Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
اسلامیات

عورتوں سے متعلق بعض مسائل میں اسلام کا موقف – مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

by adbimiras ستمبر 5, 2022
by adbimiras ستمبر 5, 2022 0 comment

اس وقت ذرائع ابلاغ اسلام پر جو اعتراضات کر رہا ہے ،اس میں اسلام کے حوالہ سے عورت کو بڑی اہمیت حاصل ہے ، ہمارے نام نہاد دانشور بھی اس کی ہاں میں ہاں ملاتے نظر آتے ہیں، ہمارے وکلاء بھی ان اعتراضات کو حق بجانب قرار دینے میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں، میں یہ نہیں کہتا کہ وہ اپنی ذہنی ساخت کی وجہ سے اسلام سے دور جاپڑے ہیں، ہو سکتا ہے بعض خاص شخص کے بارے میں معاملہ یہی ہو ، لیکن عمومی احوال ایسے نہیں ہیں ، بڑی تعداد ان دانشوروں اور وکلاء کی ہے ،جس کی ذہنی ساخت تو ٹھیک ٹھاک ہے، لیکن مسلم پرسنل لا کے بارے میں ان کی معلومات سطحی اور نا قص ہیں، اس لیے کہ جن کتابوں کو اس کام کے لیے انہوں نے مطالعہ میں رکھا اور جن کے مندرجات سے وہ استفادہ کرتے رہتے ہیں وہ اسلامی اسکالر کی نہیں ہیں، وہ ان لوگوں کی تیار کردہ ہیں، جنہیں اسلام اور اس کی تعلیمات میں کیڑے نکال کر نفسیاتی تسکین ملتی ہے، عجیب وغریب بات یہ ہے کہ سارے علوم میں تحقیق کے لیے جن حوالوں کو دیکھاجاتا ہے وہ فرسٹ ریفرنس بک FIRST REFRENCE BOOKہوا کرتا ہے،لیکن اسلام کا مطالعہ کرتے وقت وہ لوگ اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں اور سکنڈ ریفرنس بک سے کام چلاتے ہیں جو ایتھنٹک(Authentic) نہیں ہیں، شاید اسکی وجہ یہ ہے کہ قرآن وحدیث کی زبان سے وہ واقف نہیں ہیں، اور انگریزی زبان کے واسطے سے ترجمہ پڑھنا اور ڈائرکٹ اسی کو دیکھ کر کوئی نتیجہ اخذ کرنے سے قاصر ہیں، اس لیے ساری توجہ ان کتابوں پر رہتی ہے جومسلم پرسنل لا کے نام سے مرتب کی گئی ہیں اور بہت ساری غلط چیزیں اس میں بھر دی گئیں ہیں، اس معاملہ میں تو بعض لوگوں نے مستشرقین کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، ان حالات میں مسلم اسکالروں اور علماء کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان اعتراضات کی حقیقت کوسامنے لائیں اور بتائیں کہ عورت کے مسئلے اور ان سے متعلقہ احکامات میں صحیح اور درست وہی ہے جو اسلام نے کہا ہے، دقت یہ ہے کہ قرآن واحادیث سے حوالہ دے کر انہیں سمجھائیے تو اسے قدیم کہہ کر جان بچانے کی کوشش کرتے ہیں ، ان کی بحث کا سارا رخ منطقی ہوتا ہے، اور قرآن واحادیث کو بالائے طاق رکھ کر ہوتا ہے ، حالانکہ مسلمانوں کے لیے یہ بات کافی ہے کہ بات سمجھ میں آئے یا نہیں، اللہ رسول کے حکم کے آگے سرجھکا دیاجائے،کیونکہ ہماری سمجھ کمزور ہو سکتی ہے،لیکن قرآن واحادیث کی تعلیم کی معقولیت میں کوئی کمزوری نہیں ہے۔

مثال کے طور پر لڑکے لڑکیوں کی نابالغی میں شادی کا مسئلہ ہے ، مسلم پرسنل لا کے علاوہ نا بالغی کی شادی قانوناً جرم ہے،لیکن یہی قانون داں حضرات اس بات کو جائز قرار دیتے ہیں کہ اگر نا بالغ لڑکے اور لڑکی نے آپسی رضا مندی سے جنسی تعلق قائم کر لیا تو اس میں داروگیرکی گنجائش نہیں ہے، البتہ چونکہ یہ تعلق رضا مندی سے ہوا ہے ، اس لیے اسے ریپ (Rape)زنا بالجبر قرار نہیں دیا جاسکتا،جائز طریقے سے نا بالغی میں کی جانے والی شادی دنیاوی قانون میں درست نہیں ، البتہ نا جائز طریقے سے نا بالغی کی عمر میں رضا مندی سے زنا کرنا ان کے نزدیک جائز ہے، شریعت کہتی ہے کہ جائز طریقہ سے نکاح نابالغنی میں بھی جائز ہے، کیونکہ نابالغ کا نکاح بھی رضا مندی سے ہوتا ہے، فرق یہ ہے کہ اس میں دونوں کے ولی کی رضا مندی معتبر ہے ، کبھی مصلحتیں ایسی ہوتی ہیں کہ کم عمری میں شادی کرنی ہوتی ہے ، اس لیے کسی بھی طرح اس عمل کو غیر منطقی اور غیر عقلی نہیں کہاجا سکتا ۔

اسی طرح چار شادیوں کا مسئلہ ہے، یہاں یہ بات رکھنے کی ہے کہ شریعت نے چار شادی کرنے کا نہ تو حکم دیا ہے اور نہ ہی اسے لازم قرار دیا ہے، یہ تو صرف ایک اجازت ہے جو عدل جیسی سخت شرط کے ساتھ دی گئی ہے، اسی لیے چار شادیوں کا رواج کم ہے ، اور اس اجازت سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد اقل قلیل ہے، ہر آدمی اپنے گاؤں اور محلوں میں ایک سے زائد شادی کرنے والوں کا سروے کرکے اس حقیقت کی تصدیق کر سکتا ہے، لیکن میڈیا نے اس کا پروپیگنڈہ اس طرح کر رکھا ہے گویا سارے مسلمان چار شادیاں کرتے ہیں، دوسری طرف دنیاوی قانون میں ساتھ رہنے کا تصور پایا جاتا ہے، بیوی نہیں ہے، لیکن بیوی کی طرح ہی مرد کے ساتھ رہ رہی ہے ، رکھیل بن کر ، قانون نہ صرف اس کی اجازت دیتا ہے، بلکہ وہ جائیداد جو مرد نے ذاتی جد وجہد سے حاصل کیا ہے وہ اس کے ترکہ میں حصہ پالے گی ، ناجائز تعلق زندگی بھر رکھا ، وہ اس کی کمائی میں حصہ پارہی ہے،پھر ان رکھیلوں کی تعداد بھی مقرر نہیں ، جتنی کو زندگی کا پارٹنر بنا لو، اسلام جائز طریقے سے چار کی اجازت دیتا ہے تو اس پر سوالات کھڑے کیے جاتے ہیں، اور دانشور طبقہ ناک بھئوں چڑھانے لگتا ہے ،دونوں کی صورت حال پر غور کرکے فیصلہ خود ہی کر سکتے ہیں کہ نکاح والی عزت کی زندگی بہتر ہے یا رکھیل والی ذلت کی، زندگی یہ لا تعداد رکھیل کے مطابق چار نکاحی عورت میں ہی آپ کو عزت نظر آئے گی ۔

ایک سوال طلاق کے حوالہ سے اٹھایا جاتا ہے،یہ چاہتے ہیں کہ طلاق کا حق عورتوں کو بھی دے دیاجائے ،جس طرح نکاح اس کی مرضی سے ہوتا ہے طلاق میں بھی اس کی مرضی شامل رہے،مردوں کو طلاق کا حق دینے میں خود عورتوں کا تحفظ ہے، خاندان کو ٹوٹنے سے بچانے کے لئے شریعت نے یہ حق مردوں کو دیا ہے ، اگر یہ حق عورتوں کومل جائے تو جذباتیت کی وجہ سے خاندان زیادہ ٹوٹیں گے ، پھر ایسا بھی نہیں ہے کہ اسے بالکل یہ اسے اس حق سے محروم کر دیا گیا ہے، اسے اس کا پابند کیا گیا کہ اگر رشتے کو پسند نہیں کرتی تو اس کے وجوہات بتا کر بعض حالتوں میں قاضی سے اپنا نکاح فسخ کر اسکتی ہے اور بعض حالتوں میں خلع لے کر جان خلاصی کر واسکتی ہے، اس طرح رشتے ٹوٹیں گے بھی تو ان کی وجوہات معقول ہوں گی ، اور بہت نا گزیر حالت میں ایسا ہوا کرے گا۔

اسی طرح تین طلاق پر کثرت سے سوالات اٹھائے جا تے ہیں اور اچھے اچھے پڑھے لکھے لوگوں کو کہتے سنا کہ اگر تین کو ایک طلاق ما ن لیں تو کیا حرج ہے، خاندان ٹوٹنے سے بچ جائے گا ،یہ عجیب وغریب منطق ہے کہ تین کو ایک مانا جائے ، یہ تو نہ عقلی ہے نہ منطقی، تین تو تین ہے اور ایک ، ایک ہے، اس تین کو ایک کہنے کا جواز کسی طور سمجھ میں نہیں آتا، لیکن اسلام نے تین کو تین کہہ دیا تو اب اس کے خلاف کرنا ہے، اس لیے ساری طاقت تین کو ایک ثابت کرنے میں لگائی جا رہی ہے،کسی نے تین روپے دیا تو آپ کس طرح ایک روپے کہہ کر دو کو القط کر دیں گے ،کسی نے تیس ہزار روپے دیا تو آپ ایک لاکھ اسے کس طرح تسلیم کریں گے معلوم ہوا کہ نہ تین ایک ہو سکتا ہے اور نہ ایک تین، اتنی واضح سی بات کو تسلیم کرنے میں اسلام دشمنوں کو تردد ہوتا ہے ۔

ایک سوال تین طلاق کے نفاذ پر بھی اٹھایاجاتا ہے ، کہ تین طلاق ایک مجلس میں دینا شریعت کے مقررکردہ طریقے کے خلاف ہے ، اس لیے اس کو نافذ نہیں ہونا چاہیے، یہاں اعتراض کرنے والے یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ایک ہے کسی چیز کا غلط استعمال اور ایک ہے غلط استعمال کے نتائج واثرات ، دو نوں الگ الگ چیز ہے کسی کو گولی مارنا غلط ہے ، بندوق کا استعمال غلط کیا گیا، کسی کو چاقو مار دی گئی ، چاقو کاغلط استعمال ہوا، لیکن کون عقلمند یہ کہے گا کہ بندوق اور چاقوکے غلط استعمال کی وجہ سے آدمی بھی محفوظ رہ جائے گا ، اس کی جان نہیں جائے گی ، کیونکہ آلہ کا غلط استعمال ہوا ہے ، جس طرح گولی اور چاقو لگنے کے بعد آدمی کی جان جا سکتی ہے آدمی زخمی ہو جاتاہے، اسی طرح تین طلاق کا یک بارگی استعما ل واقعۃً غلط ہے، لیکن استعمال کے غلط ہونے کی وجہ سے اثرات کے طور پر نکاح ٹوت جائے گا اور عدد کے اعتبارسے حکم لگایا جائیگا۔طلاق کا نفقۂ عدت شوہر کے ذمہ ہے ، اسے اچھے طریقہ پر اپنے گھر سے الوداع کہنا بھی اس کی اخلاقی ذمہ داری ہے، لیکن جب تک وہ دوسری شادی نہ کرلے یا تا حیات، سابق شوہر سے کھانا خرچہ دلانا کون سی عقلمندی ہے، جب شوہر نے عورت کو چھوڑ دیا ، اور اسے اپنی زندگی سے نکال پھینکا تو اب وہ دوسری عورتوں کی طرح غیر ہے، سابق شوہر سے اس کاکوئی رشتہ کسی درجہ میں باقی نہیں ہے، اس لیے عدت گذرنے کے بعد وہ اپنے نفس کی مجاز ہے ،کسی بھی مؤمن مرد سے رشتہ کر سکتی ہے ، پھر بھلا مرد کیوں اس نفقہ کا ذمہ دار ہوگا، اور کیوں اسے Maintenance دلایا جائے گا، یہ عورت کی غیرت کے بھی خلاف ہے کہ جس نے اپنے نکاح میں باقی نہیں رکھا اس کے کھانا خرچہ پر وہ زندگی گذارے، کھانا خرچہ لازم کرنے کی وجہ سے عورت کے گناہ میں مبتلا ہونے کا بھی خطرہ ہے، طلاق کے بعد کھانے خرچہ کا تعلق اسے کبھی بھی معصیت میں مبتلا کر سکتا ہے۔

ایک سوال یہ بھی کھڑا کیاجاتا ہے کہ عورت بوڑھی ہو گئی اور اس کے شوہر نے طلاق دیدی ، عمر کی اس منزل میں اس کی شادی بھی نہیں ہو سکتی پھر وہ کہاں رہے گی ، کس طرح زندگی بسر کرے گی ، ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ شریعت نے کسی کو لاوارث نہیں چھوڑا ہے، اس حالت میں اس کا کھانا خرچہ ان لوگوں پر لازم ہے جو عورت کے پاس مال ہونے کی صورت میں اس کے وارث ہوتے، وہ والد بھی ہوسکتے ہیں اور بھائی وغیرہ بھی ، میکے میں بھی کوئی نہیں ہو تو حکومت اور امارت شرعیہ کے امیر اس کے ولی ہوں گے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :  أنا ولی من لا ولی لہ۔ جس کا کوئی ولی نہیں ، میں اس کا ولی ہوں، یعنی حکومت اور امیر اس کی کفالت کے لیے فکر مند ہوں گے ، اسی وجہ سے علماء نے لکھا ہے کہ اسلام میں کوئی لا وارث نہیں ہے ، جس کی دیکھ ریکھ کی ذمہ داری کسی پر نہ ہو ۔

طلاق کے حوالہ سے یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ غصہ اور نشہ کی طلاق کونافذ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ان دونوں حالت میں آدمی اپنے آپ میں نہیں رہتا ، یہ اعتراض بھی لایعنی اور فضول ہے ،کبھی آپ نے سنا کہ کسی نے اپنی بیگم کو محبت میں طلاق دیا ہو، طلاق تو غصہ ہی میں دی جاتی ہے ، غصہ کی طلاق کو نافذ نہ ماننے کا مطلب ہوگا کہ طلاق تماشہ بن کر رہ جائے اور اس کے اثرات واقع نہ ہوں ، اسی طرح نشہ کی طلاق کا معاملہ ہے ، نشہ میں جو شخص طلاق دے رہا ہے، وہ اس قدر ہوش وحواس میں ضرور ہے کہ وہ طلاق بیوی کو دیجاتی ہے ،ماں بہن کو نہیں ، اگر نشہ میں اس کی عقل نے جواب دے دیا تو اس نے ماں بہن کے لیے طلاق کے الفاظ کیوں نہیں استعمال کئے ،بیوی کو طلاق دینے کا سیدھا اور صاف مطلب ہے کہ نشہ کے با وجود اس کے اندر تمیز کی صلاحیت ہے اور تمیز کی صلاحیت کی وجہ سے ہی نشہ کے حالت کی طلاق نا فذ ہوجاتی ہے۔

طلاق کبھی جبر واکراہ کے ساتھ بھی دی جاتی ہے ، اگر جبر واکراہ میں تحریر کے ساتھ زبان کا استعمال بھی کرلیا تو طلاق نافذ ہوجائے گی۔ حالانکہ جبر واکراہ کی صورت میں کلمۂ کفر قابل اعتبار نہیں ہوتا اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان کا محل قلب ہے اور طلاق کا محل زبان ، جب چیز اپنے محل سے نکل جائے گی تو اس کا اثر پڑے گا ، جبر واکراہ اگر کلمہ ٔ کفر کے کہنے پر ہوا اور قلب مطمئن ہے تو صرف کلمہ کفرکے کہنے سے ایمان نہیں جائے گا ، اس کے بر عکس طلاق کا محل زبان ہے اور جبر واکراہ میں طلاق اس نے زبان سے کہہ دیا تو اب یہ طلاق محل سے ادا ہو جانے کی وجہ سے نافذ ہوگی۔

اس کا ایک دوسری طرح جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ حالت جبر طلاق میں پایا ہی نہیں جاتا  اس لیے کہ اگر کسی نے گردن پر بندوق رکھ کر طلاق دینے کوکہا تو اس نے اسے اختیار دیا کہ تم اپنی جان دے دو یا بیوی سے دست بردار ہوجاؤ ۔ میں نے اس اختیار سے فائدہ اٹھاکر اپنی جان بچالی اور بیوی کو چھوڑ دیا یہ دو چیزوں کے درمیان اختیار اور پسند کا معاملہ ہے  وہ یہ بھی کر سکتا تھا کہ جان دیدے اور بیوی کو باقی رکھے تاکہ اس کے ترکہ سے اس کو قاعدے سے حصہ مل جائے، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔

سوالات عورت کی آزادی اورمساوات کے حوالہ سے بھی اٹھائے جاتے ہیں، عورتوں کو آزادی دے کر مغرب نے اس سے لطف اندوزی کاسامان کر لیا ،اسے قحبہ خانوں اور کوٹھوں کی زینت بنا دیا ، ماچس کی ایک ڈبیہ بھی بغیر اس کی تصویرکے نہیں بیچنے کا تصور دیا ، اس آزادی نے عورت کو ایک مظلوم بنا کر رکھ دیا ،اسلام نے اسکا ساراکھانا خرچہ مرد پر ڈالا تھا، مرد نے اپنی جان بچانے کے لیے اس سے کموانا شروع کر دیا ، اب وہ دفتری اوقات میں ڈیوٹی بھی کرتی ہے بچے بھی پیدا کرتی ہے ، گھر آنے کے بعد با ورچی خانہ بھی اسی کا منتظر رہتا ہے ،بال بچوں کی پرورش وپرداخت اور شوہرکی خدمت گذاری بھی اسے کرنی پڑتی ہے ، یہ آزادی کے نام پر عورتوں پر ظلم ہے،جسے اسلام کسی طرح برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے ۔

یہی حال مساوات کا ہے ،مساوات کا مطلب صرف یہ ہے صلاحیت وقوت کے مطابق اس کو ترقی کے یکساں مواقع ہوں، اب مساوات کا مطلب یہ لیا جائے کہ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی چار شادی کی اجازت ہو ،تومساوات کا یہ بھی مطلب ہوگا کہ ایک بچہ ایک سال عورت پیدا کرے اور دوسرا بچہ دوسرے سال مرد پیدا کرے، چیر مین کی کرسی پر ایک دن چیر مین صاحب بیٹھیں اور دوسرے دن چپراسی اس کرسی پربراجمان ہو جائے کیونکہ مساوات کا تقاضہ یہی ہے،ظاہر ہے اس قسم کے مساوات کاکوئی قائل نہیں ہے،لیکن ہمارا دانشور طبقہ بار بار اس بات کو اٹھاتا رہتا ہے،بلکہ ماضی قریب میں تو ایک جج صاحب نے عورتوں کو چار شادی کی اجازت دینے کی تجویز رکھی تھی،اس پر ایک صاحب نے ان سے گذارش کی تھی کہ یہ نیک کام آپ اپنے گھر سے ہی شروع کریں۔

اعتراضات اور بھی ہیں، سب الٹی سوچ کا نتیجہ ہے،جولوگ اسلامی قانون کو نہیں ماننا چاہتے وہ اسلامی قانون میں ترمیم کے بجائے دوسرا متبادل تلاش لیں انہیں کوئی یہ نہیں کہتا کہ لازمامسلم پرسنل لا ہی سے چمٹے رہو ،مسلم پرسنل لا اسلامی قوانین کا حصہ ہے اور یہ خدائی قانون ہے اس لیے اس میں کسی قسم کی ترمیم وتنسیخ نہیں ہو سکتی، خواہ عورت کی آزادی کے تعلق سے ہو یامساوات کے تعلق سے، اسے سماجی اصلاح کا نعرہ دیا جائے یا یکساں سول کوڈ کا ، معاملہ نکاح وطلاق کاہویا دیگر عائلی اور خاندانی مسائل کااسلام کا قانون نا قابل تبدیل ہے،جو لوگ تبدیلی چاہتے ہیں ، ان کے لیے اسلام سے باہر تبدیلی کے بڑے مواقع ہیں، اگر انہیں کفر کا راستہ ہی پسند ہے تو ان کو نہ کوئی دلیل کام آسکتی ہے اور نہ کوئی منطق۔

 

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ(9431003131)

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
پروفیسر مشیر الحسن: جیسا میں نے انہیں جانا – محمد علم اللہ
اگلی پوسٹ
غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام ’بزم غزل‘ کا انعقاد

یہ بھی پڑھیں

قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!...

اپریل 11, 2026

قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف...

جون 16, 2024

احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل...

اپریل 7, 2024

رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و...

مارچ 31, 2024

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد...

ستمبر 23, 2023

حجاب: ایک امر شرعی : فرحان بارہ بنکوی

جون 27, 2023

پیغام عید قرباں : عصر حاضر کے تناظر...

جون 27, 2023

روزے کی طبی وسماجی جہتیں – مفتی محمد...

اپریل 15, 2023

تقسیم زکوٰۃ :چند گذارشات – مفتی محمد ثناء الہدیٰ...

اپریل 11, 2023

زکوۃ کے ٹکڑے اور ہم – عیان ریحان

اپریل 11, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں