شعبۂ اردو ،سی سی ایس یو اور سوانگ شالا ایکٹنگ اکادمی کی مشترکہ پیشکش ڈراما’’کالی رات کے ہم سفر‘‘ کھیلا گیا
میرٹھ:10؍ مئی2022
شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی، میرٹھ اورسوانگ شالا ایکٹنگ اکادمی، میرٹھ کے مشترکہ اہتمام سے9؍ مئی2022 کو بمقام اپلائڈ سائنس آڈیٹوریم،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی ،میرٹھ میںپہلی جنگ آزادی کی سالگرہ 10)؍مئی ،(1857کے موقع پر ایک شاندار پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت کے فرائض معروف ڈرامانگار اور ہدایت کار نیرج شرما نے کی۔مہمان خصوصی کے بطور روز نامہ ہندوستان کے ایڈیٹرسوریہ کانت تریویدی اور مہمان ذی وقار کے بطور سابق وزیر حکومت اتر پردیش ڈاکٹر معراج الدین احمد نے شرکت کی۔ اور خصوصی مقرر کے بطور معروف تاریخ داں پروفیسر کے۔ڈی۔ شرما شریک ہوئے۔
پروگرام کے انعقاد میں ڈاکٹر آصف علی،ڈاکٹر شاداب علیم، ڈاکٹر الکا وششٹھ، ڈاکٹر آصف علی اور ڈاکٹر ارشاد سیانوی وغیرہ کا خاص تعاون رہا۔
پرو گرام کا آ غاز پروفیسر کے ڈی شر ما اور دیگر مہمانان نے شمع جلا کر کیا۔ بعد ازاں مہمانان کا پھولوں کے ذریعے استقبال کیا گیا اورسوانگ شالا ایکٹنگ اکادمی کے سر پرست اور صدرشعبۂ اردو ، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کے پروفیسر اسلم جمشید پوری نے مہمانوں کا استقبال اور سوانگ شالا، میرٹھ کا تعارف پیش کرتے ہو ئے کہا کہ اس تنظیم نے اپنے کامیاب سفر کے دوران شہر کے متعدد مقامات پر سماجی مسائل پر مبنی مختلف ڈرامے پیش کر کے تہذیبی وراثت اور اخلا قی قدروں کو فروغ دینے کا کار نامہ انجام دیا ہے۔جسے شہر کے غیور عوام نے خوب سرا ہا ہے اور آج کا یہ پروگرام بھی ان شہیدوں کی عظیم قربانیوں کے نام ہے جنہوں نے ہندوستان کی پہلی جنگ آ زادی میںنہ صرف بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا بلکہ انگریزوں کے دانٹ کھٹے کردیے تھے اور اپنے ملک کی آ زادی کے لیے زبردست قربانیاں پیش کی تھیں۔ان شہیدوں کی قربانیوں اور ان کی عظمت کو سلام۔
بعد ازاں معروف ادیب سمریش بسو کی انعام یافتہ کہانی’’ آداب‘‘ پر مشتمل ڈراما’’ کالی رات کے ہمسفر‘‘ کھیلا گیا جس میں بھارت بھوشن شرما کی ہدایت پر ہیمنت گویل ،جتن کمار، شاداب ویٹوی ، وشال شرما، سنیل سینی، دیویندر پرتاپ رانا، محمد شمشاد، محمد عمران، فیضان ظفر وٖغیرہ نے بہترین اداکاری کا مظاہرہ کیا۔جب کہ پردے کے پیچھے لائٹ مین جیتیندر سی ۔راج۔ ساج سجا عابد سیفی، میک اپ ساجد عرف لوی، گلو کار ابھیشیک بھاردواج اور مو سیقی انل شر ما نے پیش کی۔

اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر کے ۔ڈی۔ شرما نے کہا کہ1857 میں پو رے ملک میں انگریزی حکومت کے خلاف زبردست غم و غصہ اور نفرت کی لہر اندرو نی سطح پر موجزن تھی۔اس میں علمائ،سیاسی رہنما، سماجی کارکن، کسان مزدور سبھی افراد میں ملک کو آزاد دیکھنے کی خواہش تھی اور اس جذبے کو میرٹھ میں تعینات فوجوں نے چربی لگے کارتوس کا استعمال نہ کر کے تقویت بخشی۔ ف جیوں کا کورٹ مارشل ہوا اور انہیں گرفتار کرلیا گیا۔یہی وہ لمحہ اور وقت تھا جب ہندوستانیوں کے دلوں میں آزادی کے جذبے کی چنگاری نے شعلے کی شکل اختیار کرلی اور10؍مئی 1857 کو یہ قافلہ دہلی کے لیے کوچ کرگیا جس میں ہر طبقے نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
دیگر مہمانان نے کہا جس کا لب لباب یہ ہے کہ اب ہمیں اور محنت کر کے اور دیگر تنظیموں کو بھی اس میں شامل کر کے بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی شناخت قائم کرنی ہوگی اور سماج میں پا ئوں پسار نے وا لی فرقہ پرست قوتوں سے ہر سطح پر مقابلہ کر نا ہو گا۔ ادیب، ادا کار اور دوسرے فن کار اپنی ذمہ داری ادا کررہے ہیں۔ سماج کے باقی افراد بھی اپنی ذمہ داری محسوس کریں اور ملک سے فر قہ پرستی کے زہر کو ختم کر نے کی طرف اقدام کریں۔
آخر میں مہمانان اور فن کاروں کو ٹرافی پیش کی گئی۔
اس مو قع پر ڈا کٹر سدھا شرما،ڈاکٹر عفت ذکیہ،فرح ناز،آفاق خاں،وارث وارثی ،اسرار الحق اسرار ،ایڈوکیٹ شعیب احمد، سواتی شرما،شاہ نور علی،فاروق شیروانی،سعید احمد سہارنپوری،عمائدین شہر اور کثیرتعداد میں طلبہ و طالبات موجود رہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

