"پہلے دن بیت بازی مقابلہ، تحریک آزادی اور اردو موضوع پر سیمینار، صوبائی مشاعرہ اور محفل قوالی جیسے بہترین پروگرامس ہوئے منعقد ”
مدھیہ پردیش اردو اکادمی، محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام آزادی کا امرت مہوتسو کے تحت تین روزہ ’’جشن اردو‘‘ کا آغاز ۳، مارچ، ۲۰۲۲ کو صبح 11 بجے بیت بازی مقابلے سے ہوا.
پروگرام کی شروعات میں اردو اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے جشن اردو کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مدھیہ پردیش اردو اکادمی اور محکمۂ ثقافت سبھی کی یہ کوشش ہے کہ جو بھی پروگرام محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام منعقد ہوں وہ زبان و ادب کے فروغ کے نظریہ سے بامقصد ہوں۔ اردو اکادمی نے بھی پورے سال مندرجہ بالا مقاصد کو مد نظر رکھتے ہوئے پروگرام منعقد کیے۔ اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے جشن اردو۔ یہ جشن پوری طرح آزادی کے امرت مہوتسو کے تحت منایا جارہا ہے اور سبھی پروگرام آزادی کے امرت مہوتسو کو موسوم ہیں.
پہلے دن کے پہلے اجلاس میں بیت بازی مقابلہ ہوا جس میں بھوپال کی چھ ٹیموں نے حصہ لیا. بیت بازی مقابلے میں بھوپال کے بزرگ استاد پروفیسر عبدالشکور بطور مہمان خصوصی موجود رہے اور حکم صاحبان کے طور پر شہر کے سینئر شعراء ایاز قمر اور قاضی ملک نوید موجود تھے جن کے متفقہ فیصلے سے ٹیم جگناتھ آزاد کے شکیل خان اور انس خان نے اول، ٹیم کیف بھوپالی کے سرفراز علی اور دانش خان نے دوم اور ٹیم غالب کے عاکف خان نے سوم مقام حاصل کیا. تمام فاتحین کو 5 مارچ کو اختتامی اجلاس میں انعامات سے نوازا جائے گا. پہلے اجلاس کی نظامت کے فرائض بدر واسطی نے انجام دیے.
دوسرے اجلاس میں تحریک آزادی اور اردو کے حوالے سے سیمینار منعقد کیا گیا جس میں نوئڈا سے تشریف لائے پدم شری اخترالواسع، بھوپال سے ضیا فاروقی اور نفیسہ سلطانہ انا تحریک آزادی میں اردو زبان کے کردار کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی. ممتاز دانشور پدم شری اختر الواسع نے تحریک آزادی کی ابتدا 1757 سے لے کر 1947 تک کے جتنے بھی تاریخی واقعات پیش آئے ان میں اردو زبان کے کردار پر وضاحت کے ساتھ روشنی ڈالی.اپنے صدارتی خطبہ میں سہ روزہ جشن اردو اور تحریک آزادی اور اردو کے عنوان سے اہم سیمینار کے انعقاد کے لئے مدھیہ پردیش اردو اکادمی اور اس کے ذمہ داران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اردو کے بغیر تحریک آزادی کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ انقلاب زندہ آباد کا نعرہ دینے والے حسرت موہانی اردو کے ہی صحافی تھے۔ اسی طرح ملک کی آزادی کے لئے بغاوت کے جرم میں ملک کا جو سب سے پہلا صحافی انگریزوں کے ذریعہ قتل کیا گیا، وہ مولوی محمد باقر تھے ۔ اسی طرح آپ دیکھیں تو اردو صحافت نے تحریک آزادی میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔ اردو نے ہندوستانیوں میں شعور کی بیداری کرنے میں ، ہندوستانیوں کو تحریک آزادی کے لئے منظم کرنے میں جو کلیدی کردار ادا کیا ہے اس سے آپ انکار نہیں کرسکتے ہیں ۔ اور جب ہم اردو کی بات کرتے ہیں تو اس میں کسی ایک مذہب کے لوگ شامل نہیں تھے ، بلکہ بلا لحاظ قوم وملت سبھی قوموں کے لوگ اس میں شامل تھے. معروف ادیب اور شاعر اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے تحریک آزادی میں اردو صحافیوں کے ساتھ اردو شعرا کی عظیم قربانیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔ ضیا فاروقی کہتے ہیں کہ آج جب ملک کی آزادی کی بات ہوتی ہے ، تو نئی نسل اردو کے فنکاروں کی عظیم قربانیوں سے جب لا علمی کا مظاہرہ کرتی ہے تو افسوس ہوتا ہے۔ اس طرح کے سمینار کے انعقاد سے نئی صرف تاریخ کے گرد آلود گوشے منور ہوتے ہیں بلکہ نئی نسل کو بھی اپنے اسلاف کی تاریخ کو قریب سے جاننے کا موقع ملتا ہے ۔
اس اجلاس کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد اعظم نے انجام دیے.
تیسرے اجلاس میں صوبائی مشاعرے کا انعقاد کیا گیا جس میں صوبے کے مختلف شہروں سے شعراء نے شرکت کی. اس مشاعرے کی صدارت سینئر شاعر ڈاکٹر ضیا رانا نے کی. جن شعراء نے اپنا کلام پیش کیا ان کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں.
نعیم راشد، حمید گوہر، زاہد بھوپالی، مسعود بیگ تشنہ ،ساجد پریمی، اشوک مزاج بدر، منیش جین، سلیمان آزر، دیپک جین، ایم اے کمال، فاضل فیض اور ابھے شکلا. اس مشاعرے کی نظامت کے فرائض منان فراز نے انجام دیے.
پہلے دن کا اختتام معروف قوال استاد چاند قادری کے ذریعے پیش کی گئی قوالیوں سے ہوا. اس اجلاس میں مہمان خصوصی کے طور پر ڈائریکٹر سنسکرتی ادییتی کمار ترپاٹھی موجود رہے. ان کے ذریعے قوالوں کا استقبال ہوا. استاد چاند قادری نے حب الوطنی اور تصوف پر مبنی قوالیاں پیش کر ماحول کو وجد آفریں کردیا. اس اجلاس کی نظامت کے فرائض ثمینہ صدیقی نے انجام دیے.
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

