے مضامین پر گفتگو ہو یا نہ ہو لیکن نام کے بارے میں اکثر لوگ پوچھتے رہتے ہیں۔ اس نام کا Uniqeness ہی ہے کہ لوگوں کے ذہن میں تجسس بنا رہتا ہے۔ تخلیق و تنقید میں اگر تحیر اور تجسس نہ ہو تو کم از کم نام میں تو ہونا ہی چا ہیے۔

غلام نبی کمار :       حقانی صاحب جمالیات کے موضوع سے آپ کی گہری دل چسپی ہے ۔ مثلاً بدن کی جمالیات اور شکیل الرحمن کا جمالیاتی وجدان جیسی کتابیں میری بات کی تصدیق کرتی ہیں ۔ ادب میں جمالیات کے موضوع پر تھوڑی بہت روشنی ڈالیں؟

حقانی القاسمی:      یہ سچ ہے کہ جمالیات سے میرا بہت گہرا ذہنی لگائو ہے اور اس موضوع پر میں نے خاصا مطالعہ بھی کیا ہے اور اسی مطالعہ کی روشنی میں کچھ مضامین لکھے ہیں جو بعد میں کتابی شکل اختیار کر گئے ۔ دراصل ادب میں جمالیات کا تصور بہت پرانا ہے خاص طور پر سنسکرت میں جمالیات کا ایک مربوط تصور ہے ۔انگریزی میں بھی جمالیات پر بہت سی کتابیں ہیں۔اردو میں جمالیات پر کام کا سلسلہ بہت بعد میں شروع ہوا مگر پہلے ہی سے اردو ادب میں جمالیات کا تصور موجود رہا ہے چاہے وہ مستعار و ماخوذ ہی کیوں نہ ہو اور یوں بھی ادب اور جمالیات کا بہت گہرا رشتہ ہے۔ میرے خیال میں جمالیات کے بغیر ادب کی تشکیل و تکمیل ممکن ہی نہیں ہے جس ادب میں جمالیاتی عناصر ہوتے ہیں وہ قاری کے ذہن پر زیادہ اچھا اثر ڈالتے ہیں۔ اردو میں اب جمالیاتی تنقید پر کام ہو رہا ہے اور کئی شعبوں میں جمالیات کا الگ سے چیئر قائم ہے خاص طور پر علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ میں جمالیات کا ایک چیئر ہے پروفیسر ثریا حسین نے جمالیاتِ شرق و غرب کے عنوان سے اچھا کام کیا ہے لیکن جمالیات کی تفہیم آسان عمل نہیں ہے خاص طور پر ہندوستانی جمالیات کی تفہیم کے لیے اساطیر ہے مکمل آگہی لازمی ہے ۔

غلام نبی کمار :       کیا آپ کی پروفیسر شکیل الرحمٰن کے ساتھ ملاقاتیں رہی ہیں؟ اس کتاب کو لکھنے کی تحریک کیسے ملی؟

