Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیم

ترنم ریاض کی افسانوی ریاضت وانفرادیت – ڈاکٹرقسیم اختر

by adbimiras جولائی 20, 2022
by adbimiras جولائی 20, 2022 0 comment

ترنم ریاض نے نہ صرف خواتین تخلیق کاروں میں اپنی منفرد شناخت قائم کی ہے بلکہ انھوں نے نوّے کی دہائی کے بعد کی نسل کے افسانہ نگاروں میں اپنا دبدبہ قائم کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی افسانوی آواز مر د اور عورت تخلیق کاروں کے درمیان بہ آسانی سنی جاسکتی ہے۔ ان کی انفرادیت کی کئی وجوہات ہیں۔ اول ، یہ کہ انھوں نے تواتر سے افسانے لکھے۔ تقریباً نصف درجن ان کے افسانوی مجموعے شائع ہوئے۔گویا ترنم ریاض کی افسانوی ریاضت نے ان کے لیے تجربات کی راہیں ہموار کردیں ۔ تجربات کی جدت اور موضوعات کی ندرت کی بنا پر فن کار اپنی انفرادیت قائم کرتا ہے۔ ترنم ریاض اس پہلو سے آگاہ تھیں ۔ انھوں نے تجرباتی سطحوں پر پھونک پھونک قدم رکھا اور تہذیبی پگڈنڈیوں پر چلتے ہوئے قدیم تہذیب اور جدید احساسات کو مدغم کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں جہاں پرانے معاملات تہذیبی پس منظر میں ابھرتے ہیں، وہیں نئے طور طریقوں سے پیداشدہ المیہ ہمارے سامنے آجاتا ہے۔ کیوں کہ ترنم ریاض نے کشمیری معاملات کے اظہار کے ساتھ ساتھ شہری رویوں کو ترجیحی بنیاد پر اپنے فکشن میں شامل کیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ موجودہ عہد کے افسانہ نگاروں میں ترنم ریاض خصوصی مسائل برتنے کی وجہ سے اپنی منفرد شناخت رکھتی ہیں۔ یہ واقعہ ہے کہ انھوں نے اکیسویں صدی کی برق رفتار ترقیوں اور گم ہوتی پرانی تہذیبوں سے اپنا بیانیہ خلق کیا ہے۔ ان کے بیانیے میں شہری مسائل نے اپنا وافر حصہ طے کیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ترنم کے افسانوں میں کشمیرکا دیہی پس منظر اور کشمیر سے باہر کا شہر، مکمل آب وتاب کے ساتھ موجود ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ صارفیت کے زیر اثر پیدا ہونے والے خیالات بھی ان کے یہاں بہت پائے جاتے ہیں۔ ترنم ریاض نے صارفیت اور مادیت سے شادی کے نظام کو بھی جوڑا ہے۔ گویا آج شادی بیاہ میں مادیت پرستی ایک توانا عنصر بن کرسامنے آتا ہے۔ اس توانائی میں سماج کا مکمل نقشہ تتر بتر نظر آتا ہے ۔ ذیل میں ہم ترنم ریاض کے چند افسانوں کے فکری، فنی، لسانی اور موضوعاتی سروکار کا تجزیہ کریں گے ، تاکہ ان کی انفرادیت سامنے آسکے۔

ترنم ریاض کا ایک افسانہ ’’ مائیں ‘‘ ہے جس میں انھوں نے ممتا کی پیکر تراشی کی ہے کہ ماں کے اندر جو ترحم کا جذبہ پایا جاتا ہے ، وہ بڑھتی عمر کے ساتھ کم نہیں ہوتا ہے۔ ماں ہمیشہ ماں ہی رہتی ہیں۔ بچوں کی شادی بھی ہوجائے تو بھی ماں کے سامنے بچہ بچہ ہی رہتا ہے۔ ترنم بنیادی طور پر اس افسانے میں دو ماؤں کو پیش کرکے معاشرتی طور پر ہمیں گدگدایا ہے۔ ایک ماں ہے،  دوسری ان کی بیٹی ہے۔ بیٹی کی شادی ہوگئی ہے اور بیٹی کے پاس بھی بچے ہیں۔ گرمی سے بے حال ہونے والی بیٹی کے لیے ماں پریشان ہوجاتی ہیں اور بیٹی اپنے بچوں کے لیے پریشان رہتی ہے ۔ جب بیٹی اپنی ماں کی کیفیت دیکھتی ہے کہ وہ کس طرح پریشان ہے تب بیٹی کے اندر ماں کی محبت جاگ جاتی ہے۔ اس افسانے میں ترنم ریاض نے کوئی فلسفہ پیش نہیں کیا بلکہ سادگی سے ایک کہانی پیش کی ہے اور افسانے کے کردار جذبۂ ترحم کے ارد گرد گھومتے ہیں۔ اس طرح دیکھا جائے تو ترنم ریاض گہرائی میں اترتی ہیں اور کرداروں پر غور وفکر کرنے کے بعد کہانی بنتی ہے۔ گویا وہ آپ بیتی میں جگ بیتی کے عناصر پیوست کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ترنم ریاض نے تخیلات یا پھر دورازکار تشبیہات کے سہارے اپنی کہانیوں کو ماورائی کیفیتوں سے دوچار کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ انھوں نے عام فہم لفظوں اور عام واقعات میں غیر معمولی فکر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کہانیاں تفہیم کے لحاظ سے بھی آسان ہوتی ہیں اور لفظی ساخت کے لحاظ سے بھی۔

ترنم ریاض کے مذکورہ افسانے میں سماجی رویہ ، پرانی قدریں ، ممتا کی کیفیتیں  عورتوں کی نفسیات اور بچوں کی پرورش کے معاملات کو انتہائی شان دار طریقے سے پیش کردیا گیا ہے۔ کہانی پڑھتے پڑھتے کبھی کبھی ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ترنم ریاض نے کوئی کہانی نہیں پیش کی ہے بلکہ اپنے نجی واقعے کو تخلیقی پیراہن عطا کیا ہے۔ کیوں کہ ترنم ریاض ہندوستانی قدروں کی پرستا رتھیں۔انھوں نے اپنی کہانیوں اور تقریروں میں ہمیشہ ہندوستانی تہذیب کو بیان کیا ہے ۔ انھوں نے ہمیشہ ایسے خیال کو پیش کیا جس سے سماج میں طمانیت کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ گویا وہ سماج میں اتر تی ہیں اور سماجی مسائل پر توجہ کرتی ہیں۔ اس کے بعد حالات کا تجزیہ کرتی ہیں۔’’مائیں ‘‘افسانہ سے ایک اقتباس دیکھیں :

’’آئیے اس چار پائی پر لیٹ جائیے۔میں نے دیوار کے ساتھ چارپائی جلدی سے بچھائی۔ آئیے۔ میں تو بھول ہی گئی ‘‘ ۔ امی چارپائی پر لیٹ گئیں تومیں نے ایک اطمینان بھری نظر ان پر ڈالی۔ لیکن مجھے اپنے حلق میں کچھ اٹکا سا محسوس ہورہا تھا۔ پھر پل بھر کے بعد میں نیچے کو چل دی ‘‘۔(۱)

مذکورہ اقتباس میں دیکھیں کیسے ترنم ریاض نے جذبات اور ممتا کو تصادم آشنا بنا دیا ہے ۔ بیٹی پہلے اپنے بچوں کو سکون پہنچانے میں مصروف تھیں اور اسے ماں کا خیال نہیں تھا، مگر جب اس کو ماں کا خیال آیا اور ماں کی کیفیت دیکھی تو ماں کی خدمت میں لگ گئی ۔ ماں کی حالت تھوڑی بحال ہوئی تو وہ پھر اپنے بچوں کی خدمت میں مصروف ہوگئی ۔ اس طرح دیکھیں تو ترنم ریاض نے اس افسانے میں دو نسلوں کے جذبات اور ممتا کو اچھی طرح پیش کیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ترنم ریاض نے محسوسات کی بنیاد پر کہانیاں نہیں لکھیں بلکہ تجربات کو کہانی کا پیراہن عطا کیا ہے۔

ترنم ریاض کی دوسری کہانی ’’بابل ‘‘ ہے۔ اس کہانی میں انھوںنے غیر برابری کی شادی کو انتہائی شاندار طریقے سے پیش کیا ہے بلکہ یہ کہا جائے کہ اس میں مادیت کا زور نظر آتا ہے تو زیادہ مناسب بات ہوگی۔ کیوں کہ ماں باپ بھی ایسی شادیوں کے ذمے دار ہوتے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ بچیوں سے کہیں زیادہ ماں باپ بیٹی کی شادی میں مادیت کو نگاہ میں رکھتے ہیں۔ ترنم ریاض نے گویا اس کہانی میں غیر برابری کی شادی کو نشانۂ تنقید بنایا ہے اور پرسکون انداز میں مادیت پرست والدین کو نشانۂ تنقید بنایا ہے۔ اس لیے انھوں نے اس افسانے کو غیر برابر ی کے مرکز پر لاکر چھوڑ دیا ہے:

’’بہر حال چشمے والا آدمی لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر اسے پلیٹ فارم سے لے جانے لگا ۔ اس نے لڑکی کا سر دوسرے ہاتھ سے اپنے اس شانے پر ٹکادیا تھا جہاں لڑکی کے والد نے پہلے سے ایک شال رکھا ہوا تھا ۔ ۔۔۔ اوہ۔۔۔ تو وہ اس کا جیٹھ نہیں شوہر تھا ۔ مجھے سینے کے اندر اپنا دم قید ہوا محسوس ہونے لگا ۔ لڑکی سوگوار سی چل رہی تھی۔ دونوں دیوار سے کچھ فاصلے پر ہنستے ہوئے آرہے تھے ۔ ‘‘(۲)

مذکورہ اقتباس سے اندازہ کرسکتے ہیںکہ کس طرح ترنم ریاض نے غیر برابری کی شادی کو نشانہ ٔ تنقید بنایا ہے۔اس افسانے میں ترنم ریاض نے درد بھرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے یہ دکھایا ہے کہ اکیسویں صدی میں مسلم سماج کی لڑکیاں کس قدر بے دست وبازو ہیں کہ انھیں شادی کے معاملے میں بھی پسند اور ناپسند کا اختیار نہیں ہے۔ ترنم نے یقینا موجودہ عہد کی ایسی کہانی میں درد بھر کر سماج کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ ترنم نے افلاطونی خیالات اور ملکوتی انداز سے سروکار نہیں رکھا ہے،بلکہ ان کے موضوعات سوال بن جاتے ہیں اور سماج سے سوال کرتے ہیں کہ ایسے حالات میں ایک لڑکی کی کیا قدر وقیمت ہے۔ گویا ترنم ریاض زبان حال سے کہہ رہی ہیں کہ اُس عہد کی لڑکیاں بہتر تھیں، جب انھیں زندہ درگور کردیا جاتا تھا۔ انھیں ایک دفعہ ہی ختم کردیا جاتا تھا ، مگر آج تو غیر برابری کی شادی سے ایک لڑکی ہزار دفعہ مرتی ہے ۔ ترنم ریاض نے اسی خیال کو مرکزی نکتہ عطا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترنم ریاض اپنی کہانی میں ایک سوال بن جاتی ہیں اور سماج سے باربار پوچھتی ہے ۔

’’ابابیلیں لوٹ آئیں گی‘‘میں شامل افسانہ ’’ شہر ‘‘ ایک انتہائی کامیاب افسانہ ہے اور ترنم ریاض کے تخیل کی بے مثال کہانی ہے۔ کیوں کہ انھوں نے اس افسانے میں شہری معاملات کی علتوں اور پریشانیوں کو انتہائی شان دار رخ دیا ہے۔ اس کہانی میں ترنم ریاض نے شہر کی خوفناکی کو ایک الگ زبان دی ہے۔ شہری زندگی میں لوگوں سے لاتعلقی اپنے عروج پر ہوتی ہے ۔ لوگ اپنی غرض سے ہی مطلب رکھتے ہیں۔ افسا نے سے پہلے ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں :

’’ممی‘‘اس نے ممی کو پوری طاقت سے جھنجھوڑا مگر ممی بے حس وحرکت پڑی رہیں۔ وہ کچھ دیر گم سم سا بیٹھا رہا۔ پھر ثوبیہ کے قریب جاکر اس نے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے آنسو پونچھے۔

’’نہیں رونا ثوبی‘‘ممی سورہی ہیں ، مگر ثوبی تھی کہ چپ ہی نہیں ہورہی تھی ۔

’’چپ ہوجا‘‘۔ وہ چیخا اور ساتھ ہی ڈھاریں مار مار کر رونے لگا ۔ ‘‘

جانے کب تک دونوں بہن بھائی روتے رہے مگر امی نے چپ ہی کرایا نہ کچھ بولیں ۔‘‘(۳)

اس افسانے کی کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک ماں اپنے دو بچوں کے ساتھ نئے شہر میں آئی ہیں۔ وہ برسر روز گار ہیں۔ ان کے دو چھوٹے بچے ہیں۔ بند فلیٹ میں ماں کا انتقال ہوگیا ہے۔ دونوں بچے اس قابل نہیں ہیں کہ موت کے مفہوم کو سمجھ سکیں ۔ اس لیے وہ بچے ماں ماں چیختے ہیں، چلاتے ہیں کہ ماں ان کو کچھ کھانے پینے کو دیں ، مگر ماں کی موت واقع ہوگئی ہے۔ جب ماں کی بو ادھر ادھر پھیلتی ہے تو ماں کی موت کا پتا چلتا ہے۔

ترنم ریاض کی یہ کہانی ان کی اکثر کہانیوں پر بھاری ہے ۔ کیوں کہ انھوں نے نہ صرف شہری مزاج کا تجزیہ کیا،بلکہ خوفناکی کے ساتھ آنے والے زمانے کی پیشین گوئی بھی کردی کہ آئندہ فلیٹوں کی کیا صورت حال ہوگی ۔ دیہی تہذیب میں لاکھ خو د غرضیاں ہوں ، تاہم دیہات میں یک گونہ محبت ومؤدت احساس ہوتا ہے۔ اپنائیت ہوتی ہے۔ انسان ایک دوسرے کے درد میں شریک ہوتا ہے، تاہم شہر نے انسانوں سے انسانیت چھین لینے کی قسمیں کھالیں ۔ اس لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ترنم ریاض نے شہر کے مسائل کا جس انداز سے تذکرہ کیا، اس کی مثالیں خال خال ہی ملتی ہیں ۔ کیوں کہ انھوں نے شہری مزاج سے اپنے مزاج کو ہم آہنگ کرلیا ہے اور امکانی مسائل پر افسانہ بننے کی کوشش کی ہے۔ ایسا محسوس ہوتاہے کہ ترنم ریاض نے لکھنے سے زیادہ سوچنے پر وقت خرچ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں کی فضا خوفناکی اور امکانی مسائل سے لبریز ہے۔

کامیاب تخلیق دراصل وہی ہوتی ہے جو اپنی حس کی بنیاد پر آئندہ کے حالات کی جھلکیاں دکھادے۔ ترنم ریاض کی یہ خوبی ہے کہ انھوں نے حالات سے پیدہ شدہ معاملات سے مستقبل میں برآمد ہونے والی خطرناکی کا اندازہ کرلیا ہے اور اپنے قاری کو زمانے کی سنگلاخی سے باخبر کردیا ہے ۔

یہ واقعہ ہے کہ ترنم نے شہری مسائل پر گہرائی سے غوروفکر کیا ہے اور کشمیر کے دیہات اور وہاں کے نازک حالات کی عکاسی کی ہے۔ رہی بات زبان وبیان کی تو یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ وہ ناولوں سے کہیں زیادہ افسانوں میں کامیاب نظر آتی ہیں۔ کیوں کہ ان کے افسانوں کی زبان میں جو سلاست ہے وہ ان کے ناولوں میں نظر نہیں آتی ہے۔ ان کے اسلوب کے بارے میں وارث علوی لکھتے ہیں :

’’ان کے اسلوب میں شاعرانہ ہتھ کنڈوں کا استعمال نہیں۔ وہ سازینہ بھی نہیں جو کھنکتے لفظوں کے جل ترنگ سے پیدا ہوتاہے۔ رومانی تخیل کی وہ فضا آفرینی بھی نہیں جس میں مدھر میٹھے لفظوں کی رِم جھم برسات ہوتی ہے۔ایسی کوئی چیز ترنم ریاض کے یہاں نہیں، غنائیت ہے گو ہم نہیں جانتے ہیںکہ اس کا سرچشمہ کہاں ہے۔ ‘‘(۴)

سچی بات یہ ہے کہ انھوں نے اپنے اسلوب کو ثقیل کرنے یا پھر لفظی طور پر دھونس جمانے کی کوشش نہیں کی ہے، بلکہ فطری انداز سے انھوں نے اپنے افسانوں کو آگے بڑھایا ہے۔ ان کے اسلوب کا فطری پن ایک بڑی نعمت ہے ۔کیوں کہ انھوں نے ہر جگہ کہانی کے تقاضے کے مطابق زبان استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔

ترنم ریاض نے مکالمے کے ذریعے غیر ضروری طور پر کہانی کو آگے بڑھانے کی کوشش نہیں کی ہے بلکہ کہانی کی فنی ضرورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی بات کہنے کی کوشش کی ہے۔ ترنم ریاض یقینا اپنی معاصرین عورتوں میں حددرجہ نمایاں ہیں ۔ ان کی افسانوی فضا میں ہمارا سماج اس قدر رچا بسا ہوا معلوم ہوتا ہے کہ ہم اپنے معاملات کو انگیز کرنے لگ جاتے ہیں۔ کیوں کہ ترنم ریاض نے اپنی کہانیاں کتابوں سے اخذ کرنے کی کوشش نہیں کی ، بلکہ انھوں نے اپنی نظر سے واقعے کو دیکھا اور محسوس کیا ہے اور دیکھے ہوئے واقعات میں اپنا نظریہ شامل کردیا ہے ۔ اس طرح ان کی کہانیاں تجربات اور مشاہدات کے تصادمات سے سامنے آتی ہیں ۔پروفیسر عتیق اللہ نے ان کے افسانوں کے متعلق لکھا ہے:

’’ترنم ریاض کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو وہ کسک ہے جسے ایک ٹیس کی طرح ان فسانوں کے بطن میں محسوس کیا جاسکتاہے۔ اگر چہ ان افسانوں کا ماحول اور سارا سیاق بے حد خاموش آگیں ہے ، لیکن اسی خامشی کے اندر جو بلا کا شعور برپا ہے ، اسے ان کا قاری بہت جلد محسوس کرلیتا ہے۔ ترنم ریاض میں چیزوں کو ان کے اندر اتر کردیکھنے کی جو صلاحیت ہے وہ ایک افسانہ نگار کے لیے بڑی نیک فال ثابت ہوتی ہے ۔‘‘(۵)

قاری کو متاثر کرنے میں افسانے کی زبان اور موضوع اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ترنم ریاض کے یہاں موضوعات کی جدت ہے بلکہ یوں کہیں کہ پرانے موضوعات کو باندھنے کا نیا انداز انھیں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے موضوع میں خوفناکی پیدا ہوجاتی ہے ۔ کیوں کہ ہمارا موجودہ معاشرہ ایک خوفناک معاشرہ ہے۔ اس معاشرے کی سچی تصویر کھینچنے کے لیے خوفنا کی کا سہارا لینا ضروری ہے۔ الغرض ترنم ریاض نے شہری معاملات سے جو نتائج اخذ کیے ہیں اور نتائج کو جو تخلیقی رنگ عطا کیا ہے، وہ انتہائی خوب ہے ۔ کیوں کہ انھوں نے تہہ داری میں اتر کر مسائل کو انگیز کیا ہے اور اس انگیزی سے ان کے افسانوں میں اثر پذیری پیدا ہوگئی ہے ۔

 

حواشی :

(۱)ترنم ریاض ، ابابیلیں لوٹ آئیں گی ، ایم آرپبلی کیشنز دہلی ، 2002، ص 137۔

(۲)ترنم ریاض ، ابابیلیں لوٹ آئیں گی ، ایم آرپبلی کیشنز دہلی ، 2002،،ص108 ۔

(۳)ترنم ریاض ، ابابیلیں لوٹ آئیں گی ، ایم آرپبلی کیشنز دہلی ، 2002،،ص167 ۔

(۴)وارث علوی ، گنجفہ باز خیال ،مورڈن پبلشنگ ہاؤس دہلی،2007، ص123۔

(۵) ماخوذ فلیپ ، ابابیلیں لوٹ آگئیں گی۔

 

ڈاکٹرقسیم اختر

اسسٹنٹ پروفیسر، ڈی ۔ ایس ۔کالج کٹیہار(بہار)

پن کوڈ :854105

موبائل:9470120116

qaseemakhtar786@gmail.com

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
حیدرآباد سے حیدآباد تک – قیوّم خالد
اگلی پوسٹ
ڈیجیٹل دور اور مطالعہ سے دوری – علیزے نجف

یہ بھی پڑھیں

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

افسانہ ‘ عید گاہ’ اور ‘عید گاہ سے...

اگست 7, 2024

اندھیری آنکھوں کے سامنے سورج اُگانے والا افسانہ...

اگست 4, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں