(پریس ریلیز)
ادب آگہی اور علم و عرفان کے حصول کا ذریعہ ہے:ڈاکٹر حسن رضا
زبان و ادب فورم کے زیر اہتمام عصر حاضر میں ادب کی اہمیت کے موضوع پر نتیشور کالج میں ایک روزہ سیمینار کا انعقاد
مظفرپور:5/ دسمبر
ادب معاشرے کا آئینہ اور عکاس ہوتا ہے۔یعنی جیسا معاشرہ ہوگا ویسا ادب ہوگا کیوں کہ ادب معاشرے کا ترجمان ہوتاہے، ادب معاملات حیات اور مسائل زندگی کو فن کارانہ انداز میں پیش کرکے ان کے حل کے لیے راغب کرتا ہے، یہ ادارک، آگہی اور علم و عرفان کے حصول کا ذریعہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار صدر شعبۂ اردو آر ڈی ایس کالج مظفرپور ڈاکٹر حسن رضا نے کیا وہ نتیشور پرساد سنگھ میموریل لکچر سیریز کے تحت زبان و ادب فورم نتیشور کالج کی طرف سے عصر حاضر میں ادب کی اہمیت پر منعقد ایک روزہ سیمینار میں مقالہ پیش کررہے تھے، نتیشور کالج کے پرنسپل ڈاکٹر منوج کمار نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ اردو کسی قوم یا مذہب کی زبان نہیں بلکہ عشق کی زبان ہے، زبان کی روح تک پہنچنے کےلئے اس کا سہل ہونا ضروری ہے۔ وہی زبان ترقی کرتی ہے جو سہل ہوتی ہے۔ انہوں نے ادب کی اہمیت کے حوالے سے کہا کہ ادب نے ہماری زندگی کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔مرزا غالب کی کتاب دیوان غالب کو آپ پڑھیں گے تو اس سے بہت سارے معنی کے دریچے کھلیں گے ،غالب کے خیالات کا دائرہ بہت وسیع ہے، ان کے کلام کے اثرات بہت دور تک محسوس کئے جاتے ہیں۔ ادب حال کے مسائل کو حل کرنےکے ساتھ اپنا سفر طے کرتا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج ہم لوگوں نے مطالعہ کرنا چھوڑ دیاہے۔ آج کتابیں لکھی تو جارہی ہیں۔لیکن قاری نہیں ہے، ضرورت ہے کہ نئی نسل کے نوجوان بالخصوص طلبہ و طالبات کتابیں خرید کر ضرور پڑھیں۔ کتاب پڑھنے ہی سے تمام زبانوں کے ادب کا فروغ ہوگا۔ ڈاکٹر ایس کے پول سابق ڈین بہار یونیورسٹی مظفرپور نے کہا کہ ادب کے ذریعے ہماری سوچ کا دائرہ وسیع ہوتا ہے،اس سے ہمارے اندر سیاست اور معاشرت کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، ادب صحیح معنوں میں ہمیں انسان بناتاہے۔ نفرت،تشدد اور دھوکہ جیسی برائیوں سے دور کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ادیب معاشرے کی ترجمانی کرتا ہے۔ڈاکٹر اندو دھر جھا صدر شعبہ میتھلی بہار یونیورسٹی نے کہا کہ ادب ہمیں ہمیشہ حالات سے آگاہ کرتا ہے۔ انہوں نے طلبہ و طالبات کو کتاب خرید کر پڑھنے تلقین کی۔ صدر شعبۂ انگریزی آر ڈی ایس کالج ڈاکٹر انیتا سنگھ نے کہا کہ ادب کو پڑھنے سے ہمیں ہر زمانے کی تہذیب اور روایات سے واقفیت حاصل ہوتی ہے عصر حاضر میں جو کچھ لکھا جا رہا ہے، مستقبل میں انہیں تخلیقیات سے روشنی حاصل کی جائے گی۔ ادب کے طلبہ کو اپنے اندر محسوس اور جذب کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے کی ضرورت ہے. بہار یونیورسٹی شعبۂ ہندی کے اسسٹنٹ پروفیسر سوشانت کمار نے کہا کہ ادب ہماری حس کو جگاتا ہے، ادیب کاکام ہے تفریح کرانا نہیں ہے بلکہ معاشرے کی ترجمانی کرنا ہے۔ادب میں یہ طاقت بھی ہوتی ہے کہ وہ ہمیں حالات سے مقابلہ کرنا سیکھاتا ہے۔یہ ذہن کو ترقی دیتا ہے تاکہ ہم اس کی روشنی میں وقت کی تاریکیوں کا سینہ سپر ہوکر مقابلہ کر سکیں۔ صدر شعبۂ سنسکرت نتیشور کالج ڈاکٹر نوا شرما نے کہا کہ موجودہ دور میں امن و امان ختم ہورہا ہے ایسے حالات میں ادب کی اہمیت پر سیمینار کا انعقاد کرنا قابل تعریف ہے، ادب کسی ایک زبان تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا دائرہ بہت وسیع ہے،ادب انسان کے ذہن کو وسیع کرتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ مہذب اور سنجیدہ ادب معاشرے کو جوڑنے کا کام کرتا ہے،سیمینار کے نظامت کا فریضہ صدر شعبۂ اردو نتیشور کالج کامران غنی صبا نے بحسن وخوبی انجام دیا، سیمینار کا اختتام صدر شعبۂ ہندی ڈاکٹرششی کے اظہار تشکر پر ہوا. اس موقع پر شرکاء میں ڈاکٹر بےبی کماری، ڈاکٹر سومیہ سرکار، ڈاکٹر رادھا رانی، ڈاکٹر رینا جھا، ڈاکٹر پنکج کمار، ڈاکٹر رینا، ڈاکٹر رنویر کمار، جئے شری سنگھ،دیویہ انشو، ڈاکٹر پنکج کمار، ڈاکٹر رابندر کمار، ڈاکٹر سنجیو کمار، ڈاکٹر حسین دلشی کے علاوہ طلبہ و طالبات میں اسلم رحمانی، رقیہ خاتون، رابعہ خاتون، تسنیم فاطمہ، سنجیدہ ملکہ بصری، آسیہ خاتون، عائشہ بانو، محمد شہزاد، محمد اشرف، غلام علی، محمد وسیم، ہیم چندر دیپک ، مانوی، شالنی،صفدر امام اور محمد عارف سمیت اساتذہ، ریسرچ اسکالرز اور سیکڑوں طلبہ و طالبات موجود تھے۔
—
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

