اردو غزل زبانوں کی سر حدیں توڑ کر آگے نکل گئی ہے: پروفیسر شبنم حمید
شعبۂ انگریزی ،سی سی ایس یو میںسہ روزہ لٹریری فیسٹیول میں دوسرے ’’دن جدید اردو غزل کے رجحانات‘‘ موضوع پر سیمینار کا انعقاد
میرٹھ27؍ مارچ2022
زبانیں تہذیب و کلچر کی بقا کی ضامن ہوتی ہیں وہ نفرتوں کو دور کر کے امن آتشی اور اخوت و مساوات کا درس دیتی ہیں۔ زبان خواہ کوئی بھی ہو اس کی اصل روح یہی ہے۔ لہٰذا ادب اور زبانوں کی زمرہ بندی یا تقسیم کی بجائے انہیں مشترکہ تہذیب کی علا مت کے طور پر فروغ دینا چاہئے۔ آج کے اس ماحول میں ادب اور زبانیں ہی بہتر مستقبل کی راہ ہموار کرسکتی ہیں۔یہ الفاظ تھے مہاتما گاندھی کا شی ودیا پیٹھ،وارانسی کے شیخ الجامعہ پرو فیسر آ نند کمار تیا گی کے جو شعبۂ انگریزی، چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی، میرٹھ کے سہ روزہ لٹریری فیسٹیول کے دوسرے دن’’جدید اردو غزل کے رجحانات‘‘ موضوع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے ادا کر رہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج مجھے یہاں آکر بڑا فخر ہو رہا ہے کیونکہ میں اسی یو نیورسٹی کا طالب علم رہا ہوں اور یونیورسٹی بھی آج ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغاز مہمانان نے شمع رو شن کر کے کیا۔بعد ازاں پھولوں کے ذریعے مہمانوں کا استقبال کیاگیا۔صدارت کے فرائض صدر شعبۂ اردو، الہ آ باد یو نیورسٹی پرو فیسر شبنم حمید نے انجام دیے۔ کلیدی خطبہ پرو فیسر اسلم جمشید پوری نے پیش کیا اور مقررین کی حیثیت سے شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی سے پرو فیسر سر ور ساجد، پرو فیسر قمر الہدیٰ فریدی،صدر شعبۂ انگریزی پروفیسر وکاس شرما،ااسماعیل نیشنل پی جی گرلز کالج، میرٹھ سے ڈا کٹر ہما مسعود اور میرٹھ یو نیورسٹی سے ڈا کٹر ارشاد سیانوی نے اپنا مقا لہ پیش کیا۔ استقبالیہ کلمات ڈا کٹر آ صف علی،نظامت آ فاق احمد خاں اور شکریے کی رسم ڈا کٹر شاداب علیم نے انجام دی۔ اس مو قع پر سعید احمد سہا رنپوری، ربا خان، اقصیٰ رائو اور وارث وارثی نے غزلیں سنا کرخوب داد و تحسین حاصل کی۔
پرو گرام میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پرو فیسر سر ور ساجد نے کہا کہ جدید غزل کی سب سے طا قتور پہچان نئی تشبیہات و استعارات ہیں۔ جدید غزل میں پیکر سا زی کا رجحان بہت نمایاں ہے۔ ذا تی طرزِ اظہار جدید غزل کی بنیادی شناخت ہے۔
پرو فیسر قمر الہدیٰ فریدی نے کہا کہ غزل کو عام طور پر حسن و عشق کی روئیداد سمجھا جاتا ہے لیکن یہ صرف حسن و عشق تک محدود نہیں ہے بلکہ حسن و عشق کے پردے میں انسان جذبات اور حیات و کائنات کے مسائل بیان کیے گئے ہیں۔ یہ کام غزل نے کل بھی کیا تھا اور آج بھی کررہی ہے۔کبھی اس نے گل و بلبل کی زبان سے انسانی زندگی کے نشیب و فراز پر روشنی ڈا لی ہے اور آج نئی لفظیات اور نئے استعارات کی مدد سے زندگی کی عکاسی کررہی ہے۔ لطافتِ زبان و بیان غزل کے امتیازات میں شا مل ہے۔ وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ غزل کی زبان بھی بد لی ہے۔
پرو فیسر اسلم جمشید پو ری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ پانچ زبانوں پر مشتمل یہ سہ روزہ لٹریری فیسٹیول ادبیات کی تاریخ میں ایک نئی تاریخ رقم کرے گا۔کیونکہ اس کے ذریعے یہ بھرم دور ہو گا کہ صرف ہما ری زبان سب سے بہتر اور معیاری ہے اور اس کی جگہ یہ تاثر ابھرے گا کہ ہرزبان اپنے بولنے وا لے اور پڑھنے والے کے لیے اتنی ہی شیریں اور رسیلی ہے جتنی ہمارے لیے ہماری اپنی زبان اور ادب۔اس سے ظا ہر ہے کہ زبانوں اور ادبوں کے درمیان بڑھتی خلیج کم ہو گی ، ہمیںدوسرے ادبوں اور ان کی فکر سے فیض یاب ہونے کی سہولت میسر ہو گی جو یقینا معاشرہ و سماج کے لیے نیک فال ثا بت ہو گا۔
پروفیسر وکاس شر مانے پرو گرام کے مقا صد پر رو شنی ڈا لتے ہوئے کہا کہ مجھے اس وقت بڑی تکلیف ہو تی ہے جب کسی زبان اورادب کا ماہر دوسری زبان اور ادب کو کم تر آنکنے کی کوشش کرتا ہے۔جب کہ میںترا جم کے ذریعے دوسرے زبان ا دب کے مطالعے کے ذریعے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہر زبان اور ادب کا اپنا ایک مخصوص لہجہ اور انداز فکر ہو تا ہے جس کے ذریعے وہ معاشرے اور سماج کے انہی پہلو ئوں کو جنہیں دوسری زبان و ادب کے ماہر اپنے طریقے سے بیان کرتے ہیں، وہ بھی بیان کرتا ہے۔چنانچہ اسی مقصد کو نظر میں رکھتے ہوئے ہم نے یہ کوشش کی کہ ہندی انگریزی،اردو،سنسکرت اور پنجابی پانچ زبانوں کے ما ہرین کو اس فیسٹیول کے ذریعے جوڑ کر سماج بالخصوص طلبا کو ایک پیغام دیں کہ سب زبانیں آپسی اتحاد اور بھائی چارے کا ذریعہ ہیں۔
اپنے صدارتی خطبے میں پرو فیسر شبنم حمید نے کہا اگر ہم مختلف ادبو ں کا مطا لعہ کریں تو احساس ہو تا ہے کہ تمام ادبوں میں ایک جیسے موضوعات اور سماج کے موجودہ مسائل مشترکہ طور پر سب میں پائے جاتے ہیں۔البتہ انداز بیان اور ان کا طریقۂ کار مختلف ہوتا ہے۔ عہد حاضر میں تو ادب کی اصناف بھی ایک دوسرے سے مستعار لی جارہی ہیں۔آج اردو غزل بھی اپنی سرحدیں توڑ کر آگے نکل گئی ہے۔
اس مو قع پرپرو فیسر پرتیبھا تیاگی،ڈاکٹر الکا وششٹھ، ڈاکٹر یو نس غازی،ڈاکٹر سیدہ ،ڈاکٹر شبستاں پروین،ذیشان احمد خاں،بھا رت بھو شن شرما،شہاب الدین،فرح ناز، محمدشمشاد ،فیضان ظفر، سیدہ مریم الٰہی ،اور کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات موجود رہے۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

