Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
غزل شناسی

معاصر اردو غزل کا اسلوب:  ایک تمہیدی مطالعہ – ڈاکٹر مستفیض احد عارفی

by adbimiras مارچ 24, 2022
by adbimiras مارچ 24, 2022 0 comment

قدرت نے ہر شئے کو ایک اندازئہ خاص پر پیدا کیا ہے اس کا اطلاق کائنات کی ہر چھوٹی بڑی چیز پر ہوتا ہے انسان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ وضع قطع شکل و شباہت اور رنگ و آہنگ کے اعتبار سے ایک انسان دوسرے انسان سے جدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر شخص کا اپنا ایک مخصوص انداز اور طرز عمل ہوتا ہے۔ یہ انداز شخص کے انہیں اوصاف تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس پر فطری ساخت، طبعی افتاد اور جغرافیائی عوامل بھی اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔ اس طرح ایک مزاج پیدا ہوتا ہے ایک طریقہ بنتا ہے اور ایک روش قائم ہوجاتی ہے ۔ اسلوب کا خمیر اسی میں مضمر ہے۔ فنون لطیفہ اور فنکار بھی اس سے الگ نہیں۔ فن اور فنکار کی عظمت اسلوب کی وجہ سے ہے۔ موضوع کی نیرنگی ، معنی آفرینی ، مشاہدہ، تخیل اور دوسرے لوازم اسلوب کے محتاج ہوتے ہیں او راسلوب فنکار کے طبعی خمیر میں موجود ہوتا ہے یہ قدرت کی طرف سے ملنے والی وہ نعمت ہے جس سے فنکار کا انفرادی رنگ و آہنگ طئے کیاجاتا ہے۔ عام طور پر اسلوب کسی بھی شخص سے مختص ہے۔ جس سے صناعی، کاریگری اور طرز عمل کا مزاج و آہنگ معلوم کیا جاتا ہے۔ مثلاً مجسمہ سازی سے مجسمہ ساز کا،نقاشی سے نقاش کا،مصوری سے مصور کا وغیرہ وغیرہ لیکن ارباب ادب نے اسلوب سے مراد کسی بھی لکھنے والے کی اس انفرادی طرز نگارش سے لیا ہے۔ جس کی بناپر وہ دوسرے لکھنے والوں سے متمیز ہوجاتا ہے۔

واضح رہے کہ انفرادی آہنگ یا طرز نگارش کا تعلق زبان و بیان سے ہے اور زبا ن و بیان ادب کا لازمی جزو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی لوگ اسلوب سے ادبی زبان مراد لیتے ہیں ۔ اور اسلوب کو اچھی مؤثر اور خوبصورت تحریر کی خصوصیت سمجھتے ہیں۔ تحریر کی خصوصیت اور مؤثر طرز تحریر اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ آیا مؤثر اور خوبصورت ہونے کی وجہ کیا ہے؟ اس مسئلے کا حل لسانیات کے ماہروں نے تجزیاتی ، استدلالی اور معروضی انداز میں وضاحت و صراحت سے پیش کیا ہے اور اسے اسلوبیاتی مطالعہ کے دائرے میں رکھا ہے۔

اردو شاعری میں اسلوبیات کا مطالعہ بنیادی طور پر شاعری کے مواد، لفظیات ، صنائع و بدائع اور اس کی ہیئت کا مطالعہ ہے۔ شاعری داخلی اور خارجی معنیات و لفظیات کے اشتراک سے وجود میں آتی ہے۔ اس طرح شاعر، شعری تکنیک اور اس کے سارے لوازم مثلاً لفظوں کا رکھ رکھائو رعایت لفظی، بحروں کا انتخاب ، قافیہ کا التزام اور تشبیہات و استعارات کو ترتیب دیتا ہے پھر موضوعی رنگ و مزاج کو اک آہنگ عطاکرتا ہے۔ جو سننے والوں کے وجدان کو اپیل کرتا ہے۔ اس لئے لازمی ہوجاتا ہے کہ شعر کا معنوی اور لفظی نظام، صوتی حسن، تشبیہات و استعارات ہیئت کے داخلی اور خارجی موضوعات پر فطری اطلاق کرتا ہو، ورنہ شاعری میں شاعرانہ آہنگ کے رہنے سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ غرض شاعری کا لسانی اور عروضی نظام کیا ہے؟ شعر کے فکری، جذباتی ، تخیلی ، جمالیاتی اور وجدانی اوصاف کیا ہیں ؟ اور اس کا پس منظر کیا ہے؟ یہ سب اسلوبیاتی مباحث ہیں اور اسی کا مطالعہ اسلوبیات ہے۔

اردو کی غزلیہ شاعری میں مجموعی طور پر اسلوبیاتی مطالعہ کے تعلق سے بہت کم لکھا گیا ہے۔ حالیہ برسوں میں اہل قلم کی اس جانب توجہ مرکوز ہوئی ہے اور وقتاً فوقتاً اس سے متعلق مضامین شائع ہوتے رہے ہیں لیکن اسے تشفی بخش نہیں کہا جاسکتا ۔ آزادی کے بعد کی غزلیہ شاعری کا منظر اور معاصر شعرا کا اس میں کیا اختصاص ہے اس کا اب تک تعین نہیں ہوسکا ہے ۔ اس لئے اسلوبیاتی مطالعہ کے تناظر میں اردو غزلیہ شاعری کا مطالعہ کیا جانا لازمی ہے۔ لب و لہجہ اور ہیئت کے اعتبار سے اردو غزل اصناف شاعری میں امتیاز رکھتی ہے اس کی داخلی شرشت میں واقعی کوئی جادو ہے جو ہر زمانے میں سر چڑھ کر بولتی ہے۔ قلی قطبؔ شاہ، ولیؔ دکنی، میرؔ، غالبؔ، داغؔ، شادؔعظیم آبادی ، اقبالؔ، حسرت موہانیؔ، جگر مراد آبادیؔ، فانی بدایونیؔ، یگانہ چنگیزیؔ اور فراقؔ گورکھپوری سے لے کر ترقی پسندی ، جدیدیت اور مابعد جدیدیت تک کا کوئی بھی زمانہ ایسا نہیں جس میں غزلیہ شاعری کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا ہو۔ یہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ غزلیہ شاعری کی مخالفت ہوئی لیکن یہ اختلاف عین فطرت تھا کہ سماج میں ہونے والی تبدیلی ایک زندہ قوم کی ضامن ہوا کرتی ہے اسی تناظر میں غزلیہ شاعری کے ارتقائی مراحل کو دیکھنا چاہئے ۔ واضح رہے کہ مخالفت غزلیہ فورم سے نہیں بلکہ غزلیہ شاعری میں روایتی موضوعات اور منتشر الخیالی سے تھی۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ غزلیہ شاعری میں نہ صرف موضوعاتی تبدیلی آئی بلکہ زبان کی سطح پر تشبیہات و استعارات، لفظیات و معنیات اور صنائع بدائع کے استعمال میں بھی تبدیلی واقع ہوئی۔ پھر یہ کہ غزل کی ہیئت میں اک تجربہ ہوا جسے آزاد غزل کا نام دیا گیا۔ اس سب کا واضح اثر یہ ہوا کہ غزلیہ شاعری میں لفظی ، معنوی، صوتی، جمالیاتی، تخیلی اور لسانی تکنیک میں بھی تبدیلی آئی۔ رمزیت، اشاریت ، ایمائیت ، تحیر آمیزی ، خوابناکی ، بیداری، ہوشیاری اور حسرت و یاس وغیرہ غزلیہ شاعری کے بنیادی اوصاف ہیں اس کا رنگ و آہنگ حالیہ شاعری میں ایک نئے انداز کا ہے اس کا مطالعہ اسلوبیات کے تناظر میں کیا جانا لازمی ہے۔ اس سے قبل کہ میں اپنے موضوع کی وضاحت میں مزید کچھ کہوں ۱۹۶۰ئ کے بعد کی اردو غزلیہ شاعری سے چند منتخب اشعار پیش کرتا ہوں:

کیا ساتھ چل سکے گی اے گردش زمانہ

اب اک نئے سفر پر جانا ہے آدمی کو

خلیل الرحمان اعظمی

سچ تو یہ ہے کہ تیری آنکھوں نے

میکدے کو سنبھال رکھا ہے

’’

نہ اتنی تیز چلے سر پھری ہوا سے کہو

شجر پہ ایک ہی پتہ دکھائی دیتا ہے

شکیب جلالی

آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا

کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا

بشیر بدر

لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں

تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں

’’

نہ وہ محفل جمی ساقی نہ پھر وہ دور جام آیا

تیرے ہاتھوں میں جب سے میکدہ کا انتظام آیا

کلیم عاجز

تم اہل انجمن ہو جس کو چاہو بے وفا کہہ دو

تمہاری انجمن ہے تمکو جھوٹا کون سمجھے گا

’’

یہ جو آئینے پہ غبار ہے یہ تیری نظر کا فشار ہے

جنہیں تھا سنورنے کا حوصلہ اسی آئینے میں سنور گئے

جمیل مظہری

ان ہی پتھروں پہ چل کر اگر آسکو تو آئو

مرے گھر کے راستے میں کہیں کہکشاں نہیں ہے

مصطفی زیدی

یہ کہہ کر مجھ کو چھوڑ گئی روشنی کل رات

تم اپنے چراغوں کی حفاظت نہیں کرتے

ساقی فاروقی

دنیا پہ اپنے علم کی پرچھائیاں نہ ڈال

اے روشنی فروش اندھیرا نہ کر ابھی

’’

زنداں کی ایک رات میں کتنا جلال تھا

کتنے ہی آفتاب بلندی سے گر پڑے

حسن نعیم

میٹھے تھے جن کے پھل وہ شجر کٹ کٹا گئے

ٹھنڈی تھی جس کی چھائوں وہ دیوار گر گئی

ناصر کاظمی

کشتیوں کی قیمتیں بڑھنے لگیں

جتنے صحرا تھے سمندر ہوگئے

مظہر امام

اتنی دیواریں اٹھی ہیں ایک گھر کے درمیاں

گھر کہیں گم ہوگیا دیوار و در کے درمیاں

مخمور سعیدی

بڑا گہرا تعلق ہے سیاست سے تباہی کا

کوئی بھی شہر جلتا ہے تو دلی مسکراتی ہے

منور رانا

آواز مری لوٹ کے آتی ہے مجھی تک

اے کاش میرا شہر بیاباں نہیں ہوتا

جمال اویسی

خدا مصروف رہتا ہے تمہیں فرصت نہیں ملتی

تو پھر اس شہر میں آخر قیامت کون کرتا ہے

خالد عبادی

زمیں پہنی گئی اور آسماں اوڑھا گیا برسوں

بدن کی خانقاہوں میں خدا سویا رہا برسوں

خورشید اکبر

آئینہ دیکھ کر خیال آیا

تم مجھے بے مثال کہتے تھے

پروین شاکر

کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے

بات تو سچ ہے پر بات ہے رسوائی کی

پروین شاکر

کمال ضبط کو میں بھی تو آزمائوں گی

میں اپنے ہاتھ سے تیری دلہن سجائوں گی

’’

تم کو آنا ہے آجاؤ بصد شوق یہاں

اب بھی حالات میں تھوڑی سی لچک باقی ہے

’’

یہاں گردش زمانہ، نیا سفر، آنکھ، میکدہ ، سرپھری ہوا، شجر، پتہ، دل، کشتی، سمندر، مسافر، گھر، بستیاں، محفل، ساقی، جام، ہاتھ، میکدہ کا انتظام ، اہل انجمن، بے وفا، علم کی پرچھائیاں ، روشنی، چراغ، روشنی فروش، اندھیرا، زنداں ، جلال، آفتاب، ماہتاب، بلندی، پھل، دیوار، صحرا، بیاباں، ویرانہ، بادل، آگ، اجالا، سیاست، تباہی، مسکرانا، آواز، آئینہ، قسمت، لکیر، رسوائی، سچ، جھوٹ، آزمانا، مقتل، زمیں، آسماں ، خانقاہ، دستور وغیرہ لفظیات اور ان کی تکنیک پر غور کیجئے تو شعر میں مفہوم، تجربہ اور خیال کے رنگ و آہنگ کا ایک نیا کینوس نظر آئے گا۔ اصل میں غزلیہ شاعری کا جو جمالیاتی کینوس ہے وہ انداز نگارش، یعنی اسلوب میں پنہاں ہے اس لئے کہ خیال، مفہوم،تجربہ اور مشاہدہ شاعری کے کسی بھی فورم میں ادا کیا جاسکتا ہے۔ لیکن لسانیاتی، صوتی، نغمگی اور تخیلی حسن کی لذت آفریں ادا ہمیں غزلیہ شاعری سے ملتی ہے ورنہ دیکھا گیا ہے کہ موضوع اور ہیئت کی سطح پر تجربہ بھی ہوا لیکن کامیاب نہ ہوسکا۔ مثلاً آزاد غزل ہی کو لے لیجئے جس میں مفہوم، تجربہ اور مشاہدہ بھی ہے لیکن وہ شعریت اور تغزل نہیں جو غزل کی شان ہے شاعروں نے اس تغزل کو ہر دور میں برقرار رکھا ہے۔ ایسا اس لئے ممکن ہوا کہ ہر زمانے میں صاحب اسلوب شعرا پیدا ہوتے رہے ہیں۔ اس لئے اسلوب بدلتا بھی رہتا ہے ۔ یقینا غزلیہ شاعری میں اس کی روایت توانا رہی ہے۔ قلی قطبؔ شاہ، ولیؔ، میرؔ، غالبؔ اور اس کے بعد تقسیم ہند تک کی غزلیہ شاعری کی روایت کو دیکھ سکتے ہیں پھر آزادی کے بعد کی غزلیہ شاعری کا احاطہ بھی کر سکتے ہیں معلوم ہوگا کہ اسلوبیاتی سطح پر ہر ہوشمند شاعر اپنی پرچھائیں چھوڑ جاتا ہے۔ اس میں شخصیت کے تخلیقی عناصر پر فوکس کرنے کے جہاں بہت مواقع نظر آتے ہیں وہیں لفظوں کے انتخاب، استعمال، ترتیب و تنظیم اور تلازموں، استعاروں اور علامتوں وغیرہ کے التزام میں شاعر کے لہجے مزاج اور میلان کی جھلک ملتی ہے اس کا مطالعہ اسلوبیات کے تناظر میں ممکن ہے۔ اردو شاعری میں ایسے صاحب اسلوب شاعر بھی ملتے ہیں جنہوں نے فکر و خیال کی تکرار یا یکسانیت کے باوجود اسلوبیاتی لحاظ سے نئے رنگ و آہنگ کا نمونہ پیش کیا ہے۔ چنانچہ آزادی کے بعد غزلیہ شاعری کی روایت میں اگر تکرار خیال کی مثالیں ملتی ہیں تو اس میں اظہار و اسلوب کی ندرت تلاش کرنی چاہئے یقینا اس سطح پر تخلیقیت نمایاں ہوگی۔

ہم دیکھتے ہیں کہ جذبی، مجروح سلطانپوری، مجاز اور دیگر ترقی پسند شعرا نے اپنے ماقبل کلاسیکی شعرا سے استفادہ کیا ہے (شاعری میں استفادہ کرنے کی روایت ایک مستحسن عمل ہے) لیکن رنگ و آہنگ کے اعتبار سے ان لوگوں کی شاعری توانا ہے یہ کرشمہ سازی اصل میں حسن اظہار کی بدولت آتی ہے۔ اس کے علاوہ فراق گورکھپوری ،خلیل الرحمن اعظمی، افتخار عارف، ناصر کاظمی، ابن انشا ،کلیم عاجز، ندا فاضلی، حسن نعیم، شجاع خاور، پروین شاکر، عین تابش، احمد ندیم قاسمی، احمد فراز، بشیر بدر، شہر یار، عرفان صدیقی، مظہر امام ، مخمور سعیدی ، جون ایلیا، ساقی فاروقی، سلطان اختر جیسے صاحب اسلوب شاعروں کی ایک جماعت ہے جنہوں نے اردو غزلیہ اسالیب میں لسانیاتی، صوتیاتی ، تخیلی جمالیاتی اور نغمگی کے اوصاف کو ایک نیا جامہ عطا کیا ہے۔ جس سے تہذیبی، سیاسی، اقتصادی اور سماجی موضوعات کو حالیہ منظر نامہ میں واضح طریقے سے محسوس کیاجاسکتا ہے ۔ جدیدیت کے بعد اردو غزلیہ شاعری کا اک اور نیا دور آتا ہے ۔ اس دور کو ارباب ادب نے مابعدجدیدیت کا نام دیا ہے۔ اس دور میں مابعد جدید شعرا کے ساتھ ساتھ جدید شعرا بھی نظر آتے ہیں لیکن مابعد جدید صاحب اسلوب شعرا کا تخلیقی نظام قابل غور ہے اس میں شمیم قاسمی، فرحت احساس، عنبر بہرائچی، خورشید اکبر، عالم خورشید، منور رانا، جمال اویسی، خالد عبادی، راشد طراز، عبدالاحد ساز، عطا عابدی، منصور عمر اور راشد انور راشد وغیرہ سامنے کے شاعر ہیں جو آئے دن رسائل وجرائد کی زینت بنتے رہے ہیں۔ موضوعاتی سطح پر ان لوگوں کے یہاں جو تبدیلی ہے وہی تبدیلی جدیدیت والوں کے یہاں بھی تھی لیکن انسانی عظمت اور انسانی جاہ و جلال کے فقدان کا المیہ مذکورہ شعرا کے یہاں زیادہ ہے جس میں مادہ پرستی، بے حسی، بے ضمیری اور لاتعلقی کا عنصر اپنے کلائمکس کو پہونچا ہوا ملتا ہے۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ خاندان کا ٹوٹتا بکھرتا نظام آنکھوں کے سامنے لرزتا ، کانپتا اور بھاگتا منظر ، ان سوچی اور ان کہی باتوں کا ملال ، بھیر میں گم ہونے کا احساس اور مشینی زندگی پر جذبات کی قربانی حالیہ زمانے کی تصویر بن گئی۔ اس لئے مابعد جدید شعرا کا لہجہ سنسنی خیز ہے۔ تکنیکی اعتبار سے الفاظ و معانی اور شعر کی معنوی جہتوں کو مذکورہ شاعروں نے ایک نئی سمت عطا کیاہے۔ جس سے شاعری کی غایت عالمی اور مرکزی ہوگئی ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ آزادی کے بعد کی غزلیہ شاعری میں قلی قطب شاہ کی رومانی جذبہ ہے نہ ولی دکنی کا فارسی آمیز انداز۔ اس میں نہ میر کا عشق ہے نہ غالب کی فکر، اس میں نہ داغ کا چٹخارہ ہے نہ اقبال کی خودی اور نہ ہی اس میں اکبر کا تمسخر ہے نہ شاد کا کلاسیکی رچائو، اس سب کے باوجود یہ سنجیدہ مطالعے کا تقاضہ کرتی ہے تو ا س کا جواز کیا ہے؟ میرے خیال میں آزادی کے بعد کی غزلیہ شاعری جدلیاتی نظام ، منتشر الخیالی اور مادی وسائل سے پیدا ہوئے مسائل کی روداد ہے۔ آج حال یہ ہے کہ زندگی کے رنگ منچ پر روحانی کرائسس کا دور دورہ ہے۔ سائنسی نظام کے اس تپتے ہوئے صحرا میں ، مشروط زندگی ، ٹیکنکل زندگی، سیاسی جبر، دہشت گردی اور نسل کشی کا عمل جاری ہے تاجروں کی آمد و رفت ، اقتصادی پالیسی، سیاسی رکھ رکھائو، تعلیم وتدریس میں عملیت پسندی، پروفیشنل تعلیم اور ذرائع ابلاغ کی نئی تکنیک کی وجہ سے چہار جانب ایک ہنگامہ ہے جس میں سماج کی بچی کھچی قدریں اپنی تنزلی پر آنسو بہا رہی ہیں اس لئے افسردگی، بے بسی، لاچاری، خوفناکی، خوابناکی اور احساس کمتری کے علاوہ ماضی کو دہرانا، روایت کواپنانا اور جھنجھلاکر خود کو کوسنا بھی معاصر شعرا کی غزلیہ شاعری کا موضوعاتی اختصاص ہے۔ اور ان تمام موضوع کو برتنے میں شاعر کا جو بنیادی رنگ و آہنگ ہے وہ پہلے سے مختلف ہے اس کا تجزیہ کرنا اسلوبیاتی مطالعہ سے ممکن ہے کہ آخر ایک ہی موضوع پر شاعر کا اسلوب جدا کیوں ہے؟ مثلاً مابعد جدید کے شاعروں کو ہی لے لیجئے تو معلوم ہوگا کہ خیال، تجربہ، مفہوم اور مشاہدہ میں یکسانیت کے باوجود کسی کا تیور تیکھا ہے تو کسی کا سادہ۔ کسی کے یہاں طنطنہ ہے تو کسی کے یہاں سپاٹ پن۔ کہیں سادگی و پرکاری ہے تو کہیں آرائش بیان۔ کہیں محتاط اظہار ہے تو کہیں غیر محتاط اظہار۔ اصل میں ایسا اس لئے ہوتاہے کہ ایک شاعر دوسرے شاعر سے نہ صرف شکل و شباہت اور رنگ و آہنگ میں مختلف ہوتا ہے بلکہ سوچنے سمجھنے کے انداز میں بھی مختلف ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ شاعر اپنی شاعری میں لفظیاتی و صوتی نظام اور صنائع بدائع کے استعمال میں اپنے معاصر شعرا یا دیگر شعرا سے متمیز ہوجاتا ہے۔

٭٭٭

Dr. Mustafiz Ahad Arfi

Assistant Professor

Department of Urdu

L.S.College, Muzaffarpur – 842001

Mob: 9955722260

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
۲۵؍مارچ کو ’جامِ جہاں نما‘ کے شہر کولکاتا سے بزمِ صدف انٹر نیشنل کا اردو صحافت دو صدی تقریبات کا آغاز
اگلی پوسٹ
بزمِ صدف انٹر نیشنل کی با وقار ایوارڈ تقریب ۲۶؍ مارچ کو حیدر آباد میں

یہ بھی پڑھیں

برگِ سخن کی بات ہے دل تھام لیجیے...

جنوری 31, 2026

نوجوان شعراء کی نئی نسل: سفر، سفیر اور...

اکتوبر 11, 2025

صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ –...

مئی 5, 2025

 ایک اسلوب ساز شاعر اور نثر نگار شمیم...

جنوری 20, 2025

حسرت کی سیاسی شاعری – پروفیسر شمیم حنفی

جنوری 15, 2025

غالب اور تشکیک – باقر مہدی

جنوری 15, 2025

غالب: شخصیت اور شاعری: نئے مطالعے کے امکانات...

دسمبر 17, 2024

غالب اور جدید فکر – پروفیسر شمیم حنفی

دسمبر 9, 2024

اردو شاعری میں تصوف کی روایت – آل...

دسمبر 5, 2024

غالب کی شاعری کی معنویت – آل احمد...

دسمبر 5, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں