Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

شاہ مقبول احمد کا تحقیقی و تنقیدی نظریہ – محمد شہنواز عالم

by adbimiras نومبر 4, 2022
by adbimiras نومبر 4, 2022 0 comment

شاہ مقبول احمد کا شمار مغربی بنگال کے سربرآوردہ قلم کاروں میں ہوتا ہے انہوںنے مختلف اصناف پر طبع آزمائی کرکے نہ صرف اپنی ادبی لیاقت اور استعدا کا ثبوت دیا بلکہ ہندوستان کے ذی شعور اور اہل علم میں اپنا تشخص بھی قائم کیا ہے ان کی شہرت بالعموم ان کی معروف کتاب ’’چند ادبی مسائل‘‘ کے سبب ہے علاوہ ازیں ’’پانچ افسانے اور انشائیہ‘‘، ’’تصریحات و اشارات‘‘ اور ’’شخصیات و تاثرات‘‘ جیسی اہم کتابیں انہوںنے اردو ادب کو عطاء کی۔ چند ادبی مسائل کے متعلق پروفیسر عبدالمنان بے اپنی رائے قائم کرئے ہوئے رقمطراز ہیں۔

’’چند ادبی مسائل کا دائرہ فکر بے انتہا وسیع ہے کہ اس میں فن کے ساتھ ساتھ فکری زاویوں اور مختلف تحریکوں کے سائے میں پروان چڑھنے والے ادبی سرمایوں خواہ منظوم ہوں یا منشور ، کا جائزہ درک نگاہی اور متنوع انداز سے لیا گیا ہے جس کی روشنی میں پروفیسر کی ناقدانہ بصیرت کا علم ہوتا ہے۔ اس پرکار جلوؤں کی شادابی، ندرت خیال کی رعنائی اور وسعت ذہنی کی آرائش میں جس طور پر شبنمی آہٹ سے کام لیا گیا ہے، اس میں بلا کا موجِ فکر ہے سادگی کے ساتھ ایسا گمان ہوتا ہے کہ صاف و شفاف جھرنامختلف انگڑائیوں کے ساتھ رواں دواں ہے۔ جس زمانے میں اردو زبان اور رسم الخط کے مخالفوں نے یہ لزام عائد کیا تھا کہ عشق و عاشقی کے علاوہ اردو میں کیا رکھا ہے، ان کی خدمت میں مقبول احمد صاحب کے نگارشات پیش کئے جا سکتے ہیںاور گارسان دتاسی کے دلائل مع مثال پیش کئے جاسکتے ہیں۔‘‘  ۱؎

مذکورہ اقتباس سے بات صاف ہوتی ہے کہ شاہ مقبول احمد کی تحریروں میں وہ خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہیں جو ایک کامیاب محقق و ناقد کا طرۂ امتیاز ہوا کرتی ہیں۔ اس کتاب میں کل تیرہ مضامین شامل ہیں جن میں کچھ کا تعلق تحقیق سے ہے اور کچھ کا تنقید سے، تحقیقی مقالوں میں ’’اردو یا ہندوستانی‘‘، ’’بہار کے ٹھیٹھ دیہاتی محاورے‘‘، ’’میر محمد سیلم سلیم آبادی‘‘ اور ’’ہماری بولی‘‘ کا نام قابل ذکر ہے۔ تنقیدی مقالوں میں ’’کلکتہ کے ادیب و شاعر‘‘، ’’جمیل مظہری کے بعض افکار‘‘ اور ’’میر تقی میر کی شاعری کے بعض پہلو‘‘ قابل غور ہیں۔ ان مضامین کے متعلق شاہ مقبول احمد رقم طراز ہیں۔

