بدلتے موسم اور حوادث زمانہ کی نیرنگیاں کبھی کبھار خاکدان گیتی پر کچھ ایسے نقوش چھوڑ جاتی ہیں جو تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ کے لیے ثبت ہو جاتے ہیں، مورخین زمانہ اسے اپنی ڈائری میں بروقت قید کر لیتے ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ نقش جمیل زبان زد عوام و خواص بن جاتا ہے. جی؛ دامنِ تاریخ میں سمٹے ہوئے آپ کو ایسے ہزاروں واقعات مل جائیں گے جو کبھی ہماری آبادی کے نشیب و فراز سے ٹکرا کر اس قدر تندرست و توانا ہوئے کہ اس سے انسانی فکر و خیال کی کوئی نا کوئی قیمتی و سنہری لڑی رہتی دنیا تک کے لیے جڑی کی جڑی رہ گئی، ایسے ہی واقعات ہوتے ہیں کہ جس کا مطالعہ کرنے پر انگنت نکات و دروس بھی واشگاف ہوتے چلے جاتے ہیں، ہاں! اگر مسلسل تگ و دو کے سانچے میں ایک عام سا انسان بھی جب اپنی اُجڑی ہوئی زندگی میں سُدھار و انقلاب کے سنہرے خواب دیکھ کر اس سے رشتہ خودی جوڑ لے تو پھر کیا کہنے! وہ ایک نا ایک دن اسے شرمندہ تعبیر کرکے سرخرو تو ضرور ہو جائے گا۔
کچھ ایسا ہی معاملہ آج سے صدیوں پہلے رونما ہوئے "واقعہ کربلا” کا بھی ہے۔ زمانہ نے کتنے انقلاب دیکھے اور اس کی قسمت کی دھرتی پہ کتنی باد بہاری چلی، اس سے پردہ اٹھانا ایک انتہائی مشکل امر ہے۔ لیکن، بر بنائے مطالعہ کتب مجھے تو اتنا معلوم ہے کہ نواسئہ رسولِ کائنات ﷺ، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے بہتر جاں نثاروں کے ہمراہ کوفہ کی سرزمین پر جو شمع دین روشن کیا تھا، آج اس کی کرنیں اور شعائیں دور دور تک پھیلی نظر آتی ہیں۔ گزرتے ایام کے ساتھ اس کی دھمک اس قدر تیز و تند ثابت ہوئی ہے کہ آج سنجیدہ و برگزیدہ شخصیات اس سے استفادہ کرکے قسمت کا سکندر بنتے چلے جا رہے ہیں۔ آپ نے اپنے اہل خاندان و محبین کے ساتھ مل کر یزید پلید سے جو نظریاتی جنگ کی تھی، اس کے اسرار و رموز حاملین انصاف و دیانت کے دلوں میں ایک ایک کر کے زندہ ہیں۔ پر آج بھی کتنے ہی ایسے حقیقت سے ناآشنا افراد ہیں، جو اسے دنیاوی جاہ و حشمت کی حرص و طمع کے حوالے سے شخصی و سیاسی جنگ قرار دیتے ہیں، حالانکہ اس کا اس بےبنیاد فکر و رائے سے دور دور تک کا بھی کوئی واسطہ نہیں ہے بلکہ امام حسین رضی اللہ عنہ کا یہ کارواں تو عدل و انصاف کا پیامبر تھا، جو مدینہ کی مقدس گلیوں سے امن کا فاختہ بن کر پیغامِ درس و محبت عام کرنے اور کسی پہ کسی کی طرف سے پیہم اصرار و پے در پے بلاوے تئیں عائد ہونے والے جو اخلاقی فریضے ہوتے ہیں، اس کا عملی طور پر خوشنما منظر دکھانے کوفہ کی سرزمین پہ اترا تھا۔ آخر ایک ایسی عظیم ہستی، جن کی پرورش و نشو و نما بھی اللہ رب العزت کے اس محبوب بندے نے کی ہو، جن کی تخلیق کا مقصد اعظم ہی یہی تھا کہ وہ ظلم و ستم کی عادی ہو چکی مخلوق کو انسانیت کا زریں پاٹھ پڑھائے، وہ کیسے دوسروں پر جارحانہ پنجے کس سکتے تھے۔ یہ گھناؤنی بات اور اس طرح کی گھٹیا حرکت کا ظہور تو امام عالی مقام کی ذات سے ہونا بالکل محال و کوسوں دور ہے۔ آپ نے میدان کربلا میں جو بھی افعال انجام دیے، وہ سب کے سب حق و انصاف کی سربلندی اور جور و جفا کو تہ تیغ کرنے کے لیے تھے۔ اگر آپ چاہتے کہ میں دنیا کماؤں اور میرے بال، بچے اور احباب باکمال چین و سکون کی زندگی بسر کریں تو یہ آپ کے لیے کوئی کٹھن مسئلہ نہیں تھا، بس چٹکی بھر کا کھیل تھا۔ پر آپ نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا کہ جس سے اسلام کی شبیہ پر ذرہ برابر بھی دھبہ لگے۔ اگر آپ چاہتے کہ میں تخت و تاج کا مالک بنوں، رعایا کے تمام سیاہ و سفید کا فرمان رواں ہو جاؤں، لوگ میری تعظیم و تکریم کرے اور حکمرانی کا باگ ڈور لے کر میں انانیت کی ڈگر کا راہی بن جاؤں تو یہ آپ کے لیے چشم زدن کا کام تھا، آپ کے نانا جان کی ایک اشارہ ابرو پہ کیا نہیں ہو سکتا تھا؟ دنیا پلٹ سکتی تھی، دعا کے لیے دست مبارک دراز ہوتا اور اِدھر پورا کا پورا نقشہ ہی بدل جاتا، پر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا اور آپ مکمل ثبات قدمی و پامردی کے ساتھ وقت کی فرعونی طاقت و قوت کے تمام غرور و گھمنڈ خاک میں ملاتے رہے، یہاں تک کہ اپنے رفقاے سفر کے ہمراہ جام شہادت نوش فرما کر ہمیشہ ہمیش کے لیے زندہ و جاوید ہو گیے۔
واقعہ کربلا، یقیناً اپنے اندر بے شمار نکات و دروس رکھتا ہے۔ یہ محض کوئی ایسا ثانیے بھر کا ہلکا پھلکا واقعہ نہیں ہے، جو کسی وقت رونما ہوا اور پھر اسے آخری دم تک کے لیے بھلا دیا گیا۔ نہیں،ہرگز نہیں۔ یہ تو صبر و استقلال، عزم و ہمت، وفاداری و وعدہ پروری، حق و انصاف گوئی، امن پسندی، اسلام بلندی اور جاں نثاری وغیرہ کا ڈھیروں قیمتی درس دیتا ہے۔ واقعی! امام حسین رضی اللہ نے کربلا کی تپتی ریت پر خاندان کی پردہ نشین مقدس خواتین، ننھے منے معصوم بچے بچیاں اور آپ کے ایک اشارہ پر جان کی بازی لگا دینے والے احباب و اقارب کے ساتھ جو صبر و شکیب کی داستان عظیم رقم کی ہیں وہ آج ہمیں خوب خوب تدبر و تفکر کی دعوت عمل دے رہی ہے۔ مگر؛ افسوس کہ آج ہمارا حال بالکل مختلف ہے، ہم تھوڑی اور ہلکی پھلکی مصیبت آتے ہی شکوہ و شکایت کا دفتر لیے بیٹھ جاتے ہیں۔ ہماری زندگی کا یہ بھی المیہ ہے کہ جب کبھی ہمیں اسلام اور مسلمانوں کے نام پر ٹارگیٹ کیا جاتا ہے اور شکنجۂ حیات کسے جانے لگتے ہیں تو اپنے پیچھے مریدین و متوصلین کی ایک لمبی ٹولی لیے مصلحت پسندی و موقع شناسی کا غیر درست ڈھونگ رچ کر ایسے ظالم کے ہاتھوں میں ہاتھ دے بیٹھتے ہیں، جس کی اسلام اور مسلم دشمنی اس پرآشوب دور میں بالکل جگ ظاہر ہے۔ صبر ہی کا تو وہ سنہرا درس ہے جو ہمیں اس بات کی طرف مجبور کرتا ہے کہ ہم زندگی کے کسی بھی موڑ پر عدل و انصاف اور امن و آشتی سے بے وفائی نہ کریں۔
امام عالی مقام نے اپنی اس شہادت عظیم سے یہ بھی درس دیا ہے کہ انسان کو ہمیشہ حق و انصاف کے لیے آواز بلند کرنا چاہیے، اگرچہ اس کی جان پہ ہی کیوں نہ بن آئے، کبھی باطل کے سامنے جھکنا نہیں چاہیے، اگرچہ آپ قلیل تعداد میں ہوں اور دشمن انبوہ عظیم کی صورت میں۔ اسلام کی حفاظت تو اولین فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے، اگر اسلام ہی نہیں تو پھر ہم مسلمان کس بات کے؟ بات تو یہاں تک آتی ہے کہ اگر دین اسلام کے لیے اپنا شہر، جائداد، مکان، زمین، وہاں کی مقدس آب و ہوا و سنہری یادیں اور اعزہ و اقربہ کو خیرآباد کہنا پڑے تو اس سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے۔
آج دنیا میں جہاں کہیں بھی ظلم و ستم کا بازار گرم ہوتا ہے اور مظلوموں کے لہو سے زمین سرخ ہو جاتی ہے تو ایسے موقع پر اعلائے کلمۃ الحق تئیں ہمیں امام عالی مقام کا مقدس جذبہ شہادت یاد آ جاتا ہے۔ کیا کبھی آپ نے اس طرف بھی غور کیا ہے کہ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ جی ہاں! مظلوم ہوتے ہی وہی ہیں جو ظلم کی بالادستی قبول نہیں کرتے ہیں۔ امام حسین کی قربانی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ حق و انصاف کے خاطر دشمنوں کے ہاتھوں شہید ہو جانا شکست و ریخت نہیں ہے بلکہ یہ حق کی فتح عظیم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج آپ کی سنہری یادیں تاریخ انسانی سے مربوط و متصل ہیں، جب کہ یزید پلید ہمیشہ کے لیے نست و نابود۔ آج جو بھی قومیں یزیدیت کی راہ چل رہی ہیں، ان کی قسمت میں پہلے ہی سے کہیں نا کہیں تباہ و برباد ہو جانا ضرور لکھا ہوتا ہے، پر افسوس کہ آج ہم ہی کسی نا کسی جہت سے ظالم کی پیروی میں لگے ہوئے ہیں اور مسلسل اپنی ناکامی و تاراجی کے راگ الاپتے چلے جا رہے ہیں۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم امام عالی مقام کی رُخِ حیات کا مطالعہ کرتے اور اپنی پسپائی و حرماں نصیبی سے دامن چھڑاتے۔ ہر سال جب محرم الحرام کا مہینہ شروع ہوتا ہے اسی وقت سے لے کر گاؤں و دیہات کا منظر بھی بڑا عجیب و غریب دکھائی دینے لگ جاتا ہے۔ لوگ ڈھول، تاشے اور باجے وغیرہ لے کر گھروں سے باہر نکل آتے ہیں اور ارتکابِ خرافات کے سہارے نفسانی خواہشات کو خوب خوب تسکین کا لڈو کھلایا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ تمام افعالِ بد و ڈھونگ حرکتوں کا کربلا کی تاریخ سے کچھ بھی رشتہ و ناتہ نہیں۔ تاجیہ کے نام پر لاکھوں کروڑوں کے فضول اصراف کا رسمِ بد ،آخر سمجھ نہیں آتا کہ کہاں سے لوگ اس کا اُور چھور سانحہ کربلا سے جوڑ دیتے ہیں۔
یاد رکھیں! یہ نیچ حرکتیں کسی بھی صورت میں انسانیت سے میل نہیں کھاتی، انسانیت کا تقاضہ تو یہ تھا کہ ہم امام عالی مقام کا جذبۂ شہادت، اسلام کی سربلندی کے خاطر ان کی جان و مال کی قربانی کی قابلِ رشک ریت، وفاداری کا دلنشین پاٹھ، ظالم کے خلاف صدائے احتجاج اور فکر یزیدیت پروان چڑھانے والے ہر اس شخص کا سماجی بائیکاٹ کرتے، جو کسی طرح سے بھی اس میں ملوث ہیں۔ صبر و شکر کا جو حسین سنگم کربلا والوں نے پیش کیا، واقعی آج اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ اس لیے آج کے اس بدلتے حالات کا قوی فریاد ہے کہ سانحۂ کربلا سے کشید ہونے والے ذریں و قیمتی دروس سے قوم کو آگاہ کریں، اس کی اہمیت و افادیت سے انھیں گوش گزار کریں، فضولیات سے اجتناب کی ترغیب دلائیں، جھوٹے و من گھڑت واقعات کی روایات سے پرہیز کریں اور مستند و معتبر کتب و متون کی روشنی میں سانحۂ کربلا کے حقیقی رُخ سے پردہ اٹھائیں، تا کہ ہماری یہ بھولی بسری قوم جذبہ حسینیت سے شرسار ہوں، ایمان کی حرارت و نئی چاشنی سے شادکام ہوں اور ان کے نہا خانۂ دل میں ہمہ وقت حق و انصاف اور انسانیت کی سربلندی کے خاطر باطل کے آگے سرنگوں نہ ہو کر مر مٹنے کا جذبۂ حسینی کار فرما رہے۔ ہاں! بس یہی سوچ کر یہ تمام افعال و کردار انجام دیں کہ ___
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

