افسانوی مجموعہ :تشبیہ میں تقلیب کا بیانیہ / نورین علی حق – محمد شاہ رخ عبیر
تشبیہ میں تقلیب کا بیانیہ
گزشتہ برسوں میں انسان پر جس طرح سے سخت عذاب و علائم نازل ہوئے ہیں۔ اُس نے انسان کی اندرونی ذات پر ضرب لگائی ہے، جس سے انسان اس قدر انتشار کا شکار ہوگیا ہے کہ اس کو کسی طور وہ سکون میسر نہیں ہوتا، جس میں وہ ٹھہر کر سکھ کا سانس لے سکے۔ انسان اپنے وجود سے اُکتا رہا ہے۔اس کی روح میں جھنجلاہٹ پیدا ہو رہی ہے، وہ جسم کے کھوکھلے پیکر سے چھٹکارا پاکر آزاد ہو جانا چاہتی ہے۔ اسی کرب کو فلسفے کے زمرے میں وجودیت کا نام دیا گیا ہے۔جب ہم اردو افسانوں میں اس جھنجھلاہٹ کی بات کرتے ہیں تو یہ نورین علی حق کے افسانوی مجموعے ”تشبیہ میں تقلیب کا بیانیہ” کی صورت میں نمودار ہوتی ہے۔
نورین علی حق کو میں پچھلے کئی برسوں سے جانتا ہوں۔ اس شخص کے اندر میں نے وہ روشنی جیتے جاگتے دیکھی ہے، جو ایک مجنوں کے سر پر ایسے سوار ہوتی ہے، جو کسی بھی صورت میں اپنے محبوب کو پالیناچاہتا ہے۔ میں نے ان کا پورا افسانوی سفر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔
افسانوں پر بات کرنے سے پہلے افسانوی مجموعے” تشبیہ میں تقلیب کا بیانیہ” کا عنوان ہی اس قدر پُر پیچ ہے کہ قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ جیسا کہ سب کو علم ہے۔ اگر ہم کہیں ”محبوب کے ہونٹ گلاب کی پنکھڑی کی طرح ہیں. ” تو یہ تشبیہ کی مثال کہلائے گی۔ ٹھیک اسی طرح تقلیب کے لفظی معنی اُلٹ دینے کے ہیں۔ اگر ہم اسی مثال کو یوں کرلیں ” گلاب کی پنکھڑی محبوب کے ہونٹوں کی طرح ہے” تو یہ تشبیہ مقلوب کہلائے گی۔
نورین علی حق کے افسانوں میں انسان کودنیا کی طرح ہونے کو تشبیہ کہا گیا ہے اور پھر اس کی تقلیب ایسے کی گئی ہے کہ دنیا انسان کی طرح ہے۔ دنیا کا وجود انسان کے لئے ہے۔ دنیا کے حالات جو بھی ہیں وہ سب انسانوں کے سبب ہی ہیں۔
مجموعے کے عنوان کے بعد اس کتاب کا انتساب بھی بیحددلچسپ ہے جسے انہوں نے ڈچ پینٹر آرٹسٹ’ ون سینٹ وین گوف’ کی پینٹنگ "wheatfield with crows” پر دکھائے گئے ان کووّں کے نام کیا ہے جو نحوست کا استعارہ ہیں۔
اس مجموعے میں کل تیرہ افسانے ہیں۔ جس میں پہلا افسانہ ”قسطوں میں مرنے والے کا نوحہ ” اپنی نوعیت کا منفرد افسانہ ہے۔اس میں ایک بوڑھا شخص کینسر کے مرض میں مبتلا موت کی آغوش میں جانے کے لئے بیتاب ہے۔ اس کو اپنے آس پاس ہر وہ شے جو اسے موت کے اور قریب لے جاسکتی ہے بہت پرکشش اور پر اسرار معلوم ہوتی ہے۔ موجودہ دور میں سوشل میڈیا کا اپنا ایک کریز ہے۔ جس میں لوگ شاٹ ویڈیو کو دیکھ کر دل بہلاتے ہیں۔ نورین علی حق نے انہیں شاٹس کو اپنے افسانے میں استعمال کرتے ہوئے، اس بوڑھے شخص کی روداد اور حالات بیان کرنے کے لئے کہیں شعور کی رو کے ذریعے ماضی کا سفر کروایا ہے، جس میں پل پل کی اذیت کو قسطوں میں مرنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کہیں سماجی حقیقت نگاری کے بیانیے سے پوسٹ ٹرتھ کی تکنیک در آئی ہے۔ کہیں جادوئی حقیقت نگاری کے ذریعے وین گوف نمودار ہوجاتا ہے۔
نورین علی حق کے افسانے آسان اور عام فہم نہیں ہیں بلکہ پیچ در پیچ گتھے ہوئے افسانے ہیں۔ گویا ایک رقبے میں خزانے کے صندوق کی کچھ چابیاں چھپی ہیں۔ اگر ایک چابی ہاتھ لگ جائے تو باقی خود نمودار ہوجائیں۔
نورین علی حق کے افسانے سپاٹ بیانیے کے تحت تخلیق نہیں کیے گئے بلکہ ان کا اسلوب تشبیہ اور استعاروں کے استعمال سے اس قدر پُر تاثیر اور پیچ دار ہوتا ہے کہ ان میں ایسے اقتباس در آتے ہیں، جو فکری طور پر بھی بامعنی معلوم ہوتے ہیں مثلاََ:
”بائس کوپ کی ریل وہ آہستہ آہستہ چلاتا جارہا ہے، میں کوشش کر رہا ہوں کہ اس کی چلائی ہوئی ریل نہ دیکھوں۔ انسان دنیا میں اکثر وہی کرتا رہتا ہے، جو وہ بالکل نہیں کرنا چاہتا۔ میں ریل بالکل نہیں دیکھنا چاہتا مگر سراپا احتجاج ہونے کے باوجود دیکھ رہا ہوں۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ ریل میں صرف میرے سگریٹ پینے کے شاٹس موجود ہیں۔“(قسطوں میں مرنے والے کا نوحہ)
”فضا میں روحانیت کے ساتھ تپش کا احساس بھی ہو رہا ہے۔ بہت غور کرنے پر بس ‘لا’ کی صدا سمجھ میں آ رہی ہے۔’لا’ کی صوتی تفہیم کے بعد منظر نامہ بدلتا جارہا ہے۔ لیکن ‘لا’ کے مسلسل اقرار سے شاید دنیا کے انکار کا امکان روشن ہو رہا ہے۔”(افسانہ: تشبیہ میں تقلیب کا بیانیہ)
اس مجموعے میں شامل آخری افسانہ” تشبیہ میں تقلیب کابیانیہ” ایک علامتی افسانہ ہے۔ اس افسانے میں ” وہ” کا کردار انسان ہے اور ہرن کو دنیا کا استعارہ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ جو انسان کا دھیان وقت وقت پر اپنی طرف کھینچنے میں کامیاب ہوتارہتا ہے۔ کبھی انسان دنیا کو اپنے جیسا پاتا ہے۔ کبھی وہ خود کو دنیا جیسا سمجھتا ہے۔ مور کیونکہ بندگی کی ایک نشانی مانا جاتا ہے کہ وہ بارش میں روتا ہے۔ وہ انسان کی ضمیر کی صورت میں نمودار ہوتا ہے۔ جو اس کے ذہن پر ” لا ” کی تفہیم کو وا کرتا ہے۔ اس کے باوجود بھی انسان فریب کھاتا ہے تو اسے بابا فرید شکر گنج صوفی بزرگ نظر آتے ہیں، جو عشقِ خدا کو واضح کردیتے ہیں۔ افسانہ بلاغت کے نظام میں اس قدر رچا بسا ہے ایسا لگتا ہے ایک طلسم ہے گویا جو کسی طور شکست تسلیم نہیں کرنا چاہتا۔
نورین علی حق کے افسانوں میں جگہ جگہ عربی، فارسی کے مصرعے، فقرے اور پنجابی کے مصرعے اس طرح استعمال ہوئے ہیں جیسے ان افسانوں کا ہی حصہ ہیں۔ تنقیدی اصطلاح میں اسے بین المتونیت کہا جاتا ہے۔ جس سے اسلوب میں غضب کی معنویت اور انفرادیت پیدا ہوگئی ہے۔مثلاََ
”میرا ناتواں، کَعَصفِ مَّاکُول اور گھن کھایا ہوا وجود ان کے درمیان ایسے پڑا ہے، جیسے ”قطب یدور حولی رحی الحوادث۔”(قسطوں میں مرنے والے کا نوحہ)
”وہ بار بار پاگلوں کی طرح حرکتیں کر رہا ہے اور زبان سے بار بار العشق نار تحرق ما سوی المعشوق کا نعرہئ مستانہ لگا رہا ہے۔“(تشبیہ میں تقلیب کا بیانیہ)
اس کے علاوہ دیگر افسانوں کی صورت حال تقریبا ایسی ہی ہے کہ ان میں واحد متکلم الگ الگ صورتوں میں نمودار ہوتا دکھائی دیتا ہے، جو ذہن کو جھنجھوڑتا ہے۔ کبھی عشق کی تلقین کرتا ہے، تو کبھی ‘لا’ کا نعرہ بلند کرتا ہے،کبھی ”بأی ذنب قتلت“ میں کسی شے میں ڈھل کر وضاحت کرتا ہے۔ سرمد اور منصور کی طرح اناالحق کا نعرہ بلند کرتا ہے اور سپیدیئ سحر میں آکر کہتا ہے۔
”رباب، ام لیلی، سکینہ باہر نکلو، اپنے وجود کی بقا ضروری ہے”
اسی طرح افسانہ”پنجرے میں قید نیند“داخلی خود کلامی پر مبنی افسانہ ہے۔ میں نورین علی حق کو ان کے مجموعے کے لئے مبارکباد دیتا ہوں۔ ان کے مجموعے کو پڑھ کر ذہن متحرک ہوتا ہے اور یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کوئی انسان اتنا حساس کیسے ہوسکتا ہے۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

