سوال:
مہرِ فاطمی کو آپ کس انداز میں دیکھتے ہیں؟ کسی مسلمان عورت کا نکاح مہرِ فاطمی کے علاوہ نبیؐ کی دوسری صاحب زادیوں کے مہر کے حساب سے صحیح ہوگا یا نہیں؟ اس میں کون سا افضل ہوگا؟
جواب:
نکاح کے دوران جن کاموں کی انجام دہی کی تاکید آئی ہے ان میں سے ایک مہر بھی ہے ۔ اگرچہ وہ نہ نکاح کے ارکان میں سے ہے نہ اس کی شرائط میں سے ، لیکن اس کی ادائی پر بہت زور دیا گیا ہے۔
مہر اتنا ہی طے کرنا چاہیے جتنا شوہر آسانی سے ادا کرسکے ۔ بہت زیادہ مہر مقرر کرنے کو فخر و مباہاۃ کی چیز سمجھ لیا گیاہے ، حالاں کہ یہ چیز شرعی اعتبار سے بھی غلط ہے اور عقلی اعتبار سے بھی ۔ ایک مرتبہ حضرت عمر بن الخطابؓ نے صحابہ کرام کے درمیان خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : ’’ لوگو ! بہت زیادہ مہر مقرر کرنے سے اجتناب کرو ۔ اگر یہ کوئی اعزاز و اکرام کی چیز ہوتی تو رسول اللہ ﷺ ایسا ضرور کرتے ، حالاں کہ آپؐ نے جن خواتین سے نکاح کیا ان میں سے کسی کو بارہ(12) اوقیہ سے زیادہ مہر نہیں دیا اور آپؐ نے اپنی صاحب زادیوں میں سے بھی کسی کا مہر اس سے زیادہ مقرر نہیں فرمایا ۔ ‘‘ (سنن ابی داؤد ، کتاب النکاح ، باب الصداق ، 2107)
امام ابوداؤد نے وضاحت کی ہے کہ ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتاہے ۔ اس اعتبار سے بارہ(12) اوقیہ 480 درہم کے برابر ہوئے ۔ ایک دوسری روایت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے ۔ ان سے کسی نے دریافت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج کا کیا مہر طے فرمایا تھا ؟ انھوں نے جواب دیا : ساڑھے بارہ اوقیہ(سنن ابی داؤد ، حوالۂ سابق ، 2105) یہ مقدار پانچ سو (500) درہم کے برابر ہوتی ہے ۔
آں حضرت ﷺ نے اپنی دوسری صاحب زادیوں کے لیے جو مہر طے فرمایا تھا وہی حضرت فاطمہؓ کا بھی مہر تھا ۔ اس کو الگ سے کوئی انفرادی اور امتیازی حیثیت حاصل نہیں ہے ۔ مہرِ فاطمی کو سنّت قرار دیا جاتاہے ، لیکن اسے اس معنیٰ میں سنّت سمجھنا غلط ہے کہ اس سے کم یا اس سے زیادہ مہر طے کرنا غیر افضل ہے ۔ اس معاملے میں درست رویّہ یہ ہے کہ مہر حیثیت کے مطابق متعین کرنا چاہیے ۔ کم یا زیادہ کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔ صحابہ کرام ، جو اتباعِ سنّت کے بہت زیادہ مشتاق رہتے تھے – ان کے بہ کثرت واقعات مروی ہیں کہ انھوں نے کم سے کم مہر پر نکاح کیا ۔
ہندستانی وزن کے اعتبار سے ایک درہم ایک چوتھائی تولے سے کچھ زیادہ ہوتا ہے ۔ اس لحاظ سے مہر فاطمی 500 درہم کی مقدار 131 تولہ 3 ماشہ چاندی کے برابر ہے ۔ یہ تحقیق مشہور عالمِ دین مولانا مفتی محمد شفیع عثمانیؒ کی ہے ۔ (ملاحظہ کیجیے اسلامی فقہ ، مولانا مجیب اللہ ندوی، تاج کمپنی دہلی، 1992، 58/2) یہ مقدار انگریزی وزن کے اعتبار سے ایک کلو پانچ سو اکتیس (1531) گرام کے برابر ہے ۔ اگر کوئی شخص مہرِ فاطمی پر نکاح کرتا ہے تو اسے اس مقدار کی چاندی کی مالیت کے برابر روپیہ ادا کرنا ہوگا ۔
[ شائع شدہ : زندگی کے عام فقہی مسائل ، جلد سوم ]
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

