راسخ عظیم آبادی 1748-1822ء
راسخ عظیم آبادی کا پورا نام شیخ غلام علی اور پیدائش 1178ھ/1748ء (بمطابق قاضی عبدالودود) اور جائے پیدائش پٹنہ سٹی ہے۔ ان کے استادوں میں شرر، تپاں اور سودا کا نام بھی آتا ہے لیکن شروع میں انھوں نے فدوی سے اصلاح لی تھی جس کا اعتراف غزل کے ایک مقطع میں کیا بھی ہے۔ میر کی شاگردی کے حوالے سے کئی اشعار ملتے ہیں، دو آپ بھی ملاحظہ فرمالیں:
جناب میر کا شاگرد ہے وہ
خوشا انداز راسخ کے سخن کا
شاگرد ہیں ہم میر سے استاد کے راسخ
استادوں کا استاد ہے استاد ہمارا
اب اگر میر کی شاگردی کا شرف حاصل تھا تو کچھ مماثلتیں بھی ہوں گی۔ یہاں اس تقابلی مطالعے کا نہ موقع ہے نہ اس کی گنجائش، لیکن صرف دو اشعار پیش کرکے اشارہ کردینا چاہتا ہوں:
.1
برق سے پوچھا کہ شادی کتنی اس عالم کی ہے
کچھ کہا اس نے نہ لیکن اک تبسّم سا کیا
.2
مت چشم کم سے دیکھ مری چشم تر، کہ ہے
اے ابر اس حباب میں دریا چھپا ہوا
پہلے شعر کو میر کے اس شعر کے ساتھ پڑھیے:
کہا میں نے گل کا ہے کتنا ثبات
کلی نے یہ سن کر تبسّم کیا
دونوں میں بے ثباتیٔ عالم کا ذکر ہے۔ میر نے کسی سے پوچھا نہیں بلکہ چلتے پھرتے صرف کہا یا ذکر کیا جسے کلی نے سن لیا اور تبسم کرکے جواب دیا یعنی کلی پھول میں مبدل ہوگئی جو اس کی زندگی کے اختتام کا اشاریہ بھی تھا۔ دوسری طرف راسخ نے برق سے یعنی بجلی سے دنیا کی خوشی کے بارے میں پوچھا تو وہ چمک کر رہ گئی، کچھ جواب نہیں دیا۔ دونوں میں جو لطیف سا فر ق ہے وہ طرزِ اظہار کی نزاکت کا ہے۔
دوسرے شعر میں چشم تر اور گریہ وزاری کی شدت بھی ہے اور ابر پر اپنی فوقیت بھی دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ میر کی غزلوں میں اس نوع کی مثالیں بھری پڑی ہیں جن میں آہ و زاری یا خون آلود اشک باری کا ذکر ملتا ہے۔ تین شعر میر کے دیکھیے:
میں گریۂ خونیں کو روکے ہی رہا ورنہ
اک دم میں زمانے کا یاں رنگ بدل جاتا
جَیب و کنار سے تو بڑھا پانی دیکھیے
چشمہ ہماری چشم کا رہتا ہے جوش پر
دیدۂ تر کو سمجھ کے اپنا ہم نے کیا کیا حفاظت کی
آہ نہ جانا روتے روتے یہ چشمہ دریا ہوگا
اندازہ یہ ہوتا ہے کہ راسخ نے اپنے استاد سے یہ مضمون مستعار بھی لیا اور اسے چمکایا بھی۔ ایسے اشعار راسخ کے دیوان میں اور بھی ہیں لیکن چوں کہ یہاں اس کا محل نہیں ہے اس لیے اس زاویۂ بحث کو یہیں ختم کیا جاتا ہے۔
عرض یہ کرنا ہے کہ راسخ نے میر کے تتبع میں بہت سی غزلیں اور بہت سے اشعار کہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا راسخ کی اپنی کوئی شناخت نہیں؟ میرے خیال میں راسخ کے یہاں خارجی عوامل کو داخلی طور پر Assimilate کرنے اور پھر انھیں شعری پیکر میں ڈھال کر پیش کرنے کا جو عمل ہے، وہ ان کا ذاتی تخلیقی طریقۂ کار ہے۔ جہاں میر سادہ بیانی سے کام لیتے ہیں، راسخ اکثر پیچیدہ ترکیبوں سے پیکر ابھارتے ہیں۔ پروفیسر عبدالمغنی کے بقول:
’’میر کے سائے میں ہوتے ہوئے بھی یہ اپنی الگ توانائی و زیبائی رکھتا ہے۔ اس میں صرف داخلی مطالعہ کا بوستاں نہیں ہے، خارجی مشاہدات کا گلستاں بھی ہے، دروں بینی کے ساتھ ساتھ جہاں بینی بھی ہے، باغِ دل کے ساتھ باغ عالم کے دریچے بھی کھلے ہوئے ہیں اور دونوں طرف کے چمن کی ہوائیں مل کر ایک نغمہ دو رنگ پیدا کررہی ہیں۔‘‘
(بہار کے چند نامور شعرا، مولفین: مظفر مہدی، منصورعمر، 1998، دربھنگہ، ص 18)
راسخ کی شاعری میں جو دو طرح کے دھارے دکھائی دیتے ہیں، ان کی طرف پروفیسر عبدالمغنی نے بہت ہی واضح اور مناسب اشارہ کردیا ہے۔
موضوعات اور مضامین کی سطح پر اگر دیکھا جائے تو راسخ عظیم آبادی کی غزلوں میں دنیا کی بے ثباتی، تصوف، عشقیہ رنگ، آہ و زاری، آرائش کائنات، محبوب کے حسن و جمال سے لے کر جذبات انسانی کے اہم تلازمات تک کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔ سارے موضوعات کا احاطہ کرنا مشکل ہے، اس لیے یہاں تصوف کے اہم نکات وحدت الوجود یعنی وجود مطلق، دنیا اور یہاں کے مال و متاع سے بے نیازی، دنیا کی حقیقت جیسے مضامین کی چھان پھٹک کی جائے گی۔
ذات مطلق کی تمام تر جلوہ گری اور اس جلوہ گری میں اسی ذات مطلق کو دیکھنا اور سمجھنا وحدت الوجود ہے۔ چونکہ وحدت الوجود پر مضمون لکھنا مقصود نہیں، لہٰذا اشعار پیش کرتے ہوئے اس کے انسلاکی پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔ غزل کے بجائے مثنوی کششِ عشق، حمد حضرت باری عزا سمہٗ کے دو شعر سنیے:
اُسے سب میں پایا پہ سب سے بَری
زہے اس کا اندازِ جلوہ گری
تجلی کی اُن نے نئی طرح سے
لباس اُن نے بدلے کئی طرح سے
پہلے شعر کا پہلا مصرع بہت اہم ہے: اُسے سب میں پایا پہ سب سے بَری، یعنی تمام اشیا میں اس کی موجودگی ہے مگر سب سے الگ بھی ہے، یہاں پر ذات مطلق میں ضم ہوکر اپنے وجود کی بے معنویت کی نفی بھی کی گئی ہے۔ دنیا کے تمام مظاہر اُسی ذات مطلق کے ظہور کے لیے ہیں۔ یہ چاند، سورج، آسمان، زمین، ستارے، دریا، پہاڑ، پھول اور شجر یہ تمام اُسی کے مظاہر ہیں۔ راسخ کا یہ شعر دیکھیے:
جس طرح ماہ مقتبسِ نور مہر ہے
چہرے سے تیرے مہر کو یوں کسبِ نور تھا
چاند کی اپنی روشنی نہیں ہوتی بلکہ وہ سورج سے کسب نور کرتا ہے۔ راسخ کہتے ہیں کہ اسی طرح یہ سورج بھی اپنی روشنی کہاں رکھتا ہے، وہ تو تیرے چہرے یعنی ذات مطلق کے منبع انوار سے روشنی کسب کرتا ہے۔ اسی مضمون کو میر نے کسی خاص مظہر کے بجائے تمام اشیا کے نور میں جلوہ گر ہونے کی بات کی ہے۔ راسخ نے چاند اور سورج کی مثال پیش کرکے اس مضمون کو سریع الفہم بنا دیا ہے، یہ الگ بات ہے کہ ’مقتبسِ نورمہر‘ کی ترکیب سے شعر کا پہلا مصرع ثقیل ہوگیا ہے۔ راسخ کے استاد میر کا یہ شعر بھی ملاحظہ کرلیجیے:
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا
خورشید میں بھی اس ہی کا ذرّہ ظہور تھا
واضح ہو کہ راسخ کی یہ غزل میر ہی کی زمین میں ہے۔ اوپر راسخ کا جو شعر پیش ہوا، اس کے اوپر بھی اسی مضمون کا یہ شعر ہے لیکن مجرد کردار بدل گئے ہیں:
ہیجدہ ہزار آئینوں میں جلوہ گر ہوا
اُس خوش نما کو میرے یہ شوقِ ظہور تھا
ہزاروں آئینے میں ذات مطلق کی جلوہ گری ہے اور ایسا اس لیے ہے کہ اس خوش نما یعنی ذات مطلق کو یہ شوق ہوا کہ وہ دیکھا جائے۔ یہی مضمون اور بھی واضح انداز میں ایک دوسری غزل کے اس مطلعے میں یوں ظاہر ہوتا ہے:
عرض کرنا تھا بنوعے اُس کو اپنی شان کا
اس لیے واضح ہوا آئینۂ اعیان کا
خدا اپنے جمال کو بہت دنوں تک پردۂ خِفا میں نہیں رکھ سکتا۔ راسخ کہتے ہیں:
مستوری و حسن کب تک آخر
بھایا ان کو ظہور اپنا
یعنی یہ کہ حسن مستور نہیں رہ سکتا۔ خدا نے یہ ظہور بشکل کائنات یا عالم اس لیے کیا کہ وہ خود اپنے آپ کو یا اپنے حسن کو دیکھنا چاہتا ہے۔ یہیں پر یہ مشہور زمانہ حدیث بھی ملاحظہ کرلیجیے کہ:
اَللّٰہُ جَمِیْلٌ وَ یُحِبُّ الْجَمَال
اردو کے دو تین اشعار دوسرے شعرا کے بھی ملاحظہ کرلیجیے:
ڈھونڈے ہے تجھے تمام عالم
ہر چند کہ تو کہاں نہیں ہے
دردؔ
تھا وہ تو رشکِ حورِ بہشتی ہمیں میں میرؔ
سمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنی قصور تھا
میرؔ
معمور ہورہا ہے عالم میں نور تیرا
ازماہ تا بہ ماہی سب ہے ظہور تیرا
نیازبریلوی
راسخ نے اس وحدت الوجود کے مضمون کو طرح طرح سے پیش کیا ہے۔ اس مضمون میں آئینے اور پردے کا ذکر بھی ہوتا آیا ہے۔ نقش اور نقّاش کا استعمال کرکے بھی راسخ نے اس مضمون کی ایک اور جہت کو پیش کیا ہے:
معنی کے تئیں ہم نے تو صورت ہی میں پایا
نقّاش ہمیں نقش کے اندر نظر آیا
صورت اور معنی کی بحث ہوتی رہی ہے۔ جس نقاش نے یہ صورت گری کی ہے دراصل اس کی شناخت نقش یا صورت ہی سے ہوتی ہے۔ راسخ اس نقاش کے روئے زیبا کے دیدار کے لیے کہتے ہیں کہ اپنے اندر سے خودی بمعنی کبر و نخوت کا مٹانا ضروری ہے۔ یہ ہم سب جانتے ہیں کہ اقبال سے پہلے اردو شاعری میں خودی کا مفہوم یہی تھا۔ راسخ کہتے ہیں:
خودی ہے تیری نقاب اُس کے روئے زیبا کا
اٹھا دے اس کو اگر شوق ہے تماشا کا
اسی خودی اور کبر و نخوت کو راسخ نے ایک جگہ ’بتِ پندار‘ بھی کہا ہے اور اہلِ تصوف کے یہاں اس بُتِ پندار کا توڑا جانا بہت ہی اہم مانا گیا ہے۔ شعر ہے:
شیخ اس بُت شکنی پر نہ ہو اتنا مغرور
تونے توڑا نہیں اپنا بُتِ پندار ہنوز
کبیر نے بھی اسی بت پندار کے توڑنے کی بات کی ہے۔ بُت پندار کو اہنکار سے بھی موسوم کرتے ہیں۔ کبیر کے دو دوہے پیش کرتا ہوں:
مایا تجی تو کیا بھیا مان تجا نہیں جائے
مان بڑے مُنی ورگلے مان سبن کو کھائے
(دولت تج دیا تو کیا ہوا، عزت کی چاہ نہیں جاتی، عزت کی چاہ میں بڑے بڑے فقیر اور مُنی ختم ہوگئے۔ اس نے سب کو کھالیا۔)
جِہنہ آپا، تِہنہ آپدا جِنہہ سنسے، تِنہہ سوگ
کہہِ کبیر کیسے مٹیں چاروں دیرگھ روگ
(جہاں اہنکار (آپا) ہے وہاں مصیبت ہے، جہاں شک ہے وہاں غم ہے۔ کبیر کہتا ہے کہ یہ چاروں مرض گمبھیر ہیں، کیسے مٹیں گے؟)
اُس نقاش ازل یا ذات مطلق کے پر تو کے لیے غور و فکر اور تامل و تدبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ راسخ اپنے باطن کی سیر کرنے کی بات بھی کرتے ہیں:
طلسمِ تن کو تامل سے سیر کر غافل
بنانے والا بھی اس کا، اسی میں پنہاں ہے
شایدیہی وہ منزل ہے جہاں یہ حدیث قدسی بھی پیش کی جاسکتی ہے جو سفر سلوک کے لیے مشعل راہ ہے: مَن عَرفَ نفسہٗ فَقَد عَرفَ رَبّہٗ یعنی جس نے اپنے نفس کو پہچانا گویا اس نے اپنے رب کو پہچانا۔ راسخ اپنے باطن میں اترنے کی بات کرتے ہیں:
بھٹک مت جو طالب ہے راہ خدا کا
تجھی میں تو جلوہ ہے اس خود نما کا
میر نے اسی مضمون کو کچھ یوں پیش کیا ہے:
پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تئیں
معلوم اب ہوا کہ بہت میں ہی دور تھا
آئیے پھر ذات واحد کے وجود کی بات کرتے ہیں جو کائنات اور اشیاء کائنات میں جلوہ گر ہے۔
راسخ نے اس حوالے سے آئینہ اور پردے کا استعمال بھی کیا ہے۔ راسخ افراط تجلی کو وجود مطلق کے لیے رخنہ تصور کرتے ہیں، اسی لیے وہ کہتے ہیں:
مانعِ دید ہے افراط تجلی ان کی
وے نظر آویں اگر تاب ہو بینائی کو
اگر ذات مطلق نظر نہیں آتا تو اپنی بینائی کا قصور ہے۔ میر نے بھی کہا تھا: سمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنی قصور تھا۔
یہ دنیا جو مثل ایک پری خانہ کے ہے اُس کا صانع ایسا ہے جس کے لیے ہر عقل مند کے اندر دیوانگی ضروری ہے۔ راسخ کو سنیے:
یہ پری خانہ جہاں کا، صنعت اک صانع کی ہے
حیف اس عاقل پہ جو یاں اُس کا دیوانہ نہ تھا
صوفیہ کے یہاں دل کے تزکیے کی بات بہت کی جاتی ہے۔ اس لیے کہ خداکا گھر دل ہی ہوتا ہے۔ اگر دل آلائشوں سے پاک نہیں تو رُخ یار سے محرومی مقدر ہوگی۔ اشعار دیکھیے:
کاش یوں تیرہ نہ یہ آئینۂ دل ہوتا
صاف ہوتا تو رُخِ یار کے قابل ہوتا
دلِ ناصاف کیوں کر جلوۂ معشوق کی جا ہو
تمنا ہے کسی صورت یہ آئینہ مصفّا ہو
اہل تصوف کے نزدیک تزکیۂ نفس کے لیے لذّت دنیا اور ہوس پرستی سے دوری ناگزیر ہے۔ اسی لیے راسخ نے بھی تصوف کے انسلاکی عوامل کو جگہ جگہ پیش کیا ہے:
دل ہوس والوں کے محروم اُس کے پر تو سے رہے
جلوہ گاہِ داغِ جاناں سینۂ ابرار تھا
ہفت اقلیم کا خیال عبث
آرزوئے جہاں ستانی ہیچ
ترکِ لذّات کی لذّت نہ ہوئی ہم کو نصیب
یہ مزا کاش ہمارے تئیں حاصل ہوتا
راسخ تو کچھ ایسے شدت پسند بھی ہوجاتے ہیں کہ دنیا کو ’قحبۂ رعنا‘ سے بھی موسوم کرنے میں گریز نہیں کرتے:
جہاں ہے قحبۂ رعنا تمھیں گر ہوتی بینائی
تو اے اہل جہاں اس کے تمنائی نہ ہوتے تم
سید امداد امام اثر لکھتے ہیں:
’’حضرت راسخ مرحوم فقیر طبیعت اور فقیر دوست آدمی تھے۔ اکثر شاہ باقر کے تکیے پر قیام رکھتے تھے۔ اہل دولت سے کم ملتے تھے، صحبت فقرا میں ہمیشہ رہتے تھے۔ تبھی تو ان کے کلام میں اس قدر مزا ہے۔ بے فقیر دل ہوئے نہ کلام پُرتاثیر ہوا ہے نہ ہوگا۔‘‘ (کاشف الحقائق، مرتبہ: وہاب اشرفی، ص 378)
دنیا اور اس کے حسن یا تعلق سے الگ ہونے کی بات تمام صوفی شعرا نے کی ہے۔ مگر خیال رہے کہ اسلامی تصوف میں بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اسلام میں رہبانیت کی گنجائش نہیں، اس کے ساتھ چلتے ہوئے وحدت وجود کے اقرار کو بحال کرنا ہوتا ہے۔ کبیر نے بھی دنیا، اس کی بھوک یا اس سے تعلق خاطر کو بھگتی کے لیے مضر سمجھا ہے:
جب لگ ناتا جگت کاتب لگ بھکتی نہ ہوئے
ناتا تورے ہر بھجے بھکت کہاوے سوئے
کبیر چھُدھا ہے کُوکری کرت بھجن میں بھنگ
باکو ٹکرا ڈار کے سُمرن کرو نِسنک
(اے کبیر بھوک کیتا کی طرح ہے جو خدا کی یاد میں خلل انداز ہوتی ہے۔ اُسے ایک ٹکڑا دے کر خدا کا ذکر اطمینان سے کرو۔)
آپ غور کیجیے کہ جہاں کبیر دنیا اور اس کی بھوک یا دنیا کے حرص کو کُتیا گردانتے ہیں، راسخ اسے ’قحبۂ رعنا‘ سے یاد کرتے ہیں۔ راسخ دنیا کی لذتوں کو اور ہفت اقلیم کے حصول کو قُرب الٰہی کے راستے میں رخنہ اندازی تصور کرتے ہیں۔ راسخ کا ماننا یہ بھی ہے کہ دنیا کی لذت کا ترک کرنا مشکل ہے، لیکن اس میں جو مزا ہے اس کی تفہیم کے لیے ذوق صحیح کا ہونا لازمی ہے:
مت کہہ کہ ترکِ لذتِ حِسّی قبیح تھا
وہ سمجھے یہ مزا جنھیں ذوق صحیح تھا
عرض یہ کرنا ہے راسخ نے تصوف کے انسلاکی اور وحدت الوجودی عوامل و عناصر کو اپنی شاعری میں بہت ہی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ مرنجان مرنج ہونے کی بات ہو یا افتادگی میں رفعت و بلندی کی، ترکِ لذتِ دنیا کی بات ہو یا تمام عالم اور اس کے ذرّے ذرّے سے ذات مطلق کے ظہور کی، راسخ نے آخر کار اپنی بیاض کے صفحات پر تخلیقی ہنرمندی سے جو نقوش ابھارے ہیں، ان میں تازگی بھی ہے اور وارفتہ کردینے کی قوت بھی۔ یہ شعر ملاحظہ کیجیے اور راسخ کی فکری بلندی کی داد دیجیے:
کوئی درپردہ کارفرما ہے
ڈھب سے اس کارگہہ کے پیدا ہے
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