’’یہ چند مضامین جو ۳۶ء سے ۶۰ء تک کے طویل عرصہ میں مختلف اوقات میں لکھے گئے ہیں۔ ذہنی طور پر کافی الگ الگ معلوم ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ اس کے سوا اور چھ نہیں کہ ان مضامین کے محرکات بھی حالات کے اعتبار سے جداگانہ تھے جس زمانہ میں جو خیالات و تصورات ذہن و دماغ میں چھائے ہوتے تھے، وہی احاطۂ تحریر میں آگئے ہیں۔ بعض باتیں ایسی بھی ملیں گی جو رائج خیالات سے ٹکرائیں گی مگر اس میں بھی مصلحت پر غور کرکے نتائج کو ترجیح دی ہے۔ اگر بات کسی گروہ کے عقیدے کے مطابق معلوم ہوتی ہیں تو اس گروہ کی خوشنودی مطلوب نہ تھی اور اگر کسی خیال سے کسی طبقہ کے آرزو کو ٹھیس لگتی ہے تو اس کی آزردگی میری تحریر کا مقصود نہیں۔ اردو زبان و ادب کے ایک طاب علم کے طور پر میں نے ان مسائل کو سوچا ہے اور اس کے سود و زیاں کا اندازہ کرکے جو باتیں سمجھ میں آئی ہیں، بے کم و کاست سپرد قلم ہوگئی ہیں۔‘‘  ۲؎

منقولہ اقتباس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ’’چند ادبی مسائل‘‘ میں شامل مضامین شاہ صاحب کی یک روزہ فکری کاوش نہیں ہے بلکہ انہوں نے ان مقالوں کو چوبیس سال کی مدت میں گاہ بہ گاہ تحریر کیا جو ان کی عرق ریزی، دوراندیشی، باریک بینی، شعور کی پختگی اور انتہائی صبر آزما کدوکاوش کا پتہ دیتے ہیں جس سے ہمیں ان کے تحقیقی و تنقیدی کاموں کا اندازہ ہوتا ہے۔

بہر کیف ہندوستان کے بیشتر ماہر لسانیات نے ہندوستان کو زبانوں کا عجائب گھر کہا ہے۔ گریرسن کے مطابق ہندوستان میں ۱۷۹ زبانیں اور ۵۴۴ بولیاں بولی جاتی ہیں۔ بات واضح ہوتی ہے کہ ہندوستان کی دیگر زبانوں کی طرح اردو کو بھی سماجی ضروریات نے جنم دیا۔ جس میں تہذیبی خیالات اور ادبی تخلیقات کو پیش کیا جانے لگا۔ آہستہ آہستہ یہ زبان ایک ایسے معیار پر پہنچ گئی جسے ’’ہندوستانی‘‘ کی شکل میں ملک کی عوامی زبان کا لقب عطا کیا گیا۔ گویہ کہ شاہ مقبول احمد نے بھی اس جانب اپنی توجہ مرکوز کی اور ’’اردو یا ہندوستانی‘‘ کے عنوان سے ایک فکر انگیز مقالہ رقم کیا۔

’’اردو یا ہندوستانی‘‘ مقبول صاحب کا ایک دلچسپ مضمون ہے انہوں نے اس مضمون کے ذریعہ اردو زبان کی پیدائش کے رموز و اوقاف کو موثر اداز میں نہ صرف پیش کیا بلکہ ان نظریات سے انحراف بھی کیا ہے جو اردو زبان کے آغاز و ارتقاء میں ہموار ثابت نہیں ہوئے ہیں اس سلسلے کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو۔

’’مغربی ہندی میں یہ بولیاں شامل ہیں (۱) کھڑی بولی(۲) ہریانی(۳) برج(۴) قنوجی(۵) بندیلی۔ یہ بولیاں آج کے ہندوستان کے نقشے کے لحاظ سے مغربی یوپی۔ مشرقی پنجاب اور متوسط ہند کے بعض شمال مغربی علاقے میں رائج ہیں۔ قدیم ہندو جغرافیہ کی روشنی میں دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ یہ پورا علاقہ مدھیہ پردیش (Mid land) کے نام سے موسوم تھا اور اس کے لیے ان بولیوں کو مدھ دیسی بولیاں بھی کہتے ہیں۔ اردو کا مولدو منشا یہی علاقہ ہے مگر ان بولیوں میں سے کسی ایک اکیلی بولی کی ترقی یافتہ شکل کا نام اردو نہیں ہے۔ یعنی یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ برج نے نشونما پائی اور ارتقائی منازل طے کرلیں تو اسی ساختہ پرواختہ بولی کو اردو کہنے لگے۔ اسی طرح بالکل یہی بات کھڑی بولی یا ہریانوی وغیرہ کی نسبت کہی جاسکتی ہے۔‘‘ ۵؎

مغربی بنگال ابتدا سے ہی سیاسی و سماجی، علمی و ادبی معاملات میں پیش پیش رہا ہے تو بھلا اردو کی ترقی و ترویج کے معاملے میں کیسے پیچھے رہتا شاہ مقبول احمد اس جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں اقتباس دیکھیں۔

’’اردو جب بنگال پہنچی تو یہاں کی آب و ہوا نے اس کے رنگ و روپ پر اثر ڈالا دوسرے اردو کو لانے والے قافلے میں مدھ دیسیوں کے علاوہ اردو مگدھی اور مگدھی (اودھ و بہار) علاقہ کے باشندوں کا بھی گروہ شامل ہے۔ عرض کیا جاچکا ہے کہ یہاں اس کو اپنی بہت سی مدھی دیسی خصوصیات سے دستبردار ہونا پڑا تھا۔ اس لئے زبان کی صورت بہت کچھ متغیر ہوگئی۔ کلکتہ اور مغربی بنگال کے تقریباً تمام شہر اسی زبان کے نمونے پیش کرتے ہیں جس کو آسانی کے ساتھ پوربی اردو کی ایک شاخ کہہ سکتے ہیں۔‘‘ ۶؎

’’بہار کی عام زبان‘‘ پر روشنی ڈالنے سے پہلے بہتر ہوگا کہ ہم زبان و بولی پر ایک سرسری نظر ڈالتے چلیں تاکہ بات کرنے اور سمجھنے میں ذرا آسانی ہو، جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ زبان انسانی احساسات و جذبات کے ابلاغ و ترسیل کا نام ہے اس کا کام لفظوں اور فقروں کے ذریعہ انسانی افکار و خیالات کی ترجمانی کرنا، انسانی خیالات اور زبان کا تعلق چولی دامن کا ہے کیوں کہ سوچ انسانی ذہن کی پیداوار ہے اور اس کی ترجمانی زبان کرتے ہوئے اسے مختلف صورت عطا کرتی ہے۔ ڈاکٹر محی الدین قادری زور اس سلسلے میں اپنی رائے قائم کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

’’پس زبان کی واضح تعریف ان الفاظ میں کی جاسکتی ہے کہ زبان انسانی خیالات و احساسات کی پیدا کی ہوئی ان تمام عضوی اور جسمانی حرکتوں اور اشاروں کا نام ہے جن میں زیادہ تر قوت گویائی شامل ہے اور جن کو ایک دوسرا انسان سمجھ سکتا ہے اور جس وقت چاہے اپنے ارادے سے دہرا سکتا ہے۔‘‘ ۷؎

روزمرہ کی زندگی میں صبح سے شام تک جن صورتوں میںیہ اپنا تبادلۂ خیال کرتے ہیں اسے بولی کہتے ہیں لیکن ہر شخص کے بولنے کا انداز ایک دوسرے سے الگ ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ شخص اپنے انداز کی بنا پر بغیر دیکھے پہچان لیا جاتا ہے جس زبان کا علاقہ جتنا وسیع ہوگا اس علاقے میں اتنی ہی بولیاں ہوں گی۔ زبان کے بولنے والوں میں جس قدر میل ملاپ ہوگا بولیوں میں اتنی ہی یکسانیت ہوگی، بولی دراصل زبان کی ذیلی شاخ ہے جس کے بولنے والوں کو کسی سے لسانی اختلاف نہیں ہوتا ہے جب زبان اپنا معیار کھودیتی ہے تو یہی معیاری بولی زبان کا درجہ حاصل کرلیتی ہے بولیوں کے متعلق اپنا اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر گیان چند لکھتے ہیں۔

