(پریس ریلیز)
نئی دہلی: عدیل زیدی رہتے امریکہ میں ہیں اور خواب ہندوستان کا دیکھتے ہیں۔ ان کا اپنی مٹی کے تئیں احساس بہت پختہ ہے۔ہجرت کا کرب’’قرض جاں‘‘ کے ذریعہ ہی ادا ہوتا ہے، ان خیالات کا اظہار ممتاز دانشور پروفیسر اختر الواسع نے ’’قرضِ جاں‘‘ پر مذاکرے کی ایک تقریب میں کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ عدیل زیدی کا اردو سے کوئی پیشہ ورانہ تعلق نہیں ہے ، ان کا اردو سے وہی رشتہ ہے جو ماں کے دودھ سے ہوتا ہے، یہی چیز میرے نزدیک ان کو محترم بناتی ہے۔ عدیل زیدی کے شعری مجموعہ قرضِ جاں پر مذاکرے کا انعقاد ہوٹل ریویو ابو الفضل انکلیو، جامعہ نگر نئی دہلی میں کیا گیا تھا۔ اس تقریب کی نظامت کے فرائض معروف شاعر اور ناظم مشاعرہ معین شاداب نے بحسن و خوبی انجام دیے۔ اس موقع پر’’قرضِ جاں‘‘ کا اجرا بھی عمل میں آیا ۔
مذاکرے میں گفتگو کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق صدر شعبہ انگریزی پروفیسر انیس الرحمٰن نے کہا کہ عدیل زیدی نے بہت خوبصورت پیکر میں شاعری کو ڈھالا ہے۔ ان کی شاعری سہل اور آسان ہے ، اس میں پیچیدگی نہیں ہے ، ان کی شاعری میں ہجرت اور ماں کا حوالہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ انجمن ترقی اردو ہند کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر اطہر فاروقی نے کہا کہ عدیل زیدی کی شاعری بہت معنی خیز ہے۔ شاعری سے لطف اندوز ہونا الگ صلاحیت ہے اور شاعری کا علمی تجزیہ الگ بات ہے۔
حقانی القاسمی نے کہا کہ عدیل زیدی کا اردو سے معاش کا نہیں محبت کا رشتہ ہے۔ وہ تجارت سے وابستہ ہیں مگر اردو کی تجارت نہیں کرتے۔ عدیل زیدی کا کلاسیکی شاعری سے گہرا ربط اور تعلق ہے ہمیں ان کی شاعری کو ایک نئے زاویے سے پرکھنا ہوگا تبھی ان کی شاعری کی نئی موضوعی اور فنی جہتیں سامنے آئیںگی۔ ڈاکٹر خالد مبشر اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ نے عدیل زیدی کے شعری مجموعے کی ستائش کرتے ہوئے ان کے متنوع موضوعات اور اسلوب پر روشنی ڈالی اور عدیل زیدی کو موجودہ شعری منظرنامہ کا ایک معتبر نام قرار دیا۔ ڈاکٹر تالیف حیدر نے اردو سے ان کے مضبوط رشتے کے حوالے سے مختصر مگر جامع گفتگو کی۔ ڈاکٹر سالم سلیم نے کہا کہ عدیل زیدی کی شاعری میں رشتوں کی پامالی اخلاقی زبوں حالی کا بیانیہ بہت خوبصورت ہے۔ ان کے یہاں مٹی سے بچھڑنے کا کرب بہت زیادہ ہے۔ ڈاکٹر محمد عارف استاذ ہمدرد پبلک اسکول نئی دہلی نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ قرضِ جاں ان کے جذبات اور احساسات کا بہترین نمائندہ ہے۔ ’’قرضِ جاں‘‘ میں انہوں نے اپنی مٹی کا قرض ادا کیا ہے۔
مذاکرے میں شامل مقررین نے عدیل زیدی کے سہ لسانی شعری مجموعہ ’’قرضِ جاں‘‘ کی خوبصورت اشاعت اور ڈیزائننگ کے لیے سلام الدین خان ، مرکزی پبلیکیشنز کی ستائش کی اور مذاکرے کے اہتمام کے لیے شکریہ بھی ادا کیا۔ مذاکرے کی اس تقریب میں جن معتبر اور مقتدر شخصیات نے شرکت کی ان میں عدیل زیدی کے چچا زاد بھائی اعجاز مصطفیٰ اور قنبر مصطفیٰ کے علاوہ ڈاکٹر نفیس بانو، ڈاکٹر احمد علی جوہر، محمد انوارالحق ،محترمہ آسیہ خان، منظر امام، شمس تبریز قاسمی، ڈاکٹر عبدالرحمن، ڈاکٹر زاہد ندیم احسن، عبدالباری قاسمی، شاہنواز شمسی، ڈاکٹر ثمرین، ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی، ڈاکٹر خان محمد رضوان، کشفی شمائل، وغیرہ قابل ذکرہیں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

