کلیات ـ یگانہ از وسیم فرحت – طلعت جہاں
یگانہؔ چنگیزی اردو شاعری میں ایک اہم نام ہے جنہوں نے اردو شاعری کی تمام مروج روایتوں سے انحراف کیا اور شاعری میں خصوصاً غزلوں میں نئے موضوعات اور نئے اسلوب کا اختراع کیا ان میں جدت وندرت پیدا کی۔ یگانہ کی آواز اردو شاعری کے لیے بالکل نئی آواز تھی۔ یہ نئی آواز اردو شاعری کو جدیدیت کی راہ پر گامزن کرنے میں معاون ومددگار ثابت ہوئی۔ یگانہ کی زندگی آزمائشوں سے بھری رہی لیکن انہوں نے زندگی سے کبھی ہار نہیں مانا بلکہ دیدہ دلیری کے ساتھ اس کا سامنا کیا ، زندگی کے طویل عرصہ تک تنہا اہل لکھنؤ کی مخالفت کا سامنا کرنا، اپنی شاعری کے ذریعے بے باک ہوکر انہیں جواب دینا یگانہ جیسے غیر معمولی شخص ہی کرسکتے تھے۔ اسی عظیم شخصیت کو نئے سرے سے سمجھنے، حق کی راہ سے دیکھنے اور ان کے شعری کلام کو نئے انداز سے متعارف کرنے کا کام وسیم فرحت ؔ(علیگ) صاحب کی مرتب کی ہوئی کتاب کلیات یگانہ مکمل کامیابی کے ساتھ کرتی ہے۔
وسیم فرحت صاحب کا تعلق مہاراشٹر کے امراؤتی ضلع سے ہے۔ آپ ادبی جریدے سہ ماہی ’’اردو‘‘ کے مدیر اعلیٰ، محقق، نقاد، شاعر اور ماہر یگانہؔ ہیں۔ یہ کتاب کا پہلا ایڈیشن ہے جو امراؤتی (مہاراشٹر) سے شائع ہوا ہے۔ کتاب ۴۰۰صفحات پر مشتمل دیدہ زیب جلد کے ساتھ مجلد ہے اور اس کی قیمت ۴۰۰ روپئے مقرر کی گئی ہے جو AMAZON (آئن لائن شاپنگ ایپ) میں بھی دستیاب ہے۔
زیر بحث کتاب ’’کلیات یگانہ‘‘ تین اہم ابواب پر مشتمل ہے جن میں غزلیات (اردو اور فارسی) ، رباعیات (اردو اور فارسی) اور متفرقات (سہرا، قطعہ، نظم، مثلث، قطعۂ تاریخ) وغیرہ شامل ہیں۔ یوں تو ۲۰۰۳ء میں مشفق خواجہ صاحب نے کلیات یگانہ کو ترتیب دیا تھا لیکن اس کتاب سے وسیم فرحت صاحب قطعی شاکی نظر آتے ہیں کیوں کہ خواجہ صاحب کی ترتیب کردہ ’’کلیات یگانہ‘‘ ۹۰۰ صفحات میں مشتمل ہے اس ضخیم کلیات کا نصف حصہ شعر اور نصف حصہ نثر ہے۔ وسیم فرحت صاحب کتاب کے دیباچہ میں لکھتے ہیں:
’’پی۔ ایچ۔ ڈی کا مقالہ اور شعری کلیات میں یقینا فرق ہوتا ہے۔ ہم خواجہ صاحب کے نصف ہزار صفحات کو تحقیق کا اعلیٰ نمونہ تو قرار دے سکتے ہیں تاہم ان صفحات کی کلیات میں بے دریغ شرکت قطعی مناسب نہیں۔‘‘ (کلیات یگانہ از وسیم فرحت (علیگ) ص:۷)
یہی بات کلیات یگانہ کی از سر نو تحقیق و تدوین کا محرک بنی جس میں انہوں نے اختصار کو ملحوظ خاطر رکھا ہے۔ اس ضمن میں سیفی سرونجی (سرونج) فرماتے ہیں:
’’آپ کی بہت اہم دستاویزی کتاب کلیات یگانہ ملی ۔ اس بات کے لیے آپ کا بے حد شکر گزار ہوں آپ واقعی ماہر یگانہ تسلیم کیے جاتے ہیں کہ آپ نے یگانہ کو نئے سرے سے دریافت کیا ہے۔ یگانہ سے متعلق اتنی معلومات اور نئے پہلوؤں کی تلاش کے بعد آپ نے جس انداز سے یگانہ کو روشناس کرایا ہے وہ خاص طور سے نئی نسل کے لیے تو ایک خزانہ مل گیا ہے۔ میں نے واقعی یگانہ کو اب پڑھا ہے اور جانا ہے۔ یہ صرف آپ کی کتاب کی وجہ سے ہوا ہے۔
مذکورہ کتاب میں ایک مقدمہ درج ہے جس میںحیات برائے جہاد، جہاد برائے ادب، ادب برائے وجود اور وجود برائے ادب جیسے عنوانات قائم کئے گئے ہیں۔ان عنوانات میں یگانہ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر سیر گفتگو کی گئی ہے۔ وسیم فرحت کے قائم کردہ ان عنوانات کے مطالعے کے بعد ہمیں یگانہ کے انسان دوستی کا مسلَم ثبوت ملتا ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم نے یگانہ کو خود پرست اور غالب کی مخالفت کرنے والا شاعر ہی سمجھا ہے لیکن اس مخالفت کے پس پردہ کیا وجوہات کار فرما رہے تھے،کس طرح اہل لکھنؤ نے انہیں ذہنی وجذباتی طور پر رسوا کیا، انہیں معاشی تنگ دستی سے نبرد آزما ہونا پڑا حتی کہ گھر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا اور کئی سارے قیمتی مسودات کو ضائع کردیا گیا وغیرہ تمام باتیں مع حوالہ وسیم فرحت صاحب نے پیش کیا ہے۔ کتاب کے حواشی لکھنے میں جس طرح انہوں نے عرق ریزی سے کام لیا ہے وہ ان کے یگانہ کے تئیں خلوص، ان کے محققانہ جذبہ اور ادب سے ان کا لگاؤ کو بخوبی نمایاں کرتا ہے۔ ا س بات کی تائید میں درج ذیل قول ملاحظہ فرمائیںـــ:
’’کلیات یگانہ کی اشاعت آپ کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔ یگانہ پر آپ کی تین مشہور کتابیں مونو گراف، یگانہ شناسی اور ’’یگانہ چنگیزی شخصیت وفن‘‘ یگانہ کو ان کا ادبی حق دلانے کی بہترین کوششیں ہیں۔ اردو میں بہت جلدی لوگ ماہر کا خطاب حاصل کرلیتے ہیں لیکن یگانہ پر جس طرح آپ نے کام کیا ہے وہ ان کی شخصیت اور ان کی شاعری پر آ پ کی مہارت کا اظہار ہے۔‘‘ ڈاکٹر شارب ردولوی (لکھنؤ)
یگانہؔ ایک خود دار اور راست گو شاعر تھے۔ زندگی کے تئیں ہمیشہ انہوں نے جرأت آمیز رویہ اختیار کیا یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں افسردگی ، محرومی، شکست خوردگی اور یاسیت کے مضامین نہیں ملتے بلکہ غیرت و حمیت ، خودداری، جوش و جذبہ اور بلند حوصلگی نظر آتی ہیں ۔ ان کی اسی جرأت آمیزی نے انہیں غالبؔ کے مقابل لا کھڑا کر دیا جس کے باعث وہ لوگوں کی تنگ نظری کا شکار ہو ئے ۔ اردو شاعری کو ایک نیا رخ ایک نئی جہت عطا کر نے کے باوجود لوگ ان پر ایمانداری سے قلم اٹھانے سے قاصر رہیں لیکن وسیم فرحت صاحب نے زندگی کا ایک طویل عرصہ یگانہ کے لئے وقف کر کے اسی جزأت آمیزی کا ثبوت دیا ہے اور اپنی تحقیقات کے ذریعہ ان تمام لوگوں کی نظروں سے ان دبیز پر توں کو ہٹانے کی کوشش کی ہے جو یگانہ کے متعلق لا علمی کے باعث اپنی نظروں پر جمائے بیٹھے تھے ۔ اس سلسلے میں زبیر ؔ رضوی صاحب یوں رقمطراز ہیں :۔
’’ میری نگاہ میں یگانہ پر لکھے گئے بے شمار مضامین کی اہمیت اپنی جگہ مگر وسیم فرحت ( علیگ ) کی پاکستانی کتاب یگانہ چنگیزی ، یگانہ شناسی میں غیر معمولی معاون بنی ہے ۔ وسیم فرحت نے خود کو یگانہ کے لئے وقف کر کے یہ تحریک دی کہ کسی ایک ادیب کے ادب پر کام کر تے ہو ئے پوری زندگی گزاری جاسکتی ہے ۔ یگانہ ؔ ایسے ہی شاعر تھے ۔‘‘
بلا شبہ وسیم صاحب کو راست گوئی خود ان کے والد مرحوم خلیل فرحت کارنجوی سے ورثے میں ملی ہے۔اور یہی راست گوئی ہے جو انہیں انفرادیت بخشتی ہے۔
ہر دو ر کا المیہ ہے کہ اس وقت کا سب سے بڑا شاعر معاشی سطح پر غیر مستحکم رہا ہے لیکن سماجی سطح پر دیدہ و دانستہ طور پر جو اذیتیںیگانہ کو دی گئیں وہ شاید ہی کسی دوسرے شاعر کو دی گئی ہوں ۔ بار ہا ان کے روز گار پر حملے کئے گئے حتیٰ کہ ان کے چہرے پر کالک پوت اور جوتوں کا ہار پہنا کر سربازار گھمایا گیا ۔ یہ تمام سانحات کیسے کسی کی شخصیت میں کر ختگی پیدا نہیں کر تی ۔ وسیم فرحت صاحب کا یہ احسان عظیم ہے کہ انہوں نے’’ یگانہ چنگیزی ۔ مونو گراف ‘‘ ، ’’ مکتو بات یگانہ‘ ‘ اور ’’ کلیات یگانہ‘‘ کی تر تیب و تدوین کے ذریعہ ان جواز کو پیش کر کے ہماری تو جہ اس طرف مرکوز کرائی ہے کہ اہل لکھنئوکا یہ رویہ ان کی شخصیت میں موجو د کر ختگی کا باعث ہو سکتے ہیں ۔ وسیم صاحب کی ان کو ششوں کو سراہتے ہو ئے معراج جامعیؔ صاحب فرماتے ہیں:۔
’’ وسیم فرحت ؔ ( علیگ) بھارت کے سخت نقاد اور سخت جان محقق ہیں ۔ سہ ماہی ’ ار دو‘ کے مدیر ہیں ۔ انہوں نے بڑی جانفشانی سے کتاب ’’ یگانہ چنگیزی ‘‘ لکھ کر دنیائے ادب کو خوشگوارحیرت میں ڈال دیا ہے ۔ وسیم کی یہ
کتاب پاکستان میں ہاٹ کیک کی طرح مشہور ہوئی ہے ۔ ‘‘
ایک ایسا شاعر جس کے لئے یہ دنیا کسی غم کدہ سے کم نہیں تھی لیکن ان کی شاعری لوگوں کے غموں کا مداوا کر تی ہے ۔ زندگی جینے کا سلیقہ سکھاتی ہے ۔ اسی حرماں شاعر کے متعلق وسیم فرحت صاحب حقائق کو جاننے اور مواد اکٹھا کر نے کے خاطر ملک کے گوشے گوشے کا سفر کیا، صدیوں پرانی ان تمام کتب اور رسائل کو کھنگالا ، جو یگانہ کے متعلق معلومات فراہم کر سکتے تھے ۔ یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ یگانہ کے تئیں انکا رویہ نہ صرف مخلصانہ بلکہ منصفانہ بھی ہے ۔ اپنی اسی جاں فشاں محنت کے باعث جدید دور کے سب سے بڑے نقاد شمس الرحمن فاروقی صاحب کے داد و تحسین حاصل کر نے میں کا میاب ہو ئے ہیں ۔ شمس الرحمن فاروقی وسیم صاحب کی یگانہ تخلیقات پر اپنی ناقدانہ نگاہ ڈالتے ہوئے کچھ اسطرح رقمطراز ہیں ۔
’’ میں بہت کم کتابیں پوری پڑھ پاتا ہوں ، لیکن یقین جانئے کہ ’’ مکتوبات ــَََ ِ یگانہ ‘‘ شروع سے آخر تک پڑھی۔واقعی یہ ایک اچھی کتاب ہے۔کتاب کے مطا لعہ کے دوران میں نے چند مقامات پر نشانات بھی لگائے ہیں۔ آ پ نے کڑی محنت سے کام انجام دیا ہے۔ آپ کی کتاب ان چند اچھی کتابوں میں سے ایک ہے جنہیں میں بہ شوق اپنی میز پر رکھنا پسند کرتا ہوں۔‘‘
وسیم صاحب کی ’کلیات یگانہ ‘کئی دنوں سے میرے مطالعہ میں ہے موصوف نے یگانہ پر اپنی نادر تخلیق سے سمندر کو کوزے میں سمونے کا کام انجام دیا ہے یہ وہی سمندر جو اپنے عہد کے ملاحوں کے پتوار کی ضرب کاری برداشت کرتے ہوئے اپنے اندر ایک طوفان لئے ہوئے تھا جسے وسیم صاحب کی نگاہوں نے بخوبی دیکھا اور پورا پورا انصاف بھی کیا۔’ کلیات ِ یگانہ‘ کی عظمت کے اعتراف میں پروفیسر گوپی چند نارنگ فرماتے ہیں۔
’’کلیات ِ یگانہ میں نے غور سے دیکھا ، کیونکہ یگانہؔ کا ادنیٰ عاشق میں بھی
ہوں، اور مجھے مشفق خواجہ کی عرق ریزی بھی یاد ہے، البتہ جب ان کی فرمائش پر ان کی کتاب میں نے ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ، دہلی پر دی تو بقول مشفق خواجہ انھوں نے کتاب کو تباہ کر دیا۔جب میں نے خان صاحب ( مالک ِ ایجوکیشنل پبلشنگ) سے رجوع کیا تو انھوں نے فرمایا، ’ کتاب بہت ضخیم ہو رہی تھی ، ہم نے چھاپ تو دی ‘، گویا ’وہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب الٹا ‘۔ اب وسیم کا کام سامنے آیا ہے اور یہ اپنی نوعیت کا بے مثال کام ہے ، حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا ، علمی کاموں میں ’ حق ادا ہوتا ہے‘ کہ پچھلے کاموں کو پیچھے چھوڑ دیا جائے، علم کی دنیا میں وہ سب اسی طرح آتی ہیں۔وسیم فرحتؔ نے جو عرق ریزی کی ہے میں دل وجاں سے ان کو داد دیتا ہوں ، اور دعا کرتا ہوں کہ وہ اسی طرح حق ادا کرتے رہیں۔ آمین۔‘‘
یگانہؔ کی آواز ان کی اپنی آواز نہ ہو کر اردو شاعری کے ایک تبدیل شدہ مزاج کی آواز ہے،جسے انتہائی سلیقے سے یگانہؔ زمانے کے گوش گزار کرتے ہیں۔یگانہؔ چنگیزی جیسے قد آور شاعر کو وسیم فرحت جیسا نباضِ ادب ہی ٹھیک ڈھنگ سے ہمارے روبرو لا سکتا تھا،اس جانب ندا فاضلی مرحوم کا یہ اشارہ قابلِ غور ہے،
’’ وسیم فرحت (علیگ) کی بے پناہ ادبی ذہانتیں سہ ماہی ’اردو‘ کی ادارت تک ہی محدود نہیں رہیں بلکہ یگانہؔ چنگیزی پر ان کی تصنیفات اتھارٹی کا درجہ رکھتی ہیں۔یہ ذہانتیں انھیں اپنے والدمعتبر شاعر خلیل فرحتؔ کارنجوی سے ملی ہیںجنھیں وہ بڑے جتن و طمطراق سے بروئے کار لا رہے ہیں۔ہندوستان کے ایک غیر معروف علاقہ سے کسی جامعاتی و ادبی گروہ بندی کی بیساکھی کے بغیر وسیم فرحتؔ کا اپنی منفرد شناخت بنانے
میں کامیاب ہونا،قطعاً یگانہؔ چنگیزی کی یاد دلاتا ہے۔یگانہؔ سے وسیم کی ذہنی ہم آہنگی کا ارتقائی سفر بذاتِ خود زندگی سے عبارت ہے۔‘‘
فضیل جعفری جیسے سخت ترین نقاد ِ ادب بھی کھلے دل سے داد دینے سے نہیں کتراتے ہیں، بلکہ یگانہؔ پر وسیم فرحت کی کماحقہ مہارت کے ذیل میں فضیل جعفری کے الفاظ سند کا درجہ رکھتے ہیں،
’’یگانہؔ چنگیزی پر آپ کا مونوگراف مل گیا۔شکریہ۔کتاب یگانہؔ کے بارے میں آپ کے دقیق اور عمیق مطالعہ کا نچوڑ ہے۔ہندوستان میں فی الوقت آپ تنہا ماہرِ یگانہؔ ہیں،اور یہ بڑی خوشی کی بات ہے۔‘‘
یگانہ کے شائق ِ خاص تسلیم کیے جانے والے منفرد شاعر و ادیب جناب شین کاف نظام نے نہ صرف یگانہؔ کی استادی تسلیم کی بلکہ وسیم فرحتؔ کے متذکرہ کام کو خوب سراہا ہے، فرماتے ہیں،
’’یگانہ پر آپ نے جتنا کام کیا ہے وہ عدیم المثال ہے۔ اب پچھلے چند دنوں سے آپ کا مرتب ومدون’ کلیات یگانہ‘ میرے مطالعہ میں ہے۔ یہ کام اداروں کا ہے جسے آپ نے تنہا کر دکھایا ہے۔ اس کے لیے میری طرف سے بہت بہت مبارک باد۔۔۔کلیات یگانہ آپ کی تحقیقی ، ترتیبی اور تدوینی صلاحیتوں کا شاہکار اور تاریخی دستاویز ہے جس کے مطالعے سے یہ معلوم ہوگا کہ اگر یگانہؔ نہ ہوتے تو اردو ہی نہیں ہندوستانی زبانوں میں لکھی جانے والی غزل کی یہ چھب نہ ہوتی نہ ایسا ڈھب‘‘
یگانہ چنگیزی پر وسیم فرحت صاحب کی یگانہ کاوش یقینا قابل تحسین ہے جس سے دنیائے ادب خصوصاً طالب علم طبقہ ہمیشہ فیضاب ہوتا رہے گا۔ یگانہ پر شب روز کام کرنے والے فرحت صاحب کے متعلق پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی صاحب نے یہ تک کہہ دیاکہ :
’’پس از مرگ یگانہ مطالعات کے نئے دروازے کھولنے والے فرحت
صاحب کے جیسا کوئی فکر ونظر کا جلوہ دکھانے والا مجھے مل جائے تو میں ابھی مرنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘
(یگانہ بازیافت اور وسیم فرحت کا رنجوی مرتب ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی، ص:۸)
امید ہے کہ وسیم فرحت (علیگ) صاحب کی اس سنجیدہ کاوش کے بعد یاس یگانہ چنگیزی پر قلم اٹھانے والا ہر لکھاری صدق دل سے ہی ان پر قلم اٹھائے گا۔مختصراً میں اپنے با ت کو د اغ دہلوی کے اس شعر سے ختم کر نا چاہوںگی۔
خط ان کا بہت خوب عبارت بہت اچھی
اللہ کرےحسن رقم اورزیادہ
طلعت جہاں (کلکتہ)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

