نئی دہلی ۴ دسمبر
جامعہ ہمدرد ارکائیوزسینٹر نئی دہلی میں سپورٹ سوسائٹی نئی دہلی ہمدرد نیشنل فاؤنڈیشن اور جامعہ ہمدرد کے زیر اہتمام دوسرا حکیم عبدالحمید میموریل لکچرکااہتمام کیاگیا ۔اس موقع پر حکیم عبد الحمید مرحوم کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر فیضان مصطفی نے کہا حکیم عبدالحمید سرسید تحریک کے جانشین وعلمبردار تھے آپ نے اقلیتی تعلیمی اداروں کے حقوق پر بہت ہی پرمغز گفتگو کی
ڈاکٹر امان اللہ نے اپنے مقالے میں کہا کہ حکیم عبد الحمید تعلیم میں مقصد اور نصب العین کے قائل تھے. تعلیم برائے تعلیم کا ان کے ہاں تصور نہ تھا. وہ تعلیم کے اس ارفع مقصد کےمؤید تھے جس کے ذریعے سماجی و معاشی زبوں حالی دور ہو سکے اور قومی و ملی روایات کا تحفظ ممکن ہوسکے.
پروفیسر عاصم علی خاں ڈین اسکول آف یونانی میڈیسن نے حکیم عبدالحمید کےساتھ ساتھ جامعہ ہمدرد اورانکےقائم کردہ دوسرے اداروں کا جامع تعارف کرایا۔
سپورٹ سوسائٹی کا مکمل تعارف ڈاکٹر وسیم احمدفراہی نے پیش کیا۔
مہمان خصوصی فیض احمد قدوئی نے بانی ہمدرد کے خوابوں کی تکمیل جامعہ ہمدرد کوبتایا ۔ اور حکیم عبدالحمید صاحب کے کچھ تجربات بیان کئے۔ جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر پروفیسر آفشار عالم نے صدارتی خطبہ میں حکیم عبدالحمید کے وژن اور ان کے مشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بے پناہ قوت ارادی اور عزم و استقلال کے حامل تھے ۔
اس موقع سپورٹ سوسائٹی نے حکیم رشید احمد خاں کے نام سے ایک پورٹل لانچ کیا جس سے طبی برادری کے تجربات و مشاہدات کو شئیر کرنے کیلئے آن لائین مرکز ہوگا۔ جہاں طالب طب مستفیض بھی ہونگے اور علم طب کی وراثت کو پروان بھی چڑھائیں گے۔
منیر عظمت صاحب نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔اور آج کے دن کو ایک یاد گار قرار دیا کہ ہم اپنے ایک عظیم مفکر ماہر تعلیم کویاد کررہے ہیں ان کے وژن اور مشن کو آگے بڑھانا ہی سچی خراج عقیدت ہوگی پروگرام کا آغاز حافظ سفیان ارشاد کی قرآن پاک کی تلاوت سے ہوا۔ کلمات تشکر کا فریضہ ڈاکٹرنازش احتشام اعظمی نے ادا کیا۔ نظامت کے فرائض پروفیسر محمد اکرم نے ادا کیے. اس پروگرام کے روح رواں ڈاکٹر محمد خالد اورکنوینر پروگرام سپورٹ سوسائٹی کے بانی جنرل سکریٹری ڈاکٹر اجمل اخلاق تھے.
شرکاء میں حکیم محسن دہلوی،ڈاکٹر خورشید احمد انصاری ،ڈاکٹر عمر جہانگیر،پروفیسر سعید احمد،ڈاکٹر سہراب ، ڈاکٹرنازش احتشام اعظمی ،ڈاکٹر محمد عرفان ،،ڈاکٹر بلال احمد،ڈاکٹر وسیم فراہی ، منیرعظمت ، ڈاکٹر مستحسن ،ڈاکٹر محمدفضیل ڈاکٹر شہنواز احمد وغیرہ کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

