سوال(76)
میرے پاس بینک میں ایک سال سے پیسے رکھے ہوئے تھے ، لیکن جس کام کے لیے رکھے تھے وہ ابھی دو مہینے پہلے شروع ہو سکا ہے _ کیا مجھے باقی پیسوں پر زکوٰۃ دینی ہوگی؟
جواب :
کوئی پیسہ کسی بھی کام کے لیے رکھا ہو ، اگر وہ ایک برس تک استعمال نہیں ہو اور رکھا رہا ہو تو اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی _ مذکورہ کام میں جتنے پیسے خرچ ہوئے اس کے سوا جو باقی بچے ہیں ان پر زکوٰۃ ہوگی _
سوال(77)
ہم عمرہ کرنے جا رہے ہیں _ احرام نہیں پہن سکے _ وہ لَگیج میں چلا گیا _احرام میں پہننے کے لیے دوسرا کپڑا میسّر نہیں _ اب کیا کریں؟
جواب :
منزل پر پہنچ کر احرام اپنے ساتھ لیں _ دوبارہ میقات پر جائیں _ حرم سے قریب ترین میقات مسجد عائشہ ہے _ وہاں سے احرام باندھیں اور مسجد حرام میں آکر عمرہ کریں _
سوال (78)
ساس بیمار ہے _ اس کے گھر والے اس کا ٹھیک سے علاج نہیں کر پا رہے ہیں _ کیا بہو اس کے علاج کے لیے اپنی زکوٰۃ دے سکتی ہے؟
جواب :
بہو اپنی زکوٰۃ اپنی ساس پر خرچ کرسکتی ہے _
سوال (79)
میرے پاس دس تولہ سونے کے زیورات ہیں _ میں ان کی ہر سال زکوٰۃ نکالتی ہوں _ تین ماہ پہلے میں نے دو تولے کا زیور اور خریدا ہے _ کیا مجھے ابھی دس تولے کی ہی زکوٰۃ ادا کرنی ہے یا بارہ تولے کی؟
جواب :
زکوٰۃ نکالنے کی جو تاریخ مقرر کی ہو اس وقت جتنا مال ہے سب کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی ، چاہے کچھ مال پر ابھی سال پورا نہ ہوا ہو _ آپ کو بارہ تولہ کی زکوٰۃ ادا کرنی ہے _
سوال (80)
میں نے کچھ شیئرز لے رکھے ہیں _ کیا ان پر بھی زکوٰۃ ہے؟
جواب :
شیئرز کی جو مالیت ہو اس کو دوسرے اموال میں شامل کرکے کل کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی _
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

