Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      اگست 24, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کلیاتِ فراقؔ گورکھپوری کے چند نسخوں کا تنقیدی…

      اگست 21, 2026

      تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سیرت النبی ﷺ اور اِنفرادی جواب دہی – ڈاکٹر…

      اگست 24, 2026

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خصوصی مضامین

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      متفرقات

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      متفرقات

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      متفرقات

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      اگست 24, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کلیاتِ فراقؔ گورکھپوری کے چند نسخوں کا تنقیدی…

      اگست 21, 2026

      تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سیرت النبی ﷺ اور اِنفرادی جواب دہی – ڈاکٹر…

      اگست 24, 2026

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خصوصی مضامین

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      مُحَرَّم اور اسلامی اخوت کا تصور – فیض…

      اگست 8, 2026

      متفرقات

      جیسا گمان ویسا انسان: مترجم ڈاکٹر عثمان غنی…

      جولائی 31, 2026

      متفرقات

      چنار بک فیسٹول نہایت مختصر وقت میں علم،…

      جولائی 18, 2026

      متفرقات

      حاجی شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی: حیات اور ادبی…

      جولائی 18, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
غزل شناسی

راسخ عظیم آبادی کا رنگِ تصوّف – پروفیسر کوثر مظہری

by adbimiras فروری 17, 2022
by adbimiras فروری 17, 2022 0 comment

راسخ عظیم آبادی  1748-1822ء

 

راسخ عظیم آبادی کا پورا نام شیخ غلام علی اور پیدائش 1178ھ/1748ء (بمطابق قاضی عبدالودود) اور جائے پیدائش پٹنہ سٹی ہے۔ ان کے استادوں میں شرر، تپاں اور سودا کا نام بھی آتا ہے لیکن شروع میں انھوں نے فدوی سے اصلاح لی تھی جس کا اعتراف غزل کے ایک مقطع میں کیا بھی ہے۔ میر کی شاگردی کے حوالے سے کئی اشعار ملتے ہیں، دو آپ بھی ملاحظہ فرمالیں:

جناب میر کا شاگرد ہے وہ

خوشا انداز راسخ کے سخن کا

شاگرد ہیں ہم میر سے استاد کے راسخ

استادوں کا استاد ہے استاد ہمارا

اب اگر میر کی شاگردی کا شرف حاصل تھا تو کچھ مماثلتیں بھی ہوں گی۔ یہاں اس تقابلی مطالعے کا نہ موقع ہے نہ اس کی گنجائش، لیکن صرف دو اشعار پیش کرکے اشارہ کردینا چاہتا ہوں:

.1

برق سے پوچھا کہ شادی کتنی اس عالم کی ہے

کچھ کہا اس نے نہ لیکن اک تبسّم سا کیا

.2

مت چشم کم سے دیکھ مری چشم تر، کہ ہے

اے ابر اس حباب میں دریا چھپا ہوا

پہلے شعر کو میر کے اس شعر کے ساتھ پڑھیے:

کہا میں نے گل کا ہے کتنا ثبات

کلی نے یہ سن کر تبسّم کیا

دونوں میں بے ثباتیٔ عالم کا ذکر ہے۔ میر نے کسی سے پوچھا نہیں بلکہ چلتے پھرتے صرف کہا یا ذکر کیا جسے کلی نے سن لیا اور تبسم کرکے جواب دیا یعنی کلی پھول میں مبدل ہوگئی جو اس کی زندگی کے اختتام کا اشاریہ بھی تھا۔ دوسری طرف راسخ نے برق سے یعنی بجلی سے دنیا کی خوشی کے بارے میں پوچھا تو وہ چمک کر رہ گئی، کچھ جواب نہیں دیا۔ دونوں میں جو لطیف سا فر ق ہے وہ طرزِ اظہار کی نزاکت کا ہے۔

