بزم صدف انٹرنیشنل دوحہ چیپٹر کے زیر اہتمام شاندار کل خلیج مشاعرہ
گزشتہ دنوں دوحہ میںبزم صدف کی شاخ نے اپنے نوعیت کی پہلی اور منفرد خلیج اردو کانفرنس منعقد کی اور ساتھ ہی کل خلیج مشاعرہ بھی کروایا پروگرام کے افتتاحی اجلاس کی صدارت ممتاز شخصیت اور بزم صدف انٹرنیشنل کے سرپرست اعلی جناب حسن عبد الکریم چوگلے نے کی، انہوں نے اپنے خطاب میں تنظیم کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے تمام ذمہ داران کی ستائش کی اور بطور خاص کتابوں کی اشاعت کا ذکر کیا جو تنظیم کے زیر اہتمام شائع ہوتی ہیں، کتابوں کی اہمیت اور افادیت پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کتابیں انسان کو زندہ رکھتی ہیں ساتھ ہی بزم صدف کے مختلف انداز کی سرگرمیوں کو بھی سراہا جس میں سماجی خدمات کا ذکر تھا اور بزم کے چئیرمین شہاب الدین احمد کے حوصلوں کی داد دیتے ہوئے ان کے ارادوں کا بھی ذکر کیا کہ وہ جو کچھ کرنے کی بھی ٹھان لیتے ہیں وہ کر لیتے ہیں جس کی مثال آج کی یہ تقریب ہے کہ اس کا اعلان گزشتہ سال کیا تھا اور اب انہوں نے عالمی اردو کانفرنس کرنے کا قصد کیا ہے اور اس سلسلے لیں مختلف ممالک سے رابطے میں بھی ہیں ۔
محترمہ صوفیہ بخاری ( ا ہلیہ مرحوم صبیح بخاری) نے اردو زبان کی ترسیل اور اس کی وسعت پر خاطر خواہ گفتگو کی اور موضوع گفتگو ؛ خلیج اردو کا نیا دبستان: مذاکرے میں بھی حصہ لیا ساتھ ہی تنظیم کے ذمہ داران کو کانفرنس اور مشاعرہ کی کامیابی کی مبارک باد بھی دی،
مشاعرہ کی صدارت متحدہ عرب امارات سے تشریف لائی ہوئی معروف شاعرہ ڈاکٹر ثروت زہرا نے فرمائی جبکہ نظامت کے فرائض دوبئی سے آئی ہوئی شاعرہ محترمہ عائشہ شیخ عاشی نے ادا کئے اس کے علاوہ بحرین سے کہنہ مشق شاعر جناب ریاض شاہد،عمان سے جناب طفیل احمد، کویت سے جناب مسعود حساس اور شارجہ سے سمیعہ ملک ناز نے شریک ہوکر مشاعرے کے وقار میں اضافہ کیا۔
پروگرام کے افتتاحی اجلاس کی معروف شاعر احمد اشفاق نے کی جس میں داکٹر ثروت زہرا نے 2019 میںاعلان شدہ اپنا ؛ بزم صدف نئی نسل ایوارڈ، بہ نفس نفیس قبول کیا اور دیگر مہمانوں کی خدمت میں بھی شال اور لوح سپاس پیش کئے گئے۔ بزم سدف دوحہ چیپٹر کے صدر ڈاکٹر ندیم جیلانی دانش نے مہمانوں کا استقبال کیا اور بزم کے چئرمین جناب شہاب الدین احمد نے بزم صدف کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کی کارگزاریوں کی تفصیل پیش کی اس سیشن میں مہمان خصوصی معروف سماجی شخصیت اور بزنس مین جناب عظیم عباس اور مہمانان اعزازی محترمہ صوفیہ بخاری اور پروفیسر سید جاوید زیدی تھے۔
پروگرام کے دوسرے حصے میں خلیج کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے شعرا ء و ادبا کے ساتھ ایک دلچسپ
اور معلوماتی مذاکرہ بعنوان ؛ خلیج اردو کا نیا دبستان؛ منعقد کیا گیا جس کی میزبانی احمد اشفاق اور ڈاکٹر ندیم جیلانی دانش نے مشترکہ طور پر بخوبی انجام دی ، اس سیشن میں شرکاء نے اپنے اپنے ملک میں اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی کے لئے جاری سرگرمیوں کا احاطہ کیا، زبان کی وسیع تر ترسیل کے لئے تراجم کی اہمیت اور اردو کے رسم الخط کو برقرار رکھنے کے ضمن میں جاری بحث پر بھی سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ ہندی کی ناول نگار گیتانجلی شری کو ان کے ناول کے ترجمے پر بین الاقوامی بکر انعام کے اعلان پر بھی شرکاء نے مسرت کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ جلد ہی اردو کے ادیبوں کی بھی بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ہوگی۔
سامعین نے اس دل چسپ مباحثے کو بڑی دل جمعی سے سنا اور سبھوں نے گفتگو میں دئے جانے والے دلائل اورمعیار کی تعریف کی۔
عالمی مشاعرے کے آغاز میں قطر کے مقامی شعراء نے اپنے منتخب کلام سنائے، سب سے پہلے جناب طاہر جمیل کو آواز دی گئی ان کا یہ قطعہ سامعین کو پسند آیا
مرے حق میں کوئی بھی فیصلہ اب نہ ہوگا
گواہوں میں جو حق گو تھے وہ باطل ہوگئے ہیں
مذاقا ان کو دشمن کہ دیا تھا دفعتا طاہر
اسی دن سے ہمارے دوست قاتل ہو گئے ہیں
طاہر جمیل کے بعد مائیک پر تشریف لائے دوحہ کے نوجوان شاعر راقم اعظمی انہوں نے تحت اور ترنم دونوں میں اشعار سنائے اور خوب داد سمیٹی۔
شب کی تنہائی میں مانگا ہے خدا سے تم کو
میری آنکھوں سے مری نیند چرانے والے
وہ دور بہت دور بہت دور ہے لیکن
خوابوں میں رہی اس سے ملاقات مسلسل
راقم اعظمی کے بعد ہندی کے شاعرہ محترمہ مانسی شرما نے اپنی نظموں اور دیش بھکتی گیتوں سے سامعین کو محظوظ کیا پھر باری تھی دوحہ قطر کے منفرد لہجے کے شاعر جناب مقصود انور مقصود کی انہوں نے اپنی غزلوں کے منتخب اشعار سنائے اور اپنی نظم بھی پیش کی ان کے اس شعر پر سامعین کی خوب داد ملی۔
ترے دیدار کو حاضر ہوئیں اشکوں کی چادر میں
مری آنکھوں کو بزم ناز کے آداب آئے ہیں
اب ناری تھی بزم صدف دوحہ چیپٹر کے صدر ڈاکٹر ندیم جیلانی دانش کی جنہوں نے آشوب اسلام پر لکھی اپنی نظم بعنوان ڈیزرٹ سفاری سنائی جس کا محفل پر دیر تک اثر رہا ان کے یہ اشعار بھی لوگوں کو بہت پسند آئے۔
آرزوئے وصل شاید اس کو رکھتی ہے ہرا
ہجر کے صحرا میں اک تنہا شجر امید کا
خامشی کی برف پگھلے آج اس کے روبرو
اک نیا موضوع بتائو دوستو تمہید کا
ڈاکٹر جیلانی کے بعد ناظمہ مشاعرہ نے معروف شاعر احمد اشفاق کو زحمت کلام دی جنہوں نے کئی خوبصورت غزلیں سنائیں ان کے یہ اشعار بے حد پسند کئے گئے
آج اس کے جنازے میں ہے اک شہر صف آراء
کل مر گیا جو آدمی تنہائی کے ڈر سے
روٹھے ہوئے سورج کو منانے کی لگن میں
ہم لوگ سر شام نکل پڑتے ہیں گھر سے
احمد اشفاق پر مقامی شعراء کا سلسلہ ختم ہوا اور پھر مہمانوں کو زحمت سخن دی گئی، سب سے پہلے شارجہ سے شریک بزم سمیعہ ناز ملک مائیک پر تشریف لائیں انہوں نے پہلے شہید کربلا کے حضور ایک سلام پیش کیا اور پھر اپنی غزل سنائی ان کے جن اشعار پر کوب داد ملی وہ درج ذیل ہیں،
دل سیاہ کا ہرگز نہیں ہے چین حسین
جو حق شناس ہے وہ ہی کہے حسین حسین
ہر ایک چشم بصیرت پہ آشکارا ہے
رسول پر بخدا ہے خدا کا دین حسین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حادثے میں کہیں بے موت نہ مارے جائیں
عشق زادے ہیں تو پھر دار پہ وارے جائیں
ہر وفادار محبت کو یہ اعزاز ملے
جتنے عاشق ہیں بیاباں میں اتارے جائیں
عائشہ شیخ عاشی نے اپنی بہترین نظامت کے جوہر دکھائے انہیں احمد اشفاق نے آواز دی ان کے مندرجہ ذیل اشعار پر خوب داد ملی
اس بار محبت تو مجھے خود سے ہوئی ہے
ایسے میں مجے مجھ سے جدا کون کرے گا
جب وقت ملے خود ہی اسے فون کیا کر
اس شہر سے اب کوئی کبوتر نہیں آتا
عائشہ شیخ عاشی کے بعد کویت کی نمائندگی کرنے والے بلند و بانگ لہجے کے شاعر مسعود حساس تشریف لائے اور انہوں مہاجرین اور تارکین وطن کے کرب کو اور وقت کے ساتھ ان کی ترجیحات میں آنے والے تغیرات کو اپنی دلسوز نظم میں سمویا اور سامعین سے داد وصولی ان کے ئی اشعار بے حد پسند کئے گئے
تمام عمر ہی لہجہ ہمارا خشک رہا
تمام عمر سمندر میں اعتکاف کیا
اسے یہ کہنا کہ نفرت پہ دسترس ہی نہیں
مرا علاقہ محبت تلک سمٹ گیا ہے
پھر باری تھی بحرین سے تشریف لائے ہوئے صاحب طرزشاعر ریاض شاہد کی جی کی غزلیں سامعین کو مسحور کر گئیں مثال کے طور پر یہ اشعار
ہم وہ مزدور ہیں مٹی پہ بھی سو جائیں تو
ایک روٹی کے سوا خواب نہیں آتے ہیں
جب سے عشاق کی آنکھوں میں ہوس اتری ہے
تب سے کھڑکی میں بھی مہتاب نہیں آتے ہیں
زندگی سے بھی زیادہ انہیں صحرا ہے عزیز
وہ بلانے پہ بھی پنجاب نہیں آتے ہیں
ریاض شاہد کے بعد عمان کی نمائندگی کر رہے معروف شاعر طفیل احمد نیخواب کے موضوع پر اپنی طویل نظم
سنائی اور ڈھیروں داد سمیٹی ان کی غزل کے یہ اشعار پسند کئے گئے۔
کہیں بچہ ایک غریب کا کھلے تن پہ سہ گیا آندھیاں
کہیں ہلکی سی جو ہوا چلی اڑی پھر تو پگڑی امیر کی
اٹھے ہاتھ جب بھی طفیل کے تو کسی نے چپکے سے یہ کہا
نہ ضروری ہے کہ قبول ہو یہ دعا نہیں ہے فقیر کی
آخر میں صدر مشاعرہ ڈاکٹر ثروت زہرا نے اپنا منفرد کلام سنایا انہوں نے کئی اثر انگیز نظمیں سنائیں سامعین کی فرمائش پر انہوں نے اپنی مشہور نظم بنت حوا ہوں میں یہ مرا جرم ہے اور شاعری تو کڑا جرم ہے، بھی سنائی اور آخر میں اپنے صدارتی کلمات میں بزمصدف انٹرنیشنل دوحہ چیپٹر کو اور اس کے منتظمین کو اس شاندار تقریب کے انعقاد پر مبارک باد دی۔
ان کے ان اشعار پر سامعین کی بھرپور داد ملی
پھر آس دے کے آج کو کل کر دیا گیا
ہونتوں کے بیچ بات کو شل کر دیا گیا
کیسے بجھائے، کون بجھائے ، بجھے بھی کیوں
اس آگ تو تو خون میں حل کر دیا گیا
آخر میں بزم صدف دوحہ چیپٹر کے صدر ڈاکٹر ندیم جیلانی دانش نے مہمانوں اور بزم صدف کی دوحہ کی مجلس عاملہ کے اراکین بطور خاص پروگرام کوآرڈنیٹر محد عرفان اللہ، نائب صدر صباح الدین اور بزم صدف بین الاقوامی امور کی صدر رفعت جہاں علی کا شکریہ ادا کیا۔
تقریب میں دوحہ کی ادبی و نیم ادبی تنظیموں کے ذمہ داران اور خاص شخصیات نے شرکت کی جن میں بطور خاص جناب شکیب ایاز، جناب گوہر الطاف، جناب بلال احمد خان، جناب نجم الحسن خان،جناب بلچندانی، جناب بہاء الدین، محترمہ رفعت جہاں، جاوید عالم صدیقی،جناب لیاقت ملک، جناب جاوید احمد، جناب سجاد احمد، عمران اسد، اوپ پرکاش پریڈا، رحمت اللہ کے نام قابل ذکر ہیں۔
پروگرام کے آخر میںشاندار مشاعرہ اور پرتکلف عشائیہ پیش کیا گیا۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

