منشی نول کشور (1836-1895)کے عہد کا ایک اجمالی جائزہ لینے سے پتا چلتا ہے کہ وہ عہد بہت ہی کشمکش کاعہدتھا۔ جس میں مغربی تہذیب کی برق رفتاری کے آگے مشرقی تہذیب کی رفتار سست پڑگئی تھی۔ مغلیہ سلطنت زوال پذیر ہوچکی تھی ۔ دہلی کی ادبی وثقافتی فضا بادِ سموم کے جھونکوں سے مسموم ہوچکی تھی ۔ اس کے برعکس لکھنو میں ادبی سرگرمیاں عروج پر تھی ۔ یہاں کی ادبی محفلیں ، ثقافتی مجالس اور شعرو سخن کی نشستیں اہل دانش کے لیے تسکین کا سامان تھیں لیکن 1857کی غدر کے بعد لکھنو میں بھی مشرقی تہذیب پر مغربیت کا سیاہ بادل منڈلاتا نظر آنے لگا جس کے نتیجے میں مایوسی ونامرادی یہاں کا بھی مقدر بننا شروع ہوگئی، بلکہ دہلی کے مقابلے میں لکھنو میں روایت پرستی کا زیادہ رجحان تھا ، یہی وجہ ہے کہ یہاں مشرقی تہذیب کے مقابلے مغربی تہذیب کے اختیار پر ذہن کسی بھی طرح آمادہ نہیں ہوسکتا تھا، ضرورت تھی کہ مغرب کے اس طوفان کی زد سے مشرقی تہذیب کی کشتی کو بچاکر ساحل سے ہمکنار کیا جائے ۔ یہ وہ اسباب ہیں جنھوں نے منشی نول کشور کے اندر دبی چنگاری کو ہوا دے کر ان کو کردار وعمل کی دہلیز پر لا کھڑا کردیا اور پھر انھوں نے وہ کارہائے نمایاں انجام دیے کہ تاریخ میں ان کا نام مشرقی علوم وفنون کے محافظ کے طور پر ہی لیا جاتا ہے ۔ منشی نول کشور نے 1858میں اپنا مطبع قائم کرکے نہ صرف یہ کہ مشرقی علوم وفنون کی حفاظت کی ، بلکہ اس کے ذریعہ علوم مشرقیہ کو اس درجہ فروغ دیا کہ ان کے مطبع کی کتابیں باہر ممالک میں بھی قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھی گئیں ، انھوں نے جہاں ہندوستان کے تمام مذاہب کی کتابیں اپنے مطبع سے چھپوائی اور ان میں کسی بھی طرح کی جانبداری کو جگہ نہ دے کر رواداری اور قومی یکجہتی کا بھر پور مظاہر ہ کیا ، وہیں سنسکرت ، ہندی ، فارسی اور اردو کی بے شمار نادر ادبی کتابیں چھاپ کر ادبی سرمایہ کو محفوظ کرنے میں کلیدی رول ادا کیا ، بلکہ اردو اور فارسی سے ان کا رشتہ جذباتی وفطری نوعیت کا تھا ۔ اسی طرح منشی نول کشور نے 1858میں ہی ’اودھ اخبار‘ کے ذریعہ صحافت کے دو نمایاں اوصاف حقیقت پسندی اور غیر جانبداری کو پیش نظر رکھ کر اخوت وبھائی چارگی ، قومی یکجہتی اور اتحادورواداری کی فضا ہموارکرنے کے ساتھ علمی مضامین ، عمدہ خیالات اور ادبی نودرات کے ذریعہ ہندوستانیوں کی مشرقی علوم وفنو ن اور تہذیب وثقافت کے تئیں زبردست ذہن سازی کی ۔
منشی نول کشور کا صحافتی سفر بقول رانی لیلا کمار بھارگو (1)1851میں آگرہ کی طالبعلمی کے زمانہ سے شروع ہوتا ہے ، جہاں پر وہ پندرہ سال کی عمرسے سترہ سال تک مسلسل ’سفیر آگرہ‘نامی اخبار میں مضامین لکھتے رہے ۔ پھر سترہ کی عمر میں ’کوہ نور‘لاہور سے وابستگی ہوگئی، جس کے ایڈیٹر منشی ہرسکھ رائے تھے ۔ منشی نول کشور نے وہاں چار سال قیام کیا ، جس کے نتیجہ میں جہاں ایک طرف ’سفیر آگرہ ‘کے ذریعہ منشی جی کا قلم رواں اور ذہن بیدار ہوا ، وہیں ’کوہِ نور‘پریس کی ملازمت سے پریس کے اصول وضوابط سے پورے طور پر واقفیت ہوگئی اور پھر مذکورہ دونوں تجربات سے فائدہ اٹھا کر منشی جی نے عملی میدان میں قدم رکھا اور مشرقی علوم وفنون کے ساتھ اردو صحافت کی زبردست آبیاری کی اور اس شعر کا حقیقی مصداق ہوئے:
تقریر سے ممکن ہے نہ تحریر سے ممکن
وہ کام جو انسان کا کردار کرے ہے
اردو صحافت کی تاریخ میں حالات کی سنگینی کشمکش اور تہذیبی اتار چڑھاؤ کے اعتبار سے اس کا دوسرا دور 1857تا 1947بہت ہی اہمیت کا حامل ہے ۔ جس میں بے شمار اردو اخبار ات منظرعام پر آئے اور سب کی الگ الگ خصوصیات تھیں ، جو یقینا قابل ستائش تھیں تاہم ان میں منشی نول کشور کے ’اودھ اخبار ‘کو ادبی ، تمدنی اور سیاسی تاریخ کے اعتبار سے ایک دستاویز کی حیثیت حاصل ہے ۔ اس کا پہلا شمارہ بقول مصنف سوانح منشی نول کشور 26نومبر 1858کو منظر عام پر آیا اور اس کا سلسلہ 92سال تک کامیابی کے ساتھ جاری رہا ۔ ابتدا میں یہ چار صفحات پر مشتمل تھا ، جس کو بعد میں منشی جی نے ترقی دے کر 24صفحات تک پہنچا دیا ، بلکہ اس کے خاص نمبر 48صفحات پر مشتمل ہوتے تھے۔ ’اودھ اخبار ‘کابنیادی مقصد قومی یکجہتی ، اتحاد واتفاق کا فروغ ، حکومت اور عوام کے درمیان رابطہ رکھنا، اخلاقی او رمعاشرتی اصلاح اور ترقی تعلیم کے لیے عوام میں ذہنی بیدار ی پیدا کرنا تھا ، یہی وجہ ہے کہ منشی جی ملک کی سیاسی سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہوئے اس پر بے لاگ تبصرے کرتے ،تاہم ایسے میں بھی اعتدال پسندی جو ان کی شخصیت کا خاص وصف تھا ، اس کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پاتا ۔امیر حسن نورانی اپنی کتاب ’سوانح منشی نول کشور ‘کے صفحہ 141پر یوں رقمطراز ہیں :
’’اودھ اخبار کے تبصرے عام طورپر بڑے بے لاگ ، منصفانہ اور جرأتمندانہ ہوتے تھے۔ سنجیدگی اور متانت کے ساتھ اپنی بات پیش کرنا اس کا خاص وصف تھا ، اسی لیے عوام میں اس کی مقبولیت بڑھتی گئی ‘‘۔(2)
’اودھ اخبار ‘کے لیے منشی نول کشور نے زبردست کاوشیں کی تھیں ، بلکہ وہ اس کے معیار کے تعلق سے حد درجہ سنجیدہ تھے ۔ جس کے لیے انھوں نے نامور ، ماہرین فن مدیروں اور نامہ نگاروں کی خدمات حاصل کیں ، اسی کے ساتھ اخبار کو مزید آسمان کی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے منشی جی نے اپنے وقت کے بڑے ادبا اور علما کا تعاون بھی حاصل کیا ، جن میں عبدالحلیم شرر ، رتن ناتھ سرشار ، پریم چند ، نسیم دہلوی ، حیرت دہلوی ، یگانہ چنگیزی وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ نتیجتاً’اودھ اخبار‘کی جملہ خصوصیات کے ساتھ اس کی علمی وادبی حیثیت بھی مستحکم ہوگئی ، جس کی بین دلیل’ فسانہ آزاد‘ کا قسط وار شائع ہونا ہے اور پھر اس کی مقبولیت میں اس درجے چارچاند لگا کہ ہندوستان کے ساتھ لندن ، فرانس اوردیگر مغربی ممالک میں بھی یہ اخبار دلچسپی سے پڑھاجانے لگا ، یہی وجہ ہے کہ فرانس کے مشہور مستشرق گارساں دتاسی نے 1867کے خطبہ میں اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے ’اودھ اخبار میں جو اب دس سال سے نہایت کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے ، بعض اوقات تصاویر اور اردو کی اعلی پایے کی غزلیں شائع ہوتی ہیں۔ غزلوں کے علاوہ مخمس اور قصیدہ بھی ہوتے ہیں‘۔اور ایک دوسرے خطبہ میں اس طرح کے الفاظ کہے ہیں’اردو کے سب اخباروں میں اودھ اخبار بہترین خیال کیا جاتا ہے ‘۔ ’اودھ اخبار ‘کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ اس میں منشی جی نے انگریزی اخبارات کی خبروں اورمضامین کی ترجمہ نگاری کے لیے بہترین انگریزی داں مترجموں خدمات حاصل کی تھیں ، جس کی وجہ سے ’اودھ اخبار ‘ بھرپور مواد کے ساتھ زبردست معلوماتی اخبار کے درجے کو پہنچ گیا۔ 1870میں ’اودھ اخبار ‘ کے ایک قاری نے ’اودھ اخبار کے شیفتہ‘کے عنوان سے اپنے تاثرات کا اظہار یوں کیا ہے :’منشی صاحب ، آپ کا اخبار بلاغت آثار ، دفتر طلسمات ہے، میں کیا اس کی تعریف کروں ، چھوٹا منہ بڑی بات ہے ، خبروں کی کثرت اور معاصرین کی قبولیت سے اگر اسے ’ام الاخبار‘کہیے تو بجا ہے کہ اکثر اخباروں کا ایک بڑاحصہ اس کی خبروں سے بھرا دیکھا جاتا ہے‘۔
خلاصہ یہ کہ منشی نول کشور نے صحافت وطباعت کے ذریعہ جو گراں قدر خدمات انجام دیے اور مشرقی تہذیب کے فروغ کی جس درجہ فکر کی سچی بات یہ ہے کہ تاریخ اسے فراموش کرکے ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتی۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن دیدہ ور پیدا
حواشی:
(1)نول کشور اور ان کا عہد ، مرتبین : وہاج الدین علوی ،عبید الرحمن ہاشی ، صفحہ 24۔
(2)سوانح منشی نول کشور ، امیر حسن نورانی ، صفحہ-139-143 136
(3)نیادور لکھنو ، منشی نول کشور نمبر ،1980، صفحہ 26۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

