نئی دہلی ۲۴ جون
سی سی آر یو ایم اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے درمیان علمی اور تحقیقی منصوبوں کی تکمیل کے لئے ایک کثیر الجہات معاہدہ کی ضرورت ہے تاکہ یہ دونوں ادارے اپنی مخصوص صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مختلف میدانوں میں ایک دوسرے کا علمی تعاون کر سکیں. ان خیالات کا اظہار جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وائس چانسلر پروفیسر نجمہ نے اصلاحی ہیلتھ کیئر فاؤنڈیشن نئی دہلی کے زیر اہتمام سنٹرل کونسل فارریسرچ ان یونانی میڈیسن کے نئے ڈائرکٹر جنرل ڈاکٹر نور ظہیراحمد کے اعزاز میں استقبالیہ پروگرام میں مہمان اعزازی کے طور پر یہاں نہرو گیسٹ ہاؤس جامعہ ملیہ اسلامیہ میں کیا. اس تقریب کی صدارت ڈاکٹر محمد خالد صدیقی سابق ڈائریکٹر جنرل، سی سی آر یو ایم نے فرمائ. ڈاکٹر شاہ نواز فیاض نے قرآن پاک کی تلاوت کی. استقبالیہ کلمات حکیم نازش احتشام اعظمی نے ادا کیے.حکیم محسن دہلوی سرپرست سوسائٹی نے کلمات تشکرپیش کئے. اس موقع پر حکیم رضی الاسلام ندوی کی کتاب التنویر کااجرا عمل میں آیا.
حکیم نازش احتشام اعظمی نے استقبالیہ کلمات میں ڈاکٹر نور ظہیر کامکمل تعارف اور سوسائٹی کے سابقہ کاموں کا ذکر کیا. محترمہ وائس چانسلرصاحبہ سے اجمل خان طبیہ کالج اور حکیم اجمل خاں چیئر قائم کرنےکا مطالبہ کیا.
حکیم رضی الاسلام ندوی نے اصلاحی ہیلتھ کیئر فاؤنڈیشن کی طرف سے ڈائریکٹر جنرل سی سی آر یو ایم کے استقبالیہ اور تہنیتی تقریب کے انعقاد پر مسرت کا اظہار کیا – انھوں نے توجہ دلائی کہ کونسل کی طرف سے قدیم یونانی مراجع کے اردو تراجم کا کام جس تیزی سے ہورہا تھا اس میں کچھ کمی آئی ہے اور امید ظاہر کی کہ نئے ڈائریکٹر جنرل کی سربراہی میں اس میں پھر تیزی آئے گی – ڈاکٹر صاحب نے وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ محترمہ نجمہ اختر کو مخاطب کرکے کہا کہ حکیم اجمل کا جامعہ سے گہرا رشتہ تھا، وہ اس کے بانیوں میں سے تھے،کیا ہی اچھا ہو کہ اسلامک اسٹڈیز، عربی یا کسی اور شعبے میں ان کے نام سے ایک چیئر کا آغاز کیا جائے – انھوں نے اصلاحی فاؤنڈیشن کی ہمہ جہت سرگرمیوں کی بھی ستائش کی –
ڈاکٹر منیرعظمت نے ڈائرکٹر جنرل کو مبارکباد دی اور کونسل کویونانی طب کے تئیں مزید کام کرنے کی بات کی اورحکیم نازش احتشام کی کوششوں کو سراہا.ڈاکٹرشمشاد علی نےڈائرکٹر جنرل وکونسل اور حکیم عبدالحمیدصاحب کے رشتوں پے روشنی ڈالی. ڈاکٹر عظمی بانو (جامعہ ہمدرد) نے اصلاحی ہیلتھ کیئرفاؤنڈیشن کو اس استقبالیہ پروگرام کومنعقدکرنےکے لئے مبارک دی. انھوں نے کہا کہ طب یونانی عوام تک پہنچ سکے اس کی ترقی میں جوبھی کام کرے اس کی حوصلہ افزائی کی جائے. ڈاکٹر محمد فضیل (انچارج لٹریری یونٹ جامعہ ملیہ ) نے کہا کہ یہ حسن اتفاق ہے کہ کونسل کے سابقہ ڈائرکٹر جنرل اور موجودہ ڈائرکٹر جنرل دونوں ہی کونسل کےہیں- انھوں نے کہا کہ ڈائرکٹر جنرل سے یہ امید رکھنی چاہئے کہ جوکونسل 2010میں تھی اس کی وہی باغ وبہار دوبارہ شروع ہوجائےگی.
ڈاکٹر محمد ذکی صدیقی (انچارج صفدر جنگ یونٹ) نے ڈاکٹر نورظہیر احمد کویونانی برادری کی جانب سے اور بالخصوص اصلاحی ہیلتھ کیئر فاونڈیشن کی جانب سے دل کی کہرائیوں سے خوش آمدید کہا. انھوں نے کہا کہ یقین ہے کہ ڈاکٹر نور ظہیر عصر حاضر کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے یونانی کونسل اور طب یونانی کی فلاح وبہبود کے لئے بہترین منصوبہ بندی کریں گے ڈاکٹر ادریس احمد (سابق پرنسپل باغ)
نے طب یونانی اور کونسل کے کاموں کاذکر کیااور کونسل کے کاموں کوسراہا.صاحب اعزاز ڈاکٹر نور ظہیر ڈائریکٹر جنرل نے وائس چانسلر کی توجہ ان امور کی طرف کرائی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ساتھ umbrella MoU کا وعدہ تاکہ مستقبل میں متعدد معاہدے کئے جا سکیں. ملک کے مشہور اور باوقار اداروں کے ساتھ معاہدہے تاکہ Collaborative projects پر زیادہ سے زیادہ کام ہو سکے. جامعہ میں طبیہ کالج کے آغاز کے تعلق سے بھرپور تعاون نیز کاؤنسل میں تراجم، تدوین اور تحقیقی کاموں میں ممکنہ حد تک بہتری لانے کی کوشش ہوگی. انھوں نے یہ بھی کہا کہ
کاؤنسل کے انتظامی امور میں Discipline اور regularity کے لئےحتی الامکان کوشش کی جائے گی.
صدر مجلس ڈاکٹر محمد خالد صدیقی( سابق ڈائریکٹر جنرل، سی سی آر یو ایم) نےاپنے صدارتی خطاب میں طب اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہمی رشتوں کی یادیں تازہ کرتے ہوئے جامعہ کی بقا اور اس کی تعمیر وترقی کے لئے حکیم اجمل خاں کی ناقابل فراموش خدمات کا خصوصی تذکرہ کیا ۔ اس کے علاوہ سابق صدر جمھوریہ ڈاکٹر ذاکر حسین کے عہد میں جامعہ کے مالی بحران کے وقت میں بانی ہمدرد حکیم عبد الحمید مرحوم کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے کس طرح ایک خطیر رقم کے تعاون سے جامعہ کو اس بحران سے نکالنے میں مدد کی۔ صدر محترم نے اس بات پر خاص طور سے زور دیا کہ یہ ادارے ہمارے آباؤ واجداد کی انتھک جدو جہد اور ان کی بے مثال قربانیوں کا ثمرہ ہیں اور اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم باہم مل کر ان اداروں کو نئی بلندیوں پر لے کر جائیں۔ یہ کام کسی فرد واحد کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کے لئے ہم سب کو مل کر جدو جہد کرنی ہوگی تبھی آئندہ نسلیں ہمارے ان اداروں پر اور خود ہم پر فخر کر سکیں گی۔
اس موقع پر حکیم شاکر جمیل، حکیم مستحن جعفری ،ڈاکٹرماہ عالم ،ڈاکٹر نیلم قدوسی، ڈاکٹر معراج الحق، ڈاکٹربلال احمد، ڈاکٹر احمد سعید، ڈاکٹر اسامہ اکرم، ڈاکٹر اجمل اخلاق ،ڈاکٹر مستحن ڈاکٹر ظفر،منیرعظمت ،محمد جلیس محمد طاہر ، وغیرہ موجود تھے.
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

