انسان نے اپنی پیدائش سے لے کر اب تک بےشمار ذرائع سے کسب علم کا فیض حاصل کیا ہے۔ جیسے جیسے وقت تبدیل ہوتا گیا اس کے ذرائع بھی جدید ترین ہوتے گئے۔ ان تمام ذرائع میں کتاب کی حیثیت مسلم رہی ہے جس کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔یہ کتابیں ہی ہیں جس نے اپنے اسلاف کے علوم و فنون اور شخصیت کو ژندہ جاوید بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ کتاب عام انسان کی بھی سوچوں کو متاثر کرنے کا ہنر رکھتی ہے اور جو مسلسل اس سے استفادہ کرنے میں لگا رہے تو بےشک اس کی سوچ اور شخصیت کا عظمت پرور ہونا تو یقینی ہوتا ہے۔
تبدیلی وقت کا ایسا جزو رہا ہے جو لاینفک ہے۔ یہ تبدیلی ہی ہے جس نے انسان کو ہمیشہ عروج کی طرف مائل کئے رکھا ہے۔اس تبدیلی کا تعلق زندگی کے کسی ایک شعبے سے نہیں ہے بلکہ تمام ہی شعبہ ہائے زندگی اس کے زیر اثر ہوتے ہیں۔موجودہ وقت کی سب سے بڑی تبدیلی ٹکنالوجی ہے جس نے زندگی کا سارا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ زندگی کا کوئی بھی ایک ایسا گوشہ نہیں ہے جس میں ٹکنالوجی کی رسائی نہ ہو سکی ہو۔ کتابوں نے بھی اس تکنیکی عروج سے بھرپور استفادہ کیا ہے اس کی وجہ سے کتابوں تک لوگوں کی پہنچ آسان ہو گئی ہے۔ فقط ایک کلک سے ہر موضوع پر کتابیں سامنے آ جاتی ہیں جو کہ کسی نعمت سے کم نہیں۔ اب ہم کتابوں کی مہنگی مہنگی قیمتوں کی ادائیگی کے بوجھ سے آزاد ہو گئے ہیں اور کتابوں کے لیے اب تلاش بسیار کی زحمت بھی نہیں کرنی پڑ رہی۔ اور نہ ہی حصول علم کے لئے اور کسی معاملے کی اصل حقیقت تک پہنچنے کے لئے میلوں کا سفر کرنا پڑتا ہے اب تو سب کچھ محض انگلی کی حرکت پر منحصر ہے اور یہ نعمت کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ہے بشرطیکہ اس کا استعمال مقصدیت کے دائرے میں رہتے ہوئے مثبت انداز میں کیا جائے۔
مطالعہ جو کہ انسانی روح کو بیدار کر دیتا ہے اس کے اندر فکر و فن کے نئے چراغ روشن کرتا ہے کیوں کہ یہ محض کاغذی پیرہن میں احوال گزشتہ اور وقت کی نزاکتوں اور درپیش مسائل کا حل ہی نہیں بیان کرتی بلکہ یہ انسان کے ذہن میں موجود امکانی صلاحیتوں کو مہمیز بھی دیتی ہے اور یہ اپنے اندر قدرت کے آفاقی پیغام کو بھی سمونے کا ہنر رکھتی ہے یہ انسان کے اندر کے سیکھنے کی صلاحیت کو پروان چڑھاتی ہے غرضیکہ کتابوں کو انسانی زندگی میں غیر معمولی حیثیت حاصل ہے ۔ وقت کی تبدیلی نے جہاں اس کو بہت ساری آسانیاں فراہم کی ہیں اور ان کی ترسیل میں آسانیاں پیدا کی ہیں وہیں کچھ ایسے مسائل بھی پیدا ہوتے جا رہے ہیں جو کتب بینی کے رجحان کو متاثر کر رہے ہیں نتیجتا اس کے فوائد سے ہم انسان محروم ہوتے جا رہے ہیں۔
اب چوں کہ ٹکنالوجی تک لوگوں کی رسائی آسان سے آسان تر ہوتی جا رہی ہے تو اب لوگوں کی اکثریت اس کے ذریعے تفریح کے نام پر تخریبی پہلو کی طرف مائل ہونے لگی ہے وہ صحت مند ذہنیت کے ساتھ صحتمند مواد کے بجائے وقتی تفریحی کی طرف زیادہ متوجہ ہو رہے ہیں۔ اور کمپنیاں اپنے فائدے کے لئے ایسے مواد تک ان کی رسائی کو مزید آسان بناتی جا رہی ہے۔ انسانی فطرت سہل پسندی کی طرف بآسانی راغب ہو جاتی ہے اس لئے آج کی نسل اس کے غیر متوازن استعمال کی وجہ سے اسکرین اڈکشن کا شکار ہوتی جارہی ہے جس کا تناسب وقت کے ساتھ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ لوگ وقتی تفریح کے لئے اپنے قیمتی وقت کے ضائع ہونے پر کوئی ملال بھی نہیں رکھتے۔ وقتی لذت کے لئے وہ زندگی کو اس قدر غیر متوازن بنا دیتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ وہ ذہنی سکون سے محروم ہونے لگتے ہیں۔
ایک وقت تھا جب لوگ وقت گذاری کے لئے کتب بینی اور دوسری مثبت سرگرمیوں کا سہارا لیتے تھے جو ان کی تفریح کے ساتھ ذہن سازی میں بھی معاون ہوتی تھی۔ ان کی سوچیں اعلی اقدار اور معاشرتی تقاضوں سے بھی اگاہ ہوتی تھیں۔
اس ڈیجیٹل دور نے بےشک انسانوں کو بےشمار فائدے پہنچائے ہیں لیکن اس نے کتب بینی کے مزاج کو جس طرح متاثر کیا ہے اس سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا اور ایشیائی ممالک میں یہ بدنظمی اور عدم توجہی بہ کثرت دیکھنے کو ملتی ہے جب کہ یوروپی ممالک بروقت اس خطرے کا ادراک حاصل کر کے اپنی نسل کو اس کی گرفت سے آزاد کرنے کے لئے سنجیدگی کے حکمت عملی بنا رہے ہیں کتابوں سے دوری اور وقتی تفریح کے نشے نے تہذیب و تقافت کی تعریف بھی بدل کر رکھ دی ہے۔ اور اس نے سب سے زیادہ ذہنی صحت کو متاثر کیا ہے جس کے منفی اثرات انسان کے خود سے تعلق اور رشتوں کی ویلیوز اور طرز معاشرت پر پڑتے صاف دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک نشے کی طرح یہ ذہنوں کو اپنی لپیٹ میں لیتی جا رہی ہے۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ٹکنالوجی کو ہم نے اپنی دسترس میں تو لے لیا ہے لیکن ہمیں اس کے استعمال کا صحیح طریقہ ہی نہیں معلوم اور نہ ہی ہمیں اس کی گلیمرس دنیا سے اتنی فرصت ملتی ہے کہ ہم اس پہلو سے سوچیں اور اس پر کام کریں۔ اور اس کے مثبت استعمال سے اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی سوچیں۔
اس کی ایک بڑی وجہ ہماری طبیعت میں اعتدال کا فقدان اور انتہا پسندی کی طرف بڑھتا رجحان ہے۔ اور ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم بہاؤ کے ساتھ بہنے کے عادی ہو چکے ہیں کبھی ہم یہ ٹھہر کر سوچنے کی خواہش نہیں کرتے کہ آیا یہ رویہ یا یہ سرگرمی ہمارے لئے نفع بخش ہے بھی یا نہیں ۔
حالاں کہ ٹکنالوجی ایک بڑی نعمت ہے جس نے ہمیں بےشمار لرننگ پلیٹ فارم مہیا کئے ہیں اور ہمہ وقت کتابیں ہماری دسترس میں ہوتی ہیں فارمل تعلیم کے ساتھ انفارمل تعلیم کے ذرائع بھی اس نے پیدا کر دئیے ہیں اتنی آسانی کے باوجود کیا وجہ ہے کہ ہم مطالعہء کتب سے عدم توجہی برت رہے ہیں ؟ شاید کچھ لوگ یہ کہیں کہ ٹکنالوجی کی دنیا ہی ایسی ہے کہ وہ نوجوان نسل کو اپنے سحر سے نکلنے ہی نہیں دے رہی ۔ جب کہ حقیقت اس سے مختلف ہے امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں جس کو ٹکنالوجی کا مرکز کہا جا سکتا ہے وہاں پہ کتابیں پڑھنے کا تناسب ہمارے یہاں سے کہیں گنا زیادہ بہتر ہے۔ وہ سفر کرتے ہوئے تفریح اور آرام کے اوقات میں کتابیں یا تو پڑھ رہے ہوتے ہیں یا سن رہے ہوتے ہیں وہ کتابیں پڑھنے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کرتے ہیں کہ اتنے دنوں اور مہینوں میں اتنی کتابیں مجھے پڑھ لینی ہے ۔ یہ جان کر آپ کے ذہن میں یہ سوال تو پیدا ہوگا ہی کہ اس کے پیچھے کس طرح کے عوامل کار فرما ہیں ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ محض ٹکنالوجی ہی نہیں رکھتے بلکہ اس کے استعمال کرنے کا سلیقہ بھی سیکھتے ہیں انھوں نے باقاعدہ اپنا مقصد حیات اور ہدف کا تعین کیا ہوا ہوتا ہے۔ ان کے اندر spirit of learning کمال کی ہوتی ہے کیوں کہ انسان جس طرح کی اسپرٹ کے ساتھ جیتا ہے وہ اس کی زندگی کے لمحے لمحے میں پائی جاتی ہے۔ وہ اس کو کسی خاص وقت میں ہی ایکٹو نہیں کرتا بلکہ ہمہ وقت وہ اس احساس کی زد میں ہوتا ہے۔
ہمارے یہاں چوں کہ مقصدیت اور اہداف کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی ہماری زندگی چند مروجہ چیزوں کے اردگرد گھوم رہی ہوتی ہے تو ہمیں وقت کو بس گذارنا ہوتا ہے خواہ کسی بھی طرح گذرے نہ ہمیں وقت کے یوں ہی گذر جانے پہ افسوس ہوتا ہے اور نہ زندگی کئ رائیگانی کا غم ہوتا ہے۔ کتابیں جو کہ تفریح کے ساتھ ساتھ مقصد حیات کو بھی متاثر کرتی ہے اس کو پڑھنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس کے لئے اپنے دل و دماغ کو راغب کیا جائے اور اس کی لذت کو محسوس کیا جائے ۔ہم ٹھہرے سہل پسند لوگ ہمیں اتنی فرصت کہاں کہ ہم یہ سب کچھ کریں پھر ہم بآسانی ٹکنالوجی کے تفریحی مواد کا غیر متوازن استعمال کرنے لگ جاتے ہیں جس سے ہم سستی پلیژر پاتے ہیں اور پھر ہم اس کے اس قدر عادی ہو جاتے ہیں کہ ہم اپنی نفسیاتی اور جسمانی صحت دونوں کو ہی متاثر کر لیتے ہیں جس کے بدترین اثرات کو ہم اپنے اردگرد بآسانی دیکھ سکتے ہیں ۔
ٹکنالوجی نے ہمارے لئے بڑی آسانیاں پیدا کی ہیں ہم ان آسانیوں کو متوازن رویے کے ساتھ ہی استعمال کر سکتے ہیں ۔زندگی میں ہر چیز کے لئے جگہ اور وقت مخصوص ہونا چاہئے کوشش کیجئے کہ آپ اس کی منصوبہ بندی کرنا سیکھیں اور کتابوں کو پڑھنے کو اپنا معمول بنائیں کیوں کہ یہ آپ کی سوچوں کو بہتر بنانے میں ایک اہم کردار کرے گی اگر آپ کے پاس کتابیں پڑھنے کا وقت نہیں ہے تو آپ آڈیو کتابیں سن کر اس کمی کو پورا کر سکتے ہیں۔ یاد رکھئے غیر متوازن رویہ سب سے پہلے آپ کی شخصیت اور پھر رشتے اور طرز معاشرت کو متاثر کرتا ہے۔ ہمیں ٹکنالوجی کے غلبہ اور بہتے بہاؤ کو الزام دینے کے بجائے اپنی ذمےداری قبول کرنی ہوگی۔ زمانہ ہر دور میں ہی مثبت پہلوؤں کے ساتھ کچھ نہ کچھ منفی عناصر رکھتا آیا ہے اس میں درپیش آنے والی تبدیلی فطری ہے اہم تو بس یہ ہے کہ ہم اس تبدیلی کو کیسے اپنے حق میں نفع بخش بناتے ہیں اور کس طرح اس کے منفی مضمرات سے خود کو بچاتے ہیں ۔ ہم اپنی زندگی میں کوئی کارہائے نمایاں تبھی انجام دے سکتے ہیں جب ہم شخصیت سازی اور ذہن سازی کی اہمیت کو سمجھنے لگے ہوں۔منصوبہ بندی ہماری عادت ثانیہ بن جائے اور صحت مند عادات و اطوار کو اپنانا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہو ۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

