ترنم ریاض کی ادبی خدمات کے عنوان سے کلکتہ گرلس کالج کا دو روزہ قومی سیمینار اختتام پذیر
ترنم ریاض کی فکشن نگاری کا اختصاص یہ ہے کہ کشمیر کی جنت نظیر سرزمین سے تعلق رکھنے والی اس فنکارہ کی تحریروں میں کشمیر کی تہذیب و ثقافت کی اٹھتی ہوئی بھینی بھینی خوشبو ذہن و دل کو معطر کر دیتی ہے۔ ماضی کے جاگیردارانہ عہد سے لے کر آج کے جمہوری دور تک کی پوری تاریخ کو انہوں نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار کلکتہ گرلس کالج کے زیر اہتمام منعقدہ دو روزہ قومی سیمینار کے دوسرے دن کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ونوبا بھاوے یونیورسٹی، ہزاری باغ کے صدر شعبہ اردو اور معروف منٹو شناس پروفیسر ہمایوں اشرف نے کیا۔ اس سیشن کی نظامت کے فرائض جناب دائم محمد انصاری (گیسٹ فیکلٹی، کلکتہ گرلس کالج) نے بڑی خوبصورتی سے انجام دیئے۔ پروفیسر ہمایوں اشرف نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ ترنم ریاض نے جس فنکارانہ طریقے سے باتیں کی ہیں اور جس غیر جانبداری کے ساتھ کی ہے ، وہ ان کے ہم عصروں میں نظر نہیں آتیں۔ ابھی جس طرح ایک فلم میں کشمیر کے مسئلے کو یک رخے انداز میں پیش کیا گیا ہے، وہ یک رخا پن ترنم ریاض کے یہاں نہیں ہیں بلکہ انھوں نے ہر پہلو پر کھل کر اور بے باک طریقے سے اپنی باتیں کہی ہیں۔ یہی خوبی ہے کہ وارث علوی جیسے سخت نقاد بھی ترنم ریاض پر 80 سے زائد صفحات لکھنے پر مجبور نظر آ جاتے ہیں۔
شعبہ اردو کلکتہ گرلس کالج، ڈاکٹر وامق الارشاد القادری نے ترنم ریاض کی افسانہ نگاری: ایک جائزہ کے عنوان مقالہ پیش کیا اور کہا کہ ترنم ریاض کے افسانے اپنے زمانے کی فنکارانہ عکاسی کرتے ہیں۔ شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر جناب اظہر سراج نے ”ترنم ریاض کی کہانیوں میں کشمیری مسائل کی عکاسی“ کے موضوع پر مقالہ پڑھتے ہوئے کہا کہ ترنم ریاض کشمیر سے تعلق رکھنے والی ایک ایسی فکشن نگار ہیں جن کے یہاں کشمیر کے مسائل بھرپور طریقے سے جگہ پاتے ہیں۔ وہ کشمیر کی واحد خاتون فنکارہ ہیں جنہوں نے کشمیر کی پانچ ہزار سالہ تاریخ کو بڑی خوبی کے ساتھ سمویا ہے۔ شعبہ اردو نرسنہا دت کالج کی لیکچرر زہرہ بانو نے ”ترنم ریاض کے افسانوں کے فکری و فنی ابعاد“کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ گھریلو مسائل، ساس بہو کے جھگڑے اور دیگر معاشرتی مسائل کو ترنم ریاض نے فنی باریکیوں کے ساتھ پیش کیا ہے۔ شعبہ اردو سریندر ناتھ ایوننگ کالج کی لیکچرر ڈاکٹر صوفیہ شیریں نے ”برف آشنا پرندوں کی ہم راز: ترنم ریاض“ کے موضوع پر مقالہ پڑھتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے مسائل کو کشمیر کی تاریخ اور تہذیب و تمدن کو پوری جزئیات کے ساتھ پیش کیا ہے اس لیے ان کا یہ ناول ایک دستاویزی اہمیت کا حامل بن گیا ہے۔ اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو، مگدھ یونیورسٹی ڈاکٹر ضیاء اللہ انور نے ”ہجر کا بیانیہ اور ترنم ریاض کے ماہیے“کے موضوع پر مقالہ پیش کیا اور کہا کہ ترنم ریاض کے ماہیے میں میرا بائی کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ ان کے ماہیوں میں کرشن سے ہجر کا درد بھی محسوس ہوتا ہے۔ لیکچرر شعبہ انگریزی، گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول، راجوری (جموں کشمیر) جناب شبیر احمد نے ”ترنم ریاض کی ادبی خدمات“ کے موضوع پر مقالہ پڑھتے ہوئے کہا کہ ترنم ریاض کے یہاں موضوعات اور فنی دسترس کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ انھوں نے علامتوں کے استعمالات کے باوجود اپنی بات کو قاری تک ترسیل کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ سیشن کے اختتام پر شکریے کی رسم ڈاکٹر امتیاز احمد نے نبھائی۔
دوسرے سیشن کی شروعات سے پہلے ڈاکٹر نعیم انیس کی ادارت میں شائع ہونے والے سہ ماہی رسالہ ”فکر و تحریر“کے نئے شمارے (جنوری تا مارچ 2022) کی رسم اجرا کی تقریب بھی عمل میں آئی۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر زین رامش نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صرف نو سال کی مدت میں اس رسالے نے جو شناخت بنائی ہے وہ قابل فخر ہے۔ جس جانفشانی کے ساتھ نعیم انیس صاحب نکال رہے ہیں، اس کے لیے وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے اس شمارے میں شامل صوفیہ شیریں کے افسانے اور معید رشیدی کی غزل کی تحسین کی۔ معروف نوجوان صحافی جناب رضی شہاب نے کہا کہ ترنم ریاض کے ساتھ برسوں آکاشوانی میں کام کرنے کے تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ ترنم ریاض ایک خلیق اور ملنسار خاتون تھیں۔ ان کی تانیثیت میں اور مغربی تانیثیت میں فرق ہے۔ وہ خود بھی جبری تانیثیت کے خلاف رہتی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فکر وتحریر جیسے رسالے نے معیار کے ساتھ کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ اور اس کی وجہ سے ہم جیسے ریسرچ اسکالرز کا کام آسان ہو گیا ہے۔ اس لیے اس رسالے کا تسلسل یوں ہی جاری رہنا چاہیے۔ رسم اجراء کی اس تقریب سے پروفیسر ہمایوں اشرف اور ڈاکٹر ضیاء اللہ انور نے بھی خطاب کیا۔ آخر میں کلکتہ گرلس کالج کی پرنسپل پروفیسر ستیہ اپادھیائے نے کہا کہ میں تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتی ہوں کہ کسی میگزین کو مسلسل نکالنے سے آسان کام ہے دو کتابیں شائع کرنا۔ نعیم انیس صاحب نو برس سے مسلسل رسالہ نکال رہے ہیں تو یقیناً وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ فکر و تحریر، کولکاتہ کے ادبی منظر نامے کا سرخیل رسالہ ہے۔ رسالے کے مدیر نعیم انیس نے اپنے طویل سفر اور ادارتی اصولوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس رسالے کو ہم نے خالص ادبی قدروں کا عکاس بنائے رکھنے کی کوشش کی ہے اور کبھی بھی تجارتی نقطہ نظر سے اس رسالے کو آگے بڑھانے کے بارے میں نہیں سوچا اور فکر و تحریر کے ہر شمارے میں ستر فیصد مضامین نئے قلمکاروں کے ہوتے ہیں۔
ظہرانے کے بعد تیسرے سیشن کا آغاز ہوا۔ اس کی صدارت ڈاکٹر نعیم انیس نے کی اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر ومیق الارشاد القادری نے انجام دیئے۔ سری رامپور گرلس کالج کی صدر شعبہ اردو ڈاکٹر فرزانہ شاہین نے ”ترنم ریاض کے افسانوں میں کشمیر“کے موضوع پر مقالہ پیش کر تے ہوئے کہا کہ ان کے افسانوں میں کشمیر کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ وہاں کے سیاسی و سماجی مسائل کی آمیزش بھی خوبصورت انداز میں ملتی ہے۔ کلکتہ گرلس کالج، شعبہ اردو کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر امتیاز احمد نے ”عصری حسیت اور ترنم ریاض کی شاعری“ پر مقالہ پڑھتے ہوئے کہا کہ ترنم ریاض کی نظمیں بھی کشمیر کے مسائل سے پُر ہیں۔ ان کی نظموں میں کشمیر میں برسراقتدار طبقے کی خوں ریزی اور لہو کی چھینٹا کشی کو جا بجا دیکھا جا سکتا ہے۔قریش انسٹیٹیوٹ، کولکاتہ کی اسسٹنٹ ٹیچر محترمہ فرزانہ پروین نے ”ترنم ریاض کے افسانوں کی امتیازی خصوصیات“ کے عنوان سے مقالہ پیش کیا جس میں انھوں نے ترنم ریاض کے افسانوں پر اجمالی گفتگو کی۔ شوپیان (کشمیر) سے تشریف لائے زاہد ظفر نے”ترنم ریاض کے ناول مورتی کا جائزہ“کے عنوان سے مقالہ پیش کیا۔ شعبہء اردو کلکتہ گرلس کالج کے گیسٹ لیکچرر دائم محمد انصاری نے ”ترنم ریاض کے افسانے پورٹریٹ پر تجزیاتی گفتگو کی۔ ڈاکٹر نعیم انیس صدر شعبہ اردو کلکتہ گرلس کالج نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ترنم ریاض نے مختلف اصناف میں جس طرح سے ادب کی خدمت کی اور اپنے پیغام کو جس خوبصورت انداز میں قاری تک پہنچایا وہ یقیناً اثر پذیر بھی ہے اور دیر پا بھی۔ ترنم ریاض نے عورتوں کے مسائل کو جس نقطۂ نظر کے ساتھ ادب کا موضوع بنایا، وہ نسائیت کے علمبرداروں کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ترنم ریاض کے سبھی فن پاروں کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایا جائے۔ تاکہ صحیح فکر لوگوں تک پہنچے اور لوگ اپنی زندگی کو آسان بنا سکیں۔ آخر میں ڈاکٹر سنجر ہلال بھارتی، جاوید اختر، اصغر شمیم، زاہد ظفر، ڈاکٹر زین رامش،ڈاکٹر ہمایوں اشرف اور پرنسپل ڈاکٹر ستیہ اپادھیائے نے اپنے تاثرات پیش کیے اور سیمینار کے انعقاد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک یادگار اور کامیاب سیمینار قرار دیا۔ سیمینار میں کلکتہ گرلس کالج کی تمام طالبات نے دلجمعی سے حاضری رہیں اور سوالات کے سیشن میں حصہ لیا۔ بڑی تعداد میں شہر کے معززین نے بھی شرکت کی۔ سبھی مہمانوں کی خدمت میں مومنٹو اور تحفے پیش کیے گیے۔
کلکتہ گرلس کالج کی لیکچرر ممتاز آرا کے شکریے کے ساتھ ہندوستان میں ترنم ریاض پر منعقد ہونے والےاس اولین دو روزہ قومی سیمینار کے اختتام کا اعلان کیا گیا۔
***
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

