بدنام نظر ‘حصار بارگراں میں خوشیوں کا متلاشی – عشرت ظہیر
معروف شاعر بدنام نظرکاتیسرا مجموعہ کلام ’’بارگراں ‘‘ غزلوں اور نظموں سے مزین ہے ۔ جبکہ ان کاپہلا مجموعہ کلام ’’تہی دست‘‘ نظموں اوردوسرا’’نزول‘‘غزلوں پرمشتمل تھا۔ بہ لحاظ زمانہ غزلوںاورنظموں کے مشترک انتخاب سے آراستہ یہ مجموعہ کلام ’’بارگراں ‘‘ سابقہ دونوں مجموعۂ کلام پرکئی لحاظ سے سبقت رکھتاہے ۔دراصل نظموں کاوہی شاعر ہمہ وقت شاعرہوتاہے جوکسی خاص فلسفہ ٔ حیات کاشاعر ہو۔ لیکن صنف غزل کی یہ خوبی ہے کہ اس کے اکثر اشعار بذات خود حیات بخش بھی ہوتے ہیں اورحیات آگیں بھی ۔اردوغزل کے ایسے شاعر بھی ہیں جن کاایک شعر خودبھی برسوں تک زندہ ہے اوراس کے خالق کوبھی زندہ رکھے ہوئے ہے ۔
بدنام نظرکی شاعری کایہ وصف ہے کہ انہوںنے عہد زریں یعنی تہذیب گم گشتہ کواپنی نظموں اورغزلوں ،دونوں میں یکساں طورپر بروئے کار لایاہے ۔ انہوں نے کمال ہنرمندی اورنہایت فنکاری کے ساتھ اپنی شاعری میں، گاؤں، چوپال ،پیڑ پودے ،ندی پہاڑ اور فضائے بسیط کے نظاروں کی گم شدگی کوبرتاہے اور اپنے اظہار بیان کی ندرت اورانوکھاپن سے ایک سحرآگیں فضاخلق کیاہے ۔
کئی بڑے شہروں میں رہنے کے باوجودذہنی طورپر بدنام نظرکاگاؤں سے تعلق بنارہاہے۔اورشایداسی وجہ سے تمام METROPOLITAN شہروںکی عیاشیاںدیکھنے کے بعدوہ گاؤںکی طرف مراجعت کرگئے ۔جہاںانہیںوہ سہولیات حاصل نہیں ہیں‘ جو عام طورپر شہروں میں مہیاہیں۔پھربھی وہ کسی قیمت پرشہرمیں مستقلاًرہناپسندنہیں کرتے۔ اس کے باوجودگاؤں کی ٹوٹتی قدریں،گاؤں میں تبدیلیوں کی دھمک اورنوجوان نسل کادیوانگی کی حدتک روایتوں سے انحراف انہیں بے چین بھی کرتا ہے اورمتفکربھی ؎
ندی کنارے لگایا تھا شہر میں میلا
پھر اس میں ڈوب گیا ایک گاؤں کا منظر
بدنام نظر ’’ یادماضی عذاب ہے یارب ‘‘ کے مایوس کن خیالات کے حامی نہیں اورنہ ہی وہ ’’اب یاد رفتگاں کی بھی ہمت نہیں رہی ‘‘ کے سے حوصلہ شکن جذبات کوپھٹکنے دیتے ہیں ، بلکہ وہ عہد گم گشتہ کوبطور عہدزریں اس طرح یاد کرتے ہیں گویاوہ ان یادوں کے اجالوں سے خوشیاں اور زندگی کشیدکررہے ہوں۔ گاؤں کے چوپال ، پیڑپودے ، پہاڑ ،ندی ، حیات افز افضائیں،ان کی شاعری کے لئے محض خام مواد نہیں ،نہ ہی یہ محض جامدالفاظ کی صورت آئے ہیں بلکہ ان کے پس پردہ ،ایک تہذیب ،ایک جیتی جاگتی توانااور متحرک زندگی ہمیںلرزاں اور رقصاں دکھائی دیتی ہے ۔ گویاان کی شاعری نئی تہذیب اورہرلمحہ بھاگتی دوڑتی چمکتی دہکتی ترقی کی رفتارسے فرد اورمعاشرے پرلگنے والی ضرب ،اور اس کے زیر اثر پیداشدہ شکست وریخت کاردعمل ہے ۔یہی سبب ہے کہ بدنام نظر کے انتہائی ذاتی احساسات وجذبات اور تلازمات علامتی پیرائے میں ڈھل گئے ہیں ۔
آج کاانسان اپنی تمام تر کامیابیوں اورکامرانیوں کے بے شمار منازل طے کرنے کے باوجود اپنی ازلی وابدی بنیاد کامتلاشی ہے ۔ مٹی کی خوشبو ،کھلے آسمان کی وسعتوں کی چاہت کے ’’بارگراں ‘‘ کاحصار ،بنائے یہ انسان ،ماضی اورماضی کے دھندلکے سے زندگی اور زندگی کی مسرتوںکانظارہ اس کھڑکی سے کرتاہوادکھتاہے ، جسے ہم بدنام نظرکی شاعری سے موسوم کرسکتے ہیں اورجسے خود شاعر ’’بارگراں‘‘ کے طوراپنے نہاں خانۂ دل پر دستک دیتامحسوس کرتاہے ۔
غزلوں سے چند اشعار ملاحظہ ہوں ؎
نہ گاؤں نہ گاؤں کے چوپال باقی
کہاں داستاں اب سناؤگے لوگو
——
یہ سبزہ ،یہ دیہات ،ہنستے ہوئے بچے
یہ رنگ ،یہ خوشبو ،یہ فضا مانگتے چلو
——
آلودگی شہر میں اک بوجھ ہے ہر سانس
جنگل سے کوئی تازہ ہوا مانگتے چلو
——
پرانا پیڑ برگد کا کہاں ہے
پرندوں کے ٹھکانے کیا ہوئے سب
——
منتظر بجلی کے تھے مغربی گوشے میں ہم
گاؤں کے مشرقی تالاب میں اترا تھا چاند
——
اف وہ لمحہ کہ میں اس پارتھا پتھر کی طرح
اور دیوار کے اس پار اکیلا تھا چاند
——
گاؤں کولوٹنے والومجھے بس لوٹا دو
گیت گاتے ہوئے جھولوں پہ وہ ساون میرے
——
کہاں چلے گئے ،وہ بوریا نشیں آخر
تمہیں توکچھ بھی اے مسند نشیں پتہ نہ چلا
——
ساتھ مرے چلتی تھی دریا دشت پہاڑ
اس کی یاد بھی مجھ جیسی سیلانی تھی
——
اپنے گاؤں میں عہدوں کے ارزانی تھی
میں راجہ بن جاتا تھا تو رانی تھی
——
آدھے ادھورے کپڑوں میں دیکھا سب کو
لڑکی گاؤں کی شہر میں پانی پانی تھی
——
بدنام نظر کی غزلوں میں انسانی رشتوںاورجذبوں کے اظہار میں تنوع اورانوکھاپن نمایاں ہے۔ان کے اکثراشعار،بدن کی شاعری سے قریب ترہیں،اورجولمس سے جذبوںکا اظہار،بہ شکل SEXUAL ENJOYMENTہنرمندی اورفنکاری کے ساتھ کرتے ہیں۔
راتوںکے مقدرکوجگانے کے لئے آ
پھرمجھ کو گنہگار بنانے کے لئے آ
عورت کاایک پاکیزہ اورآفاقی روپ’’ماں‘‘ہے۔ماںکی قدر ،اس کی اہمیت کاشدیداحساس،اس کی ممتااورمحبت کی آرزوکی تڑپ کوبھی بدنام نظرنے اپنے شعرمیںخوبصورتی کے ساتھ منتقل کیا ہے۔
سر رکھ کے تری گودمیں بے ہوش سا ہو جا ؤ ں
ماںجیسی کوئی لوری سنانے کے لئے آ
آج کی رات ،پیڑ پودے ،میں تمہارا ، یادیں ،شرط ……یہ نظمیں پابند ہیں لیکن انگر یزی زبان کے فری ورس کالطف دیتی ہیں ۔ ان نظموں میں جذبات کاایک طوفان ہے ،جوچاروں طرف سے امنڈتا ہوا نظر آتاہے ،درمیان میں کوئی مزاحمت نہیں ،یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس سے اردوکی اکثر آزادنظمیں بھی محروم ہیں ۔
بدنام نظر کی اکثر نظمیں نوعیت کے لحاظ سے مختلف انداز میںm Existentialis نظریے سے قریب ہیں ۔
سمندر کتنا گہرا ہے ، ایک پرانا منظر ،لہو آتمااشارے،ٹھنڈی آگ ،اس کی مثالیں ہیں ۔
سمندر کتنا گہراہے
گگن ،سورج ،ستارے ،چاند ،بادل ،وسعتِ ارض وسما
شفق ،ارواح ،اجلے پر ، افق حد نظر کارنگ نیلا
خلا،حد خلا ،بے ثقل دھرتی
نظر نظارے کی دوری
…………
ازل سے جاری وساری
کوئی بھی رشتے آبی
زبان آتشیں پر
ایک قطرہ لمسیت کا
ٹپکاتانہیں ہے
سمندر چپ
سمندر کتنا گہراہے
(نظم سمندر کتنا گہراہے ،سے اقتباس )
بدنام نظرکی شاعری میں پیڑ پودوں سے ان کے گہرے تعلق کاجابہ جا اظہار ہوا ہے۔بطور خاص برگدکاپیڑ،جسے ہندومتھ میں بڑی اہمیت ہے،اورجس سے بدنام نظرکا اندرونی تعلق معلوم ہوتاہے۔نظم’’عظیم برگد‘‘کو غو رسے پڑھاجائے تو ایسا لگتا ہے کہ گاؤں کی پوری تاریخ،تہذیب وتمدن سب ختم ہوچکی ہے،جسے دیکھ کر شاعرجھنجھلااٹھتاہے اورFossilکی طرح کھڑے پیڑکوCarbon Twelveکے ذریعے ،اس کی عمر،اس کاحسن،اس کی جسامت اور کلچر جاننے کی شاعر کوشش نہیں کرتا،بلکہ نئی تہذیب کے چولہے،اس کو جلا کر خاک کردیناچاہتے ہیں،تاکہ پھرکوئی ماضی کے کھنڈروں میں جاکر خودکشی نہ کرے۔
عظیم برگد
قدیم برگد
برہنہ سر اور برہنہ تن یوں کھڑا ہواہے
کہ جیسے تاریخ کی حقیت
جوریزہ ریزہ بکھر چکی ہے
جدیددل اور دماغ سے جواترچکی ہے
…………
عظیم برگد عظیم ہوگا قدیم ہوگا
ہمارااس سے نہ کوئی رشتہ نہ کوئی ناتہ
ہمارا ناتہ بس اس سے اتناہی رہ گیاہے
کہ اس کے سوکھے ہوئے بدن کو
کسی کے چولہے کی آگ کردیں
ہم اپنے اجداد کے نقش کومٹادیں
ہڈیاں جلادیں
خلوص ،شفقت ،وفاکے سارے دئے بجھادیں
(نظم عظیم برگدسے اقتباس )
ایک اورنظم’’پیڑتلے‘‘میں برگدکاتعلق شاعر نے اپنی نوجوانی کے عشق سے جوڑاہے ۔اس طرح کئی نظموں اور غزلوں میں پیڑ اور خاص طورپر برگدکاپیڑان کے یہاں کئی طرح کی علامتوں اوراستعاروںکاکام کرتاہے۔
اس برگدکے تلے جم گئے ہیں پاؤں مرے
آخری بار جہاں تم سے ملاقات ہوئی
جس جگہ تم نے کہا تھا کہ ابھی آتی ہوں
ایک مدت ہوئی اس بات کوگزرے پھربھی
میں اسی پیڑکے سائے میں کھڑاہوں اب تک
(نظم پیڑتلے سے ایک اقتباس)
مخلوق کے کرب و اضطراب کااحساس تو مخلوق کامقدرہے لیکن عمل تخلیق کے کرب واضطراب کااندازہ خالق کوہی ہوگا ۔ اس کرب و اضطراب اور بے چینی ،زندگی کی سچائی اورزندگی کی پیچیدگیوں کوبدنام نظرنے بڑی صناعی کے ساتھ شاعری کے پیکر میں ڈھالاہے ۔
کسے ڈھونڈتے ہو ؟
یہاں وہ نہیں ہے
کہ تخلیق کادردسینے میں لے کرجوجنت سے بنجرزمیں پراترآیاتھا
جوفاران کی چوٹیوں سے زمانے کوآواز دے کر خلوص و وفاکی تہیں کھولتاتھا
تمہارے گناہوں کی خاطر جو مصلوب ہوکر بھی ہنستارہاتھا
جودریائے حق کا سفینہ لئے جب چلا تو
بپھرتی موجوں نے راستہ دے دیا
(نظم ’’یہاں وہ نہیں ہے‘‘ سے اقتباس )
مجموعۂ کلام’’بارگراں ‘‘یعنی بدنام نظرکی شاعری باذوق ادبی حلقے میں مقبولیت اور پذیرائی کی تمام تر صفتوں اور خصوصیتوں سے آراستہ ہے۔
٭٭٭
ISHRAT ZAHEER
MALAZ
NEW COLONY, NEW KARIM GANJ
GAYA-823001
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

