پروفیسر ابن کنول کے انتقال پر قومی اردو کونسل میں تعزیتی نشست
نئی دہلی: اردو کے مشہور ناقد، محقق اور افسانہ نگار پروفیسر ابن کنول صدر شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی کے انتقال پر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی کے صدر دفتر میں تعزیتی نشست کا انعقاد کیاگیا۔ اس موقعے پر اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمدنے کہاکہ پروفیسر ابن کنول کا این سی پی یوایل سے بہت گہرارشتہ رہاہے۔ قومی اردو کونسل کے بہت سے علمی اور ادبی معاملات میں ان کی رہنمائی ملتی رہی ہے۔ انھوں نے کہاکہ ابن کنول میرے مشفق استاد تھے۔وہ محبت اور شفقت کی ایک جلی علامت تھے۔ ان کی موت سے اردو زبان و ادب کا ناقابل تلافی خسارہ ہوا ہے۔ شیخ عقیل نے کہاکہ پروفیسر ابن کنول نے مختلف اصناف ادب میں طبع آزمائی کی لیکن داستان ان کا خاص موضوع تھا۔ اس کے علاوہ افسانے، خاکے، انشائیے اورتحقیق و تنقید پر بھی انھوں نے گراں قدرسرمایہ چھوڑاہے۔ وہ ایک ہمہ جہت فنکار تھے اور ان کی تخلیقات انھیں ہمیشہ زندہ رکھیں گی۔ خلیل الرحمن ایڈووکیٹ نے بھی ابن کنول کی شخصیت کے مختلف زاویوں کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ باغ وبہار شخصیت کے مالک تھے، ان کا اچانک اس طرح اس دنیاسے چلے جانا واقعی ہم لوگوں کے لیے کسی صدمہ سے کم نہیں،ان کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ ان کے اندر بناوٹ بالکل نہیں تھی، ان کی تحریروتقریر بھی اس سے پاک تھی۔ انھوں نے مزید کہاکہ ابن کنول چونکہ داستان کے آدمی تھے اس لیے ان کی شخصیت پر داستان کا بہت گہرا اثرتھا، وہ مشکل اورپیچیدہ الفاظ کے استعمال سے پرہیز کرتے تھے، ان کو جنون کی حدتک پڑھنے کا شوق تھا۔ان کا کام بہت وقیع ہے خاص طور پر داستان کے تہذیبی پس منظر کے حوالے سے ان کی کتاب بہت اہم ہے۔ اردو کے ناقد اور صحافی حقانی القاسمی نے تعزیتی کلمات ادا کرتے ہوئے پروفیسر ابن کنول کی شخصی اور ادبی خوبیوں پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ ابن کنول اپنی ذات کے خول میں بند رہنے والے شخص نہیں تھے، ان کا سماجی دائرہ بہت وسیع تھا۔ وہ اپنے شاگردوں کا خاص خیال رکھتے تھے۔ انھوں نے علمی اور ادبی دنیا کو جو گراں قدر اثاثہ عطا کیا ہے اس سے ان کی مطالعاتی وسعت اور فکری تناظرات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ داستان کے حوالے سے ان کا تحقیقی اور تنقیدی کام نئی نسل کے لیے نشان راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس تعزیتی نشست میں کونسل کا تما م عملہ موجودرہا۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

