اتّرپردیش کے پورب میں ایک شہر ہے غازی پور۔ اس شہر کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ عہد سلاطین سے قبل بھی اور بعد بھی غازیان غازی پور نے سیاسی، مذہبی، سماجی اور ادبی تاریخ میں کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں۔ اسی شہر نے شہنشاہ ہمایوں کوشیر شاہ سے شکست ملنے کے بعد اپنے یہاں پناہ دی۔ مغلیہ حکومت ختم ہونے کے بعد سرسید احمد خاں نے اسی شہر میں سائنٹفک سوسائٹی کی بنیاد رکھی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، غازی پور میں قائم ہوتے ہوتے رہ گئی۔ سرسید نے قریب دو سال غازی پور میں گزارے، وہاں کی علمی اور ادبی فضا کو دیکھ کر وہاں انھوں نے ایک اسکول کی بنیاد بھی ڈالی۔ یونیورسٹی کی بنیاد بھی پڑ ہی جاتی لیکن انھیں اپنی زبان خطرے میں نظر آئی۔ دراصل سرسید دہلی کے رہنے والے تھے، جہاں اردوئے معلی پروان چڑھی، جہاں کی زبان سند کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ میر تقی میر بھی پورب جاکر پریشان تھے۔ دہلی میں تومرزا غالب کا خادم کلّو بھی نفیس اور بامحاورہ اردو بولتا تھا۔ سرسید کو غازی پور میں کالج کے قیام کے بعد اپنی اردوئے معلی کے بگڑنے کا خطرہ محسوس ہوا۔ ایک دن جب انھوں نے کالج کی ابتدا سے متعلق اپنے ایک غازی پوری رفیق سے اظہار کیا تو پورب کے ساکن نے جب پوربی لہجہ میں اظہار مسرت کرتے ہوئے تائید کی تو اس کے بعد سرسید نے غازی پور کو ہی چھوڑدیا اور علی گڑھ میں کالج قائم ہوگیا، لیکن اس کے بعد اہل غازی پور نے احتجاجاً یاانتقاماً اپنی غازیانہ صفات کو ہر شعبۂ حیات میں آزمایا۔ جوق در جوق علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخل ہوکر اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا تاکہ سرسید احمد خاں نہ سہی اُن کی روح ہی اپنے فیصلے پر کچھ تو افسوس کرے۔ سرسید نے ایک یونیورسٹی بنائی، نونہالان غازی پور نے دو مرکزی یونیورسٹیوں کے قیام میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ایک ڈاکٹر مختار احمد انصاری اور دوسرے پروفیسر مونس رضا۔ سرسید احمد خاں کو اپنی اردوئے معلی کا خطرہ تھا، اہل غازی پور نے علی گڑھ آکر اُن کے اندیشے کو دور کردیا۔ سید ممتاز حسین، راہی معصوم رضا، حامد انصاری اور سید شاہد مہدی جیسے متعددغازیان نے علی گڑھ میں رہ کر ایسی نفیس اردو بولی کہ علی گڑھ والے بھی دنگ رہ گئے۔ ویسے بیسویں صدی عیسوی میں ایک وقت ایسا تھا کہ اردو زبان اور ادب کو فروغ دینے والوں کی اکثریت مشرقی اتّرپردیش ہی میں تھی۔ فکشن نگار بھی وہیں پیدا ہورہے تھے اور شاعر بھی۔ ترقی پسندوں اور جدیدیوں کا نزول بھی مشرقی اُتّرپردیش میں ہوا تھا، گھر گھر میں اردو بولی اور پڑھی جارہی تھی۔ سید شاہد مہدی ہوں یا حامد انصاری یا رضا برادران، ان سب کو گھر میں ہی اردو کا ماحول مل گیا۔
ایک زمانہ تھاکہ غازی پورعلم وادب کے اہم مراکز میں شمار ہوتاتھا، آسی غازی پوری ہوں یاعلی عباس حسینی،ڈاکٹرعبدالعلیم ہوں یا پروفیسرشبیہ الحسن، پر وفیسرنورالحسن ہوںیاپروفیسرامیرحسن عابدی ،شاہ منظورعالم ہوں یا مشیرالحق۔کتنی اہم شخصیات غازی پور میں پیدا ہوئیں،فورٹ ولیم کالج کے پہلے پرنسپل ڈاکٹر جان گل کرسٹ نے سات سال غازی پور میں گزارے،رابندرناتھ
ٹیگور کامشہورناول’’نوکاڈوبی‘‘ اور شعری مجموعہ’’مانسی‘‘بھی غازی پورکے قیام کی دین ہے۔ کتنے اداروں کواساتذہ، وائس چانسلر اور افسرغازی پورنے دئیے، یہاں تک کہ ماریشس کے سابق نائب صدرعبدالروف بدھن اورماریشس کے پہلے ناول نگارعنایت حسین عیدن کا آبائی وطن بھی غازی پور ہے۔متعددصوفی سنتوںکے علاوہ فلمی اداکارنذیرحسین اوریونس پرویز بھی غازی پور میں پیداہوئے۔
سرسید احمد خاں نے انیسویں صدی میں ہر اعتبار سے مشرق کو چھوڑکر مغرب کو ترجیح دی، چاہے وہ مغربی تعلیم ہو یا مغربی اُتّرپردیش، لیکن مشرق والوں نے سرسید کو نہ چھوڑا، جنھیں تعلیم حاصل کرنے کی خواہش ہوئی، سنِ بلوغ میں داخل ہوکر پہلے لکھنؤ پہنچے اور جب بلوغیت کی منزل سے نکلے تو چار باغ اسٹیشن سے سوار ہوکر سیدھے علی گڑھ آگئے۔ ان میں سید شاہد مہدی بھی شامل تھے۔ بیسویں صدی کی چھٹی دہائی میں تین نوجوان غازی پور سے علی گڑھ آئے اور تینوں تین مرکزی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر بنے۔ پروفیسر مونس رضا، محمد حامد انصاری اور سید شاہد مہدی۔ کاش سرسید کو سرزمین غازی پور کی زرخیزی کا اس وقت صحیح علم ہوجاتا تو غازیان غازی پور کو ہجرت نہ کرنی پڑتی۔ لیکن اُس وقت شاید سرسید غازی پور میں افیم کی کھیتی اور کارخانوں کو دیکھ کر ڈر گئے کہ کہیں شکست خوردہ قوم مزید افیم کے نشے میں ڈوب کر خود کو بالکل ہی تباہ نہ کرلے، لیکن اہل غازی پور نے اس خدشے کو غلط ثابت کردیا۔ چھوٹے چھوٹے غازی پور کے گاؤں سے عظیم ادیب اور دانشور پیدا ہوئے۔ شاہد صاحب کی زندگی کا سفر غازی پور کے ایک گائوں گنگولی سے شروع ہوا تھا۔ والد کی ملازمت کے سبب مختلف شہروں کی آب و ہوا دیکھی اور علی گڑھ آگئے۔ اودھ کے مسلمان گھرانوں میں عموماً خواہش یہ ہوتی تھی کہ ان کا بچہ سلطان المدارس یا فرنگی محل میں تعلیم حاصل کرے اور دین کی خدمت انجام دے، لیکن شرفاء کے بیشتر بچے مذکورہ اداروں میں والدین کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے داخل تو ہوئے، لیکن باہر نکل کر اردو کے ترقی پسند شاعر یا دانشور بن گئے۔ شاہد صاحب کے والد نے شاید اسی لیے انھیں سلطان المدارس نہیں بھیجا۔ انھوں نے اپنا بچپن گنگا کے کنارے گنگا جمنی تہذیب میں گزارا، جہاں ایک ہی گھاٹ پر ہندومس9لمان نہاتے تھے، جس کی لہروں پر سیاہ دھواں اڑاتے ہوئے اسٹیمر چلتے تھے۔ جب تک آمد و رفت کے لیے گنگا میں اسٹیمر چلتے رہے، غازی طور پورب کے اہم شہروں میں شامل رہا۔ شاہد صاحب کی عاجزی اور انکساری گنگولی کے مشراجی کی پاٹ شالا کی دین ہے، جس کے ٹاٹ پر بیٹھ کر انھوں نے ابتدائی درس لیا تھا۔ پاٹ شالا اور گھر کی تربیت نے شاہد صاحب کی ذہانت کو اس قدر جِلا بخشی کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جب بارہویں کلاس میں پہنچے تو اوّل پوزیشن حاصل کی۔ پھر اپنی پوزیشن کو برقرار رکھنے کی ایسی عادت پڑی کہ جب آئی اے ایس کا امتحان دیا تو دوسری پوزیشن کوہاتھ سے جانے نہیں دیا۔
جب تک سید شاہد مہدی جامعہ میں شیخ الجامعہ بن کر نہیں آئے تھے، ہم اُن سے زیادہ واقف نہیں تھے، اس لیے کہ وہ نہ شاعر ہیں اور نہ افسانہ نگار اور نہ نقاد۔ پھر بھلا ہم کیوں جانتے، البتہ دوران تعلیم ہمارے پاس 1956 کی ایک علی گڑھ میگزین کا مجاز نمبر تھا، جس کے نگراں اس وقت کے صدر شعبۂ اردو پروفیسر رشید احمد صدیقی تھے اور جس میں آل احمد سرور، احتشام حسین، منیب الرحمن، اسلوب احمد انصاری، خلیل الرحمن اعظمی کے علاوہ کچھ طلباء کے مضامین بھی شامل تھے، ان طالب علموں میں قمر رئیس، قاضی عبدالستار، شہر یار، معصوم رضا راہی، شہاب جعفری جیسے نامور ادیب اور شاعر شامل تھے، انہی میں ایک نام سید شاہد مہدی کا بھی تھا جن کا مضمون ’’کیٹس کے خطوط فینی برانی کے نام‘‘ ہمیں بہت پسند تھا، عموماً عہد جوانی میں طلباء کیٹس کو بہت پسند کرتے ہیں سو ہم بھی کرتے تھے۔ آج بھی وہ میگزین ہمارے پاس محفوظ ہے، جبکہ اس کا کاغذ بھی رنگ بدل چکا ہے۔ شاہد صاحب کے دہلی آنے کے بعد ہم نے نام کی تصدیق کے لیے مجاز نمبر کو نکال کر اپنی تسلی کی اور اپنے استاد پروفیسر قمر رئیس سے اپنے اطمینان کے لیے معلوم کیا کہ کیا یہ اردو والے ہیں۔ قمر صاحب نے بتایا کہ ویسے تو انھوں نے سیاسیات اور تاریخ میں ایم اے کیے ہیں، لیکن دورانِ تعلیم شعبۂ اردو میں زیادہ ’’مقبول‘‘ رہے۔ اس مقبولیت کی وجوہات بھی تھیں اور اس کے مثبت نتائج بھی نکلے۔ جس زمانے میں شاہد صاحب علی گڑھ میں تعلیم حاصل کررہے تھے، شعبۂ اردو کے اساتذہ اور طلباء میں اردو ادب کی کہکشاں موجود تھی۔ شاہد صاحب کا بچپن ہی سے شاعرانہ مزاج تھا، اسکول کے زمانے ہی میں سیکڑوں اشعار یاد کرلیے تھے، باقاعدہ بیت بازی میں شریک ہوتے تھے۔ اورپھرانھیں ابتداہی سے صحبت ایسے بزرگوں اور دوستوں کی ملی کہ جو اردو اورفارسی ادب کے اہم ستون تھے ، اپنی ذہانت سے ایام جوانی میں بھی سب کو مرعوب کیا ویسے شاہد صاحب کی شخصیت آج بھی پُرکشش ہے، سروقد، گوری رنگت، گول چہرہ، نفیس لباس عموما ً گرمیوں میںچارجیبوں والابادامی رنگ کا سفاری اورسردیوں میںبند گلے کاکالایا تین اجزا (Three Piece ) والاسوٹ پہنتے ہیں کبھی کبھی سوٹ کے ساتھ مفلر بھی ہوتا ہے ۔ یقینا عہد جوانی میں صنف نازک میں بھی مقبولیت کے تمام اسباب شاہد صاحب کے پاس کچھ زیادہ ہی رہے ہوں گے۔ ان کا زمانہ علی گڑھ یونیورسٹی کا وہ زمانہ تھا جب ’’میرے محبوب‘‘ جیسی فلموں کی کہانیاں وہاں بنا کرتی تھیں۔ ہر گوشے میں جوئے حیات اُبلتی تھی، طاقِ حرم میں شمعیں روشن تھیں، کلیوں سے حسن ٹپکتا تھا۔ علی گڑھ ارمانوں کی خلد بریں اور رومانوں کا شہر طرب تھا۔ شاہد صاحب کا ادبی ذوق اور شاعرانہ شوق علی گڑھ جاکر مزید توانا ہوا۔ شاہد صاحب اگرچہ شعبۂ سیاسیات اور تاریخ کے طالب علم تھے، لیکن ان کا دل شعبۂ اردو میں ہی لگتا تھا۔ اقبال نے کہا تھا ’’سمجھو وہیں ہمیں بھی دل ہو جہاں ہمارا‘‘۔ دراصل علی گڑھ آنے کے بعد شاہد صاحب کو خلیل الرحمن اعظمی جیسے سرپرست اور نوجوان طالب علم شاعر شہریار جیسے دوست مل گئے تھے۔ خلیل صاحب کی وجہ سے انجمن ترقی پسند مصنّفین کا حصہ بن گئے اور شہریار صاحب کی وجہ سے بیگم نکہت مقبول مل گئیں جو شہر یار صاحب کی ہم جماعت تھیں، جن کی شعر فہمی کا یہ عالم تھا کہ سیکڑوں اشعار شاہد صاحب کی طرح زبانی یاد تھے۔ دونوں کی شعر فہمی یعنی بیت بازی قربت کا سبب بنی۔ پہلے ایک دوسرے کے دلوں میں بسے اور پھر ایک ہی گھر میں بس گئے۔ میں نے ایسی باذوق، مہذب اور نفاست پسند خواتین بہت کم دیکھی ہیں۔ شاہد صاحب کسی ادبی محفل میں ان کے بغیر نہیں جاتے تھے، لیکن اب جاتے ہیں تو ادھورے سے معلوم ہوتے ہیں۔
جب قمر رئیس صاحب سے تصدیق ہوگئی کہ یہ وہی سید شاہد مہدی ہیں جو ہیں تو ڈپلومیٹ یعنی ملک اور بیرونِ ملک میں متعدد اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ہیں، دنیا کی سیر کی ہے، لیکن مزاجاً اردو والے ہیں۔ اردو والے بہت خوش ہوتے ہیں جب کوئی بڑا سرکاری عہدیدار اردو بولتا ہے۔ عموماً جن کی مادری زبان بھی اردو ہوتی ہے، اردو میڈیم اسکول میں بھی پڑھے ہوتے ہیں، سرکاری عہدہ پاتے ہی اُن کے منہ سے انگریزی نکلنا شروع ہوجاتی ہے۔شاہد صاحب کے ساتھ ایسانہیں ہوا،وہ ضرورتاً انگریزی بولتے ہیں۔ شاہد صاحب کے آنے سے جامعہ کے اردو والے اور غیر اردو والے بہت خوش ہوئے۔ اس لیے بھی کہ اُن سے پہلے جامعہ میں فوجی حکومت تھی جس کی وجہ سے تدریسی اور غیر تدریسی طبقات ہمہ وقت ’’ساودھان‘‘ کی حالت میں ایستادہ رہتے تھے، ’’وشرام‘‘ سے محروم ہوگئے تھے۔
ہم نے ملاقات کی راہیں تلاش کرنا شروع کیں۔ پہلے تو اُن پروگراموں میں جانا شروع کردیا ،جہاں شاہد صاحب کو بلایا جاتا تھا۔ ان کے جامعہ میں بحیثیت وائس چانسلر آنے سے اردو والوں کو ایک مستقل مہمان خصوصی یا صدر مل گیا تھا۔ غالب انسٹی ٹیوٹ ہو یا غالب اکیڈمی یا اردو اکیڈمی، ہر محفل میں کرسیٔ صدارت پر شاہد صاحب جلوہ افروز نظر آتے اور خطاب کے وقت اپنی خطابت اور ذہانت سے سامعین کو ایسا مسحور کرتے کہ اردو کے بعض اساتذہ احساس کمتری میں مبتلا ہوجاتے۔ کبھی کبھی شاہد صاحب کا صدارتی خطبہ سن کر کلیدی خطبہ پیش کرنے والا مقرر اپنی کم علمی اور ناقص معلومات پر شرمندہ ہوجاتا۔شاہد صاحب جب بات کرتے ہیں تو شعلے سے لپکتے ہیں،سمندر کی سی طغیانی ان کی تقریر میں ہے ۔مراثئی انیس ودبیر کی بلند خوانی کے وقت سامعین پر سکتہ طاری ہوجاتاہے۔گرجدار آواز سے سننے والوں کے دل لرزجاتے ہیں،ان کااندازبیان اوروسیع النظری متاثر کرتی ہے۔ دراصل شاہد صاحب کو صرف زبان وبیان پر ہی قدرت حاصل نہیں بلکہ ان کا مطالعہ بہت وسیع ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بچپن میں جب انھیں جیب خرچ کے طور پر ایک روپیہ ملتا تھا تو ایک ایک آنہ یعنی اِکنّی کی قیمت والی پاکٹ سائز کتابیں خریدکر پڑھتے تھے۔ پھر سیاسیات اور تاریخ کے ایم اے نے معلومات کو وسیع کیا۔اردو ،فارسی یا انگریزی ادب ہو یافنون لطیفہ،ہرموضوع پرانتہائی اعتماد کے ساتھ بات کرتے ہیں۔شاہد صاحب کوپروفیسرنورالحسن سابق مرکزی وزیرتعلیم ،پروفیسرامیرحسن عابدی اور پروفیسرضیااحمدبدایونی جیسے اساتذہ سے استفادہ کرنے کا موقع ملا،تمام زندگی دنیا کی سیر کی ،اس کے بعد گھاٹ گھاٹ کا پانی پی کر جامعہ ملیہ اسلامیہ آئے۔ ظاہر ہے کسی شخصیت سے مرعوب ہونے کے لیے اُس کی یہ تمام صفات کافی ہیں۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ شاہد صاحب نے آئی اے ایس کے امتحان میں فارسی مضمون کا بھی انتخاب کیا تھا،آئی اے ایس کاامتحان اس وقت دیاجب کروکشیتر میں لیکچرار تھے یعنی مقابلہ کرنے کا حوصلہ کروکشیتر کے میدان میں حاصل ہوا۔
ہم علی گڑھ والوں میں علی گڑھ کا رشتہ بہت مضبوط ہوتا ہے۔ ہر برادری کے لوگ آپس میں لڑسکتے ہیں، لیکن علیگیرین برادری کا اتحاد کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔ دنیا کے کسی خطے میں ہوں سونگھ کر یا ڈھونڈکر علی گیرین تلاش کرلیتے ہیں۔ شاہد صاحب سے ملاقات کا ایک بہانہ یہ بھی تھا۔ پہلے تو ہم نے شاہد صاحب سے اردو کے پروگراموں میں علیک سلیک کی۔ پھر ایک دن ہمت کرکے اپنی کتاب ’’ہندوستانی تہذیب بوستان خیال کے تناظر میں‘‘ لے کر گھر پہنچ گئے۔ بس وہ دن ہے اور آج کا دن، ہم سینئر کی طرح ان کا احترام کرتے چلے آرہے ہیں اور وہ جونیئر کی طرح ہم سے اظہار محبت۔ میں نے شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی میں اپنی صدارت کے دوران جب بھی انھیں دعوت دی وہ وسنت کنج سے طویل مسافت کے بعد بخوشی چلے آئے۔ بزرگوں کو عزت دینا اور عزیزوں سے محبت کرنا شاہد صاحب کے خمیر میں شامل ہے۔ وہ ملک اور بیرون ملک میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے، لیکن عاجزی اور انکساری نے جو غازی پور سے ان کے ساتھ آئی تھی ان کا دامن نہ چھوڑا۔ ادب نوازی کا یہ حال ہے کہ اگر کسی ادبی محفل میں کسی وجہ سے مہمان خصوصی یا صدر نہیں بھی ہیں تو سُنّی یعنی سامع کی حیثیت سے چلے آتے ہیں۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے نظریاتی اختلاف کی وجہ سے عمل میں آیا۔ ایک گھر کے افراد کے بیچ دیواریں کھڑی ہوگئیں، پھر علی گڑھ والوں نے گھر بدر بھی کردیا، لیکن محبت باقی رہی۔ علی گڑھ والے اپنا تیار شدہ سامان بڑے ہونے کے ناطے جامعہ بھیجتے رہے، یعنی جو تعلیم مکمل کرکے روزگار کی تلاش میں نکلتا اُسے جامعہ ملیہ پرانے رشتوں کا لحاظ رکھتے ہوئے اپنے دامن میں پناہ دیتا۔ جامعہ کے وائس چانسلر ہوں یا اساتذہ۔ بیشتر کا تعلق علی گڑھ سے ہے۔ علی گڑھ اور جامعہ الگ ہوکر بھی ایک ہیں۔کبھی کبھی تودونوں کے درمیان سمدھیانے کے سے رشتے کاگمان ہوتا ہے، نوک جھونک کے باوجودلین دین کی رسم جاری رہتی ہے۔ جس زمانے میں
شاہد مہدی صاحب جامعہ ملیہ میں شیخ الجامعہ کی حیثیت سے آئے، انسانیات اور فنون کی فیکلٹی کے ڈین اسلامیات کے استاد پروفیسراخترالواسع تھے جو اسلامیات کے کم اردو اورسیاسیات کے استاد زیادہ لگتے ہیں،ان کا شعبہء اردو،اردو اکیڈمی اورقومی کونسل برائے فروغ اردو کے ساتھ ساتھ جامعہ اور ملک کی سیاست میں زیادہ دخل رہتاہے۔ شعبۂ اردو کے صدر اس وقت پروفیسر قاضی عبیدالرحمن ہاشمی تھے جوماہراقبالیات کہلاتے ہیں،اقبال کے مرد مومن کی طرح صراط مستقیم پر چلتے ہیں۔دونوں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق طالب علم ہیں۔ شاہد صاحب نے جامعہ آکر مکتبہ جامعہ لمیٹڈ اور رسالہ ’’جامعہ‘‘ کی طرف خاص توجہ دی۔ مکتبہ کی کتابیں وہ بچپن سے پڑھتے آئے تھے۔ رسالہ ’’جامعہ‘‘ ایک تاریخی رسالہ ہے جس میں پہلی بار پریم چند کا افسانہ ’’کفن‘‘ شائع ہوا تھا۔ شاہد صاحب کی ہی فرمائش پر ’’جامعہ‘‘ کے بلونت سنگھ اور خلیل الرحمن اعظمی نمبر شائع ہوئے۔ شاہد مہدی صاحب کی زندگی کا اگرچہ بیشتر حصہ دفتری کاموں سے وابستہ رہا، لیکن اُن کے اندر کی استاد بننے کی دیرینہ خواہش ختم نہیں ہوئی تھی، جسے جامعہ کے تدریسی ماحول میں آکر تسکین ملی۔ آئی اے ایس کا امتحان پاس کرنے سے قبل وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور کروکشیتر یونیورسٹی میں کچھ عرصہ تدریسی خدمات انجام دے چکے تھے۔ جامعہ کے دوران قیام انھوں نے تدریسی معاملات میں کئی اہم کام انجام دیئے۔
میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ سید شاہد مہدی نہ شاعر ہیں اور نہ فکشن نگار اور نہ نقاد، لیکن وہ اردو کے ایسے قاری اور خطیب ہیں کہ جن کی علمیت کااعتراف کرنے کے لیے شاعر اور ادیب بھی مجبور ہیں۔ کتاب اردو کی ہو یا انگریزی یا فارسی کی، بچپن سے خریدنے اور پڑھنے کی عادت ہے۔ وہ عادت آج بھی برقرار ہے، سفر ہو یا حضر، کتاب ساتھ نہیں چھوڑتی اور اب تو جب سے بیگم نکہت مقبول مہدی نے عالم ارواح میں سکونت اختیار کی ہے کتاب ہی شاہد صاحب کی شریک حیات ہے:
کبھی آنکھیں کتاب میں گم ہیں
کبھی گم ہیں کتاب آنکھوں میں
(موبائل : (9891455448
…………………….
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

