شعبۂ اردو،سی سی ایس یو میں ’’ کہانی کی ایک شام عبید اللہ چودھری کے نام‘‘ پرآف لائن پروگرام کا انعقاد
میرٹھ12؍ مئی2022
شعبۂ اردو ،چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی،میرٹھ اور بین الا قوامی نو جوان اردو اسکالرز انجمن( آ یو سا) کے مشترکہ اہتمام میں پریم چند سیمینار ہال میں بعنوان’’ کہانی کی ایک شام عبید اللہ چودھری کے نام‘‘ منعقد ہوئی جس کی صدارت کرتے ہوئے شعبے کے صدر پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ ادب زندگی کا ترجمان ہو تا ہے۔وہی کہانی افسانے یا ناول مقبول ہوتے ہیں جو زندگی کے قریب تر ہوں، جو عوام کو اپنی کہانی محسوس ہو، اپنے درد کا احساس ہو۔عبید اللہ چو دھری افسا نہ نگار کے طور پر اپنی پہچان بنانے میں اسی لیے کامیاب ہوئے کیونکہ ان کی کہانیاں حقیقت پر مبنی ہیں۔وہ عرصۂ دراز سے ادب کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ نہ صرف افسا نہ نگار بلکہ ایک اعلیٰ درجے کے ناقد بھی ہیں۔شعبۂ اردو سے ان کا پرا نا تعلق ہے۔ مختلف تعلیمی اداروں میں وہ درس و تدریس کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مہمان خصوصی عبید اللہ چو دھری نے اس مو قع پر کہا افسا نہ نگاروں کے مقا بلے میں شعرا کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ شاعری کے ذریعے مقبولیت جلد حاصل ہو جاتی ہے حا لانکہ شاعری آسان نہیں ہے اگر کوئی میر اور غا لب کے سامنے بیٹھ کر اپنا شعر نہ سنا سکے تو اس کو ہر گز شاعری نہ کرنی چا ہئے۔ کیونکہ تک بندی کانام شاعری نہیں ہو تا۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شاعری کی تاریخ نثر سے کافی قدیم ہے۔انہوں طلبا کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اردو لکھتے ہوئے اپنے اندر سے خوف ختم کردیں ۔روزانہ ایک صفحہ اردو کا لکھیں اور خوب مشق کریں۔نظامت کے فرائض انجام دے رہے ڈا کٹر آ صف علی نے کہا کہ اس سیشن میں دو کہانیاں پڑھی گئیں پرو فیسر اسلم جمشید پوری کی کہانی’’ غار والے‘‘ اور ڈاکٹر عبید اللہ چو دھری کی کہانی ’’کہانی کی تلاش ‘‘ یقینا دونوں ہی کہانیوں میں وہ تمام خوبیاں موجود تھیں جو کسی بھی کامیانب کہانی کی علا مت ہوتی ہے اور میں طلبا سے ایک بات اور کہنا چا ہوں گا کہ کہانی لکھنا تو فن ہے ہی لیکن اس کی قرأت ،پڑھنے کا انداز، لہجے کا نشیب و فراز اور جسمانی حرکات و سکنات یہ سب بھی کسی فن سے کم نہیں۔اگر پڑھنے کا انداز عمدہ ہو گا تو یقینا کہانی کا اثر دو بالا ہوگا اور سامعین اس کے سحر میں گرفتار ہوں گے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آ غاز ایم اے اردو کے طالب علم محمد عمران نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ بعد ازاں فرح ناز نے ہدیۂ نعت پیش کیا اور اس مو قع پر سعید احمد سہارنپوری نے اقبال کی غزل اپنی مترنم آ واز میں پیش کر سماں باندھ دیا۔ استقبالیہ کلمات ڈا کٹر شاداب علیم اور شکریے کی رسم ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے انجام دی۔
واضح ہو شعبۂ اردو اور آیو سا کا یہ مشترکہ ہفتہ واری پروگرام جو ہر ہفتے آن لائن منعقد ہوا کرتا تھا رمضان المبارک میں موقوف کردیا گیا تھا۔لیکن آج سے یہ سلسلہ پھر سے شروع کردیا گیا ہے۔
اس مو قع پر سیدہ مریم الٰہی ،طاہرہ پروین، محمد شمشاد اور طلبہ و طالبات موجود رہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

