مرحوم کو سرکردہ طبی اور علمی شخصیتات کا آن لائن خراج عقیدت
لکھنؤ ۴،نومبر ۲۰۲۳۔
شعبۂ کلیات جامعہ ہمدرد کے سابق صدر حکیم عبدالباری فلاحی(1958۔2023) کی شخصیت تحقیقی مزاج کی حامل تھی ۔ تاریخ طب پر گہری نگاہ رکھتے تھے نیز طبی ادب کے حوالے سے ان کا تنقیدی ِشعور بھی غیر معمولی تھا ۔قدیم طبی کتابوں کے تراجم کے سلسلے میں ان کی خدمات تادیر یاد رکھی جائیں گی ۔ان خیالات کا اظہار دنیائے طب کے نامور محقق اور سی سی آر یوایم کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر حکیم وسیم احمد اعظمی نے فارغین جامعۃ الفلا ح کی طرف سے حکیم عبدالباری کی یاد میں منعقد آن لائن تعزیتی جلسے میں صدارتی خطاب کے دوران کیا۔تعزیتی جلسہ کاآغازخبیب کاظمی نے قرآن پاک کی تلاوت اور ترجمہ سے کیا ۔جامعۃ الفلاح کے مہتمم تعلیم و تربیت ڈاکٹر جاوید سلطان فلاحی نے مرحوم کے لیے دعا فرمائی ۔ڈاکٹر عمیر منظر نے نظامت کا فریضہ انجام دیا ۔واضح رہے کہ حکیم عبدالباری فلاحی جامعہ ہمدردکے شعبۂ کلیات سے وابستہ تھے۔ اس شعبہ کے صدر بھی رہے ۔یونی ورسٹی کی دیگر ذمہ داریاں بھی ان کے سپرد کی جاتی رہی ہیں جسے وہ بہ حسن وخوبی انجام دیتے ہوئے گزشتہ برس سبکدوش ہوئے تھے ۔ ان کا آبائی وطن موضع جمال جوت ضلع سدھارتھ نگر تھا مگر ایک عرصے سے دلی میں مقیم تھے اور یہیں سپرد خاک ہوئے ۔
حکیم وسیم احمد اعظمی نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مرحوم اردو کے علاوہ عربی اور انگریزی زبان سے براہ راست استفادہ کرتے تھے۔علمی اور عملی دونوں اعتبار سے وہ ایک مخلص انسان تھے ۔حکیم اعظمی نے کہا کہ وہ قدروں کے آدمی تھے اسی لیے مجھے اپنے ایک اچھے دوست کے کھونے کا غم ہے ۔
پروفیسر حکیم اشہر قدیر (شعبہ کلیات ،علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی)نے کہا کہ حکیم عبدالباری کو قرآن پاک سے گہرا شغف تھا۔انھیں دیکھ کر مدارس کے معیار کا اندازہ ہوتا تھا ۔طلبہ سے وہ بڑی محبت کے ساتھ پیش آتے تھے ۔ان کے علمی کاموں کاذکر کرتے ہوئے کہا کہ قدیم طبی کتابوں کا ترجمہ ان کی اہم خدمات میں سے ایک ہے ۔
پروفیسر محمد اکرم(صدر شعبۂ تحفظی و سماجی طب ،جامعہ ہمدرد) نے کہا کہ حکیم عبدالباری ایک خوش مزاج انسان تھے ۔دودہائیوں پر مشتمل اپنے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میرے لیے یہ ایک بڑا سانحہ ہے ۔
ڈاکٹر خورشید احمد انصاری (صدرشعبۂ اٹانومی جامعہ ہمدرد)نے اپنے بے تکلفانہ مراسم کا ذکر کرتے ہوے کہا کہ وہ میرے بڑے بھائی کی طرح تھے ۔میں کبھی کبھی گفتگو کے دوران دائرے سے تجاوز کرجاتا تھا مگر حکیم صاحب نے ہمیشہ ایک رکھ رکھاؤ باقی رکھا ۔وہ بے حد علمی انسان تھے اور ہمیشہ اپنے علمی کاموں میں سرگرم رہتے تھے ۔
پروفیسر ڈاکٹر عبید الرحمن طیب (شعبہ عربی جواہر لال نہرو یونی ورسٹی )نے کہا کہ مرحوم ایک بے حد مخلص اور بے لوث انسان تھے ۔ان کا علمی ذوق قابل رشک تھا۔
ڈ اکٹر محمد ارشد(شعبۂ اسلامک اسٹڈیز جامعہ ملیہ اسلامیہ) نے کہا کہ وہ اپنے کاموں میں حد درجہ انہماک کا مظاہرہ کرتے تھے اور جو بھی ذمہ داری انھیں دی جاتی تھی اسی بہتر طورپر انجام دیتے تھے ۔ڈاکٹر محمد ارشد نے بتایاکہ دلی میں جامعۃ الفلاح اور انجمن طلبہ قدیم کے تعارف کا بھی ایک اہم ذریعہ تھے ۔ایک زمانے تک وہ فلاحیوں کے کاز کے لیے سرگرم رہے ۔ان کی شخصیت کی اہم خوبی یہ تھی کہ وہ اپنے معروضات کو نہایت خندہ پیشانی کے ساتھ سنتے تھے ۔
ڈاکٹر عبدالرحمن فلاحی ( شعبہ ادارت ،مرکزی مکتبہ پبلشرز ،دہلی )نے ان سے اپنے دیرینہ مراسم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوسروں کے کام آنے والے انسان تھے ۔ان کے تعلقات کا دائرہ بہت وسیع تھا ۔وہ سب کا خیال کرتے تھے اور اسی کے ساتھ ساتھ اپنے علمی انہماک میں کوئی کمی نہیں آنے دیتے تھے ۔
ڈاکٹر فیصل اقبال(اجمل خاں طبیہ کالج ،قرول باغ ) نے کہا کہ حکیم عبدالباری نے ترجمے اور تحقیق کے بہت سے نایاب نمونوں کو پیش کیا ہے ۔جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھیں قدیم طبی کتابوں کی کس قدر معلومات تھیں ۔
ڈاکٹر جاوید سلطان فلاحی نے دعا سے پہلے کہا کہ مرحوم متنوع صفات کے حامل تھے ۔ان کی زندگی کے بہت سے پہلو فارغین مدارس کے لیے نمونہ ہیں ۔انھوں نے وضع قطع اور آداب و اخلاص کی ایک عمدہ مثال قائم کی ہے ۔جامعہ ہمدرد کے فارغ التحصیل ڈاکٹر عبید الرحمن نے بتایا کہ مرحوم ایک اچھے استاد اور عمدہ انسان تھے. وہ ہم طلبہ کا بڑا خیال رکھتے تھے
تعزیتی جلسہ کے انتطام اور تکنیکی تعاون فراہم کرنے میں جناب خبیب کاظمی ،ڈاکٹر عبدالعزیز فارس،جناب نورالہدی فلاحی اور جناب وجہہ القمر فلاحی نے سرگرم کردار ادا کیا۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