حقانی القاسمی:      پروفیسر شکیل الرحمن صاحب سے ملاقات تو بعد میں ہوئی مگر ان کی تحریروں سے میرا ایک ذہنی رشتہ تھا ۔آواں گارد مجلہ استعارہ میں بدن کی جمالیات کا سلسلہ شروع ہوا تو جمالیات پر لکھی ان کی کچھ کتابیں مطالعہ میں آئیںاور پھر شکیل الرحمن صاحب سے براہ راست رابطہ ہوا ۔ جب وہ مرکزی وزیر صحت تھے تو ان سے ملاقات کی کوشش کی تھی مگر کامیابی نہیں ملی ۔ میں نے ماہنامہ آج کل کے دفتر میں انھیں دیکھا تھا مگر ملنے کی صورت نہیں نکل پائی اور پھر جب وہ گڑ گائوں میں مقیم ہو گئے تو خود انھوں نے کئی بار ملنے کی خواہش ظاہر کی ۔میں ان سے ملا اور پھر مستقل ملتا رہا۔ اسی دوران انھوں نے اپنی بہت سی کتابیں بھیجیں اور مجھے تفصیل کے ساتھ ان تمام کتابوں پر مضمون لکھنے کے لیے کہا ۔ حکم کی تعمیل میں مضامین لکھے تو وہ اتنے ضخیم ہو گئے کہ انھیں کتابی شکل دینی پڑی۔ میں اکثر شیخ عقیل احمد کے ساتھ ان کے مدھوبن میں جاتا تھا اور بہت دیر تک ان سے گفتگو رہتی تھی، وہ ہم دونوں سے بہت پیار کرتے تھے اور ہم دونوں سے انھیں بہت سے امیدیں بھی تھیں۔ ایک بار وہ بہت بیمار پڑے نہ کچھ بول رہے تھے نہ کچھ کھا پی رہے تھے تو ان کے اہل خانہ نے خاص طور پر ہم دونوں کو مدعو کیا ہم لوگ وہاں پہنچے دیر تک ان کی صورت دیکھتے رہے اور وہ بھی ہم لوگوں کو دیکھتے رہے کچھ دیر کے بعد ماحول بدل گیا ہم لوگوں کو دیکھنے کے بعد شاید ان کے اندر اتنی توانائی اور انرجی آگئی کہ ہم لوگوں سے ہلکی پھلکی گفتگو کرنے لگے پہلے سے ان کی حالت قدرِ بہتر ہو گئی ۔شاید وہ تنہائی اور گوشہ نشینی کی وجہ سے بہت زیادہ مضمحل ہو گئے تھے۔ ایک بار میں نے ان سے کہا کہ آپ گڑ گائوں سے باہر نکلیے ، دلی کی سیر کیجیے پرانے دوستوں سے ملیے تو آپ کی طبیعت بحال رہے گی۔ کہنے لگے کہ تم ٹھیک کہتے ہو مگر مجھے دلی کون لے کرجائے گا؟ شکیل الرحمٰن صاحب اتنی محبت کرتے تھے کہ جب ان کی کتاب دارا شکوہ آئی تو انھوں نے اس کتاب کا انتساب ہم دونوں یعنی شیخ عقیل احمد اور حقانی القاسمی کے نام کیا۔ یہ ان کی محبت کی معراج تھی کہ ایک بڑے ناقد نے ہم دونوں کو انتساب کے قابل سمجھا ورنہ ادب میں تو کم از کم میری تو کوئی حیثیت نہیںتھی؟ یہ سعادت پہلی بار ملی اس کے بعد اس طرح کی سعادت سے محروم ہوں۔ جب میری کتاب شکیل الرحمٰن کا جمالیاتی وجدان شائع ہوئی تو بہت ہی خوش ہوئے ایک دن ٹیلی فون پرکہنے لگے کہ حقانی جب بھی آپ کی کتاب پڑھتا ہوں تورونے لگتا ہوں واقعی آپ نے دل سے کتاب لکھی ہے۔ یہ ان کی شفقت تھی شاید یہی وجہ تھی کہ میری اس کتاب کا ایک ایڈیشن انھوں نے روشنائی پاکستان کے ایڈیٹر زین الدین صاحب کے ادارے سے بھی شائع کروایا۔ یہ میری پہلی کتاب تھی جو پاکستان سے شائع ہوئی ۔ پتا نہیں وہاں کے حلقے میں مقبول ہوئی یا نہیں ہاں ہندوستان میں اس کی خاطر خواہ پذیرائی ہوئی اور مجھے اسی کتاب پر اتر پردیش اردو اکادمی لکھنو سے انعام بھی ملا۔ شکیل الرحمٰن صاحب سے میں نے ایک انٹر ویو بھی لیا تھا جو ماہنامہ اردو دنیا نئی دہلی میں شائع ہوا اس انٹرویو میں انھوں نے بہت سی اہم باتیں کہی تھیں اور میرے لیے اعزاز کی بات تھی کہ میں نے ایک ایسی شخصیت سے ادبی مسائل پر گفتگو کی تھی جو تین یونی ورسٹیز کا وائس چانسلر رہا اور ہیلتھ منسٹر بھی بنا ۔ اردو میں شاید ہی کائی اور شخصیت ہو جسے اتنی عزت نصیب ہوئی ہو۔ پروفیسرشکیل الرحمٰن صاحب یقینا ادب کے قد آور شخصیت تھے ان کی تحریروں نے مجھے بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کاموقع ملا۔ خاص طور پر جمالیات جیسے مشکل موضوع پر ان کی کتابیں نہ ہوتیں تو شاید میرے لیے جمالیات کی تفہیم اتنی آسان نہ ہوتی ۔

غلام نبی کمار:       حقانی صاحب آپ ’انداز بیاں ‘کے نام سے ایک مجلہ نکالتے ہیں جس کے کئی شمارے منظر عام پر آئے ہمیں یہ بتائیں کہ آج کل اردو کا اخبار یا رسالہ نکالنا کتنا مشکل ہے اور کتنا آسان؟

حقانی القاسمی:      ’ اندازِ بیاں ‘ مجلہ نہیں میرا جنون ہے ، میراPassionہے اور اس جنون کی بہت لمبی داستان ہے اور اس کا سہرا میری بے روزگاری کو جاتا ہے اگر سہارا انڈیا سے میرا رشتہ نہ ٹوٹا ہوتا تو شاید یہ مجلہ بھی کبھی وجود میں نہ آتا۔ میری راہ میں جو کانٹے بچھائے گئے تھے وہ میرے لیے پھول بنتے گئے۔ اسی لیے میں نے اس رسالے کے اداریہ’ جنوں زاویہ‘ میں یہ لکھا تھا کہ کانٹے میرے لیے بہت معنی رکھتے ہیں کہ یہ زندگی کے تحرک کی علامت ہیںان ہی سے زندگی میں امکانات کے نئے دریچے کھلتے ہیں اور یہی نئی منزلوں سے آشنا بھی کرتے ہیں ۔ پھولوں کے درمیان زندگی تو ایک نقطہ انجماد پر ٹھہر سی جاتی ہے مگر کانٹے زندگی کے نئے راستوں کی جستجو کے لیے مہمیز کرتے ہیں ۔تو یہ ہے انداز بیاں کا شان نزول، مجھ جیسے غیر مستطع شخص کے لیے یہ رسالہ نکالنا آسان نہیں تھا مگر میرے اوپر ایک جنون سا طاری تھا اس لیے ذرائع اور وسائل کی پرواہ کیے بغیر میںآتشِ صحافت میں کود پڑا اور پھر آتش عشق کو گل گلزار ہوتے ہوئے میں نے دیکھا۔ میں نے یک موضوعی مجلے کا تجربہ کیا اور خواتین کی خود نوشت کے حوالے سے پہلا شمارہ نکالنے کا ارادہ کیا۔ شب بھر جاگ کر ای میل اور فیس بک کے ذریعے بزرگوں اور دوستوں سے رابطہ کیا۔ دوستوں کی حوصلہ افزائی نے ہمت کو مہمیز کیا اور بالآخر پہلا شمارہ منظر عام پر آگیا اور میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ علمی اور ادبی حلقے میں اس شمارے کی بہت پذیرائی ہوئی اردو ، انگریزی اور ہندی کے اخبارات میں اس پر ریویو شائع ہوئے اور اس کے بعد میں نئے نئے موضوعات کی تلاش کرتا رہا۔ دوسرا شمارہ پولیس کا تخلیقی چہرہ کے عنوان سے شائع ہوا یہ بھی ایک نیا موضوع تھا جسے اردو میں ٹچ نہیں کیا گیا تھا۔ اس کی بھی بڑی پذیرائی ہوئی۔ تیسرا شمارہ ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کی ادبی خدمات کے عنوان سے شائع ہوا۔ یہ بھی ایک اچھوتا موضوع تھا  جسے اہل علم نے بہت پسند کیا ۔غلام نبی کمار صاحب رسالہ نکالنے کے کیے ذرائع سے زیادہ جذبہ اور جنون کی ضرورت ہوتی ہے۔ رسالہ نکالنا گھر پھونک تماشہ دیکھنا جیسا ہوتا ہے ۔جو مالی اعتبار سے بہت مضبوط ہیں ان کے لیے رسالہ نکالنا آسان ہوتا ہے لیکن ایسے کتنے لوگ ہیں جو نقصان کا یہ سودا برداشت کرنے کے لیے تیار ہوں گے اس لیے جو بھی چھوٹے بڑے رسالے اردو کے نکلتے ہیں ان کی قدر کی جانی چاہیے کہ اگر یہ رسالے بند ہو گئے تو قاری اور قلم کاروں کا بحران پیدا ہو جائے گا۔

غلام نبی کمار:       حقانی القاسمی صاحب کیا آپ کو ادبی صحافت میں روشن امکانات نظر آتے ہیں؟ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ جتنی تیزی سے رسائل شائع ہو رہے ہیں اتنی ہی تیزی سے اُن کا معیار بھی گرتا جا رہا ہے آپ کا کیا خیال ہے؟

حقانی القاسمی:      میں نے پہلے بھی لکھا ہے کہ اس زوال کے عہد میں رسائل کے معیار سے زیادہ بڑا مسئلہ بقا کا ہے۔ کیوں کہ جس طرح کے حالات ہیں ان میں رسائل کی اشاعت یقینا بہت دشوار ہے۔ زیادہ تر رسائل اقتصادی بحران کا شکار ہیں۔ وسائل اور ذرائع کی بہت کمی ہے۔ ایسے میں اگر رسائل شائع ہو رہے ہیں تو ہمیں معیار کی زیادہ فکر نہیں کرنی چاہئے کیوں کہ اسی معیار کی وجہ سے جوش ملیح آبادی نے کلیم جیسا رسالہ تین شماروں کے بعد بند کر دیا تھا۔ اگر جوش ملیح آبادی جیسی روش اختیار کی جاتی تو شایدآج دو یا تین ہی رسالے شائع ہو پاتے۔ اس کی وجہ سے اردو زبان و ادب کو کتنا نقصان ہوتا اس کا اندازہ کوئی بھی لگا سکتا ہے اور میرا خیال ہے کہ ماضی میں یہی رسالے تھے جو نئی تخلیقی ذہانتوں کو پروان چڑھاتے تھے۔ نئے ادبی مباحث کو جنم دیتے تھے اور رسائل سے ہی ہمارا رشتہ پوری دنیا سے قائم ہوتا تھا تو ثقافتی سفارت اور تہذیبی لسانی رابطے کے طور پر ہی ان رسائل کو دیکھا جانا چاہئے۔ مادی وسائل کے فقدان اور اقتصادی بحران کے باوجود تواتر اور استمرار کے ساتھ رسائل کی اشاعت حیرت انگیز ہے اور اس بات کا ثبوت کہ صارفیت کے عہد میں بھی رسائل کامزاج تاجرانہ نہیں ہے۔ادبی رسائل ہی کی وجہ سے زبان و ادب کو نئی زندگی مل رہی ہے۔ اس لیے ہمارے لیے معیار سے زیادہ بڑا مسئلہ زبان و ادب کے تحفظ اور بقا کا ہے۔

غلام نبی کمار:       آپ کی کس کتاب پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ برائے ترجمہ ملا تھا؟

حقانی القاسمی:      جوزف میکوان کا ایک گجراتی ناول تھا ’انگلیات‘۔ اسی کتاب کے ترجمے پر مجھے ایوارڈ ملا تھا۔ یہ کتاب بنیادی طور پر کسی بھی ہندوستانی زبان میں لکھا گیا پہلا دلت ناول تھا ۔ اس ناول کو گجراتی ادب میں ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ ان دلتوں کی دستاویز اور ان کے المیوں، اذیتوں، جذبات و اقدار کی داستان ہے جو اپنے تشخص کے لیے جد و جہد کر رہا ہے۔ یہ ایک احتجاجی ناول ہے جس میں دل حاشیائی کردار استحصالی، سماجی اور سیاسی نظام کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں اور اعلیٰ طبقے کی استعماریت اور ذہنی مشروطیت کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔ یہ گجرات کے چروتر علاقے کے دو پڑوسی گاؤں کی طقباتی کشمکش کی کہانی ہے اور اس کے ناول نگار جوزف میکوان تقریباً چالیس کتابوں کے مصنف تھے۔ اسی ناول پر انھیں 1988ئ میں ساہتیہ اکیدمی ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا تھا۔ میرے حاشیۂ خیال میں بھی نہیں تھا کہ مجھے کبھی ساہتیہ اکادمی جیسے موقر ادارے سے ایسا کوئی ایوارڈ مل سکتا ہے۔ یہ بالکل غیر متوقع تھا۔ اس کتاب کے ترجمے کی بھی ایک لمبی داستان ہے۔ اکیڈمی کی طرف سے مجھ کو برسوں پہلے یہ کتاب ترجمے کے لیے دی گئی تھی مگر اپنی سستی اور کاہلی کی وجہ سے میں اسے مسلسل ٹالتا رہا اور پھر کئی برسوں بعد اکیڈمی والوں کا تقاضا اور اصرار بڑھنے لگاتو بے دلی کے ساتھ میں نے ترجمہ کرنا شروع کیا۔ وقت کم تھا اور کام زیادہ اس لیے میں رات رات بھر جاگتا تھا اور میرے ساتھ میرے چھوٹے چھوٹے بچے بھی کافی دیر تک جاگتے تھے۔ اس کتاب میں ہندی کے بہت سے مشکل الفاظ تھے جن کا موزوں ترجمہ ذہن میں نہیں آتا تھا تو میری چھوٹی بیٹی انیقہ جو اس وقت دس گیارہ سال کی رہی ہوگی وہ ہندی ڈکشنری لے کر بیٹھ جاتی اور لفظ کے معنی تلاش کرنے لگ جاتی میں کمپیوٹر پر بیٹھ جاتا تو کبھی انیقہ کبھی ارومہ اور کبھی الیفہ اس ناول کی عبارت خوانی کرتے اور میں ترجمہ کرتا جاتا اور میری شریکِ حیات نزہت ناز بھی کبھی کبھی کمپیوٹر پر بیٹھ کر کمپوز کرتی رہتی۔ اس طرح پوری فیملی کی کوششوں سے انگلیات کا یہ ترجمہ پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ ساہتیہ اکیڈمی سے یہ کتاب شائع ہوئی تو میں کئی دنوں تک مسرور رہا کیو ںکہ پہلی بار کسی بڑے ادارے سے میری کتاب شائع ہوئی اور پھرایک عرصے کے بعد یہ خبر ملی کی میری ترجمہ شدہ کتاب ساہتیہ اکیڈمی ترجمہ ایوارڈ کے لیے منتخب کی گئی ہے تومجھے یقین ہی نہیں آیا مگر خبر سچ تھی۔ پھر اخبارات میں اعلان بھی ہوا اور دوستوں نے اس ایوارڈ کے لیے مبارکبادیاں بھی دیں۔ کچھ لوگوں نے اس تعلق سے انٹرویوز بھی لیے۔ مولانا اسرارالحق قاسمی صاحب کی صدارت میں ایک تنظیم نے میرے لیے ایک پروگرام بھی منعقد کیا۔ ارریہ سیمانچل میں بھی اس ایوارڈ کی ہلچل رہی کیوں کہ یہ ساہتیہ اکیڈمی جیسے معزز ادارے کی طرف سے دیا گیا ایوارڈ تھا۔ یقینا یہ میرے لیے فخر کی بات تھی مگر میں نے ہمیشہ یہی محسوس کیا کہ یہ ایوارڈ دراصل مجھے نہیں میری بیوی اور بچوں کے رتجگوں کو ملا تھا۔چھوٹے چھوٹے بچوں کی ننھی منی آنکھیں دیر رات تک جاگتی رہی تھیں اس لیے شایدیہ انعام میرے حصے میں آیا ورنہ سچ پوچھیے تو میں اس طرح کے کسی انعام کا حقدار نہیں تھا۔

غلام نبی کمار:      آپ کو جو دیگر انعامات و اعزازات حاصل ہوئے ان سے متعلق تھوڑی بہت معلومات بہم پہنچائیں۔

حقانی القاسمی:      میں کبھی ایوارڈ کا خواہش مند نہیں رہا اور نہ کبھی اس کی طلب رہی مگر مجھے چھوٹے بڑے انعامات ملتے رہے ہیں ۔ دو بڑے انعامات تو ایسے ہیں جس کے لیے میں Deserveہی نہیں کرتا تھا۔ مجھے ایک ایوارڈ دلی اردو اکیڈمی سے برائے تخلیقی نثر دیا گیا۔ میں اس ایوارڈ کے لیے نہ مستحق تھا اور نہ رضامند مگر صلاح الدین پرویز صاحب اردو اکیڈمی کے رکن تھے اور وہ مجھے یہ ایوارڈ دینے کے لیے بضد تھے، میں انکار کرتا رہا اور وہ اصرار کرتے رہے اور بالآخر میرے انکار کو شکست ہوئی ۔ دوسرا بڑا ایوارڈ مجھے اسی نوعیت کا مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی سے ملا جو میرے لیے کسی سرپرائز سے کم نہ تھا۔ میں ممبئی سے تحریر نو کے ایک فنکشن سے دہلی لوٹ رہا تھا کہ ٹرین میں ہی پروفیسر آفاق احمد کا مبارکبادی کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے بتایا کہ ہم لوگوں نے آپ کو کل ہند حکیم قمر الحسن ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ میں نے عرض کیا کہ میرا تعلق نہ تو مدھیہ پردیش سے ہے اور نہ ہی میں وہاں کبھی گیا ہوں۔ آپ کی ریاستی اکیڈمی ہے آپ یہ ایوارڈ مدھیہ پردیش کے کسی ادیب کو دے دیجیے ۔ توانھوں نے جواباً کہا ہم یہاں سارے ادیبوں کو ایوارڈ دے چکے ہیں ۔ یہ ایوارڈ بھی ان کی محبت تھی۔ میں یہاں بھی انکار نہ کر سکااور مجھے وہ ایوارڈ مل گیا جو میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا ۔ دراصل میرے لیے ان ایوارڈ سے زیادہ اہمیت قارئین کی محبتوں کی اور بزرگوں کی شفقتیں کی ہیں کہ جن کی تحریریں پڑھ کر میں نے لکھنا سیکھا اب وہی میری تحریریں ڈھونڈ ڈھونڈ کر پڑھتے ہیں اور اپنے دل اور دعاؤں میں مجھے شامل رکھتے ہیں۔ میرے لیے یہی سب سے بڑا اعزاز و اکرام ہے ۔ مجھے ایوارڈ ملتے رہیں اور میری تحریر کا کوئی قاری نہ ہو تو پھر لکھنے سے فائدہ کیا ہے ۔ ایوارڈ نہیںبلکہ تحریرادیب کو زندہ رکھتی ہے۔ اور خدا کا شکر ہے کہ میری تحریریں بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہیں۔ مجھے یہاں ایک بات یاد آگئی کہ شاہ عالم نے سودا سے کہا تھا کہ ’’تم ہماری غزلیں بناؤہم تمہیں ملک الشعرا بنا دیں گے تو سودا نے ٹکا سا جواب دیا تھا کہ حضور کے ملک الشعرا بنانے سے کیا ہوگا کرے گا تو میرا کلام ملک ا لشعرا کرے گا‘‘آج حال یہ ہے کہ بعض لوگوں کی ہوس ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی انھوں نے اردو کو ’اوردو ‘ بنا دیا ہے۔ مجھے ایسے موقعے پر افتخار عارف کا ایک شعر یاد آرہا ہے     ؎

ابھی اٹھا بھی نہیں تھا کسی کا دست کرم

کہ سارا شہر لیے کاسۂ طلب نکلا

اردو میں چند ایک کو چھوڑ کر ہر شخص کاسۂ طلب لیے ہوئے ہے۔

غلام نبی کمار:       حقانی صاحب تنقید اور تخلیق کے درمیان امتیازی فرق بتلایئے؟ کیا تنقید کو تخلیق پر برتری حاصل ہے؟

حقانی القاسمی:      تنقید بھی تخلیقی عمل ہے جسے بعض لوگ باز تخلیق بھی کہتے ہیں۔ تخلیق کا کینوس بہت وسیع ہے۔ اس میں شاعری بھی ہے فکشن بھی ، مکتوب نگاری بھی ، سوانح بھی ، سفر نامہ بھی اور تنقید بھی۔ تخلیق آسمان کی طرح بے کراں اور بے ثغور ہے لیکن اب تفریقی شناخت کے طور پر دونوں کو الگ الگ کر دیا گیا ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اپنے مزاج اور ماہیت میں تھوڑے سے فرق کے باوجود دونوں میں بڑی مشابہتیں ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ دونوں ہی Intermingledہیں یہی وجہ ہے کہ رسائل میں تخلیقات کی اصطلاح استعمال کی جاتی رہی ہے جس کا دونوں پر اطلاق ہو تا ہے ۔

تخلیق میں دراصل ایک اختراعی کیفیت ہوتی ہے۔ ایک نئے زاوئیے کی جستجو کی جاتی ہے اسے تولیدی generativeکہا جاتا ہے جب کہ تنقید ایک تجزیاتی اور تحلیلی کیفیت سے عبارت ہے لیکن دونوں میں تخلیقیت کے عناصر موجود ہیں اس لیے اعلیٰ تنقید کبھی کبھی نہایت عمدہ تخلیق بن جاتی ہے ۔ پروفیسر شکیل الرحمٰن نے بڑی اچھی بات کہی ہے کہ’’ تنقید کی معراج یہ ہے کہ وہ تخلیق بن جائے‘‘  تنقید اور تخلیق کا سارا معاملہ اضافی ہے اور یہ ذہنی مناسبات سے جڑا ہوا ہے۔ کسی کو کسی پر برتری یا تفوق حاصل نہیں ہے۔ پھر بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ تنقید تخلیق سے وجود میں آتی ہے اس لیے تخلیق کو مرکزیت حاصل ہے۔

غلام نبی کمار :       بعض لوگوں کا خیال ہے کہ تخلیق کار ہی بہتر تنقید کر سکتا ہے کیوں کہ اس میں تخلیقی ہنر موجود ہوتا ہے کیا آپ اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں؟

حقانی القاسمی:      تنقید کے لیے تجزیاتی ذہن کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ تخلیق کے لیے تخیلی قوت کی ۔ یہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ جس کے پاس تخیلی قوت ہو اس کے اندر تجزیاتی صلاحیت نہیں ہوگی اور یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ جس کے پاس تجزیاتی اور معروضی ذہن ہے وہ قوت تخیل سے محروم ہوگا ۔ اردو میں ایسے بہت سے نام ہیں جو اچھے ناقد بھی ہیں اور عمدہ تخلیق کار بھی ایسے لوگوں کی ایک طویل فہرست ہے جنھوں نے تنقید اور تخلیق دونوں میں اپنے جوہر دکھائے ہیں۔ اسی لیے حتمی طور پر اس بابت کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ اگر تخلیق کاروں پر ہی تنقید کا انحصار ہوتا تو تنقید کی ضرورت ہی نہیں پیش آتی لیکن بیشتر تخلیق کاروں کو تنقید نگاروں کی تلاش رہتی ہے اس لیے یہ کہا جانا چاہیے کہ دونوں ایک دوسرے کی ضرورت ہیں ۔ ایک کے بغیر دوسرے کو ادھورے پن کا احساس ہوتا ہے۔

غلام نبی کمار :       آپ کی نظر میں اردوکا بلند پایا نقاد، محقق اور شاعر کون ہے؟

حقانی القاسمی:      میری نظرمیں ہر وہ شخص بلند پایہ ہے جس کی تخلیق سے معلومات و آگہی میں اضافہ ہو اور جس سے نئی روشنی ملے ۔ ایسے لوگوں کی ایک لمبی فہرست ہو سکتی ہے جنھوں نے تحقیق ، تنقید اور شاعری کی ثروت میں گراں قدر اضافے کیے ہیں اور ان کی تحریروں سے نئی نسل کو تحریک و رترغیب بھی ملی ہے۔ چند نام لکھوں گا تو باقی ناموں کے ساتھ ناانصافی ہوگی ۔ اس لیے ناموں سے گریز کرتے ہوئے کاموں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ہمارے یہاں عظمت کا نہ کوئی معیار ہے اور نہ کوئی منطق اس لیے پہلے ہمیں عظمتوں کا معیار طے کرنا ہوگا پھر کسی کے سر پر عظمت کا تاج رکھنا ہوگا۔ ویسے آج کے دور میں ہر شخص عظیم ہے ایک صاحب کہہ رہے تھے کہ اردو کا معاملہ یہ ہے کہ سکڑا ہوا شعر کہنے والا بھی یہاں بڑا شاعر کہلاتا ہے۔

غلام نبی کمار:       حقانی صاحب اپ کی پسندیدہ کتاب کون سی ہے؟

حقانی القاسمی:      عمر کے لحاظ ہے پسندیدگی کا معیاربھی بدلتا ہے ۔ بچپن میں قاعدہ بغدادی میری پسندیدہ کتاب تھی۔ جیسے جیسے عمر بڑھتی گئی پسندیدہ کتابوں کی فہرست اور نوعیت بھی بدلتی گئی ۔ ہر عمر میں الگ الگ ذوق ہوتا ہے۔ بچپن ، جوانی ، بڑھاپے کی پسند الگ الگ ہوتی ہے لیکن ایک کتاب ہے جو ہر عمر میں یکساں طور پر پسند آتی ہے اور وہ ہے اللہ کی کتاب قرآن کریم جو تمام علوم و فنون کا مخزن ہے جس میں سائنس بھی ہے، جغرافیہ بھی، معدنیات بھی، طبیعیات بھی ، اس میں انجینئرنگ بھی ہے اور میڈیسن بھی اور بھی بہت سارے علوم جن سے ہم لوگ واقف نہیں ہیں۔ مجھے ہر وہ کتاب پسند آتی ہے جو نئی دنیائوں اور نئے جزیروں کی سیر کراتی ہے، جو انکشافات کے نئے در کھولتی ہے اور جو معلومات کی نئی لہروں سے آشنا کرتی ہے۔ میں نے زندگی میں کتابیں تو بہت پڑھی ہیں۔ علی گڑھ کے زمانہ طالب علمی میں کتابوں سے میرا رشتہ بہت مضبوط تھا لیکن اب حسب ضرورت ہی کتابوں سے تعلق ہے ۔ اس لیے آج کی کتابوں کے بارے میں میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ میری سب سے پسندیدہ کتاب ہے۔ ہاں یہ کہہ سکتا ہوں کی میری پسند کی بہت سی کتابیں ہیں جن پر میں نے لکھا بھی ہے اور جنھیں بالاستیعاب پڑھا بھی ہے۔ ان میں مجھ سے عمر میں چھوٹے لوگوں کی بھی کتابیں شامل ہیں جن سے میں کچھ نہ کچھ سیکھتا رہتا ہوں۔

جہاں تک ادب کا معاملہ ہے تو ادب میں میری پسندیدگی بالکل الگ ہے۔ مجھے اچھا لگتا ہے وہ ادب جو ہیلن کی طرح حسین ہو، جو قلوپطرہ کی طرح قتالہ عام ہو، جونوسیکا کی طرح نازک اندام ہو، جو نینون بی لنکلوس کی مانند نوبہارِ حسن و جمال ہو، جو میرکے گلاب کی پنکھڑی ہو، امرائوالقیس کے تخیل کی دوشیزہ ہو، جس میں ہیلن کے سفوف کی طرح سکر ہو، جس کی زلفوں میں ہزاروں گپھائوں کی تیرگی بسی ہو۔ جس کے وجود میں مشک ختن ہو اور جس کے رخسار پہ میں اپنے دل کا پتہ ڈھونڈ سکوں۔ مجھے ایسا ادب اچھا لگتا ہے ۔ مجھے شیکسپیئر کے سانیٹ میں ڈارک لیڈی کا آبنوسی بدن خوبصورت نظر آتا ہے۔ دانتے کی ڈوائن کامیڈی میں بطریس کا بقعۂ نور آنکھوں کو بھاتا ہے۔ سارتر کی تخلیق میں میں سمون دی بوار کا جمال اچھا لگتا ہے۔ بائرن کی نظموں میں اگستھا کی ادا پیاری لگتی ہے۔ لارنس کے ناول میں فریڈہ کا جلال نظر آتا ہے۔ یہ تحریریں، یہ تخلق کار مجھے اس لیے پسند ہیں کہ یہ ان کے صدقِ جمال اور سچے جذبے سے تابندہ و رخشندہ ہیں۔

غلام نبی کمار :       حقانی صاحب آپ کی تنقیدی تحریریں تخلیقی نثر کا اعلیٰ نمونہ ہوتی ہیں ۔ اس کا راز کیا ہے؟

حقانی القاسمی:      میرے سامنے تنقید کا کوئی منہج اور معیار نہیں رہا اور نہ میں نے تنقیدی مقدمات اور اصولوں پر مبنی کتابیں پڑھی ہیں اسی لیے مجھے وہ تنقیدی زبان نہیں آتی جو جامعات میں رائج ہے۔ میں تخلیقی متون سے براہ راست رشتہ قائم کر کے لکھتا ہوں اس لیے اس کی تھوڑی بہت کیفیت میری تحریر میں بھی آجاتی ہے جسے بعض لوگ تخلیقی تنقید بھی کہنے لگے ہیں۔ میں بوجھل ثقیل بے معنی تنقیدی اصطلاحات اور کلیشے سے گریز کرتا ہوں اور کوشش ہوتی ہے کہ میری تحریر میں تخلیق کا انش اور آہنگ شامل ہو جائے ۔ آپ اسے کوئی بھی نام دے سکتے ہیں۔ مجھے ناموں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لوگ اسے تنقید سمجھیں یا تخلیق مجھے تو لفظوں کے ذریعہ اپنے جذبات و احساسات اور خیالات کا اظہار کرنا ہے۔ اگر یہ اظہار ترسیل میں کامیاب ہے تو پھر کسی طرح کی تخصیص بے معنی ہے۔ ویسے بھی نئے عہد میں اصنافی تشخصات کی سرحدیں ختم ہو رہی ہیں۔ ہر صنف ایک دوسرے سے مربوط اور ہم آہنگ ہوتی جا رہی ہے اور حقیقت یہی ہے کہ ادب کا صرف اور صرف ایک ہی آہنگ ہے ۔

غلام نبی کمار:      کیا آپ نئی نسل کے کام سے مطمئن ہیں؟

حقانی القاسمی:      بہت پہلے ’مضمون اور مائیگرین‘ کے عنوان سے میری ایک تحریر مختلف اخبارات اور رسائل میں شائع ہوئی تھی ۔جس میں میں نے لکھا تھا کہ نئی نسل میں نقال ہیں یا قوال۔ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ جس زمانے میں یہ لکھا تھا اس میں بیشتر نئی نسل کی تحریروں پر مجھے سرقے کا گماں گزرتا تھا۔وہی اصطلاحات اور لفظیات جو بڑے ناقدین عموماً استعمال کرتے تھے ان کی تحریروں میں انھیں کے انداز میں نظرآتے تھے۔ میرا یہ گمان غلط تھا۔ اب نئی نسل کے پاس پہلے کے مقابلے میں زیادہ ذرائع اور امکانات ہیں اور اپنے طور پر بھی یہ نسل ادب کو سمجھنے کی قوت رکھتی ہے اس لیے میں نئی نسل سے نہ صرف مطمئن ہوں بلکہ متاثر بھی ہوں ۔ نئی نسل کے بعض افراد کی تحریریں تو پروفیسروں سے بھی زیادہ عالمانہ اور دانشورانہ ہوتی ہیں۔ ان کی تحریروں میں ریاضت اور رشاقت نظر آتی ہے۔ نئی نسل کو میں ادب کا مستقبل سمجھتا ہوں اس لیے ان سے مجھے بڑی امیدیں ہیں اور میں اس بات پر مکمل یقین رکھتا ہوں کہ اب اردو زبان وادب کو تازہ خون کی زیادہ ضرورت ہے۔

٭٭

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
عالم ادب کا مہر درخشاں مرزا محمد رفیع سودا – اسلم رحمانی
اگلی پوسٹ
نئی زبان کیسے بولیں؟ – محمد ریحان

یہ بھی پڑھیں

پروفیسر عبدالمنان طرزی سے بات چیت – منصور...

دسمبر 4, 2024

پولیٹیکل سائنٹسٹ پروفیسر اشتیاق احمد سے خاص گفتگو...

جولائی 28, 2024

بین الاقوامی شہرت یافتہ آرٹسٹ اور فیض احمد...

جولائی 14, 2024

مہجری ڈرامہ نگار اور داستان گو جاوید دانش...

جولائی 4, 2024

معاصر ادب اور تنقید پر ڈاکٹر شہاب ظفر...

جون 30, 2024

فیض احمد فیض کی صاحبزادی منیزہ ہاشمی سے...

فروری 2, 2024

اعلی اقدار کی حامل شخصیت نیر تاباں سے...

جنوری 3, 2024

ایک ہمہ جہت شخصیت:زیبا گلزار – شفقت خالد

ستمبر 25, 2023

پروفیسر محمد طاہر سے علیزے نجف کی ایک...

اگست 26, 2023

معروف شاعر چندر بھان خیال سے علیزےنجف کی...

جولائی 11, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں