مانو لکھنؤ کیمپس میں پروفیسر محمد مزمل ،پروفیسر ابن کنول،امجد اسلام امجد اور ضیا محی الدین کے سلسلے میں تعزیتی جلسہ
لکھنؤ۔۱۵،فروری۲۰۲۳
پروفیسر محمد مزمل انسائیکلوپیڈیائی حیثیت رکھتے تھے۔تعلیمی اداروں سے بڑی جذباتی وابستگی رکھتے تھے اور اس کی تعمیر و ترقی کے لیے فکر مند رہا کرتے تھے ۔ان خیالات کا اظہارمولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی کے لکھنؤ کیمپس کی انچارج ڈ اکٹر ہما یعقوب نے پروفیسر محمد مزمل ،پروفیسر ابن کنول،امجد اسلام امجد اور ضیا محی الدین کے سلسلے میں منعقد تعزیتی جلسہ کے دوران کیا ۔۔تعزیتی جلسہ کی نظامت ڈاکٹر عمیر منظر نے کی ۔ڈاکٹر سعید بن مخاشن نے مرحومین کے لیے دعا فرمائی۔
ڈاکٹر ہما یعقوب نے کہا کہ پروفیسر محمد مزمل ایک حوصلہ مند انسان تھے ۔کیمپس سے ان کا بڑا گہرا رشتہ تھا۔ان کا لہجہ بڑا شگفتہ تھا ۔ان کی باتیں دل میں اترتی چلی جاتی تھیں ۔سابق انچارج ڈاکٹر عبدالقدوس نے انھیں جذباتی خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ لکھنؤ کیمپس اور یونی ورسٹی سے پروفیسرمحمد مزمل کا بڑا گہرا رشتہ تھا ۔ان کی وفات ایک علمی خسارہ ہے ۔انھوں نے کہا کہ حکومت ہند کی تعلیمی پالیسیوں پر ان کی گہری نگاہ ہی نہیں تھی بلکہ ان کی تفہیم و تعبیر بھی وہ بہت اچھے انداز سے کرتے تھے ۔
ڈاکٹر شاہ محمد فائز نے استاد محترم پروفیسر محمد مزمل کے سانحہ ارتحال کو اپنے ذاتی خسارہ سے تعبیر کیا ۔انھوں نے کہا کہ مرحوم اچھے استاد اور بہترین انسان تھے ۔انھوں نے پروفیسر مزمل سے تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ کی قربت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بلا شبہ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے حامل انسان تھے ۔
ڈاکٹر سرفراز احمد خاں نے کہا کہ پروفیسر محمد مزمل کا انتقال ایک ناقابل تلافی نقصان ہے ۔انھیں مثالی انسان قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اعلی قدروں کے حامل شخص تھے ۔
ڈاکٹر عمیر منظر نے کہا کہ پروفیسر محمد مزمل مایہ ناز اسکالر اور نہایت خوش اخلاق انسان تھے ۔انھوں نے کہا جانے والے چاروں افراد کی ایک نمایاں خو بی ان کی خوش خلقی اور شگفتہ مزاجی ہے ۔اس موقع پر انھوں نے پروفیسر ابن کنول کو یاد کرتے ہوئے کہاکہ مرحوم مشفق استاداور خرد نواز شخصیت کے حامل تھے۔ادبی دنیا ان کے جانے سے بے حد غمزدہ ہے ۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

