اصغر شمیم کلکتہ کے نوجوان غزل گو شعرا میں اپنی سرگرم، بسیار گو، مسلسل متحرک موجودگی کی وجہ سے نمایاں نظر آتے ہیں ۔سوشل میڈیا پر اور ادبی رسائل میں اُن کے کلام کی مسلسل اشاعت بھی ایک سچ ہے ۔ اسے وہ اپنے قاری سے زیادہ سمجھتے اور اس سے بھی زیادہ ہی محسوس کرتے ہیں ۔ شاید اس سے بھی زیادہ جتنا اُن کیلئے تحریک بخش اور سود مند ہو۔
جب سے چھپنے لگے رسالوں میں
آگئے ہیں سبھی حوالوں میں
یہ احساس تحریک بخش بھی ہو سکتا ہے اور گمراہ کن بھی۔ کیونکہ ایک جائز سوال سر ابھارنے سے تکلف نہیں کرتا کہ رسالوں میں چھپنے کی وجہ سے کسی نوجوان شاعر کو ” سبھی حوالوں” میں آنے بھر قوت مل سکتی ہے تو ادب میں صرف نام کی حد تک زندہ رہنے کیلئے ممتاز شعراء کو پوری زندگی ریاض میں گزار دینے کے بعد بھی نقد و نظر کی سنگلاخی سے کیوں گزرنا پڑتا ہے؟ میر اور مرزا کی تفہیم اور تشریح کا سلسلہ آج بھی جاری ہے، کیوں ؟
یہ احساس تحریک بخش بھی ہو سکتا ھے اور اصغر شمیم کے ” خوب تر "کی تلاش کے سفر میں ” آخری پڑاؤ ” کا بھی درجہ لے سکتا ہے کیونکہ ابھی وہ تشکیل کے مرحلہ میں ہیں۔ اُن کے پاس جو لاجسٹکس نگاہ میں آنے کی حد تک نمایاں ہوا ہے وہ ہے الگ راہ بنانے کی ضد۔
اصغر شمیم ابتدا سے ہی پامال راستوں کی مسافرت سے بچنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ کم از کم غزل کیلئے نئی زمینوں یا کم استعمال ہونے والے ردیف و قوافی کے بندوبست کے ساتھ ان کی غزلیں اشاعت پزیر ہو رہی ہیں ۔ قوافی اور ردیفوں پر ایک اچٹتی نگاہ اس کی تائید میں ہے
ہو ا، صدا_ غور سے سنو
تنہا، پرندہ_ رہ گیا ہے
انتظار، بار بار_ ایک منٹ
زندگی، روشنی_ سے روٹھ کر
فلسفہ، حوصلہ _ ہے عشق
رونا، کھلونا_ اب کہاں
وسوسے، دائرے_ سے باہر آ
یقیں ، نہیں _ جہاں ہم ہیں
پاس، اُداس _ بیٹھے ہیں
بچانا، لگانا _ ہے اور بس
تعظیم، تسلیم _ کر رہا ہوں میں
چھت پر، اختر_ پڑے پڑے
ڈر، سفر _ شاید
پیاری، ہاری_ شرط
خدا، راستہ_ مجھ پر
غزل کیلئے ایسی امکانات سے بھری ہوئی زمینوں کا انتخاب انکی طبیعت کی افتاد کا نشان دیتا ہوا اُن کے شخصی امکان و اثر کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
ایسی بہت سی مثالیں اُن کے دستیاب محدود سرمایہ سخن میں موجود ہیں جو اُن کی تخلیقیت میں” معلوم سے آگے کی طرف” پاؤں پھیلانے کی خواہش کا اظہار یہ ھیں مگر اس خواہش کو گوشت پوست کا بدن دینے کی ضد ابھی تشکیل یا نمو کے بالکل ابتدائی مرحلہ میں ہے۔ بہت ابتدائی، بہت دھندلی ھے وہ تصویر جس میں بہت سے روغن، رغبت اور ریاض کی رنگا رنگ سرمایہ کاری سے مسلسل اکٹھی ہوتی ہوئی توانائی کو حرکت پزیری کا جلوہ دیکھنا ھے۔
البتہ ایک نمایاں ذہنی خصوصیت جو کہ ابھی ، یعنی غزل میں اصغر شمیم کی آمد سے قبل، آہٹ کے مرحلہ میں، ھی اجاگر ھونے لگی ھے وہ ہے پر اسرار گمشدگی۔
گمشدگی کا عرفان عہد _ حاضر کے زندہ اذہان کا سب سے بڑا شناختی نشان ہے۔ ساتوں سمتوں میں ہیجان، فلسفہ کی اعلان شدہ موت، مذہب کی بے آبروئی، ماحولیات کی تباہی، وبا کی انسانیت سوز ی، سیاست کی ضد اور جارحیت اور شاونيت اور انسانی تہذیب کے یقینی انہدام و انتشار کی بھیانک، لمبی ہوتی پرچھائیوں کے درمیان بیدار ذہن کی سنا ٹے اور گھو ر اندھیرے میں گمشدگی ایک نا گزير آخری امکان ہے اور کلکتہ کے نوجوان شعراء میں اصغر شمیم کے یہاں یہ رونما ہوتا نظر آ رہا ہے۔
راز یہ منکشف ہو ا مجھ پر
بند ھے گھر کا راستہ مجھ پر
گھپ اندھیرے میں ، گھر کے آنگن میں
ایک بجھتا ہو ا دیا ہے عشق
میریھو ا دیا ہے عشق
میری جانب کوئی نہیں آتا
جس کی منزل نہیں، وہ رستہ ہوں
درد جب محسوس ہوتا ہی نہیں
دل کا ہونا اور نہ ہونا اب کہاں
میں مسلسل سفر میں رہتا ہوں
بھول بیٹھا ہوں اپنا گھر شاید
بند آنکھیں کئے میں بیٹھا ہوں
کوئی آتا نہیں خیالوں میں
اصغر شمیم فرد کی انسانی تہذیب کے مکمل زوال کے خوف سے گھبرائی ہوئی ذہنی کیفیت کے درک سے دوچار ہیں۔ وہ بے سروسامانی اور پاؤں رکھنے بھر علاقہ کی لا ختم تلاش میں ہیجان زدگی کے شکار ہو کر ایک عقلی اور فلسفیانہ خلا کو پر کرنے کی جستجو میں بے چین ہیں۔
رو لیا چھپ کر کبھی تنہائی میں
گھر میں ایسا کوئی کونہ اب کہاں
ہمیں بھی لا کے کہاں آج اُس نے چھوڑا ہے
نہ آسماں ھے نہ کوئی زمیں، جہاں ہم ہیں
سچ کو نقطہ بنا دیا اُس نے
جھوٹ کا دائرہ بڑا کر کے
یہ ایک خوش آئند علامت ھے کہ اصغر شمیم ہلکے پھلکے رومانی اشعار، لاف زنی، اخلاق اور کردار کے ٹھسے دار دعووں سے شعر گوندھ کر محفلوں میں واہ واہ بٹورنے کی وبا سے خود کو سینی ٹائز کئے ہوئے ہیں۔ وہ فرد اور فراق کی دوریاں طے کرنے کے عقلی مراحل میں فکر و فن کی فراغت سے فیض اٹھانے پر مائل ہیں۔
نہیں جب ساتھ رہنا ہے گوارا
چلو کچھ دن بچھڑ کر دیکھتے ہیں
اک دیا پھر جلائے بیٹھا ہوں
کوئی آئے گا لوٹ کر شاید
جاگے جاگے ہی خواب دیکھا ہے
نیند نے آج مجھ سے ہاری شرط
ضرور اُس پہ کسی کا تو زور چلتا ہے
ہے اپنے دل پہ مرا اختیار ایک منٹ
بچھڑ کر سب سے تنہا ره گیا ہے
شجر پر اک پرندہ رہ گیا ہے۔
ایسے اشعار تعداد میں بہت نہیں مگر غزل میں جھانکتے رہتے ہیں۔
اصغر شمیم کا وطن آرہ ، بہار ہے۔ وہ کلکتہ میں ملازمت کرتے ہیں ۔دو شہروں کی تہذیبی زندگی کے تصادم اور تعاون سے اُنہیں اپنے سماجی سروکار کی تہذیب و تشکیل میں بھی مدد مل رھی ھے اور مجلسی رویوں کی شناخت اور پرداخت میں بھی جس کی جھلکیاں اُن کی غزلیہ شاعری میں نظر آ رہی ہے۔نئی غزل کا سنجیدہ قاری اُن سے بڑی شعری وارداتوں کی امید لگا کر مایوس نہیں ھوگا۔
عالیہ خان، پٹنہ ، بہار
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