’’بولیوں میں زندگی کا حرکی خون رواں دواں ہوتا ہے۔ یہ ارتقاء پذیر ہوتی ہیںمعیاری زبان و ادب اور قواعد کی اسیر ہوکر رہ جاتی ہے۔ یہ ہر قدم پر سند کی تلاش کرتی ہے۔ روز مرہ سے بے گانہ ہوکر یہ روایت پسند اور ماضی پرست ہوجاتی ہے۔ بولیاں مستقبل کا آئینہ ہوتی ہیں۔ آخرکار معیاری زبان کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ تقریر سے پچھڑ کر رہ گئی ہے۔ ہار کر اور جھنجھلا کر اسے بولی کا ساتھ دینا پڑتا ہے۔ شروع شروع میں وہ جن لسانی تبدیلیوں پر ناک بھوں چڑھا کر انہیں تحقیر کے ساتھ ٹکسالی باہر قرار دیتی ہے۔ ایک عرصے کے بعد اسے وہی اختیار کرنی پڑتی ہیں جن معیاری بولی کی زندگی کی شرط یہ ہے کہ وہ بولیوںکی طرف سے مغائرت نہ برتے۔ ان کے ذخیرۂ الفاظ سے استفادہ کرتی رہے ورنہ سنسکرت کی طرح قواعد بند ہرکر ٹھٹھر جائے گی۔ معیاری زبان اس ندی کی طرح ہے جس کی سطح کے اوپر کی طرف جامہ تہی جمی ہو۔ لیکن اس کے نیچے موجِ تہہ مچل رہی ہو۔ یہ امواج تہہ نشیں بولیاں ہیں۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ گفتگو عموماً بولی ہی میں کی جاتی ہے۔ معیاری زبان صرف پرتکلف موقعوں کے لئے ہوتی ہے۔ کلاس روم، عدالت، اسمبلی، لکچر ہال وغیرہ میں بھلے ہی باقاعدہ ٹکسالی معیاری زبان بولی جائے۔ گھر میں آکر ہر شخص کا رجحان بولی کی طرف ہوجاتا ہے۔‘‘ ۸؎

متذکرہ اقتباس سے بولی کی اہمیت و افادیت ہم پر واضح ہوتی ہے اگر یہ کہا جائے تو شاید بے جا نہ ہوگا کہ بولی انسان کی بنیادی ضرورتوں میں سے ایک ہے جس طرح انسان کی زندگی کے لئے ہوا پانی اور خوراک ضروری ہے ٹھیک اسی طرح تبادلۂ خیال کے لئے روزمرہ کی گفتگو یا عام بول چال کی زبان میں ترسیل و ابلاغ کا عمل برجستہ، بہ سرعت اور غیر ارادی طورپ پر انجام پاتا رہتا ہے اور زبان تحت الشعور کا حصہ بن جاتی ہے۔ لیکن ادبی زبان میں اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ ان ہی باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے شاہ مقبول احمد نے ’’بہار کی عام زبان‘‘ کے عنوان سے ایک پرمغز اور معلومات افزاء مضمون رقم کیا ہے اس مضمون میں انہوں نے بہار کے مختلف شہروں اور قصبوں کی بولیوں کا جائزہ لیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اردو بہار کے قدیم رشتوں کی بات موثر انداز سے کی ہے۔ بہار میں رائج تین بولیوں کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شاہ مقبول احمد رقم طراز ہیں۔

’’صوبۂ بہار میں تین بولیاں رائج ہیں۔ مغربی بہار میں بھوجپوری شمالی بہار میں میتھلی اور جنوبی بہار میں مگھئی عام طور پر مستعمل ہیں۔ لسانی حدوں کی وجہ سے ان بولیوں کے الگ الگ احاطے قائم ہوگئے ہیں۔ یہ تنیوں بولیاں مگھدی پراکرت کی بیٹیاں ہیں۔ اس لئے آپس میں بہت کچھ مشابہت رکھتی ہیں۔ ادبی سرمایہ کے اعتبار سے بھوجپوری میں دو ایک نظمیں بتائی جاتی ہیں۔ مگھئی میں بائبل کے ترجمہ کے سوا کچھ نہیں البتہ میتھلی میں شعر و ادب کا ذخیرہ موجود ہے۔ مشہور شاعر ودیاپتی کے علاوہ اور بھی نامور شعراء کے کلام اس میں پائے جاتے ہیں۔

باوجود یہ کہ یہ تینوں بولیاں (بھوجپوری، مگھئی اور میتھلی) سگی بہنیں ہیں اور آپس میں اس قدر مشابہت رکھتی ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک بولی (اگر کسی زمانہ میں ایسا خیال عام ہوتا) صوبہ کی عام بولی بن سکتی تھی مگر ایسی تحریک کے لئے حالات کبھی موافق نہ تھے، اس لئے دائرہ و اثر کے لحاظ سے یہ بولیاں محض چند ضلعوں کے اندر محدود ہوکر رہ گئیں۔ زمانہ قدیم میں جب وسیع المشربی کے بجائے عام اہل ہند کا رجحان تنگ نظری، کم آمیزی اور چھوت چھات کی طرف تھا، یہ ممکن نہ تھا کہ ایک پورے علاقہ کو اپنا ہم زبان بنانے کے لئے ایک جماعت کشادہ دلی سے کام لے کر اپنا دائرہ وسیع کرتی اور دوسری جماعتیں اپنی مخصوص بولیوں کی موجوگی میں ایک نئی بولی کو اضافہ کے طور پر قبول کرکے دور اندیشی اور بلند نظری کا نمونہ پیش کرتیں۔ آج جب کہ یہ قدیم خیالات کسی قدر دماغوں سے محو ہوگئے ہیں اور کم آمیزی کے بجائے وسیع المشربی کی صدائیں کانوں میں کبھی کبھی آتی رہتی ہیں۔ اس سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید اس تخم ریزی کے لئے مناسب زمین اور موافق آب و ہوا تیا ہورہی ہے مگر اس وسیع المشربی کے پیچھے پیچھے جدید نظربہ قومیت اپنی مخصوص تنگ نظری اور حدود پسندی کے تمام حربے لئے ہوئے ساتھ ساتھ دکھائی دیتا ہے جو اس راہ میں سد راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔‘‘ ۹؎

سطور بالا سے بات پوری طرح منکشف ہوجاتی ہے کہ مغربی بہار میں بھوجپوری، شمالی بہار میں میتھلی اور جنوبی بہارمیں مگھئی بولی کا چلن اردو زبان کے عالم وجود میں آنے سے پہلے رائج تھا، لیکن اس کے باوجود یہ بولیاں پورے بہا ر کے لئے معیاری ثابت نہ ہوکر صرف بہار کے مخصوص حصوں تک ہی محدود رہ گئیں۔ شاہ مقبول احمد کے مضامین سے بات صاف ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنی بیشتر تحریروں میں بہار کی زبان و ادب کے مسائل کے ساتھ ساتھ یہاں کے معاشرتی، سیاسی، سماجی، تہذیبی، ثقافتی اور معاشی حالات کو پیش نظر رکھا ہے۔ مثال کے لئے ’’ہماری بولی ‘‘ سے نمونۂ تحریر کا ایک ٹکڑا ملاحظہ ہو۔

’’میں چاہتا ہوں کہ اس صوبہ میں اس معاملے میں ایک صوبائی نقطۂ نظر پیدا کیا جائے۔ اس پچھمی بولی کو کس طرح لکھا جائے اور کون سے الفاظ سے بولے جائیں، ان تمام باتوں کا فیصلہ دوسرے صوبے کے اثر اور دباؤ سے آزاد ہوکر سب کو مل کر کرنا چاہئے کیوں کہ ہم اس بولی کو دلی اور لکھنؤ یا کاشی اور پریاگ والوںکو خوش کرنے یا ان سے اپنی باتوں کا لوہا منوانے کے لئے نہیںبولتے بلکہ اب تو ہم صوبہ کا بڑے سے بڑا اور چھوٹے سے چھوٹا کام اپنے طور پر اپنے ڈھنگ میں، اپنے اردگرد کو سمجھ کر اپنے خاص رنگ میںاس کے ذریعہ کرنا ہے۔ اس لئے اس پر اس صوبہ کی زندگی کی چھاپ ہونی چاہئے تاکہ اس کی رگ رگ میں اپنا پن ٹپکے۔ جہاں ہمارے ادب میں ہمارے گاؤں، ہمارے شہر، ہمارے عوام، ہمارے خواص، ہمارے کھیت کھلیان، ہمارے کوچہ و بازار کی صاف جھلک دکھائی دے، وہاں ہماری زبان کو بھی ہماری بول چال کی جیتی جاگتی تصویر ہونی چاہئے۔

بہار کے ہندو مسلمان ایسے بہت سے الفاظ و محاورات استعمال کرتے ہیں، جو محض بول چال تک محدود ہیں اور جن کو باہر کے دباؤ سے ادب کی زبان میں برتتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ جب ان کو اس صوبہ میں کڑوڑوں کی تعداد میں سب بولتے اور سمجھتے ہیں تو پھر ان کو کھلے بند استعمال بھی کرنا چاہئے تاکہ بولنے اور لکھنے میں زیادہ فرق نہ رہ سکے اور اس زبان کی جڑیں اس صوبہ کے جگر میں پیوست ہوجائیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہمارے عوام کو یہ بولی اُوپر سے لادی ہوئی معلوم نہ ہوگی بلکہ ہمارے ٹھیٹھ اور مقامی الفاظ سے شناسا اور آشنا بنادیں گے۔‘‘ ۱۰؎

’’بہاری ماحول اور اردو ادب‘‘ شاہ مقبول احمد کا ایک اہم مضمون ہے اس مضمون کے توسط سے انہوں نے بہار کے قلم کاروں کو تقلید کے بجائے تخلیق کا درس دیا ہے اس تعلق سے وہ رقم کرتے ہیں۔ اقتباس دیکھیں:

’’اس کے لئے ہم کو بہار کے شعراء و ادباء کی قوتِ مشاہدہ کاجائزہ لینا ہوگا۔ دراصل اس موقع پر ہم اس سے بھی زیادہ اہم سوال کو نظر انداز نہیںکرسکتے کہ تقریباً تمام دینائے اردو تخلیق کے بجائے تقلید کا شکا رہے۔ شمالی ہندوستان کے اہم ادبی مرکز دلی اور لکھنؤ نے شیراز اور اصفہان کی ناکام نقالی میں اپنا وقتِ عزیز ضائع کیا اور دلی اور لکھنؤ کی ایک قسم کی مرکزیت کی تشکیل کے بعد ملک کے دوسرے اہم ادبی مراکز نے اپنی تمام سعی و کاوش دلّی اور لکھنؤ کی تقلید میں صرف کی اور نقل مطابق اصل کی کج روی نے حقیقی منزل سے اس درجہ دور کردیا کہ مقامی زندگی کی عکاسی کا تو ذکر ہی کیا زبان تک میں مقامی اثرات کے اظہار کو ہنر کے بجائے فن کا عیب تصور کیا گیا۔‘‘ ۱۱؎

’’جمیل مظہری کے بعض افکار‘‘ شاہ مقبول احمد کا قابل توجہ مضمون ہے۔ جمیل مظہری بیسویں صدی کا ایک ایسا نام ہے جو دور سے ہی پہچان لیا جاتاہے۔ جس نے اپنے لب و لہجہ کی بدولت اپنی ایک الگ شناخت قائم کی ہے انہوں نے اپنی شگفتہ طرز ادا اور شستہ زبان و بیان سے اپنی شاعرانہ انفرادیت کو قائم رکھا ہے۔ ان کی غزلوں اور نظموں میں عصری حسیت اور عصری آگہی کی بھر پور جلوہ گری ہے غزل ہو یا نظم وہ دونوں کو خوب اچھی طرح برتنا جانتے ہیں۔ ان کی نظموںمیں نغمگی، فکر کی ندرت، احساسات و جذبات کی رنگارنگی، تخیل کی کارفرمائی کے ساتھ ساتھ کلاسکی لفظیات کا رنگ و آہنگ نظر آتا ہے۔ ان کی غزلوں میں زندگی کی صداقتیں، فکر و شعور کی بلندی اور ادراک و تخیل کو صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ شاہ مقبول احمد جمیل مظہری کی طرزِ فکر اور انداز بیان کو اپنی تنقید کی کسوٹی پر یوں پرکھتے ہیں۔

’’شاعر نے خود کو اعلیٰ قسم کی صناعی و فنکاری سے لیس کرکے موضوع و ہیئت اور صورت و معنی کے ممکن الحصول محاسن و لوازم سے وسائل کا کام لیا ہے۔ اشارات و کنایات، توضیحات و تشریحات میں کہیں فکر رسائی بلند پروازی و نکتہ آفرینی کی جلوہ گری ہے تو کہیں سلگتے اور مہکتے ہوئے جذبات کی شعلہ سامانی اور آتش فشانی کے مظاہر ہیں۔ شاعر نے کمال ہشیاری و چابک دستی سے انسان کی بے بسی، نارسائی، بے بال و پری اور بے اختیاری کی کامیاب تصویر کھینچ کر حزن و یاس اور رنج و ملال کا ایک ایسا مرقع تیار کردیا ہے کہ جس کے مطالعہ کا نتیجہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتا کہ انسانی افکار مشیتِ ایزدی کے خلاف صف آرا ہوجائیں اور اس کو بے نیاز وبے پروا، غفلت شعار و ناشنوا کہنے پر اکتفا کرنا تو درکنار، اس سے تنگ آکر مایوس و منحرف ہوکر انسان خود اس کے وجود کو اپنا ہی خیالِ خام اور زائیدہ اوہام قرار دے کر اپنے لئے راہ نجات نکالے۔‘‘ ۱۲؎

’’میرتقی میرؔ کی شاعری کے بعض پہلو‘‘ کے عنوان سے مقبول صاحب کا مضمون انفرادیت کا حامل ہے۔ زندگی جینے کا حوصلہ اورغموں میں مسکرانے کا انداز جو میرؔ کا ہے وہ کسی اور کے یہاںنہیں ملتا کیوں کہ میرؔ غموں کے سامنے سپر انداز ہونے اور شکست خوردہ انسان کی طرح راہِ فرار اختیار کرنے کے بجائے غموں سے نباہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ خود جہادِ زندگی اور کشمکشِ زیست کا مقابلہ کرنے کی قوت رکھتا ہے اور کارزارِ زندگی میں تھکے ماندے مجاہدوں کے دل میں نیا ذوقِ عمل اور نشاطِ امید پیدا کرتا ہے۔ میرؔ کی شاعری کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے دور کے انتشار اور شکست وریخت کو سادہ لوحی سے قبول کرنے کے بجائے اپنے حزنیہ لہجے کی ساری چاشنی اپنی روح میں جذب کرکے بغاوت کی چنگاریوں کو وقار اور تمکنت کے ساتھ آشوب زمانہ کا اظہار مختلف انداز میں کیا ہے۔ شاہ مقبول احمد میرؔ کی شاعری پر اپنے ناقدانہ خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔

’’میرے خیال میں میر تقی میرؔ کے پیش کردہ سرمایۂ شعر و ادب کا معتدبہ حصہ ایسا ہے جو روایاتِ کہن اور متعقدات دیرینہ و پارینہ کا آئینہ دار ہونے کے بجائے قعطی طور پر انفرادی اور ذاتی تجربات پر مبنی ہے۔ ان کے شاعرانہ افکار کے مطالعہ کے وقت ان کی زندگی کے اہم واقعات ہمارے ذہن نشین رہنے چاہئیں۔ اول ناآسودہ حال اور ناہموار زندگی۔ دوم ناکامی عشق۔ یہ دو محرکات میرؔ کی دنیائے افکار کے حق میں محور کا کام کرتے ہیں۔ اول الذکر امر کا یہ رد عمل ہے کہ زندگی کی بابت سر تا سر قنوطی رجحان نے ان کے افکار پر غلبہ حاصل کرلیا ہے اور مؤخر الذکر سانحہ کا فیضان ہے کہ جس کی وجہ سے عشقیہ جذبات کے اظہارمیں ہر مقام پرمایوسی و بے چارگی، حرمان نصیبی، برشتگی و خستگی، عجز و فتادگی اور سوز و گداز نے ایسی دولتِ تاثیر پائی ہے جو بلا شبہ غیر فانی ہے۔‘‘ ۱۳؎

کلی طور پر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ادب میں کوئی شئے جامد نہیں، کوئی تحقیق حرفِ آخر نہیں نیز ادبی مباحث کاکبھی اختتام نہیں ہوتا۔ الغرض یہ کہ شاہ مقبول احمد کے تحقیقی و تنقیدی افکار و نظریات کو سمیٹنا ایسا ہی ہے جیسا کہ کوزے میں دریا کو سمونا۔

 

حواشی:

۱؎ ۔ مسائلِ ادب کا منظر نامہ از۔ پروفیسر عبدالمنان، چند ادبی مسائل، مرتبہ ڈاکٹر شفیع الرحمٰن، صفحہ: ۷، سن اشاعت۔ ۲۰۱۸؁ء

۲؎ ۔ گذارش، از۔ شاہ مقبول احمد، چند ادبی مسائل، مرتبہ ڈاکٹر شفیع الرحمٰن۔ صفحہ۔ ۴۲، سن اشاعت۔ ۲۰۱۸؁ء

۳؎ ۔ اردو یا ہندوستانی، از۔ شاہ مقبول احمد، چند ادبی مسائل، مرتبہ ڈاکٹر شفیع الرحمٰن۔ صفحہ: ۴۷

۴؎ ۔ اردو کے آغاز و ارتقاء کے نظرئے، از۔ مرزا خلیل احمد بیگ از۔ اردو کی لسانی تشکیل، صفحہ: ۱۳، سن اشاعت۔ ۲۰۰۰؁ء، ناشر: ایجوکیشنل بک ہاؤس،

علی گڑھ۔

۵؎۔ اردو یا ہندوستانی، شاہ مقبول احمد، چند ادبی مسائل، مرتبہ ڈاکٹر شفیع الرحمٰن، صفحہ: ۴۷، سن اشاعت: ۲۰۱۸

۶؎ ۔ اردو یا ہندوستانی، شاہ مقبول احمد، چند ادبی مسائل، مرتبہ ڈاکٹر شفیع الرحمٰن، صفحہ: ۵۲، سن اشاعت: ۲۰۱۸

۷؎ ۔ زبان: ماہیت، آغاز اور تشکیل، ڈاکٹر محی الدین قادری زور، اردو میں لسانی تحقیق، پروفیسر عبدالستار دلوی، صفحہ: ۷۵، قومی کونسل

برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی، سن اشاعت: ۲۰۱۵

۸؎۔ زبان اور بولی، ڈاکٹر گیان چند، اردو میں لسانی تحقیق، پروفیسر عبدالستار دلوی، صفحہ: ۱۵۵، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی،           سن اشاعت: ۲۰۱۵

۹؎ ۔ بہار کی عام زبان، شاہ مقبول احمد، چند ادبی مسائل مرتبہ ڈاکٹر شفیع الرحمٰن، صفحہ: ۶۲۔ ۶۳، سن اشاعت: ۲۰۱۸

۱۰؎ ۔ ہماری بولی، شاہ مقبول احمد، چند ادبی مسائل۔ مرتبہ ڈاکٹر شفیع الرحمٰن، صفحہ: ۷۷، ۷۸،سن اشاعت: ۲۰۱۸

۱۱؎ : بہاری ماحول اور اردو ادب، شاہ مقبول احمد، چند ادبی مسائل، ڈاکٹر شفیع الرحمٰن، صفحہ: ۱۵۷، سن اشاعت: ۲۰۱۸

۱۲؎ ۔ جمیل مظہری کے بعض افکار، شاہ مقبو ل احمد، چند ادبی مسائل، ڈاکٹر شفیع الرحمٰن، صفحہ: ۱۷۰، سن اشاعت: ۲۰۱۸

۱۳؎ ۔ میر تقی میرؔ کی شاعری کے بعض پہلو، شاہ مقبول احمد، چند ادبی مسائل، مرتبہ ڈاکٹر شفیع الرحمٰن، صفحہ: ۱۸۰، سن اشاعت: ۲۰۱۸

 

MD.SHAHNAWAZ ALAM

Assistant professor, Deptt. of urdu

Islam Pur College, Uttar Dinaj Pur

Pin: 733202

WEST BENGAL

Mobile no. 9874430252

email: shahnawazalam_26@yahoo.com

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
ہندوستان اور ہندوستان سے باہر اردو کے فروغ کے لیے ایسے سیمینار کی اشد ضرورت ہے: عارف نقوی
اگلی پوسٹ
فتح پور کا تخلیقی طور – حقانی القاسمی

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں