ہندوستان کی تاریخ میں کئی ایسے نام ہیں جنھوں نے ملک کی مختلف قوموں کو تہذیبی، ثقافتی, ادبی اور مذہبی اعتبار سے بہت زیادہ متاثِر کیا. ایسے لوگوں میں راجہ رام موہن راۓ, پنڈت مدن موہن مالویہ, رابندرناتھ ٹیگور اور سر سید احمد خاں کے اسمائے گرامی کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا. کیوں کہ ان لوگوں نے اپنے اپنے علاقوں اور قوموں میں بیداری کی ایک نئی لہر پیدا کی.
سر سید احمد خاں نے جہاں ادبی دنیا میں بیش بہا کارنامے انجام دیے وہیں انھوں نے مذہبی اعتپار سے بھی لوگوں کو کافی متاثر کیا. سر سید مسلمانوں کو زنـدگـی کے سارے میدانوں میں انگریزوں کی طرح ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ مسلمان مذہب کے علاوہ ہر چیز میں انگریز ہو جائیں. وہ اس بات کے بھی معترف تھے کہ مسلمان مذہب کی غلط تشریحات کے سبب مذہبیت کو دقیانوسیت کی ایک شکل کے طور پر اپناۓ ہوۓ ہیں. وہ یہ ٹابت کرنا چاہتے تھے کہ علمی اور سماجی ترقی مذہب کی تعلیمات کے منافی نہیں. اسلام نے کہیں بھی پسماندگی اوردقیا نوسیت کی تعلیم نہیں دی. وہ علم حاصل کرنے کے بارے میں رسول کریمﷺ کی احادیث اور قرآن کی آیتوں کا حوالہ دیتے تھے۔ انھوں نے اپنی تحریروں "تہذیب الاخلاق”, "سائنٹیفک سوسائیٹی” اور "خطبات احمدِیہ” کے ذریعہ مذہبی تعلیم دی. وہ چاہتے تھے کہ اختلاف مذہب سے قطع نظر کر کے ہندو مسلمان آپس میں دوستی اور بھائ چارے کا برتاؤ کر یں. سر سید ہندو مسلمانوں کی یک جہتی پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ _
"ہندوستان ایک خوبصورت دلہن کی مانند ہے اور ہندو, مسلمان قومیں اس کی دو آنکھیں ہیں. اگر اس میں سے کوئ ایک آنکھ (قوم) بھی خراب ہو جائے تو اس دلہن کی خوبصورتی خاک میں مل جائے گی۔”
سر سید کی تحریروں کے مطالعہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انھوں نے بلا تفریق مذہب و ملت و ہر قوم کے جذبات کی نمائند گی کا خیال رکھا ہے۔ سر سید کا یہ عقیدہ تھا کہ مذہب کو علوم جدیدہ کے اصولوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ چنانچہ اپنی ایک تقریر میں انھوں نے علی گڑھ کے نو جوانوں سے یہ بات زور دے کر کہی تھی کہ _
” میں علی گڑھ سے ایک ایسی قوم
پیدا کر نا چاہتا ہوں, جس کے ایک ہاتھ میں مذہبی علوم ہو, دوسرے ہاتھ میں علوم جدیدہ اور جس کے ماتھے پر کلمہ لااله….. کا تاج ہو.”
سر سید احمد خاں کا خیال تھا کہ تمام مذہبی امور میں عقلی اور استدلالی انداز نظر ضـروری ہے. وہ مافوق الفطرت اور رسمی نظریات کو مذہب کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے تھے.
سر سید ایک عظیم مذہبی مفکر تھے. ان کی اہم دینی تصانیف "خطبات، احمدیہ”, "تبسین الکلام” اور "تفسیرالقرآن” ہیں. اس کے علاوہ انھوں نے دینی مباحث پر متعدد مضامین بھی لکھے, جو تہذيب الاخلاق میں شائع ہوۓ.
"خطباتِ احمدیہ” کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس تصنیف کی تحریک ان کی بے پناہ عقیدت رسولﷺ ہے. "تبسین الکلام” کے ذریعہ انھوں نے بائیبل کی یہ تفسیر لکھ کر بتایا کہ تمام مذہبی کتابیں اصولی لحاظ سے ایک ہی سر چشمۂ فیض سے جاری ہوئ ہیں.
"تفسیر القُرآن” میں انھوں نے بتایا کہ اسلام میں صرف قرآن مجید یقینی ہے. دین کا کوئی مسلئہ عقل اوراصول تمدن کے خلاف نہیں. مذہبی نقطۂ نظر سے یہ سر سید کی ایک انقلاب آفریں تصنیف ہے.
انھوں نے بہت سے مسلم عقائد کی نیے سرے سے تشریح کی. سر سید کا خیال ہے کہ اسلام کی بنیادوں کو سمجھنے کا سب سے معتبر ذریعہ قرآن ہے. حدیث کے متعلق ان کا خیال تھا کہ وہ تمام احادیث مسترد کر دینا چاہیےجو قرانی تعلیمات کے خلاف ہیں. ان ہی افکار اور نظریات کے سبب سر سید نےاسلام میں جدید اور ترقی پسند رجحان کی بنیاد ڈالی.
اگر چہ ہر دور میں ایسے آزاد طبع اور روشن ضمیر لوگ پیدا ہوۓ ہیں جنھوں نے تقلید کی بندشوں کو توڑ کر تحقیق کے کاموں میں کار ہاۓ نمایاں انجام دیے. لیکن ان سب میں سر سید احمد خاں کی اولیت اور اہمیت سے انکار ممکن نہیں.
سکھایا تھا تم ہی نے قوم کو یہ شور و شر سارا
جو اس کی انتہا ہم ہیں تو اس کی ابتدا تم ہو
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

