پروفیسر ابوبکر عباد
شعبۂ اردو،
دہلی یونیورسٹی، دہلی۔
تلخیص
اس مضمون میں کوشش کی گئی ہے کہ جگر مرادآبادی کی زندگی کے مخصوص حالات ،اہم معاملات اور ان کی شخصیت کے اُن گوشوں کو زیر بحث لایاجائے ،جن سے ان کی نفسیات،ان کے مزاج ،ان کی پسند و ناپسنداور ان کے غالب رجحان کو سمجھنے میں مدد مل سکے ۔کہ کسی بھی فنکار کے فکر و تصورات کی تشکیل ،اس کے فنی اظہارکے نہج کے تعین اورفن پارے کی معیاربندی میں یہ عناصر نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔چونکہ جگر مرادآبادی کے یہاں حسن و عشق اور جذبات و احساسات کی فراوانی ہے اس لیے ہمارے ناقدین انھیں رومانی شاعر کہتے آئے ہیں۔اور ایسا کہنا کوئی غلط بھی نہیں ہے ، لیکن یہ بات ذہن نشیں رہنی چاہیے کہ ان کی رومانیت اختر شیرانی اور جوشؔ ملیح آبادی کی رومانیت سے بالکل مختلف ہے۔ یوں کہ اخترؔ شیرانی اور جوشؔ ملیح آبادی کی رومانیت کا فی حد تک تصوراتی ہے، یا یوں کہیے کہ انھوں نے رومان کو حقیقت بناکر پیش کرنے کی کوشش کی ہے ، جب کہ جگر ؔ نے حقیقت کوہی اپنی زبان، اپنے اسلوب اوراپنی فنکاری سے رومانی رنگ و آہنگ عطا کیا ہے ۔ جگر کے یہاں حسن و عشق ، عاشق و معشوق اور جذبات و احساسات کا اظہار بھی اوروں سے الگ ہے، اور جگ بیتی اور سنی سنائی معلومات کے بجائے ان کی آپ بیتی،ان کے ذاتی تجربات اور حقیقت کی زمین سے نمو کرتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ جگرکی زندگی جیسی رنگین، جتنی دلچسپ،پُر کیف اور پُر سوز تھی ویسی ہی ان کی شاعری ہے۔جگر ؔ کی شاعری میں تصوف کے موضوعات بھی دریافت کیے گئے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے یہاں تصوف کے مقابلے سیاست کو کہیں زیادہ دخل ہے ، گوگہ ہمارے متعدد ناقدین نے جگر کی شاعری میں سیاست کے موضوع کا انکار کیا ہے ، یا اسے قابل اعتنا نہیں جانا۔ مگر جگرؔ کے کلیات کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنے اخیر دور میںسیاست کو دانستہ اپنی شاعری کا موضوع بنایا، جس سے اندازہ ہوتاہے کہ وہ سیاست اور سیاسی موضوعات سے متعلق خاصی معلومات اور بصیرت رکھتے تھے۔حسن وعشق اور سیاست کے ساتھ جگر ؔکی شاعری میںخمریات کے موضوع کونمایاں مقام حاصل ہے ۔شاید یہ کہنا غلط نہ ہو کہ حسن ،عشق، شاعری اور شراب سے ہی جگر کی شخصیت تشکیل پاتی ہے اور ترفع حاصل کرتی ہے۔ بسااوقات تو ان کے یہاں محبوب اور شراب کے فرق کا حد فاصل مٹتا ہواسا محسوس ہوتا ہے ۔شاید اسی لیے ان کے یہاں شراب کابیان ایک نوع کی سنجیدگی، شائستگی، احترام اور شدید تجرباتی محسوسات سے معمور ہے ۔
کلیدی الفاظ:
حنفی المسلک۔معاشقے۔اصغر گونڈوی۔عیسائی خاتون۔تحصیلدار۔طوائف ۔مشن اسکول۔عاقل چشمہ فروش ۔داغ دہلوی۔حسن و عشق۔خمریات، شادیاں۔سیاسی اشعار۔کلاسیکی معیار۔متصوفانہ عقائد۔سہل ممتنع۔تغزل۔تہذیب و شائستگی۔فکری اجتہاد۔سیاسی اشعار ۔ وطن پرستی۔انتقال کی خبریں٭
جگر مرادآبادی کی شاعری جتنی دل نشیں، جدید اور جداگانہ ہے ،ویسی ہی ان کی زندگی بھی دلچسپ، دلسوز ، دلکش اور تجسس آمیزمگر کھلی ہوئی کتاب ہے۔کم لوگوں کو یاد رہ گیا ہے کہ جگرمحض آزاد منش، لاپر وا اورلاابالی ہی نہیں بلکہ خاصے کنفیوژڈ تھے۔ان کی تاریخ پیدائش 1890تھی وہ بعض مواقع پر بتاتے بھی یہی تھے مگر اپنی بیاض میں اسے 1894لکھاہے، یہ مرادآباد میں پیدا ہوئے تھے مگرجائے پیدائش بنارس بتائی،ان کے داداکی ایک شاخ نے دہلی اور مراد آباد کے درمیان اعظم پور باشہ میں سکونت اختیار کر لی تھی جگر نے اس مقام کو بہار میں بتایاہے، اپنے والد کے بارے میں لکھا کہ وہ تفضیلی تھے جب کہ وہ پابند صوم و صلوٰۃ کٹر حنفی المسلک اور قادریہ خاندان سے بیعت تھے۔ اکثر اپنی چیزیں کہیں رکھ کر اور لوگوں کو پیسے دے کر بھول جاتے،قرضدار قرض لوٹاتے تو یہ کہہ کر صاف انکار کردیتے کہ ’جب ہم نے دیے ہی نہیں تو واپس کیسے لے لوں‘۔لیکن یہ سب انھوں نے مرزا غالبؔ اور جوشؔ ملیح آبادی کی طرح کسی کو مرعوب کرنے اور اظہارِانانیت کے پیش نظر نہیں کیا،انھوں نے کھلے دل سے اعتراف کیا ہے کہ :
’’مجھے دن، تاریخ، سنہ، پتے اور مناصب یاد نہیں رہتے،ان باتوں سے مجھے کوئی مناسبت نہیں۔‘‘(جگر مرادآبادی: حیات اور شاعری، ڈاکٹر محمد اسلام، لکھنؤ ،1966،ص، 55)
جگرؔ عقل سے چڑتے اور وجدان کو دوست رکھتے تھے ۔انھیں کتابوں سے ہمیشہ بیر رہا مگر جاسوسی ناول پڑھنے کا دیوانگی کی حد تک شوق تھا۔تاش کے رسیا تھے ، یوں بھی ہوتا کہ تین چار دنوں تک مسلسل تاش کھیلتے رہ جاتے،رمی سے زیادہ دلچسپی تھی مگربلیک کوئین اور برج بھی پسندکرتے تھے۔کبھی کبھار شطرنج اور کیرم بھی کھیلا کرتے تھے۔چائے کے شوقین تھے، زیادہ پتی کی تیز چائے پیتے تھے۔سگریٹ کے عادی تھے اور پان پر فریفتہ ،پان اور تمباکو کی ڈبیہ سفر میں بھی ساتھ رکھتے تھے۔ایک طویل عرصے تک انھیں شراب کی لت تھی اور اس درجہ کہ اچھی بری میں کوئی تمیز نہیں کرتے ، شراب خالص پیتے اور کثرت سے پیتے تھے ،اس کے ساتھ پانی یا سوڈاملانے کو شرک بتاتے ۔ انھوں نے 1941 یا 42 میں ایک ڈاکیومنٹری فلم ’آسمانی مشاعرہ‘ میں بھی کام کیا تھا۔ اس فلم میں
’’ زندہ مشاہیر نے گزشتہ مشاہیر کی نمائندگی کی تھی۔ چنانچہ مولوی عبدالحق صاحب نے حالیؔکاکردار اداکیاتھا،خواجہ حسن نظامی نے نظیرؔ اکبرآبادی کا،خان بہادر رضاعلی وحشتؔ نے مرزا غالبؔ اور جگر مرادآبادی نے داغؔ دہلوی کا۔بدقسمتی سے اس فلم کا نگیٹیو جل گیا ورنہ ایک اہم یادگار چیز ہوتی۔ (بحوالہ ،جگر مرادآبادی: حیات اور شاعری، ص، 108)
جوشؔ ملیح آبادی نے’یادوں کی برات ‘میں اپنے ڈیڑھ درجن سے زیادہ معاشقوں کا ذکر کیا ہے جو در حقیقت انھوں نے کبھی کیے ہی نہ تھے،جگرؔ مراد آبادی نے بشمول اپنی بیویوں کے واقعتاً دس محبوباؤں سے دل لگائے مگر سوائے اپنی آخری بیوی نسیم کے، ہر جگہ انھیں ناکامیوں کا منھ دیکھنا پڑا۔ان کے مطابق انھیںپہلا عشق سات آٹھ سال کی عمر میں اپنے تایا کے کرایہ دار کی بیوی سے ہوا تھا جنھیں وہ پہروں دیکھا کرتے تھے۔ دوسرا بارہ تیرہ سال کی عمر میںتب ،جب وہ سامنے سے سر پر گھڑا اور ہاتھ میں بالٹی لے کر آتی ہوئی دس گیارہ برس کی ایک لڑکی کو دیکھ کر اس پر فدا ہوگئے تھے ، اس کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’اس کے بعد مجھ پر ایک کیفیت طاری ہوگئی جس کا اظہارمیں الفاظ میں نہیں کرسکتا۔‘‘ سن بلوغ کو پہنچے تو بڑی عمر کی اپنی ایک عزیزہ سے شدید محبت کر بیٹھے۔ یہ تمام عشق یک طرفہ تھے ، بالعموم سامنے والے کو احساس تک نہیں ہوا ، یا ہوا تو اسے بچے کا پیار سمجھا گیا ۔ چوتھا عشق دوران ملازمت ضلع بجنور میں تحصیلدار صاحب کی بیوی سے ہوا جس کا ذکر قدرے تفصیل سے آگے آئے گا، اس کے بعد ان کی زندگی میں ایک اہم موڑ آیا۔ پانچواں عشق انھوںنے آگرہ میں وحیدن بیگم سے کیا اور شادی بھی انھی سے کی مگریہ شادی زیادہ دنوں تک نہ چل سکی اور علاحدگی ہوگئی ،اس کاذکر بھی آگے آئے گا۔تقریباً آٹھ دس سال بعداصغر ؔ گونڈوی نے ان کی دوسری شادی اپنی سالی نسیم سے کرو ا دی لیکن جگر کی لاپروائی اور لاابالی کی وجہ سے دونوں کی طلاق ہوگئی ۔ جن دنوں جگرؔ مین پوری میں جگت موہن لال رواں کی دیکھ بھال میں تھے انھی دنوں وہاں کی ایک ڈیرے دار طوائف سے ان ملاقاتیں رہیں لیکن قریبی تعلقات استوار نہ ہوسکے۔رائے بریلی کی سرائے میں قیام کے دوران ایک بڑی ہی حسین و جمیل بھٹیارن سے ان کا معاشقہ چلا،اور اناؤ میں نرم و نازک نقشے اور چھریرے بدن والی دو بہنوں سندر مُندر سے بھی ۔ یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ ان معاشقوں کو جگرؔ کی شخصیت اور ان کے رویے کے بجائے ان کے احساس جمال اور حسن پسند مزاج سے قائم کرکے دیکھنا چاہیے۔سوائے ایک کے ان تمام معاشقوں پر نہ توانھیں کبھی شرمندگی و لجاجت ہوئی ،نہ انھوں نے کبھی فخر کیا۔
آئیے اب ان کی زندگی کی مزید تفصیلات بھی جاننے کی کوشش کریں تاکہ ان کی شخصی جہات ، نفسیات اور ان سب کے اثرات کے نتیجے میں مرتب ہونے والی ان کی شاعری کے امتیازات کی تفہیم زیادہ آسان ہوسکے۔
جگر کا پورا نام شیخ محمدعلی سکندر تھااور جگرؔ تخلص۔6؍اپریل 1890کو مرادآباد کے محلہ لال باغ میں پیدا ہوئے ۔ ان کا خاندان حافظوں، مولویوں اور شاعروں کا تھامورث اعلیٰ مولوی محمد سمیع دلی کے باشندے اور بادشاہ فرخ سیر کے استاذ تھے جو بادشاہ کو حدیث کی تعلیم دینے پر مقرر تھے۔بعد میں انھوں نے ترک وطن کرکے مرادآباد میں مستقل سکونت اختیار کرلی اوریہاں بھی حدیث کے درس کا سلسلہ جاری رکھا ۔ جگرؔ کے پردادا حافظ محمد نور، داداحافظ مولوی امجد علی اور والد مولوی محمد نظر سبھی شاعر تھے۔ان کے علاوہ چچا علی ظفر ، تایامولوی علی اکبر، پھوپھی زاد بھائی اور سگے چھوٹے بھائی علی مظفر بھی شاعر تھے اور دلؔ تخلص کرتے تھے۔ جگر کی والدہ ان کے والد کی دوسری بیوی تھیں۔یہ ایک عیسائی خاتون تھیں جو مشرف بہ اسلام ہوکرجگرؔ کے والد کی پہلی بیوی کے انتقال کے کئی برس بعد ان کے نکاح میں آئیں تھیں۔چونکہ یہ مسلم معزز خاندان سے نہ تھیں اس لیے جگرؔکے خاندان کی روایت پرست خواتین انھیں پسند نہیں کرتی تھیں اور ان سے کسی طرح کا ربط ضبط بھی نہیں رکھتی تھیں ۔ جگرؔ اور ان کے چھوٹے بھائی ابھی کم سن ہی تھے کہ ان کے والد کاانتقال ہوگیا، ایسے میں والدہ سے جو کچھ بن پڑا بچوں کے لیے کرتی رہیں۔ جب جگر کی والدہ کا انتقال ہوا تو رشتے داروں نے انھیں خاندانی قبرستان میں محض اس لیے دفن نہیں ہونے دیاکہ ان کانسلی تعلق کسی اور خاندان سے تھا۔
جگرؔ نے سات سال کی عمر تک عربی فارسی کی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی تھی اور نوسال کی عمر تک مولوی معین الدین صاحب سے۔ یہ زمانہ جگرؔ کے والد کاتنگیوں بھرا تھا اس لیے جگر اپنے چچا علی ظفر جو باندہ میں محکمۂ پولس میں انسپکٹر تھے ،کے ساتھ رہا کرتے تھے ۔علی ظفرنے انھیں وہیں کے انگریزی اسکول میں داخل کرادیاتھااور ان کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کی ذمہ داری قبول کی ۔ جب ان کے چچا کاتبادلہ باندہ سے لکھنو ہوگیا توانھوں نے جگر کا داخلہ لکھنو کے مشن اسکول میں کروادیا جہاں سے انھوں نے نویں کلاس تک کی انگریزی تعلیم حاصل کی۔ چونکہ انگریزی تعلیم سے جگرؔ کو دلی مناسبت نہ تھی اس لیے وہ اور ان کے دو اور قریبی دوست نویں کلاس میں دوسری بار بھی فیل ہوگئے ۔ اسی سال ان کے والد کا انتقال ہوگیاجس کے بعد انھیں اپنا تعلیمی سلسلہ جاری نہ رکھ سکنے کی معقول وجہ ہاتھ آگئی ۔ تب جگر کی عمر محض سولہ برس تھی۔
معاشی کفالت کے لیے جگر کے چچا نے انھیں نجیب آباد میونسپلٹی میں محافظِ دفتر کی ملازمت دلوادی۔وہیں پر ان کے چچا کے ایک دوست تحصیلدار صاحب بھی رہتے تھے جنھوں نے ایک طوائف سے شادی کی ہوئی تھی۔جگرؔ کا ان کے یہاں آناجاتھا،رفتہ رفتہ انھیں بھی تحصیلدار صاحب کی بیوی سے محبت ہوگئی،چنانچہ ایک دن انھوں نے ایک خط میں اپنی محبت کا اظہار کرکے خط تحصیلدار صاحب کی بیوی کے حوالے کردیا، تحصیلدار صاحب کی بیوی نے خط تحصیلدار صاحب کو دے دیااور تحصیلدار صاحب نے وہ خط ڈاک سے جگر کے چچا علی ظفر صاحب کے پاس بھیج دیا۔چچا نے جواب میں لکھا کہ وہ جلد ہی ان کے پاس پہنچ رہے ہیں۔ یہ خبر جگرؔ کو معلوم ہوئی تو خود کشی کی نیت سے بہت ساری بھنگ کھالی،مشکلوں سے انھیں ہوش میں لایاگیا، حالت سنبھلنے کے بعد وہ وہاں سے بھاگ کر آگرہ چلے گئے ، وہیں سکونت اختیار کرلی اور مارے شرم کے تمام عمر چچا کاسامنا نہیں کیا۔ آگرے کی مشہور بی۔این بیجل نام کی چشمہ کمپنی میں ایجنٹ کی حیثیت سے انھوں نے ملازمت حاصل کی اور کچھ عرصے بعد اپنی پسند کی ایک خاتون وحیدن بیگم سے شادی کرلی۔سال ڈیڑھ سال بعد گھر والوں کو ان کے آگرہ میں قیام کا پتہ چلاتو ان کی والدہ اور ان کے بھائی علی مظفر دونوں میاں بیوی کو اپنے ساتھ مرادآ باد لے آئے۔
کچھ عرصے بعد والدہ اورچچا بھی جنت سدھار گئے ۔اب ہمدرد و غمخوار بس بیوی وحیدن بیگم اور چھوٹے بھائی علی مظفر رہ گئے تھے۔ جگر ؔنے مرادآباد میں ہی وحیدن بیگم کے رشتے کے بھائی محمد عاقل چشمہ فروش کے یہاں ایجنٹ کی حیثیت سے ملازمت کر لی جس کی وجہ سے انھیں اکثر گھر سے باہر رہنا پڑتا تھا۔ عاقل کا جگر صاحب کے گھر میں آنا جانا تھا۔ رفتہ رفتہ وحیدن بیگم سے اس کی بے تکلفی بڑھی اور مشکوک حد تک جاپہنچی۔ ایک بار علی مظفر نے عاقل کوبھابی کے ساتھ ناشائستہ مذاق کرتے دیکھ کراسے ڈانٹا کہ بھائی کی غیر موجودگی میں گھر نہ آیا کریں،دوسری بار جگر نے وحیدن بیگم کو مشکوک حالت میں دیکھا تو ناراض ہوکر گھر سے جانے کہاں چلے گئے ۔ وحیدن بیگم نے جگر ؔکاچھ مہینے تک انتظار کرنے کے بعد عاقل سے شادی کرلی۔اس جانکاہ حادثے کاجگر کی زندگی پر شدید اثر ہواوروہ گھومتے پھرتے گونڈہ پہنچے جہاں اصغرؔ گونڈوی سے ان کی ملاقات ہوئی۔ انھوں نے 1919میں ہوئی اصغر ؔسے اپنی اس ملاقات کا واقعہ ناطق جے پوری سے اس طرح بیان کیا ہے:
’’شاید تمھیں معلوم نہ ہو کہ میں مختلف مذہبی عقائد سے گزرتا رہا ہوں۔ایک زمانہ میں ’دہریت‘ بھی مجھ پر حاوی رہی ہے، میں شیعت کی جانب بھی رجحان رکھتا تھا،ان دنوں میں لاہور میں چشمہ کی ایک فرم میں ملازم تھا، جس کے ڈائرکٹروں میں شیخ عبدالقادر بھی تھے۔یہ زمانہ میرا دکھ اور روحانی اذیتوں کا تھا۔آخر ایک روز میں حضرت اصغرؔ گونڈوی کے پاس ان سے ملنے کے لیے گیا جو ایک صاحب سے بحث کر رہے تھے۔میری دلچسپی نے دور ہی سے مجھے اس بحث کو سننے کے لیے روک لیا۔میں قریب کھڑا ہوا، اس طرح کہ وہ مجھے دیکھ نہ سکیں تمام بحث سنتا رہا۔ عجیب بات یہ تھی کہ حضرت اصغرؔ سمجھا رہے تھے اُسے اور میرے دل میں کانوں کے ذریعہ ہر ایک بات اتری جا رہی تھی ،ایسا بھی وقت آیا کہ جو شبہات میرے دل میں تھے ،میں نے سوچے اور تھوڑی دیر کے بعد ہی وہاں سے جواب ملا۔ وہ وقت مجھے یاد ہے جب میں تھوڑی دیر میں راسخ العقیدہ حنفی ہوگیا۔ حضرت اصغرؔ کے پاس سے وہ صاحب چلے گئے تو میں حاضر ہوااور ماجرا بیان کر کے رونے لگا۔جب کچھ میری بھڑاس نکلی تو میں نے چاہاکہ ان سے بیعت ہونے کی خواہش کروں میرے دل میں یہ خیال آنا تھا کہ انھوں نے باتوں باتوں میں مجھے اپنے پیر طریقت کی طرف متوجہ کیا اور فرمایاتم جو چاہتے ہو وہاں سے دستیاب ہوگا۔‘‘(ہمایوں، مارچ ،1951،ص، 259)
اصغرؔ نے جگرؔ کی روحانی اذیت اور دکھے ہوئے دل کو جانااور حتی الامکان انھیں مدد اور سکون بہم پہنچانے کے اسباب فراہم کیے۔ چنانچے 1920میں انھوں نے جگرؔ کا اپنی سالی نسیم سے نکاح کروایا اوراپنے پیر شاہ عبدالغنی سے انھیں بیعت کروائی۔یوں اصغرؔ و جگرؔ کی یہ ملاقات پہلے شناسائی،تب دوستی ،پھر عقیدت اور بالآخررشتہ داری میں تبدیل ہوگئی ۔ رشتہ داری تو ٹوٹتی بدلتی رہی لیکن باہمی عقیدت و احترام کے جذبات و تعلقات کے آبگینے کو کبھی بھی ٹھیس نہ پہنچی ۔ جگرؔ اکثر کہاکرتے تھے کہ ’میں جو کچھ بھی ہوںوہ اصغرؔ صاحب کی فیض صحبت کا اثر ہے۔انھوں نے اصغر ؔکوعقیدت کانذرانہ پیش کرنے کے لیے ایک بہت ہی خوبصورت نظم ’نرگس مستانہ‘ (خطاب بہ حضرت اصغر نوراللہ مرقدہ) لکھی۔شعلہ طور کا انتساب انھوں نے اصغر ؔگونڈوی اور حسن علی خاں کے نام کیا ہے جنھوں نے اس کی اشاعت کا اہتمام کیا تھا۔اصغرؔ کے نام اس طرح انتساب کیا ہے :
’’ میں اپنی ان ادبی کاوشوں اور جگر پاروں کو مولائی و آقائی حضرت مولانا اصغر حسین صاحب اصغر ؔگونڈوی قبلہ مرحوم و مغفور کے اسم گرامی پر جن کے فیضان توجہ اور برکات تربیت کا نتیجہ وہ سب کچھ ہے جو شعلۂ طور میں حاضرکیا جارہا ہے۔‘‘
جگر ؔبچپن سے ذہین تھے ،خاندان کاماحول ادبی تھا اس لیے نو دس برس کی عمر میں شعر کہنے لگے تھے ،لیکن تب تک کوئی مکمل غزل نہیں ہوپائی تھی۔پندرہ سولہ سال کی عمر میں دوچار غزلیں بھیج کرحضرت داغؔ دہلوی سے اصلاح لی مگر یہ سلسلہ قائم نہ رہ سکا۔لکھتے ہیں:
’’میں نے شروع میں استاد داغ ؔدہلوی سے رجوع کیا۔پھر استاد رسا ؔرام پوری ہی میرے استاد تھے۔ انھوں نے مجھے منشی امیراللہ تسلیمؔ کے پاس بھیجا ، مگر انھوں نے کوئی اصلاح نہیں دی۔بعد میں اصغرؔ صاحب کی صحبت سے فیضیاب ہوا۔‘‘ (بحوالہ مرآت جگر،عزیزاحمد عزیز،نئی دہلی،2001،ص،33)
لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان حضرات میں سے ان کاباضابطہ استاذ کوئی نہیں ہے، بسلسلۂ اصلاح ان بزرگوں سے جگرؔ کی راہ ورسم محض برائے نام تھی۔ دراصل انھوں نے شاگردی اختیار کی اپنے وجدان اور ذوق سلیم کی؛ جس بنا پر انھوںنے شاعری میں اپنی جدا گانہ راہ اختیار کی،اظہار کا جدت پسند طور اپنایا اور نئے لہجے کے شاعر کہلائے ۔
جگرؔ نے نہ تو خود کو زبان کی بندشوں،عروض کی پابندیوں اور محاورہ بندی کے کھیل میں الجھایا، نہ دہلی اور لکھنؤکی روایتی شاعری کی پیروی کی اور نہ کسی استاذ شاعر کی اتباع کی۔ وہ عمر بھر خوب سے خوب ترکی تلاش اور جدید سے جدیدتر کی فکر میں رہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے مصرعوںکی نوک پلک درست کرتے اور اشعار کوترمیم و تنسیخ اور حذف و اضافہ کے عمل سے گزارتے رہے، نتیجتاً ان کے اشعار محاوروں کی غلطی، الفاظ کی ثقالت ،بندش کی سستی،خیال کی یبوست اوراظہار کی بے کیفی جیسے عیوب سے پاک ہیں۔وہ خود کہتے ہیں:
’’ میں نے اول کلام کا کچھ زمانہ چھوڑ کر حسن کو قصائی ہندی یا ایرانی عاشق کی طرح عشق کو ذلیل و رسوا صورت میں ہرگز پیش نہیں کیا بلکہ حسن ہو یا عشق،ان کے حقیقی تاثرات و واردات کو تاامکان صحیح صحیح شاعرانہ انداز بیان کے ساتھ نمایاں کردیا ہے۔‘‘ (بحوالہ داغ جگر اور شعلۂ طور ایک تقابلی جائزہ،ڈاکٹر احمر رفاعی،جاوداں پبلیکشنز، کراچی، 2004 ص، 107 )
جگرؔ کاپہلا مجموعہ ’داغ جگر‘ کے عنوان سے 1922میں مطبع معارف اعظم گڑھ سے شائع ہوا۔اس کے کئی برسوں بعد ان کادوسرا مجموعہ ’شعلۂ طور‘ نامی پریس لکھنؤ سے 1934میں زیور طبع سے آراستہ ہواجس میں’داغ جگر‘ کی بیشتر غزلیں بھی شامل کرلی گئیں۔ان کاتیسرا اور آخری مجموعہ کلام ’آتش گل‘ 1954میں پاکستان کوآپریٹیو،ڈھاکہ (پہلے مشرقی پاکستان، اب بنگلہ دیش)سے چھپا، اورپھرکچھ اضافے اور جگرؔ کی نظر ثانی کے بعد 1958میں اس کا دوسرا ایڈیشن تنویر پریس لکھنؤ سے شائع ہواجسے ساہتیہ اکیڈمی دہلی نے1955،1956اور 1957کی بہترین کتاب ہونے کی بنا پر جگرؔ کو پانچ ہزار روپے کے انعام سے نوازا۔اس مجموعے کے بعد بھی جگر ؔنے غزلیں کہی تھیں جنھیں بعد میں ڈاکٹر محمد اسلام نے ’ یادگار جگر‘ کے نام سے طبع کروایا۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جگرؔ مرادآبادی اپنے عہد کے سب سے مقبول شاعرتھے ۔یہ مقبولیت انھیں اپنی متنوع شخصیت ، غزل کی سرمستی و سرشاری ،بندش کی دلآویزی ،رنگ تغزل ،نغمہ وترنم اور جدیداظہار بیان کی بنا پر حاصل ہوئی ۔جگرکے یہاں فلسفیانہ نکات اورمسائل تصو ف کی تلاش غیر ناقدانہ سعی ہوگی ،البتہ ان کی خام صورتوں کی نشاندہی تمام شاعری کی طرح یہاں بھی کی جا سکتی ہے۔وہ قومی تحریک، اپنے عہد کے حالات و واقعات اور اہم حادثات مثلاً انگریزوں کے جبر و ظلم ، جنگ عظیم کی ہولناکی ،ملک کے فسادات ، رہنماؤں کی ریا کاری اورسماجی تعصب وغیرہ سے بھی متاثر ہوئے تھے جس کا اظہار انھوں نے اپنے کلام بالخصوص نظمیہ شاعری میں کیاہے۔ تقسیم وطن کے نتیجے میں مرتب ہونے والے اثرات کابیان بھی ان کی غزلیہ شاعری میں متعدد جگہوں پر رمزی ، علامتی اور استعاراتی ،اورنظمیہ شاعری میں عیاں بلکہ کافی حد تک برہنہ گفتاری کی صورت موجود ہے ۔ سو، ہمارے ناقدوںکا یہ کہنا کہ جگر ؔ نے سیاست کو شاعری کا موضوع نہیں بنایا،درست نہیں ہے ۔
جگرؔ کا حاوی رجحان اور ان کے غالب موضوعات دراصل حسن و عشق ، ان کے لوازمات، شاعر کے تصورات و تجربات، عاشق و معشوق کی ذاتی نفسیات اوران کے جذبات و احساسات کاشائستہ اور سلیقہ مند بیان ہے۔ نہیں بھولنا چاہیے کہ جگرؔ کا تصور حسن و عشق نہایت ہی اعلیٰ و ارفع ہے اور کیف و بے خودی اور سرمستی و سرشاری کی لہریں ان کی شاعری میں امتیازی شان پیدا کرتی ہیں ۔ خارجی مسائل و میلانات ان کے کلام میں جگہ جگہ نمایاں ہیں ، مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ان کے یہاں گہری داخلیت کے اعلیٰ نمونے کسی طور کم نہیں ہیں۔ گو کہ موضوعاتی اعتبار سے جگر ؔکے شعری گلستان میں حسن و عشق کا غلبہ ہے جس میں عشق کے گہرے ذاتی تجربات اور حسن کے بے حد قریبی مشاہدات پھولوں کے رنگ وبو کی مانند بکھرے ہوئے ہیں، تاہم اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ خاندانی اثرات، اصغرؔ گونڈوی کی صحبت اور شاہ عبدالغنی منگلوری کی ارادت کے زیر اثر ان کے یہاں بشکل شاعری نیم متصوفانہ خیالات بھی گاہے بگاہے رقص کناں دکھائی دے جاتے ہیں،جس میں وحدت الوجود،اخلاقیات اور بشر دوستی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔ جگر ؔکے یہاں کبھی کبھی حسن حقیقی کی جو جھلک نظر آتی ہے اسے حسن مجازی کا ہی الیوژن سمجھنا چاہیے یا پھر مجاز کے ذریعے حقیقت کو دیکھ پانے کی کوشش۔ خمریات بھی جگر ؔکی شاعری کااہم اور دلچسپ موضوع ہے لیکن شکایت روزگار ، جس کا رونا میر تقی میرؔسے لے کر فافیؔ بدایونی تک نے رویاہے؛کے تعلق سے ان کے یہاں کوئی شعر نہیں ملتا۔
دہلی اور لکھنؤ کی غزلیہ شاعری کی روایت کے انحطاط کے بعد یا یوں کہیے کہ روایتی غزل پر حالیؔ کی سخت تنقید کے بعد اساتذہ کے قائم کیے معیاروں سے بغاوت یا انحراف کیے بغیر غزل کے موضوعات و اسالیب اورطرزِ اظہار میں چند تبدیلیاں رونما ہوئیں۔مثلاً یہ کہ روایتی عشق اور تصوراتی عاشق ومعشوق کے بجائے تجرباتی سطح کے عشق اور حقیقی عاشق و معشوق کو جگہ دی گئی، متنوع خیالات بیان کیے جانے لگے اور روز مرہ کی باتوں اور عام مشاہدوں کے اظہار پر زوردیا گیا۔ اس طرح اردو غزل، غزل کے کردار ،اس کے موضوعات ومشاہدات اور اظہار بیان میں یکسانیت کے بجائے تنوع آیا، اور غزلیہ شاعری عام لوگوں اور نئے ذہنوں سے زیادہ قریب آئی۔جگر ؔ بھی ایسے ہی غزل گو یوںکی صف میں اپناایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔دیکھیے کہ انھوں نے کلاسیکی معیار اورروایتی الفاظ واصطلاحات برتتے ہوئے بھی غزل کو کس طرح نئے موضوعات اور اسلوب و آہنگ سے سنوارا ہے :
یہ مے خانہ ہے بزم جم نہیں ہے
یہاں کوئی کسی سے کم نہیں ہے
ہمت جو ہے بلند تو کچھ اس سے کام لے
ساقی کا انتظار نہ کر ، بڑھ کے جام لے
جگرؔ ان حوادث سے گھبرانہ جانا
یہی تو ہے دلچسپیوں کا زمانا
جگرؔ بتائیے کچھ حالِ زار خیر تو ہے؟
یہ کیوں برستی ہیں مایوسیاں نگاہوں سے
اک ایسا راز بھی دل کے نہاں خانے میں ہے
لطف کچھ اس کاسمجھنے میں نہ سمجھانے میں ہے
آ کہ تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتاہوں میں
جیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا ہوں میں
فطرت ِعشق لاکھ پتھر ہو
ایک نہ اک دن پگھل ہی جاتا ہے
ہوش میں رہتا تو کیا جانے کہاں رکھتا قدم
یہ غنیمت ہے ، مزاجاً عشق دیوانہ بھی ہے
عشقِ لامحدود جب تک رہنما ہوتا نہیں
زندگی سے زندگی کا حق ادا ہوتا نہیں
کدھر سے برق چمکتی ہے ،دیکھیں اے واعظ
کبھی شاخ و سبزہ ٔو برگ پر ،کبھی غنچۂ و گل و خار پر
میں اپنا شیشہ اٹھاتا ہوں ، تو کتاب اٹھا
میں چمن میں چاہے جہاں رہوں مرا حق ہے فصل بہار پر
جگر ؔکی عطا یہ ہے کہ انھوں نے اپنے ماقبل اور معاصرین کے مقابلے میں اردو غزل کو ایک نرالے کیف، انوکھی نغمگی، برتر نشاط اور لطیف انبساط سے ہم آہنگی بخشی ہے ، جس میں خارجی مناظر کے رنگ و بوبھی ہیںاور روحانی ترفع کے احساسات بھی ۔ان کی شاعری نظری یا فکری نہیں بلکہ پوری طرح وہبی ہے۔وہ اپنی شاعری میں کوئی متصوفانہ یا فلسفیانہ نکتہ بیا ن کرنے بجائے اسے جمالیاتی احساس اور معصوم کیفیات سے آراستہ کرکے خیالات وجذبات کی آئینہ داری کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری جام و صبوکی باتوں ،حسن و عشق کی وارداتوں، عاشق و معشوق کی حکایتوں،شباب کے کیف اور بادۂ حیات کی سرخوشی سے لبریز ہے:
کوئی حد ہی نہیں شاید، محبت کے فسانے میں
سناتاجارہا ہے، جس کو جتنا یاد ہوتا ہے
تم مری آنکھ سے دیکھو تو یہ دنیائے جمال
ہائے کیا چیز مرا عشق خداداد بھی ہے
طبیعت شگفتہ مگر کھوئی کھوئی
ہرانداز دلکش مگر والہانہ
مجرم بنا ہوا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں
قید خانے میں جو بیٹھا ہوں ،یہ ہے تیری خوشی
میں وہ ہوں تو نے ظالم خود جس کی آرزو کی
تو جو کہہ دے تودو ٹکڑے ابھی زنجیر ہے
کُل اتنی حقیقت تھی منصور و انالحق کی
ناچیز سا اک قطرہ دریا کے مقابل تھا
عشق کی حد سے ملتے پھر یہ منظر دیکھتے
کاش حسن یار کو ہم حسن بن کر دیکھتے
محبت کیا ہے تاثیر محبت کس کو کہتے ہیں
ترا مجبور کردینا ، مرامجبور ہوجانا
حسن سے عشق جدا ہے ،نہ جدا حسن سے عشق
کون سی شے ہے جو آغوش در آغوش نہیں
مجھے روک سکتا ہو کہ کوئی تو روکے
کہ چھپ کر نہیں برملا جارہاہوں
یا وہ خفا تھے ہم سے ، یا ہم خفا ہیں ان سے
کل ان کا زمانہ تھا ، آج اپنا زمانہ ہے
جگرؔ کی ابتدائی غزلوں میں کسی حد تک داغ ؔکا رنگ نمایاں ہے ، جن میں داغ ؔکی سی شوخی، شرارت ، معاملہ بندی، محبوب کا سراپا، لفظوں کی تکرار اور دلچسپ انداز بیان سے کام لیا گیا ہے۔ ظاہرہے اس زمانے کی شاعری میں بعد کے زمانے کی سی پختگی نہیں ہے مگر شاعر کے ارتقائی مراحل کو سمجھنے کے لیے اہم ہے ۔جگر ؔبالعموم روایتی الفاظ ،سادہ خیال اور آسان انداز اختیار کرکے اشعار کو نغمگی اور مخصوص کیفیات میں ڈھالتے ہیں جس سے ان میں دل نشینی،ایک نوع کا بانکپن اور سہل ممتنع کی خوبی پیدا ہوتی ہے ۔کبھی کبھی اسی نوع کا بانکپن پیدا کرنے کے لیے وہ محض الگ الگ فقروں کو جمع کر کے بھی خوبصورت اشعارکی شکل دے دیتے ہیں، جیسے:
زہے صورت، زہے معنی،زہے پردہ،زہے جلوہ
بیک لحظہ، بیک ساعت،عیاں ہونا، نہاں ہونا
تغافل ،تجاہل،تبسم، تکلم
یہاں تک تو پہنچے وہ مجبور ہوکر
نیت شب بخیر، اے ساقی
بزم کیا ہے؟ ساغر جم کیا
ستم ہو ، قہر ہو،آفت، بلا ہو
یہ سب کچھ ہو مگر، پھر دلربا ہو
حسن و عشق اور جذبات و احساسات کی ترجمانی کی بنا پر جگرؔ کو رومانی شاعر کہنا یقیناً غلط نہیں ہے ، لیکن یہ فرق ملحوظ رکھنا چاہیے کہ ان کی رومانیت اختر شیرانی اور جوشؔ میلح آبادی کی رومانیت سے قطعاً مختلف ہے۔ اخترؔ و جوشؔکی رومانیت کا فی حد تک خیالی اور تصوراتی ہے، یا یوں کہیے کہ انھوں نے رومان کو حقیقت بناکر پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ان کے برعکس حسرتؔ موہانی نے حقیقت میں رومان ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے جب کہ جگر ؔ نے حقیقت کوہی رومان بنادیا ہے ۔جگر کے یہاں حسن و عشق ، عاشق و معشوق اور جذبات و احساسات ذاتی تجربات اور حقیقت کی زمین سے نمو کرتے ہیں ۔ جیسی جگرکی زندگی رنگین،دلچسپ،پُر کیف اور پُر سوز تھی ویسی ہی ان کی شاعری ہے۔انھوں نے کسی بھی دور میں عوامی تصورات ومشاہدات کو اپنی شاعری کی قبانہیں پہنائی،بلکہ نجی تجربات اور ذاتی واردات کواشعار کے رنگ و لے میں تحلیل کیا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے میرؔ نے اشعار کی صورت آپ بیتی کو جگ بیتی بنایاتھااور ذاتی تجربات و احساسات کو عوامی ۔
جگر ؔ کا تصور عشق اس اعتبار سے جدید ہے کہ ان کے یہاں یاس و قنوطیت ، آہ و فغاں اور گریہ و زاری نہیں ہے ۔وہ محبوب کے ہر نقش پا کو سجدے نہیں کرتے ، نہ اس کی گلی میں جاکر اپنے آپ کو فراموش کردیتے ہیں بلکہ ان کے یہاں ضبط و تحمل ہے ، بردباری ہے ۔ ان کے یہاں عشق میں وضعداری ،خود داری اور احترام نفس کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔سلام و پیام ، جذبات کے اظہاراور ہجر و وصال کے بیانیہ کے حدود متعین ہیں۔ جذبات پاکیزہ ہیں ، سوقیانہ نہیں۔ہجر ناقابل برداشت عذاب نہیں،وصل ابتذال نہیں۔اور یہ سب اس لیے ہے کہ ان کا عاشق اپنے محبوب سے خیالی یا شاطرانہ نہیں بلکہ سچا عشق کرتا ہے اورصرف چاہنے کی نہیں،چاہے جانے کی بھی خواہش رکھتا ہے۔اس کا عشق یک طرفہ اور غائبانہ نہیں ،آمنے سامنے اور برابری کی سطح کا ہے۔ جگرؔ کی رسم عاشقی میں بے قرار صرف عشق نہیں ، حسن بھی ہے:
حسن ہے اس طرح سرگرم خرام
عشق کو احساسِ پامالی نہیں
جہاں وہ ہیں وہیں میرا تصور
جہاں میں ہوں خیالِ یار بھی ہے
عشق اور عاشق کے تصور کی مانند جگرؔ کے یہاں محبوب کا بھی ایک مخصوص تصور ہے۔یا یوں کہیے کہ جگر کی شاعری کا محبوب در اصل جگر کا ہی حقیقی محبوب ہے تو شاید غلط نہ ہوگا۔جگر کا محبوب ستم گر، بے وفا اور بے اعتنا نہیں بلکہ ہمدرد،باوفا اور عاشق کی طرح ہی چاہنے والا ہے۔ وہ اپنے عاشق کی والہانہ محبت کا جواب اسی والہانہ پن سے دیتا ہے۔بلکہ بعض جگہوں پر تو معشوق اپنے رویے اور فرط محبت کی بنا پر اپنے عاشق کا ہی عاشق معلوم ہوتا ہے،ویسے ہی جیسے بعض مقامات پر جگر ؔکی شاعری کا عاشق معشوق کا روپ دھار لیتا ہے۔یقین کیجیے ایسا معشوق؍محبوب نہ تو اردو کی روایتی شاعری کا ہے نہ جگرؔ کے ماقبل اور ہمعصر کسی شاعر کا۔ اب آپ کو اختیار ہے کہ اردو شاعری میں اس ’عاشق محبوب‘ کو جگرؔ کی تخلیق کہیے، یا جگرؔ کا اپنے واقعی معشوق کو اردو شاعری میں مرکزی کردارعطا کرنے کی تجدید سے تعبیر کیجیے ۔ہوتا یہ آیا ہے کہ غزل کے شعرا عاشق کی ترجمانی کرنے میں ایسے محو رہے ہیں کہ ان کے ذہن میںکبھی یہ خیال ہی نہیں آیا کہ معشوق بھی انسان ہے ، وہ بھی اپنے سینے میں دل رکھتا ہے جس میں محبت پنپتی اور پروان چڑھتی ہے اور اس کے بھی جذبات و احساسات ہوتے ہیں اور یہ کہ معشوق کو صرف چاہے جانے کی ہی نہیں بلکہ چاہنے کی بھی خواہش ہوتی ہے۔ معشوق ہمیشہ معشوق ہی نہیں ہوتا،بسا اوقات معشوق عاشق بھی ہوتا ہے ۔ جگر کا امتیاز یہ ہے کہ انھوں نے اپنی شاعری میں نہ صرف معشوق کی نفسیات بلکہ اس کے جذبات و احساسات کی بھی ترجمانی کی ہے اور اس سلیقے سے کہ شدت جذبات اور وفور شوق کے باوجود احتیاط و احترام اور عفت کادامن کبھی چھوٹنے نہیں پاتا ۔ محبوب کے تعلق سے رشید احمد صدیقی نے بڑی دلچسپ اور نئی بات لکھی ہے کہ ’’ہمارے عام شعرا کے محبوب سے دوستی کرنے کی خواہش ہم میں آپ میں مشکل سے پیدا ہوگی ۔جگر کے محبوب کو ہر کوئی اپنانا چاہے گا ، اردو شاعری کو یہ زاویہ جگر نے دیا۔‘‘ یہ اشعار ملاحظہ کیجیے :
اف و ہ کہنا اس کا پھر بانہوں میں بانہیں ڈال کر
میں جگر کے واسطے ہوں اور جگرؔ میرے لیے
جذبِ جنوں نے آج تو گل ہی نیا کھلا دیا
خود وہ گلے لپٹ گئے عشق کاواسطہ دیا
جگر ؔ اب تو وہ بھی یہ کہتے ہیں مجھ سے
ترے ناز اٹھانے کو جی چاہتا ہے
محبت اصل حقیقت ہے اس کو کیا کرتے ؟
ہم التجا جو نہ کرتے ، وہ التجا کرتے
الٰہی آگ ہی لگ جائے تاثیرِ محبت کو
وہ آج اپنابھی غم بادیدۂ پُر آب کہتے ہیں
ہائے ری مجبوریاں ترک محبت کے لیے
مجھ کو سمجھاتے ہیں وہ، اور ان کو سمجھاتا ہوں میں
طے منزلیں ہوئی ہیں یو ں عشق و آرزو کی
کچھ میں نے جستجو کی ، کچھ اُس نے جستجو کی
کرجاتے ہیں صاف عذرِ کرم
اور پھر پرسشِ ملال بھی ہے
کس قدر حسن بھی مجبور ِ کشاکش ہے کہ آہ
منھ چھپائے نہ بنے، سامنے آئے نہ بنے
دل کے معاملات میں ناصح شکست کیا
عشق ہی تنہا نہیں شوریدہ سر میرے لیے
سوبار حسن پر بھی یہ الزام آگیا
حسن بھی بے تا ب ہے اور کس قدر میرے لیے
بتاؤ کیا تمھارے دل پہ گزرے
اگر کوئی تمھیں سا بے وفا ہو
حسن وعشق کے بعد جگر ؔکے یہاں خمریات کے موضوع کو خاصی اہمیت حاصل ہے ۔غالباً اس لیے کہ جگر نے شراب کو بھی محبوب کی طرح ہی چاہا اور برتا ہے۔ کہنے کی اجازت دیجیے کہ حسن ،عشق، شاعری اور شراب سے ہی جگر کی شخصیت تشکیل پاتی ہے اور ترفع حاصل کرتی ہے ۔ بعض اوقات تو ان کے یہاں محبوب اور شراب کا فرق مٹتا ہواسا محسوس ہوتا ہے ۔دونوں کے لیے یکساں وفور عشق ، شدت جذبات ، بے پناہ چاہت اورہجر و وصال جیسی بے قراری و قرارکا اندازملتا ہے۔شاید اسی لیے ان کے یہاں شراب کابیان ایک نوع کی سنجیدگی، شائستگی، احترام اور شدید تجرباتی محسوسات سے معمور ہے ۔ رشید احمد صدیقی نے مزے کی بات لکھی ہے کہ ’’شراب اور شاعری سے بے نقاب کرنے والی کم کوئی چیز ہوگی ،جگر صاحب کو ان دونوں نے جی کھول کر بے نقاب کیا ۔برہنگی کہیں نظر نہ آئی، رکھ رکھاؤ ہر جگہ موجود‘‘ (آتش گل ، ص 24)ایک اور جگہ لکھتے ہیں: ’’جگر کی شاعری سے شراب کو جتنا نفع پہنچا،اتنا شراب سے جگر کی شاعری کو نہیں پہنچا۔‘‘اور ایسا ہونا ہی تھا ،کہ جگرؔ نے شاعری کی بنیاد شراب پر نہیں رکھی ، بلکہ شراب کی بنیاد شاعری پر رکھی ہے۔ جس طرح شاعری جگرؔ کی شخصیت کا لازمی حصہ تھی اسی طرح شراب بھی ایک عمر تک ان کی زندگی کی رفیق رہی ہے ۔
اہم بات یہ ہے کہ جگرؔ کی شاعری میں شراب نہ تو دردؔ کی شاعری کی طرح تصوف کے زیر اثرشرابِ معرفت کااستعارہ ہے، نہ ہی داغؔ دہلوی اورریاض خیرآبادی کی مانند غیرتجرباتی مشاہدے کا بیانِ محض، اورکسی حد تک سطحیت کااظہار۔شراب کا وہ سچاکیف و سرور جوایک واقعی رند ہی محسوس کر سکتا ہے وہ نہ تو ریاض ؔکی خمریاتی شاعری میں پائی جاتی ہے ، نہ داغ کے یہاں موجود ہے ،ممکن ہے اس کی وجہ داغؔ و ریاضؔ کاقطرۂ شراب تک کی لذت سے محروم رہنا ہو۔ در اصل جگر ؔ کے یہاں شراب بھی عاشق و معشوق اور حسن و عشق جیسی محترم و محبوب ہے اور انھیں کی صورت زندگی، جذبات و احساسات اورفکروخیالات پر چھائی ہوئی بھی۔ جگر کی رندی میں مصنوعیت، مریضانہ پن اور ہوش ربائی کے بجائے صداقت،سچی محبت اور دلکشی کی فراوانی ہے ۔ علامہ سید سلیمان ندوی 1934میں ’شعلۂ طور ‘ کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں:
’’جگر مست ازل ہے اس کا دل سرشار الست ہے،وہ محبت کا متوالاہے اور عشق حقیقی کا جویا،وہ مجاز کی راہ سے حقیقت کی منزل تک اور بت خانہ کی گلی سے کعبہ کی شاہراہ کو خم خانہ کے بادۂ کیف سے خود فراموش ہوکر بزم ساقی کوثر تک پہنچنا چاہتا ہے۔جگرؔ سرشار مگر در حقیقت بیدار ہے ،اس کی آنکھیں پُرخمار مگر اس کا دل ہشیار ہے اور کیا عجب کہ خود جگرؔ کو بھی اپنے دل کی خبر نہ ہو، اگر ایسا نہ ہو تو اس کے کلام میں اثر نہ ہو۔‘‘ (مقدمہ ،شعلۂ طور)
یہ حقیقت ہے کہ بحیثیت رند اور بحالت رندی جگر ؔنے کبھی بھی تہذیب و شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا،کبھی اپنے ہم عصر اور انگریزی جیسی شائستہ زبان کے استاذ فراقؔ گورکھپوری اوربے حد مہذب خاندان کے چشم و چراغ جوشؔ ملیح آبادی کی طرح شراب کے نشے میں الف ننگی باتیںنہ کیں، یہاں تک کہ انتہائی مدہوشی کی حالت میں بھی تہذیب و شائستگی کی حدود سے باہر قدم نہ رکھا اور زبان پر ناشائستہ یا ناگوار لفظ کو آنے نہ دیا۔ اب چند اشعار ملاحظہ کیجیے:
رند جو مجھ کو سمجھتے ہیں انھیں ہوش نہیں
میکدہ ساز ہوں میں ، میکدہ بردوش نہیں
رند وہ ہوں کہ غزل بھی مری رندانہ ہے
معنی و لفظ نہیں، بادہ و پیمانہ ہے
تو جگرؔ سے مستوں پر طعن نہ کر اے واعظ
تو غریب کیا جانے مسلکِ شراب اس کا
ہجوم مے اور پھر جناب جگر ؔ
پی پلاکر برائیاں توبہ
پینے والے ایک ہی دو، ہوں تو ہوں
مفت سارا میکدہ بدنام ہے
کیا جگر ؔسے آپ بھی واقف نہیں
ایک ہی تو رند مے آشام ہے
پوچھنا کیا کتنی وسعت میرے پیمانے میں ہے
یہی صہبا،یہی ساغر، یہی پیمانہ ہے
سب الٹ دے ساقیا جتنی بھی مے خانے میں ہے
چشم ِساقی ہے کہ مے خانے کا میخانہ ہے
ننگ میخانہ تھا میں ساقی نے یہ کیا کردیا
پینے والے کہہ اٹھے یا پیرمیخانہ مجھے
اے محتسب ،نہ پھینک ! میرے محتسب نہ پھینک
ظالم شراب ہے ، ارے ظالم شراب ہے
جگرؔ کی بادہ کشی ان دنوں معاذاللہ
جب آپ دیکھیں گے ،غرق شراب دیکھیں گے
اک جام آخری تو پینا ہے اور ساقی
اب دستِ شوق کانپیں، یا پاؤں لڑکھڑائیں
درِ میکدہ اور سجدوں پہ سجدے
جگرؔ! واہ، کیا کفر سامانیاں ہیں
ایک جگہ بیٹھ کے پی لوں، مرا دستور نہیں
میکدہ تنگ بنادوں ، مجھے منظور نہیں
اے رحمتِ تمام میری ہر خطا معاف
بے کیفیوں کے کیف سے گھبرا کے پی گیا
میں انتہائے شوق میں گھبرا کے پی گیا
توبہ کو توڑ تاڑ کے تھرا کے پی گیا
سب کچھ اللہ نے دے رکھا ہے میخانے میں
خلد شیشے میں ہے ،فردوس ہے پیمانے میں
جان کر منجملۂ خاصانِ میخانہ مجھے
مدتوں رویاکریں گے جام و پیمانہ مجھے
جگرؔ کی شاعری میں جو لوگ تصوف کے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اسے بہت زیادہ صحیح اس لیے نہیں کہا جاسکتا کہ اس حوالے سے جگرؔ کے یہاں جتنے اشعار ملتے ہیں ان میں تصوف کے فلسفے یا متصوفانہ عقائد کی گہرئی کے بجائے ان خیالات و اصطلاحات کا اعادہ ہے جو اُس وقت کے معاشرے کے تہذیبی عنصر کی صورت مستعمل اور غزل کی شاعری کے تقریباًلازمی اجزاکے طور پر رائج رہے ہیں۔یہ خیالات غزل کی کائنات میں اس قدر عام ہیں کہ انھیں کسی کے ذاتی فلسفہ سے منسوب کرنے کے بجائے شاعر کی ذہنی کیفیت اور شاعری کا مزاج سمجھنا چاہیے ۔ تصوف سے متعلق جگرؔ کے یہاں بیشتر اشعارکاموضوع وحدت الوجود ہے اور کہنے کی ضرورت نہیں کہ اردو شاعری میں یہ موضوع یا اس کا تصور عام طور سے عشق، عاشق اور محبوب کے موضوع اور تصور جیسا ہی عمومیت کاحامل رہاہے۔دردؔ اور کسی حد تک اصغرؔ کی طرح ہمارے شاعروں نے اس حوالے سے کوئی فکری یا اجتہادی کارنامہ انجام نہیں دیا، نہ شاعری میں اس کی گہری بصیرتوں کا اظہار کیا ہے ۔ سو، کہنا چاہیے کہ صوفیانہ تصورات و اصطلاحات بیشتر شاعروں کے یہاں غزل کی رسمیات کی حیثیت رکھتے ہیں متصوفانہ تعمق نہیں۔ جی چاہے تو جگر ؔ کے یہاں اس نوع کے خیالات کے اظہار کوبھی محض برائے تزئین غزل جانیے اور اگر اصرار ہو تو نیم متصوفانہ خیالات کہہ کر اطمینان قلب کر لیجیے ۔ شاید یہ کہنا غلط نہ ہو کہ جس طرح حسرتؔ موہانی کے یہاں تصوف کا معاملہ محض مزارات کی زیارت اور چند بزرگوں سے عقیدت کے اظہار تک محدود ہے ویسے ہی جگر ؔ کا تصورِ تصوف بھی اصغرؔ گونڈوی کی صحبت اور شاہ عبدالغنی منگلوری کی ارادت کے فیض کا پرتوہے ۔ بہرحال اس موضوع کے تعلق سے جگرؔ کے کچھ عمدہ اشعار ملاحظہ کیجیے:
دیدۂ حق بیں میں کیسا فرق کیسا امتیاز
ایک ہی جلوہ کہیں لیلیٰ کہیں مجنوں ہوا
جب اس رخ پر نور کا جلوہ نظر آیا
کعبہ نظر آیا نہ کلیسا نظر آیا
اللہ اللہ یہ مری ترک وطلب کی وسعتیں
رفتہ رفتہ سامنے حسن تمام آہی گیا
حرم و دیر نظر آتے ہیں سب سر بسجود
جلوہ گر کون مرے شوق جبیں ساز میں ہے
ہر پردۂ ہستی میں جب تو متشکل ہے
حیران ہوں میں ، جلوہ پھر کون سا باطل ہے
اک حسن کا دریا ہے اک نور کاطوفاں ہے
اس پیکر خاکی میں یہ کون خراماں ہے
عین ِایماں ہے اناالحق کا ترانہ لیکن
ہے یہی کفر اگر دیدۂ منصور نہ ہو
جگر ؔکے موضوعات ِشاعری میں تصوف کے مقابلے سیاست کو کہیں زیادہ دخل ہے ، گوگہ ہمارے ناقدین نے جگر کے یہاں سیاست کے موضوع کا انکار کیا ہے مگر جگرؔ کے کلیات کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے اخیر دور میں نہ صرف سیاست کو دانستہ اپنی شاعری کا موضوع بنارہے تھے ،بلکہ اس موضوع سے متعلق وہ خاصی بصیرت بھی رکھتے تھے۔ اور ایسا کیوں نہ ہو کہ ان کا عہد عالمی اور ملکی سیاسی کشمکش کا زمانہ تھااور یہ ممکن نہیں کہ کوئی بھی باخبراور حساس شاعر و ادیب اور فنکار اپنے عہد کے حالات و واقعات اور سماجی و سیاسی فکر و عمل سے کسی طور واابستہ نہ ہو، ان سے متاثر نہ ہو۔ گو کہ جگرؔ حسرتؔ موہانی کی طرح قطعاً سیاسی آدمی نہ تھے لیکن وہ ملک کی سیاسی ، سماجی اور معاشی حالات سے اچھی طرح با خبر تھے اور شاعری میں اس کااظہار انھوں نے حسرتؔ موہانی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر اور بکثرت کیا ہے ۔
جگرؔ شاہ عبدالغنی منگلوری سے بیعت تھے ،تاہم وہ عملی طور پر صوفی قسم کے آدمی نہ تھے ۔البتہ فکری سطح پروہ عمر بھر مذہب و تصوف سے وابستہ رہے ۔ در حقیقت وہ ایک دوست پرور،وفاشعار، خلوص و محبت کے پیکر، منکسرالمزاج،آزاد خیال اور حسن پسند انسان تھے۔8جون 1958کے اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں: ’’مزاجاً رند واقع ہوا ہوں ، عملاًایک عمر بے عملی اور بد عملی میں صرف ہوچکی ،دین سے ذہنی طور پر ہمیشہ وابستہ رہا۔حضرت پیر و مرشد سے بیعت ہونے کے بعدپوری زندگی شدت سے متاثر ہوتی رہی ۔‘‘ (مکاتیب جگر،دہلی، 1962،ص، 141) شاید اس دینی اور صوفیانہ مزاج کی بنا پر ہی ان کی شخصیت میں ایک نوع کی بے تعصبی اور بے باکی نمایاں عناصر کی حیثیت رکھتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے بڑے بڑے امیروں اور نوابوں کی صحبتوں میں اپنا سر ہمیشہ بلند رکھااور انگریزوں اور اپنے ملک کے صاحبان اقتدار حاکموں کے سامنے کبھی گردن نہیں جھکائی۔ وہ جتنے صاف دل اور بے باک تھے،اتنی ہی صفائی اور بے باکی سے دل کی باتیں بھی کہتے تھے۔ علی سردار جعفری 1942،43کے ایک مشاعرے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’دوسری جنگ عظیم جاری تھی ۔ تحریک آزادی اپنے شباب پر تھی ۔اس زمانے میں حفیظ جالندھری برطانوی سرکار کے کسی جنگی پروپیگنڈے کے افسر تھے اور اس مقصد کے لیے اکثر مشاعرے منعقد کرتے رہتے تھے۔۔۔۔ قیصرباغ (لکھنؤ) کی بارہ دری میں ایک ایسا ہی مشاعرہ تھاجس میں یوپی کے انگریز گورنر نے بھی شرکت کی ۔۔۔۔۔ جب جگرؔ صاحب کی باری آئی تو لوگوں کو یہ توقع تھی کہ وہ کوئی عاشقانہ، رندانہ ، والہانہ غزل سنائیں گے ۔ لیکن انھوں نے ایک نظر گورنر پر ڈالی ، ایک مجمع پر پھر سر کے بالوں پر ہاتھ پھیرا اور انتہائی دلدووز ترنم میں اپنی نظم’’ قحط بنگال‘‘ شروع کردی:
بنگال کی میں شام و سحر دیکھ رہاہوں
ہر چند کہ ہوں دور مگر دیکھ رہاہوں
افلاس کی ماری ہوئی مخلوق سرِ راہ
بے گور و کفن خاک بسر دیکھ رہاہوں
پہلے تو مجمع پر ایک سناٹا چھاگیا ، پھر جوش و خروش کی لہر دوڑ گئی ۔اب جگرؔ صاحب شعر سنارہے تھے، اور سامعین دیوانہ وار داد دے رہے تھے:
تعمیر کے پردے میں یہ اندازِ حکومت
تخریب بعنوان ِدگر دیکھ رہاہوں
انجامِ ستم اب کوئی دیکھے یانہ دیکھے
میں صاف ان آنکھوں سے مگر دیکھ رہا ہوں
صیاد نے لوٹا تھا عنادل کا نشیمن
صیاد کا لٹتے ہوئے گھر دیکھ رہا ہوں
ارباب وطن کو مری جانب سے ہو مژدہ
اغیار کو مجبور سفر دیکھ رہاہوں
یہ آزادی کا ترانہ تھا ۔جنگی پروپیگنڈے کا مشاعرہ غارت ہوگیا۔۔۔۔گورنر صاحب پیچ و تاب کھاتے ہوئے مشاعرے سے اٹھے اور انداز بے نیازی سے مسکراتے رہے۔ان کی معصوم مسکراہٹ کے سامنے ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ بھی بے بس ہوگیا تھا۔‘‘(بحوالہ جگر مرادآبادی: ایک مطالعہ،مرتبہ ضامن علی خاں،نئی دہلی، 1984ص، 63)
انگریزوں کے جانے اورملک کے آزاد ہونے کے بعد بھی جگرؔسیاست کی چالوں اور سیاستدانوں کے مکروفریب کو اچھی طرح دیکھ اورسمجھ رہے تھے۔ وہ ایک مخلص وطن پرست کی مانند ملک عزیز کو سیاسی، معاشی، اخلاقی اور بھائی چارگی کے اعتبار سے مثالی دیکھنا چاہتے تھے ، اور چاہتے تھے کہ ملک میں امن و انصاف اور مساوات و محبت کی بالا دستی قائم ہو۔ اس حوالے سے انھوں نے یوپی کے وزیر اعلیٰ کو غالباً 1952میں ملک، بالخصوص صوبۂ اترپردیش کے نامساعد حالات کے تعلق سے ایک طویل خط تحریر کیا تھا ، یہاںاس کے محض چند اقتباسات ملاحظہ کیجیے:
’’ عالی جناب ! غالباً آپ کو یاد ہوگا کہ میں ایک ڈپوٹیشن کے سلسلے میں آپ کی خدمت میں باریاب ہو چکاہوں۔مجھے اپنے چند جملے یاد ہیں نامناسب نہ ہوگا اگر انھیں دہرا دوں،میں نے عرض کیا تھا کہ انصاف کرنا حقیقتاً مقصود ہو تو انصاف دور نہیں ۔۔۔۔میں بڑی حد تک صورت حال سے مایوس ہوں ، اس حالت میں ضرورت نہ تھی کہ اس قدر بھی عرض کیا جاتا لیکن میں بحیثیت انسان اور بحیثیت شاعر اور زیادہ سکوت کوایک عمل مجرمانہ محسوس کرنے لگا ہوں۔ صرف ادائے فرض میرا مقصد ہے آپ کو اس طرح کے یقین دلانے کی ضرورت نہیں کہ میں واقعتاً اپنے وطن کو بڑی سے بڑی حد تک عزیز رکھتا ہوں ۔۔۔۔اس وقت چند خیالات و تاثرات نے پھر مجبور کردیا کہ انھیں بھی پیش کردوں شاید آپ ان پر پوری طرح توجہ کریں اور سمجھیں کہ اس طرح نہ صرف یہ کہ آپ کی حکومت رسوائے عالم ہو رہی ہے بلکہ کانگریس کا وقار بھی رفتہ رفتہ زوال پذیر ہوتاجارہا ہے ، میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ عام طور پر ’مسلمان‘اپنے آپ کو خصوصاً صوبہ یوپی میںہر طرح سے غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں ، حکومتوں کی عدالتوں پر سے ان کا اعتماد اٹھتا چلا جارہا ہے ۔۔۔۔۔ مسلمانان بھارت کے یہ احساسات کہ ان کے خون کی کوئی قدروقیمت ہی نہیں رہ گئی ، اور یہ کہ ان کا مسلمان ہونا ہی ان کا سب سے بڑا جرم ہے نہ صرف اکثریت کے لیے قابل شرم و ملامت ہے بلکہ خود حکومت کے لیے بھی۔‘‘ ( جگر مرادآبادی : حیات اور شاعری، محمد اسلام، لکھنو، 1866،ص،162-63)
جگرؔاپنے ہم عصروں میں سب سے زیادہ خارجی حالات وحوادث سے براہ راست متاثر ہونے والے شاعر تھے۔ سو، یقین جانیے کہ جگرکو محض حسن وعشق اورتغزل کاشاعر کہنا ان کی شخصی جہات اور شاعرانہ فکر کو محدود کرنا ہے ۔واقعہ یہ ہے وہ اپنے عہد کے سماجی اتھل پتھل اور سیاسی تبدیلیوں کو اچھی طرح محسوس کر رہے تھے اور ایک حساس شاعر اور سچے محب وطن کی مانند اپنی غزلوں میں ان تاریخی دستاویزوں کو رمزی، علامتی اوراستعاراتی انداز اورنظموں میں اعلانیہ طور پر بلکہ برہنہ گفتاری کی حد تک ڈھال رہے تھے ۔کانپور ، ممبئی ، چھپرا،نواکھالی، دہرہ دون اور دہلی وغیرہ میں فسادات اور قتل و غارت گری کی وارداتوں کے حوالے اور ان کا شعری اظہار ان کی سیاسی بصیرت اور ملک و قوم سے ہمدردی کے غماز ہیں۔یہ اشعار ملاحظہ کیجیے :
حکومت کے مظالم جب سے ان آنکھوں نے دیکھے ہیں
جگرؔ ہم بمبئی کو کوچۂ قاتل سمجھتے ہیں
آنکھیں ابھی کچھ اور بھی ہیں منتظر جگر ؔ
چھپرا کی قتل گاہ کامنظر لیے ہوئے
دہلی و دہرہ دون و نواکھالی و بہار
تعداد ایک فرقے کی جتنی بھی گھٹ سکے
انساں ہے اور ماتمِ انساں ہے آج کل
کارِ ثواب و کار نمایاں کے آجکل
چشم کشاد جانب رزم گہ وطن مگر
مقتل ِکانپور ہے لاشۂ بے کفن نگر
کھلا باب زنداں تو کیا اس سے حاصل
کہ خود زندگی بن گئی قید خانہ
یہی زمیں ترا مسکن ، یہی ترا مدفن
اسی زمین سے تو مہر وماہ پیدا کر
زمانہ گرم رفتا رترقی ہوتا جاتا ہے
مگر اک چشم شاعر ہے کہ پُرنم ہوتی جاتی ہے
وطن عزیز کی تقسم کے بعد جب باشندگان وطن کے درمیان مذہبی بنیادوں پر صف بندیاں شروع ہونے لگیں تو مستقبل کے نتائج کا اندازہ کرکے وہ بے چین ہواٹھے اوراپنے کرب کا اظہار انھوں نے اس طرح کیا:
خلوص ِشوق،نہ جوشِ عمل، نہ دردِ وطن
یہ زندگی ہے خدایاکہ زندگی کا کفن
جگرؔ دوہرے کردار والے صاحبان اقتدار ،بد نیت سیاستدانوں اور دوست نما دشمنوں کو صرف پہچانتے ہی نہیں تھے بلکہ ان کے کارناموں سے واقف تھے اور ان کے سامنے حقیقت کے برملا اظہار کو ضروری سمجھتے تھے۔ یہ اشعار دیکھیے:
ہندوستاں میں خیر سے ان کی کمی نہیں
لب پر ہیں جو خلوص کا دفتر لیے ہوئے
ظاہر میں اک مجسمۂ امن و آشتی
باطن میں لاکھ فتنۂ محشر لیے ہوئے
کہتے ہیں بھائی بھائی ہیں اہل وطن تمام
پھرتے ہیں آستینوں میں خنجر لیے ہوئے
وہ ملک کی جمہوریت، سماجی مساوات ،قانونی بالادستی اور مذہب و ذات سے بے تعصبی کی بنیاد پر لیڈر بننے والوں اور پھراقتدار کی کرسیوں تک پہنچنے والوں سے مخاطب ہو کر انھیں بھولاہوا سبق یاد دلاتے ہیںـــ:
چمن، چمن ہی نہیں جس کے گوشے گوشے میں
کہیں بہار نہ آئے، کہیں بہار آئے
یہ میکدے کی ، یہ ساقی گری کی ہے توہین
کوئی ہو جام بکف ، کوئی شرمسار آئے
زبان و دل میں بہم ارتباط ہو ایسا
کہ جو زبان کہے دل کو اعتبارآئے
خدا کرے کہ یہ دستور سازگار آئے
جو بے قرار ہیں اب تک ، انھیں قرار آئے
اب ذرا یہ اشعار ملاحظہ فرمائیے اور جگر کی سیاسی بصیرت اور ملک و قوم کی صورت حال اور مزاج و اطوار سے ان کی واقفیت کا اندازہ لگائیے اور حیرت کیجیے کہ یہ تمام اشعار موجودہ صورت حال پر کس طور پوری طرح سے منطبق ہو رہے ہیں :
آجکل میخانے میں تقسیم ہوتے ہیں جگر ؔ
زہر کے ساغر شراب زندگی کے نام سے
معاذاللہ اس کی واردات غم معاذاللہ
چمن جس کا وطن ہو اور چمن بیزار ہوجائے
صیاد کی نظر میں وہ نشتر سے کم نہیں
اک لرزشِ خفی جو مرے بال و پر میں ہے
بشکل ناخدا جس میں ہیں ابتک جعفر و صادق
وہ کشتی غرق ہوجائے تو بیڑا پار ہوجائے
اسی اک جرم پر اغیار میں برپا قیامت ہے
ان کا جو کام ہے وہ اہل سیاست جانیں
کہ ہم بیدار ہیں اور اپنا مستقبل سمجھتے ہیں
میر اپیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
اسی کا ہے نام اگر ترقی ،تو اس ترقی سے باز آئے
ہمیں ملاکر بھی خاک و خوں میں،نہیں ہیں وہ مطمئن ابھی تک
کہ خون مخلوق سے خدا کی،زمیں ہے لالہ زار اب بھی
ہماری خاکِ لحد کے ذرے ،ہیں ان کے دامن پہ بار اب بھی
سیاسی علامت کے حوالے سے ان کی وہ غزل خاصی اہم ہے جس کے اشعار ہیںـ:
فکر جمیل خواب پریشاں ہے آجکل
شاعر نہیں وہ جو غزل خواں ہے آجکل
اس سے تو خود کشی ہی غنیمت ہے اے جگرؔ
وہ مصلحت جو پیشۂ مرداں ہے آجکل
یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ جگرکے یہاںگاہے بگاہے داغؔ،میرؔ،دردؔ، مومنؔ، غالبؔ اور اقبالؔ کے اثرات دکھائی پڑ جاتے ہیں ، میر اور غالب کی زمین میں ایک آدھ غزلیں بھی کہی ہیں،لیکن یہ بھی سچ ہے انھوں نے کسی کی تقلید نہیں کی ، تتبع نہیں کیا۔وہ خود بہت ہی ایمانداری سے لکھتے ہیں:
’’ ہوسکتا ہے میرے کلام میں کہیں کہیں مومن ؔکا اثر غیر شعوری طور پر موجود ہو لیکن واضح رہے کہ میں تقلید کاقائل نہیں البتہ اس کااعتراف ہے کہ میرے ابتدائی کلام پر داغ ؔکانمایاں اثر موجود ہے غالبؔ کی عظمت و حجت میرے دل میں ہے لیکن مقلد ان کا بھی نہیں۔‘‘ (سہ ماہی اردو،جولائی 1955ص، 145)
جگر کو بچپن سے نہ صرف مالی پریشانیوں کا سامناکرنا پڑا بلکہ والدین اور مہربان چچا کے انتقال کے غموں،عزیز و اقارب دوری،در بدری کے صدمات اورعشق میں ناکامیوں کے باعث شدید ذہنی ،جذباتی اور روحانی اذیتیں بھی برداشت کرنی پڑیں۔ ان اسباب کی بنا پر ان کے کلام میں سوز و گداز پیدا ہوا، غموں نے الفاظ کو نغمگی عطا کی، ذاتی تجربات ومشاہدات نے اشعار کی صورتیں اختیار کیںاور شعری کائنات میں روایت پرستی کے بجائے نجی فکرو خیال کے اظہار کے حوالے سے انفرادیت پسندی کی شان پیدا ہوئی ۔یہی وجہ ہے کہ انھیں اور ان کی شاعری کو ہمہ جہت قبول عام حاصل ہوا۔علامہ ماہرالقادری جگر کی مقبولیت کا آنکھوں دیکھا مشاہدہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ حضرت جگر کو مقبولیت، عام شہرت،محبوبیت اور عام پسندیدگی حاصل ہے اس کی مثال دنیائے شاعری میں بہت کم ملے گی طوائفوں کے کوٹھے اور ایکٹریسوں کے شبستانوں سے لے کر قصر و ایوان اور مدرسہ اور خانقاہ تک ان کے کلام کی دھوم مچی ہوئی تھی۔ ان کی شاعری ہر طبقہ میں پسند کی جاتی ہے ، میں نے بڑے درجہ کے قومی لیڈروں ، گورنروں ، وزیروں، ہائی کورٹ کے ججوں اور اعلیٰ عہدہ داروںکو جگرؔ کے ساتھ عقیدت سے پیش آتے دیکھا ہے،مشاعروں کی تو وہ جان اور رونق و آبرو ہیں ۔‘‘ (حیات جگر ، قیسی الفاروقی، بحوالہ جگر مراد آبادی : حیات اور شاعری، ص، 145)
جگر ؔنے تشبیہات و استعارات کی ندرت ،الفاظ کے تکرار و تواتر،زبان و بیان کی لطافت ،بحر کی نغمگی اور سہل ممتنع کی صنعت سے اپنی شاعری کو ایک خاص رنگ و آہنگ عطا کیا ہے۔وہ اپنی شاعری کے لیے کلاسیکی الفاظ واصطلاح کا انتخاب کرتے ہیں اور روز مرہ کی زندگی کے سادہ اور عام تجربات کابے تکلفانہ اظہار کرتے ہیں۔یہی وہ چیزیں ہیں جو جگرؔ کو اردو شاعری میں ایک امتیاز اور ہم عصر شعرا میں انفرادی مقام کا حامل بناتی ہیں۔دیکھیے علامہ سید سلیمان ندوی نے شعلۂ طور کے مقدمہ میں جگرؔ کی کیسی سچی اور واقعی انفرادیت کی نشاندہی کی ہے :
’’ جگرؔ شاعر ہے مگر کیسا شاعر!تنہا شاعر بلکہ ہمہ شاعران کاطرز ادا ،ابنائے زمانہ سے الگ ، لکھنؤ و دہلی دونوں حکومتوں سے آزاد،موزوں الفاظ اور دلکش ترکیبوں کے باوجود بے ساختگی اور آمدسے معمور، ہرتکلف، تعمق، اور آورد سے پاک،۔۔۔ جگرؔ کا کمال یہ ہے کہ سادگی اور تکلف کی ہر شان سے بے نیازی کے باوجود اس میں بے حد فطری آرائش اور از خود نمائش حسن ہے ، معنوی لحاظ سے جگر جہاں کھڑا ہے تنہا کھڑا ہے ۔ سرمستی اور سرشاری ،تاثر اور دل فگاری اس کے ہر مصرعہ کی جان ہے۔‘‘ (جگر مرادآبادی : حیات، انتخاب کلام، تبصرہ، دوسرا ایڈیشن، تبسم نظامی ، حیدرآباد، 1947 ص، 97)
جگرنے نظمیں بھی لکھی ہیں،سہرا، رباعی ،قطعے اور نعت بھی ان کی شاعری کو پُر ثروت بناتے ہیں۔ان کا مختصر سا فارسی کلام بھی ہے جس میں بالعموم فارسی شعرا کے تتبع کا عکس ملتا ہے۔ کلام کا خاصا حصہ ان کی لاپروائی اور بے فکری کے باعث ضائع بھی ہوا۔وہ لکھتے ہیں: ’’ یہ میں فخر سے نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ انتہائی درد کے ساتھ، کہ میری زندگی کا ہر شعبہ سخت پریشان اور کج مج واقع ہوا ہے، خدا جانے کس قدر سرمایۂ کلام ضائع ہوگیا اور کس قدر اغیار نے فائدہ حاصل کیا۔‘‘(تحریک، اکتوبر، 1962 ،ص، 31)
انھوں نے فرمائشی شاعری بھی کی اور خالص مشاعروں کے لیے بھی غزلیں لکھی ہیں جن کی نشاندہی انھوں نے خود ہی اپنے مجموعوں اور بیاضوں میں کردی ہے۔ابتدائی دور کے بعدوہ مشاعروں کے منتظمین سے معاوضے بہر طور وصول کرتے تھے جو مختلف خاندانوں کی کفالت،حاجت مندوں کی روائی ،غریبوں کی امداد اوربے کسوں میں خیرات کی صورت صرف ہوتے تھے ۔
جگر صاحب کی حیات میں ہی دوبار اخبارات میں ان کے انتقال کی خبریں شائع ہوئیں۔ پہلی بار1938میں اور دوسری بار 1958میں۔1939میں انھوں نے شراب نوشی ہمیشہ کے لیے ترک کر دی تھی جس کا سبب وہ توفیق خدا وندی کو قرار دیتے تھے:
واعظ نے اور نہ زاہدِ شب زند ہ دار نے
مجھ کو جگا دیا میرے دل کی پکار نے
1953میں انھوں نے دنیاوی لغزشوں سے تائب ہوکر حج کیا اور مدینہ منورہ میں آنسووں کے ساتھ سرور کائنات کے حضور خوبصورت نعت پیش کی۔ دوران حج سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سعود نے ان کی بڑی قدر ومنزلت کی اورانھیں شاہی مہمان رکھا ۔ یوں جگرؔکی یہ بات صحیح ثابت ہوئی جو انھوں نے نواب سید شمس الحسن صاحب کو خط میں لکھا تھا: ’’شمس صاحب میں بغیر توبہ کے مروں گا نہیں، آپ اطمینان رکھیں۔‘‘ (جامعہ، نومبر1963،ص ، 252) مارچ 1958میں ان پر پہلی بار دل کا دورہ پڑا ،اس کے بعد ان کا باہر آناجانا تقریباًبند ہوگیا تھا۔ پھریہ دورے وقفے وقفے سے پڑتے رہے اور بالآخر9؍ستمبر 1960کو صبح کے وقت وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے:
دل کو سکون ، روح کو آرام آگیا
موت آگئی کہ یار کا پیغام آگیا
کتابیات:
۱۔جگر مرادآبادی،ڈاکٹر محمد ضیاء الدین انصاری،ساہتیہ اکادمی،دہلی، 1984
۲۔جگر مرادآبادی،(کتابیات)ڈاکٹر امر رفاعی، مقتدرہ قومی زبان، پاکستان،1991
۳۔جگر : فن اور شخصیت،شارب ردولوی، الٰہ آباد،1961
۴۔جگر مرادآبادی،تبسم نظامی،حیدرآباد،(دکن) 1946
۵۔تذکرۂ جگر ،محمود علی خاں جامعی، سندھ، پاکستان،1961
۶۔یاد جگر ، درگا پرشاد شادؔسلطان پوری، معیار ادب پبلی کیشنز، 1962
۷۔چہرے ،،شورش کاشمیری،کراچی، پاکستان، 1961
۸۔ہم نفسان رفتہ، رشید احمد صدیقی،آئینہ ادب، لاہور ،پاکستان،1965
۹۔یادگار زمانہ ہیں یہ لوگ ، سید محمد ازہر شاہ قیصر،دیوبند،1960
۱۰۔کلیات جگر،مرتبہ کرشن کانت، امرتسر،1977
۱۱۔شعلہ طو، مکتبہ جامعہ ، نئی دہلی،1943
۱۲۔آتش گل، لکھنؤ، 1958
٭٭٭
Abu Bakar Abbad
bakarabbad@yahoo.co.in
(M) 9810532735
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

