ہم مل جل کر اور سبھی مذاہب کے لوگوں کو ساتھ لے کر ہندوستان کے سیکولر کردار کی حفاظت کریں گے۔ڈاکٹر شیومورتی شیواچاریہ
ہمیں ہندوستان کے سیکولر چہرے کی چمک میں اضافہ کرنا ہے۔ تعلیم و صحت پر توجہ کرکے ملک عزیز کو ہر طرح صحت مند بناناہے: حافظ کرناٹکی
کل بروز منگل ۱۰ مئی ۲۰۲۲ کو ملٹی پریس سوشل سروس سوسائیٹی شیموگا نے لگان مندر گاڑی گوپال شیموگا کہ ہال میں اپنے شاندار سالانہ جلسے کا انعقاد کیا۔ یہ سوسائیٹی مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کی خدمات کا اعتراف کرتی ہیں اور انہیں اعزازات سے نوازتی ہے۔ اس سوسائیٹی کو اپنی خدمات انجام دیتے ہوئے ۳۳؍سال ہو چکے ہیں۔ یہ اس سوسائیٹی کا تین تیسواں سالانہ جلسہ تھا۔ سوسائیٹی باالخصوص تعلیم و تدریس کی ترقی، اور خواتین کے حقوق اور ان کی حفظان صحت کے باب میں خدمات انجام دینے پر توجہ کرتی ہے۔ اس جلسے میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی الگ الگ علاقوں سے آئی خواتین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
اس جلسے کا افتتاح ڈاکٹر سیلومنی آر، ڈپٹی کمشنر ضلع شیموگا نے کیا اور صدارت کے فرائض ڈاکٹر فرانسس سیرلڈ ایس،جے نے ادا کیے۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے قومی انعام یافتہ شاعر و ادیب اور ریاستی ایوارڈ یافتہ بہبودی و خواتین و اطفال کے نمایاں خدمت گار ڈاکٹر حافظ کرناٹکی نے شرکت کی۔ اور مہمان اعزازی کی حیثیت سے ڈاکٹر شیو مورتی شیواچاریہ سوامی جی، ترلاباجگت گرو مٹھا اور ڈاکٹر لیوی ڈی سوزا، ایس ،جے، سائنٹسٹ وظیفہ یاب پرنسپل سنت آلوشیس کالج منگلور نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ شرکا بہت سارے دانشوروں نے اس جلسے میں شرکت کی۔ جن میں ڈاکٹر کلی فرڈ روشن پن ٹو سکریٹری شیموگا ملٹی پرپس سوشل سروس سوسائیٹی شیموگہ ، فادر میلوین جوزف پن ٹو اور شری متی پرسلّا ماٹیش کے نام قابل ذکر ہیں۔ ڈاکٹر سرومنی ڈپٹی کمشنر شیموگہ نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ؛ اس جلسے میں شرکت کرکے اور اس جلسے کا افتتاح کرکے مجھے بے حد خوشی محسوس ہورہی ہے۔ یہاں رنگا رنگ ہندوستان کا چہرہ روشن نظر آرہا ہے۔ ہندو، مسلم، کرسچین غرض سبھی مذاہب کے نمائندے اور عوام ایک ساتھ مل جل کر ایک برادری کے ممبر کی طرح بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس تصویر اور ملک عزیز کی اس تقدیر کو زندہ رکھنے میں ہی ملک کا بھلا ہے۔ اور امن و امان کی گارنٹی ہے۔
افتتاحی خطاب کے بعد مسٹر فلیکس جو زف نورنانے ایک خوب صورت کنڑا گیت گا کر سنایا وہ کنڑا زبان کے اچھے شاعر ہیں۔ انہوں نے اپنے گیت اور اپنی آواز سے سماں باندھ دیا۔ گیت میں یکجہتی کا پیغام اور خواتین کے حقوق کی حفاظت کے بہت واضح پیغامات تھے۔
مہمان خصوصی ڈاکٹر حافظ کرناٹکی نے اپنے خطاب میں کہاکہ؛ یہ بڑی بات ہے کہ آج کے اس جلسے میں ہر مذہب، مسلک، اور عقیدے سے تعلق رکھنے والی ہزاروں خواتین شریک ہیں۔ جلسہ بہ ظاہر عیسائی مذہب کے بینر کے تلے ہورہا ہے مگر شرکا، خواتین میں ہندو مسلم اور دوسرے مذاہب کے ماننے والی خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔
میں اس ملٹی پرپس سوشل سرورس سوسائیٹی کے صدر و اراکین اور سیکریٹری و دوسرے عہدے داروں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ آپ حضرات نے پچھلے تینتیس برسوں میں نہ صرف یہ کہ اپنی خدمات کے واضح نقوش چھوڑے ہیں بلکہ عوام میں یکجہتی، بھائی چارگی، اور خواتین کے حقوق کی پاسداری کے پیغام کو بھی خوب صورتی سے عام کیا ہے۔ آپ کی سوسائیٹی نے بے روز گاروں کے لیے روزگار فراہم کرنے، بھوکوں کے لیے کھانا فراہم کرنے، اور بے گھروں کو گھر فراہم کرنے کے لیے بھی خوب خوب کام کیا ہے۔ اور کھلے دل سے کیا ہے۔ مذہب کے تعصب کو آس پاس بھی نہیں بھٹکنے دیاہے۔
حافظ کرناٹکی نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مذہب اور عقیدہ ہمارا نجی معاملہ ہے۔ ہم جب بھی گھر سے باہر نکلیں تو انسانیت کی خدمت کا جذبہ لے کر باہر نکلیں۔ انسان بن کر باہر نکلیں، اور انسانیت، مساوات، اور بھائی چارے اور بچوں اور عورتوں کے حقوق کے تحفظ کا جذبہ لے کر باہر نکلیں تا کہ ملک عزیز کے چہرے پر نکھار پیدا ہو۔ کل تک ہمارے کانوں میں مندر اور گرجاگھر کی گھنٹیاں شہد گھولتی تھیں۔ اذانوں کا ترنم اور اس کی پکار میں صبح کی چاندی کھنکتی تھی۔ اور ہم نئے جذبے اور جوش کے ساتھ زندگی کا سامنا کرتے تھے۔ مگر آج ہمارے وطن کے باشندوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہمیں ہندوستان کے سیکولر چہرے کی چمک میں اضافہ کرنا ہے۔ اور اس کی مثال قائم کرنی ہے۔اور تعلیم و صحت پر توجہ کرکے ملک عزیز کو مہذب اور ہر طرح صحت مند بناناہے۔
ڈاکٹر شیومورتی شیواچاریہ کو اس موقع سے ۲۰۲۱ کے شری چیتنیا اعزاز سے سرفراز کیا گیا تو ڈاکٹر لیوڈی سوزا، ایس جے کو ۲۰۲۰ کے لیے شری چیتنیا اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔ ڈاکٹر شیومورتی شیواچاریہ جی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز مجھے میری درخواست پر نہیں بلکہ میری خدمات کو دیکھتے ہوئے اس کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ ہم سبھوں کو اپنے ملک اور اپنے ملک کے باشندوں اور ان کے مذہبی جذبات کا احترام کرنا چاہیے۔ میں ڈاکٹر حافظ کرناٹکی کے خیالات کی تائید کرتا ہوں۔ سچ پوچھیے تو آج مجھے ہر طرح کے مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ مل کر بیٹھنے میں سچے ہندوستانی ہونے کا فخر محسوس ہورہا ہے۔ ہمیں اس ماحول کو زندہ رکھنا ہے۔ صدر جلسہ ڈاکٹر فرانسس سیراؤ، ایس جے نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم سب کو اپنی استطاعت کے مطابق اپنے وطن کی اور اپنے وطن والوں کی مذہب و ملت کی سطح سے اوپر اٹھ کر خدمت کرنی چاہیے۔ شیموگا ملٹی پرپس سروس سوسائیٹی پچھلے تینتیس سالوں سے اس کوشش میں لگی ہوئی ہے کہ چند شرپسند لوگ ملک عزیز کے ماحول کو خراب کرنے میں لگے ہیں۔ ان کے مقابلے میں ہماری تعداد زیادہ ہے۔ اس لیے ہم مل جل کر اور سبھی مذاہب کے لوگوں کو ساتھ لے کر ہندوستان کے سیکولر کردار اور اس کے باوقار چہرے کی حفاظت کریں گے۔ میں خوش ہوں کہ ڈاکٹر حافظ کرناٹکی نے اس جلسے میں شرکت فرما کر اس کے وقار میں اضافہ کیا۔ اور وہ ساری باتیں تفصیل سے بتائیں جو ہمارے دل میں موجزن تھیں۔ بعد ازاں سبھوں نے مل کر ڈاکٹر حافظ کرناٹکی کو تہنیت پیش کی۔ اس کے بعد ہر علاقے میں نمایاں خدمات انجام دینے والی خواتین کو بھی اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔
یہ خوب صورت اور ایکتا و اتحاد اور خدمت کے جذبے کی پرورش کرنے والا شاندار جلسہ ڈاکٹر کلی فرڈ روشن پن ٹو کے شکریہ کے ساتھ اختتام کو پہونچا۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