دوسرے شعر میں چشم تر اور گریہ وزاری کی شدت بھی ہے اور ابر پر اپنی فوقیت بھی دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ میر کی غزلوں میں اس نوع کی مثالیں بھری پڑی ہیں جن میں آہ و زاری یا خون آلود اشک باری کا ذکر ملتا ہے۔ تین شعر میر کے دیکھیے:

میں گریۂ خونیں کو روکے ہی رہا ورنہ

اک دم میں زمانے کا یاں رنگ بدل جاتا

جَیب و کنار سے تو بڑھا پانی دیکھیے

چشمہ ہماری چشم کا رہتا ہے جوش پر

دیدۂ تر کو سمجھ کے اپنا ہم نے کیا کیا حفاظت کی

آہ نہ جانا روتے روتے یہ چشمہ دریا ہوگا

اندازہ یہ ہوتا ہے کہ راسخ نے اپنے استاد سے یہ مضمون مستعار بھی لیا اور اسے چمکایا بھی۔ ایسے اشعار راسخ کے دیوان میں اور بھی ہیں لیکن چوں کہ یہاں اس کا محل نہیں ہے اس لیے اس زاویۂ بحث کو یہیں ختم کیا جاتا ہے۔

عرض یہ کرنا ہے کہ راسخ نے میر کے تتبع میں بہت سی غزلیں اور بہت سے اشعار کہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا راسخ کی اپنی کوئی شناخت نہیں؟ میرے خیال میں راسخ کے یہاں خارجی عوامل کو داخلی طور پر Assimilate کرنے اور پھر انھیں شعری پیکر میں ڈھال کر پیش کرنے کا جو عمل ہے، وہ ان کا ذاتی تخلیقی طریقۂ کار ہے۔ جہاں میر سادہ بیانی سے کام لیتے ہیں، راسخ اکثر پیچیدہ ترکیبوں سے پیکر ابھارتے ہیں۔ پروفیسر عبدالمغنی کے بقول:

’’میر کے سائے میں ہوتے ہوئے بھی یہ اپنی الگ توانائی و زیبائی رکھتا ہے۔ اس میں صرف داخلی مطالعہ کا بوستاں نہیں ہے، خارجی مشاہدات کا گلستاں بھی ہے، دروں بینی کے ساتھ ساتھ جہاں بینی بھی ہے، باغِ دل کے ساتھ باغ عالم کے دریچے بھی کھلے ہوئے ہیں اور دونوں طرف کے چمن کی ہوائیں مل کر ایک نغمہ دو رنگ پیدا کررہی ہیں۔‘‘

(بہار کے چند نامور شعرا، مولفین: مظفر مہدی، منصورعمر، 1998، دربھنگہ، ص 18)

راسخ کی شاعری میں جو دو طرح کے دھارے دکھائی دیتے ہیں، ان کی طرف پروفیسر عبدالمغنی نے بہت ہی واضح اور مناسب اشارہ کردیا ہے۔

موضوعات اور مضامین کی سطح پر اگر دیکھا جائے تو راسخ عظیم آبادی کی غزلوں میں دنیا کی بے ثباتی، تصوف، عشقیہ رنگ، آہ و زاری، آرائش کائنات، محبوب کے حسن و جمال سے لے کر جذبات انسانی کے اہم تلازمات تک کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔ سارے موضوعات کا احاطہ کرنا مشکل ہے، اس لیے یہاں تصوف کے اہم نکات وحدت الوجود یعنی وجود مطلق، دنیا اور یہاں کے مال و متاع سے بے نیازی، دنیا کی حقیقت جیسے مضامین کی چھان پھٹک کی جائے گی۔

ذات مطلق کی تمام تر جلوہ گری اور اس جلوہ گری میں اسی ذات مطلق کو دیکھنا اور سمجھنا وحدت الوجود ہے۔ چونکہ وحدت الوجود پر مضمون لکھنا مقصود نہیں، لہٰذا اشعار پیش کرتے ہوئے اس کے انسلاکی پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔ غزل کے بجائے مثنوی کششِ عشق، حمد حضرت باری عزا سمہٗ کے دو شعر سنیے:

اُسے سب میں پایا پہ سب سے بَری

زہے اس کا اندازِ جلوہ گری

تجلی کی اُن نے نئی طرح سے

لباس اُن نے بدلے کئی طرح سے

پہلے شعر کا پہلا مصرع بہت اہم ہے: اُسے سب میں پایا پہ سب سے بَری، یعنی تمام اشیا میں اس کی موجودگی ہے مگر سب سے الگ بھی ہے، یہاں پر ذات مطلق میں ضم ہوکر اپنے وجود کی بے معنویت کی نفی بھی کی گئی ہے۔ دنیا کے تمام مظاہر اُسی ذات مطلق کے ظہور کے لیے ہیں۔ یہ چاند، سورج، آسمان، زمین، ستارے، دریا، پہاڑ، پھول اور شجر یہ تمام اُسی کے مظاہر ہیں۔ راسخ کا یہ شعر دیکھیے:

جس طرح ماہ مقتبسِ نور مہر ہے

چہرے سے تیرے مہر کو یوں کسبِ نور تھا

چاند کی اپنی روشنی نہیں ہوتی بلکہ وہ سورج سے کسب نور کرتا ہے۔ راسخ کہتے ہیں کہ اسی طرح یہ سورج بھی اپنی روشنی کہاں رکھتا ہے، وہ تو تیرے چہرے یعنی ذات مطلق کے منبع انوار سے روشنی کسب کرتا ہے۔ اسی مضمون کو میر نے کسی خاص مظہر کے بجائے تمام اشیا کے نور میں جلوہ گر ہونے کی بات کی ہے۔ راسخ نے چاند اور سورج کی مثال پیش کرکے اس مضمون کو سریع الفہم بنا دیا ہے، یہ الگ بات ہے کہ ’مقتبسِ نورمہر‘ کی ترکیب سے شعر کا پہلا مصرع ثقیل ہوگیا ہے۔ راسخ کے استاد میر کا یہ شعر بھی ملاحظہ کرلیجیے:

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا

خورشید میں بھی اس ہی کا ذرّہ ظہور تھا

واضح ہو کہ راسخ کی یہ غزل میر ہی کی زمین میں ہے۔ اوپر راسخ کا جو شعر پیش ہوا، اس کے اوپر بھی اسی مضمون کا یہ شعر ہے لیکن مجرد کردار بدل گئے ہیں:

ہیجدہ ہزار آئینوں میں جلوہ گر ہوا

اُس خوش نما کو میرے یہ شوقِ ظہور تھا

ہزاروں آئینے میں ذات مطلق کی جلوہ گری ہے اور ایسا اس لیے ہے کہ اس خوش نما یعنی ذات مطلق کو یہ شوق ہوا کہ وہ دیکھا جائے۔ یہی مضمون اور بھی واضح انداز میں ایک دوسری غزل کے اس مطلعے میں یوں ظاہر ہوتا ہے:

عرض کرنا تھا بنوعے اُس کو اپنی شان کا

اس لیے واضح ہوا آئینۂ اعیان کا

خدا اپنے جمال کو بہت دنوں تک پردۂ خِفا میں نہیں رکھ سکتا۔ راسخ کہتے ہیں:

مستوری و حسن کب تک آخر

بھایا ان کو ظہور اپنا

یعنی یہ کہ حسن مستور نہیں رہ سکتا۔ خدا نے یہ ظہور بشکل کائنات یا عالم اس لیے کیا کہ وہ خود اپنے آپ کو یا اپنے حسن کو دیکھنا چاہتا ہے۔ یہیں پر یہ مشہور زمانہ حدیث بھی ملاحظہ کرلیجیے کہ:

اَللّٰہُ جَمِیْلٌ وَ یُحِبُّ الْجَمَال

اردو کے دو تین اشعار دوسرے شعرا کے بھی ملاحظہ کرلیجیے:

ڈھونڈے ہے تجھے تمام عالم

ہر چند کہ تو کہاں نہیں ہے

 

دردؔ

تھا وہ تو رشکِ حورِ بہشتی ہمیں میں میرؔ

سمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنی قصور تھا

 

میرؔ

معمور ہورہا ہے عالم میں نور تیرا

ازماہ تا بہ ماہی سب ہے ظہور تیرا

 

نیازبریلوی

راسخ نے اس وحدت الوجود کے مضمون کو طرح طرح سے پیش کیا ہے۔ اس مضمون میں آئینے اور پردے کا ذکر بھی ہوتا آیا ہے۔ نقش اور نقّاش کا استعمال کرکے بھی راسخ نے اس مضمون کی ایک اور جہت کو پیش کیا ہے:

معنی کے تئیں ہم نے تو صورت ہی میں پایا

نقّاش ہمیں نقش کے اندر نظر آیا

صورت اور معنی کی بحث ہوتی رہی ہے۔ جس نقاش نے یہ صورت گری کی ہے دراصل اس کی شناخت نقش یا صورت ہی سے ہوتی ہے۔ راسخ اس نقاش کے روئے زیبا کے دیدار کے لیے کہتے ہیں کہ اپنے اندر سے خودی بمعنی کبر و نخوت کا مٹانا ضروری ہے۔ یہ ہم سب جانتے ہیں کہ اقبال سے پہلے اردو شاعری میں خودی کا مفہوم یہی تھا۔ راسخ کہتے ہیں:

خودی ہے تیری نقاب اُس کے روئے زیبا کا

اٹھا دے اس کو اگر شوق ہے تماشا کا

اسی خودی اور کبر و نخوت کو راسخ نے ایک جگہ ’بتِ پندار‘ بھی کہا ہے اور اہلِ تصوف کے یہاں اس بُتِ پندار کا توڑا جانا بہت ہی اہم مانا گیا ہے۔ شعر ہے:

شیخ اس بُت شکنی پر نہ ہو اتنا مغرور

تونے توڑا نہیں اپنا بُتِ پندار ہنوز

کبیر نے بھی اسی بت پندار کے توڑنے کی بات کی ہے۔ بُت پندار کو اہنکار سے بھی موسوم کرتے ہیں۔ کبیر کے دو دوہے پیش کرتا ہوں:

مایا تجی تو کیا بھیا مان تجا نہیں جائے

مان بڑے مُنی ورگلے مان سبن کو کھائے

(دولت تج دیا تو کیا ہوا، عزت کی چاہ نہیں جاتی، عزت کی چاہ میں بڑے بڑے فقیر اور مُنی ختم ہوگئے۔ اس نے سب کو کھالیا۔)

جِہنہ آپا، تِہنہ آپدا جِنہہ سنسے، تِنہہ سوگ

کہہِ کبیر کیسے مٹیں چاروں دیرگھ روگ

(جہاں اہنکار (آپا) ہے وہاں مصیبت ہے، جہاں شک ہے وہاں غم ہے۔ کبیر کہتا ہے کہ یہ چاروں مرض گمبھیر ہیں، کیسے مٹیں گے؟)

اُس نقاش ازل یا ذات مطلق کے پر تو کے لیے غور و فکر اور تامل و تدبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ راسخ اپنے باطن کی سیر کرنے کی بات بھی کرتے ہیں:

طلسمِ تن کو تامل سے سیر کر غافل

بنانے والا بھی اس کا، اسی میں پنہاں ہے

شایدیہی وہ منزل ہے جہاں یہ حدیث قدسی بھی پیش کی جاسکتی ہے جو سفر سلوک کے لیے مشعل راہ ہے: مَن عَرفَ نفسہٗ فَقَد عَرفَ رَبّہٗ یعنی جس نے اپنے نفس کو پہچانا گویا اس نے اپنے رب کو پہچانا۔ راسخ اپنے باطن میں اترنے کی بات کرتے ہیں:

بھٹک مت جو طالب ہے راہ خدا کا

تجھی میں تو جلوہ ہے اس خود نما کا

میر نے اسی مضمون کو کچھ یوں پیش کیا ہے:

پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تئیں

معلوم اب ہوا کہ بہت میں ہی دور تھا

آئیے پھر ذات واحد کے وجود کی بات کرتے ہیں جو کائنات اور اشیاء کائنات میں جلوہ گر ہے۔

راسخ نے اس حوالے سے آئینہ اور پردے کا استعمال بھی کیا ہے۔ راسخ افراط تجلی کو وجود مطلق کے لیے رخنہ تصور کرتے ہیں، اسی لیے وہ کہتے ہیں:

مانعِ دید ہے افراط تجلی ان کی

وے نظر آویں اگر تاب ہو بینائی کو

اگر ذات مطلق نظر نہیں آتا تو اپنی بینائی کا قصور ہے۔ میر نے بھی کہا تھا: سمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنی قصور تھا۔

یہ دنیا جو مثل ایک پری خانہ کے ہے اُس کا صانع ایسا ہے جس کے لیے ہر عقل مند کے اندر دیوانگی ضروری ہے۔ راسخ کو سنیے:

یہ پری خانہ جہاں کا، صنعت اک صانع کی ہے

حیف اس عاقل پہ جو یاں اُس کا دیوانہ نہ تھا

صوفیہ کے یہاں دل کے تزکیے کی بات بہت کی جاتی ہے۔ اس لیے کہ خداکا گھر دل ہی ہوتا ہے۔ اگر دل آلائشوں سے پاک نہیں تو رُخ یار سے محرومی مقدر ہوگی۔ اشعار دیکھیے:

کاش یوں تیرہ نہ یہ آئینۂ دل ہوتا

صاف ہوتا تو رُخِ یار کے قابل ہوتا

دلِ ناصاف کیوں کر جلوۂ معشوق کی جا ہو

تمنا ہے کسی صورت یہ آئینہ مصفّا ہو

اہل تصوف کے نزدیک تزکیۂ نفس کے لیے لذّت دنیا اور ہوس پرستی سے دوری ناگزیر ہے۔ اسی لیے راسخ نے بھی تصوف کے انسلاکی عوامل کو جگہ جگہ پیش کیا ہے:

دل ہوس والوں کے محروم اُس کے  پر تو سے رہے

جلوہ گاہِ داغِ جاناں سینۂ ابرار تھا

ہفت اقلیم کا خیال عبث

آرزوئے  جہاں ستانی  ہیچ

ترکِ لذّات کی لذّت نہ ہوئی ہم کو نصیب

یہ مزا کاش ہمارے تئیں حاصل ہوتا

راسخ تو کچھ ایسے شدت پسند بھی ہوجاتے ہیں کہ دنیا کو ’قحبۂ رعنا‘ سے بھی موسوم کرنے میں گریز نہیں کرتے:

جہاں ہے قحبۂ رعنا تمھیں گر ہوتی بینائی

تو اے اہل جہاں اس کے تمنائی نہ ہوتے تم

سید امداد امام اثر لکھتے ہیں:

’’حضرت راسخ مرحوم فقیر طبیعت اور فقیر دوست آدمی تھے۔ اکثر شاہ باقر کے تکیے پر قیام رکھتے تھے۔ اہل دولت سے کم ملتے تھے، صحبت فقرا میں ہمیشہ رہتے تھے۔ تبھی تو ان کے کلام میں اس قدر مزا ہے۔ بے فقیر دل ہوئے نہ کلام پُرتاثیر ہوا ہے نہ ہوگا۔‘‘                    (کاشف الحقائق، مرتبہ: وہاب اشرفی، ص 378)

دنیا اور اس کے حسن یا تعلق سے الگ ہونے کی بات تمام صوفی شعرا نے کی ہے۔ مگر خیال رہے کہ اسلامی تصوف میں بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اسلام میں رہبانیت کی گنجائش نہیں، اس کے ساتھ چلتے ہوئے وحدت وجود کے اقرار کو بحال کرنا ہوتا ہے۔ کبیر نے بھی دنیا، اس کی بھوک یا اس سے تعلق خاطر کو بھگتی کے لیے مضر سمجھا ہے:

جب لگ ناتا جگت کاتب لگ بھکتی نہ ہوئے

ناتا تورے ہر بھجے بھکت کہاوے سوئے

کبیر چھُدھا ہے کُوکری کرت بھجن میں بھنگ

باکو ٹکرا ڈار کے سُمرن کرو نِسنک

(اے کبیر بھوک کیتا کی طرح ہے جو خدا کی یاد میں خلل انداز ہوتی ہے۔ اُسے ایک ٹکڑا دے کر خدا کا ذکر اطمینان سے کرو۔)

آپ غور کیجیے کہ جہاں کبیر دنیا اور اس کی بھوک یا دنیا کے حرص کو کُتیا گردانتے ہیں، راسخ اسے ’قحبۂ رعنا‘ سے یاد کرتے ہیں۔ راسخ دنیا کی لذتوں کو اور ہفت اقلیم کے حصول کو قُرب الٰہی کے راستے میں رخنہ اندازی تصور کرتے ہیں۔ راسخ کا ماننا یہ بھی ہے کہ دنیا کی لذت کا ترک کرنا مشکل ہے، لیکن اس میں جو مزا ہے اس کی تفہیم کے لیے ذوق صحیح کا ہونا لازمی ہے:

مت کہہ کہ ترکِ لذتِ حِسّی قبیح تھا

وہ سمجھے یہ مزا جنھیں ذوق صحیح تھا

عرض یہ کرنا ہے راسخ نے تصوف کے انسلاکی اور وحدت الوجودی عوامل و عناصر کو اپنی شاعری میں بہت ہی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ مرنجان مرنج ہونے کی بات ہو یا افتادگی میں رفعت و بلندی کی، ترکِ لذتِ دنیا کی بات ہو یا تمام عالم اور اس کے ذرّے ذرّے سے ذات مطلق کے ظہور کی، راسخ نے آخر کار اپنی بیاض کے صفحات پر تخلیقی ہنرمندی سے جو نقوش ابھارے ہیں، ان میں تازگی بھی ہے اور وارفتہ کردینے کی قوت بھی۔ یہ شعر ملاحظہ کیجیے اور راسخ کی فکری بلندی کی داد دیجیے:

کوئی درپردہ کارفرما ہے

ڈھب سے اس کارگہہ کے پیدا ہے

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
حجاب کیوں؟ – ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
اگلی پوسٹ
اسلامی حجاب :بعض اعتراضات کا جائزہ – ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

یہ بھی پڑھیں

جون ؔ ایلیا اور اس کی غزلیہ شاعری...

جولائی 30, 2026

طنزیہ اسلوب کا انوکھا شاعر: ظفر صدیقی –...

جولائی 4, 2026

برگِ سخن کی بات ہے دل تھام لیجیے...

جنوری 31, 2026

نوجوان شعراء کی نئی نسل: سفر، سفیر اور...

اکتوبر 11, 2025

صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ –...

مئی 5, 2025

 ایک اسلوب ساز شاعر اور نثر نگار شمیم...

جنوری 20, 2025

حسرت کی سیاسی شاعری – پروفیسر شمیم حنفی

جنوری 15, 2025

غالب اور تشکیک – باقر مہدی

جنوری 15, 2025

غالب: شخصیت اور شاعری: نئے مطالعے کے امکانات...

دسمبر 17, 2024

غالب اور جدید فکر – پروفیسر شمیم حنفی

دسمبر 9, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (61)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (187)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (121)
  • تخلیقی ادب (602)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (203)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (145)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,055)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (540)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (220)
      • غزل شناسی (207)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (47)
    • طب (20)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (13)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (481)
  • گوشہ خواتین و اطفال (100)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,143)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (35)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (901)
    • خصوصی مضامین (128)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (230)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں