دربھنگہ ٹائمز: ایک رسالہ، ایک عہد کی ادبی دستاویز – ڈاکٹر احسان عالم،دربھنگہ
ڈاکٹر منصور خوشتر کی ادارت میں شائع ہونے والے اپریل تا ستمبر 2026 کے خصوصی شمارے کا تنقیدی و ادبی مطالعہ
اردو صحافت اور ادبی رسائل کی تاریخ میں بعض رسائل محض اپنے عہد کی ادبی سرگرمیوں کو محفوظ کرنے کا ذریعہ نہیں بنتے بلکہ رفتہ رفتہ خود ایک ادبی دستاویز کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ ایسے رسائل اپنے زمانے کے ادبی رجحانات، فکری مباحث، تخلیقی رویوں، شخصیات، اداروں اور تہذیبی حافظے کو اس طرح اپنے صفحات میں سمیٹ لیتے ہیں کہ بعد کی نسلوں کے لیے وہ محض رسالہ نہیں رہتے بلکہ ایک پورے عہد کا آئینہ بن جاتے ہیں۔”دربھنگہ ٹائمز“ بھی اسی نوعیت کا ایک اہم ادبی جریدہ ہے، جس نے بہار، بالخصوص دربھنگہ اور خطہ متھلا کی ادبی روایت کو محفوظ کرنے، اس کے اہلِ قلم کو متعارف کرانے اور اردو کے علمی و ادبی سرمائے کو یکجا کرنے میں قابلِ ذکر کردار ادا کیا ہے۔اپریل تا ستمبر 2026 کا ”دربھنگہ ٹائمز“ اسی مسلسل ادبی کاوش کی ایک نمایاں کڑی ہے۔ خصوصی شمارہ نمبر 564، جس کی قیمت 500 روپے ہے، اپنے حجم، موضوعاتی تنوع اور مشمولات کی وسعت کے اعتبار سے ایک عام ادبی جریدے سے کہیں آگے دکھائی دیتا ہے۔ اس شمارے کے صفحات پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مدیرڈاکٹر منصور خوشتر نے اسے محض رسمی طور پر مرتب نہیں کیا بلکہ ایک خاص ادبی منصوبے، فکری ترجیحات اور تحقیقی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ ترتیب دیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ شمارے کے مطالعے کے دوران بار بار یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کے پس پشت صرف ادارت کا معمول کا عمل نہیں بلکہ ایک ایسی شخصی وابستگی موجود ہے جسے بجا طور پرادبی فعالیت اور تخلیقی جنون کہا جا سکتا ہے۔ اتنے متنوع موضوعات، متعدد ادیبوں، شعرا، ناقدین اور محققین کو ایک ہی شمارے میں مربوط کرنا آسان کام نہیں۔ اس کے لیے نہ صرف وسیع مطالعہ درکار ہے بلکہ ادبی منظرنامے پر گہری نظر، موضوعات کے انتخاب کی صلاحیت اور مسلسل محنت بھی ضروری ہے۔
کسی بھی ادبی رسالے کی شناخت صرف اس کے مضامین سے نہیں ہوتی؛ اس کی اصل شناخت اس کے مدیر کے فکری مزاج سے تشکیل پاتی ہے۔ مدیر جس طرح موضوعات کا انتخاب کرتا ہے، جن شخصیات کو جگہ دیتا ہے، جن مباحث کو اہم سمجھتا ہے اور جس ترتیب سے مختلف اصناف کو پیش کرتا ہے، وہ سب مل کر رسالے کی ادبی شخصیت بناتے ہیں۔”دربھنگہ ٹائمز“ کے موجودہ شمارے میں ڈاکٹر منصور خوشتر کی یہی ادبی شخصیت نمایاں طور پر سامنے آتی ہے۔ وہ صرف مواد جمع کرنے والے مدیر نہیں بلکہ مختلف ادبی جہتوں کو ایک مرکز پر جمع کرنے والے فعال ادبی کارکن کی حیثیت سے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی ادارت میں رسالہ ایک ایسے ادبی پلیٹ فارم کا روپ اختیار کرتا ہے جہاں کلاسیکی ادب، جدید تنقید، فکشن، شاعری، سفرنامہ، اطفال ادب، تبصرہ اور ادبی سرگرمیاں ایک دوسرے سے مربوط دکھائی دیتی ہیں۔رسالے کا آغاز خود مدیر کے فکری اداریے سے ہوتا ہے۔ اداریہ کسی بھی رسالے کی سمت متعین کرنے والی تحریر ہوتی ہے۔ یہ مدیر کے ذہنی رویے، ترجیحات اور ادبی نظریے کی نمائندگی کرتی ہے۔ ”دربھنگہ ٹائمز“ کا اداریہ بھی شمارے کے مجموعی مزاج کو سمجھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کے ذریعے قاری کو اس فکری فضا کا اندازہ ہوتا ہے جس میں پورا شمارہ تشکیل پایا ہے۔اس شمارے کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کے دو خصوصی گوشے ہیں۔ پہلا گوشئہ فیسر جمال اویسی کے لیے مخصوص ہے اور دوسراپروفیسر ایم۔ کمال الدین کی شخصیت و علمی خدمات کے حوالے سے مرتب کیا گیا ہے۔
پروفیسر جمال اویسی کے گوشے میں چھ مضامین کے ساتھ یادنامہ، مکتوب، خاکہ اور ان کی نظموں اور غزلوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس ترتیب کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ کسی ادبی شخصیت کو صرف ایک زاویے سے دیکھنے کے بجائے اس کی شخصیت، فکر، تخلیق اور ادبی تعلقات کے مختلف پہلوو ¿ں کو یکجا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
کسی شخصیت پر خصوصی گوشہ مرتب کرنا دراصل اس شخصیت کے ادبی مقام کا ازسرنو جائزہ لینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ مضمون، یادنامہ، مکتوب اور خاکہ ایک ہی شخصیت کو مختلف آئینوں میں منعکس کرتے ہیں۔ کہیں شخصیت کا علمی پہلو سامنے آتا ہے، کہیں انسانی تعلقات کا، کہیں تخلیقی مزاج کا اور کہیں عہد کے ساتھ اس کے رشتے کا۔
اسی طرح پروفیسر ایم۔ کمال الدین پر مشتمل دوسرا خصوصی گوشہ بھی شمارے کی علمی اہمیت میں اضافہ کرتا ہے۔ اس میں شامل پانچ مضامین ان کی شخصیت اور خدمات کے مختلف پہلوو ¿ں کو سامنے لاتے ہیں۔ یوں دونوں خصوصی گوشے مل کر اس شمارے کو شخصیات کے مطالعے کا ایک اہم ماخذ بنا دیتے ہیں۔”دربھنگہ ٹائمز“ کے اس شمارے میں فکشن کو بھی خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہاں جدید اور کلاسیکی کہانیوں کے صرف ظاہری قصے بیان نہیں کیے گئے بلکہ ان کے نفسیاتی، سماجی اور اجتماعی پہلوو ¿ںکو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔
پروفیسر آفتاب احمد آفاقی، ڈاکٹر اشرف النبی قیصر، شبنم سحر، پروفیسر ہما مسعود، سلمان عبدالصمد، امتیاز سرمد اور زینت پروین کے مضامین فکشن کے حوالے سے شمارے کے تحقیقی اور تنقیدی دائرے کو وسیع کرتے ہیں۔فکشن پر یہ مضامین اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ آج کہانی کو محض تفریح یا واقعات کے بیان تک محدود نہیں سمجھا جا سکتا۔ جدید فکشن انسانی نفسیات، سماجی تضادات، طبقاتی صورتِ حال، تہذیبی تبدیلیوں اور فرد کے داخلی بحرانوں کو سمجھنے کا ایک اہم وسیلہ بھی ہے۔ ”دربھنگہ ٹائمز“ نے اس پہلو کو نظرانداز نہیں کیا۔شمارے کے مضامین کے حصے میں موضوعات کی جو وسعت نظر آتی ہے، وہ اس کے مدیر کے انتخابِ موضوع کی بصیرت کو ظاہر کرتی ہے۔نظیر اکبر آبادی، پر سیفی سرونجی،کرشن چندر کی انفرادیت، پر اقبال مسعود،شاد عظیم آبادی، آفاق عالم صدیقی، ڈاکٹر مظفر مہدی کی تنقید پر ڈاکٹر سید احمد قادری، حقانی القاسمی، پر انور آفاقی،،کوثر مظہری، پر غزالہ ہاشمی اور،حسرت موہانی کی صحافت پر ڈاکٹر نکہت پروین کی تحریریں شمارے کے علمی دائرے کو خاصا وسیع کر دیتی ہیں۔
یہاں ایک طرف نظیر اکبر آبادی جیسے کلاسیکی شاعر موجود ہیں تو دوسری طرف کرشن چندر، شاد عظیم آبادی، حقانی القاسمی اور کوثر مظہری جیسے مختلف ادوار اور ادبی مزاج رکھنے والے نام بھی موجود ہیں۔ اس طرح شمارہ اردو ادب کو کسی ایک عہد، صنف یا نظریے تک محدود نہیں کرتا بلکہ ایک وسیع ادبی تسلسل کے ساتھ دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
خاص طور پر حسرت موہانی کی صحافت پر مضمون اس امر کی یاد دہانی ہے کہ اردو کی بڑی ادبی شخصیات کو صرف ان کی شاعری کی بنیاد پر سمجھنا کافی نہیں۔ ان کی صحافت، سیاسی فکر، سماجی شعور اور عہد کے حالات سے ان کے تعلق کا مطالعہ بھی ان کی شخصیت کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔
شمارے میں شعری مطالعے کے تحت احمد فراز، جون ایلیا، میر تقی میر، بشیر بدر، عطا عابدی، بدیع الزماں سحر، غضنفر اور صادقہ نواب سحر کے شعری جہان کا جائزہ لیا گیا ہے۔یہ انتخاب بھی خاص توجہ کا طالب ہے۔ میر تقی میر سے لے کر جون ایلیا اور احمد فراز تک اور بشیر بدر سے صادقہ نواب سحر تک اردو شاعری کی کئی نسلیں اور کئی شعری لہجے یہاں یکجا ہو جاتے ہیں۔میر کی کلاسیکی غزل کی داخلی کیفیت، فراز کی رومانوی اور عصری حسیت، جون ایلیا کی فکری بے چینی، بشیر بدر کی سادہ مگر اثر انگیز شعری زبان اور معاصر شعری آوازوں کے مختلف رنگ—یہ سب مل کر اردو شاعری کے بدلتے ہوئے مزاج کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔اس حصے کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ یہ قاری کو صرف شاعروں کے ناموں سے نہیں گزارتا بلکہ ان کے شعری مزاج اور تخلیقی انفرادیت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
”کتھا کہانی“ کے حصے میں افسانہ نگاری کی روایت کو بھی بھرپور جگہ دی گئی ہے۔ طارق چھتاری کا **”غم سے نجات پائے کیوں“**، اسلم جمشید پوری کا **”طلوع ہوتا آفتاب“**، شاہد اختر کا **”سیاہ بل“**، رحمان شاہی کا **”وادی“** اور راجہ یوسف کا **”تفسیخ“** اس حصے کو متنوع بناتے ہیں۔
ان افسانوں کا اجتماع اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ افسانہ آج بھی انسانی زندگی کے پیچیدہ مسائل، داخلی کشمکش اور سماجی حقیقتوں کو بیان کرنے کی ایک مو ¿ثر صنف ہے۔ مختلف افسانہ نگاروں کے یہاں زندگی کو دیکھنے کا زاویہ مختلف ہو سکتا ہے، لیکن یہی اختلاف فکشن کی قوت بنتا ہے۔شمارے میں ہندی افسانہ نگار کرشنا سوبتی کی کہانی”میری ماں کہاں؟“ کا ترجمہ بھی شامل ہے، جسے استوتی اگروال نے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ترجمہ کسی بھی ادبی رسالے کو اپنی زبان کی حدود سے باہر دیکھنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ ہندی سے اردو میں تخلیقات کی منتقلی دراصل دو قریبی ادبی اور تہذیبی روایتوں کے درمیان مکالمے کی ایک صورت بھی ہے۔ ایسے تراجم اردو قاری کو دوسری زبان کے اہم ادبی تجربات سے روشناس کراتے ہیں اور زبانوں کے درمیان ادبی رشتے کو مضبوط کرتے ہیں۔
شمارے کی ایک دل چسپ جہت ڈاکٹر منصور خوشتر کا سفرنامہ ”تھائی لینڈ کی سرزمین پر بہار کا قافلہ“ ہے۔سفرنامہ محض مقامات کی فہرست یا راستوں کی روداد نہیں ہوتا۔ اچھا سفرنامہ دراصل سفر کرنے والے کی آنکھ سے دنیا کو دیکھنے اور پھر اسے قاری کی آنکھ تک منتقل کرنے کا فن ہے۔ اس میں منظر، مشاہدہ، احساس، تہذیب، لوگوں کے رویے، جغرافیہ اور ذاتی تجربہ ایک دوسرے میں گھل جاتے ہیں۔ڈاکٹر منصور خوشتر خود اس شمارے کے مدیر بھی ہیں اور سفرنامہ نگار بھی۔ اس اعتبار سے ان کی تخلیقی شخصیت کا ایک اور پہلو سامنے آتا ہے۔ ”تھائی لینڈ کی سرزمین پر بہار کا قافلہ“ شمارے کے تحقیقی اور تنقیدی ماحول میں ایک تخلیقی اور مشاہداتی وقفہ پیدا کرتا ہے اور قاری کو ایک مختلف جغرافیہ اور تہذیبی فضا کی طرف لے جاتا ہے۔
اس شمارے میں”پیارا بچپن“ کے عنوان سے بچوں کے ادب کے لیے بھی خصوصی جگہ مختص کی گئی ہے۔ اس گوشے میں ممتاز بچوں کی ادیبہ بانو سرتاج کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی ادبی خدمات کا اعتراف کیا گیا ہے، ساتھ ہی بچوں کے لیے کہانیاں اور دلچسپ مضامین بھی شامل کیے گئے ہیں۔یہ حصہ رسالے کے ادبی دائرے کو مزید وسیع کرتا ہے۔ عام طور پر بڑے ادبی جرائد میں بچوں کے ادب کو وہ اہمیت نہیں ملتی جس کا وہ مستحق ہے، لیکن ”دربھنگہ ٹائمز“ نے اطفال ادب کو شمارے کا باقاعدہ حصہ بنا کر اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ ادبی ذوق کی تشکیل بچپن ہی سے شروع ہوتی ہے۔بچوں کا ادب محض بچوں کو مصروف رکھنے کا ذریعہ نہیں بلکہ زبان، تخیل، اخلاقی شعور، انسانی اقدار اور جمالیاتی حس کی تربیت کا ایک اہم وسیلہ ہے۔شمارے کے صفحات 564 مخصوص ہیں۔ یہ حصہ بھی رسالے کی دستاویزی اہمیت میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔”دربھنگہ ٹائمز“ پر اقبال حسن آزاد، اختر کاظمی، عبدالحی، انوار الحسن وسطوی اور فیاض احمد وجیہہ کی تحریریں شامل ہیں۔ کسی ادبی رسالے پر ہونے والے تبصرے دراصل اس رسالے کے اثرات اور ادبی قبولیت کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔اسی طرح مختلف کتابوں پر تبصرے بھی شامل کیے گئے ہیں، جن میں رحمان شاہی کی”آدمی کدھر جائے“، اختر واصف کی”سمندر پر ایک اڑان“ اور خلیق الزماں نصرت کی ”استفادہ، سرقہ اور توارد“ قابل ذکر ہیں۔کتابوں پر تبصرہ ادبی صحافت کا ایک بنیادی فریضہ ہے۔ اس کے ذریعے نئی کتاب قاری تک پہنچتی ہے، اس کے مباحث پر گفتگو شروع ہوتی ہے اور ادبی منظرنامے میں ایک صحت مند تنقیدی مکالمہ پیدا ہوتا ہے۔شمارے میں المنصور ٹرسٹ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے سیمیناروں، تعزیتی نشستوں اور کتابوں کی رسمِ اجرائ کی رپورٹیں بھی شامل ہیں۔یہ حصہ بظاہر خبروں اور رپورٹوں پر مشتمل ہے، لیکن مستقبل کے محقق کے لیے اس کی اہمیت بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔ ادبی تقریبات وقت گزرنے کے ساتھ حافظے سے محو ہو جاتی ہیں، مگر اگر ان کی رپورٹیں کسی معتبر ادبی جریدے میں محفوظ ہو جائیں تو وہ بعد میں کسی خطے کی ادبی تاریخ مرتب کرنے کے لیے بنیادی مواد بن جاتی ہیں۔اسی اعتبار سے ”دربھنگہ ٹائمز“ کا موجودہ شمارہ صرف تخلیقات اور تنقیدی مضامین کا مجموعہ نہیں بلکہ ادبی سرگرمیوں کا ایک زندہ ریکارڈ بھی ہے۔
اس شمارے کی سب سے بڑی خوبی شاید یہی ہے کہ اس میں ادب کو کسی ایک صنف یا محدود دائرے میں قید نہیں کیا گیا۔ یہاں شخصیت اور سوانحی مطالعہ بھی ہے، تحقیق اور تنقید بھی؛ فکشن اور شاعری بھی ہے، سفرنامہ بھی؛ بچوں کا ادب بھی ہے، کتابوں پر تبصرے بھی اور ادبی سرگرمیوں کی رپورٹیں بھی۔یہ تنوع اگر غیر مربوط ہو تو رسالے کو محض مواد کا انبار بنا سکتا ہے، لیکن ”دربھنگہ ٹائمز“ کے اس شمارے میں مختلف حصوں کے درمیان ایک بنیادی رشتہ قائم دکھائی دیتا ہے: **اردو ادب اور اس کے تہذیبی حافظے کو محفوظ کرنے کا جذبہ۔اسی جذبے کی وجہ سے یہ شمارہ بہار، خصوصاً خطہ متھلا کے ادبی منظرنامے کے لیے خصوصی اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔دربھنگہ اور متھلا کی سرزمین نے اردو، ہندی، فارسی اور دیگر زبانوں کے ادب کو مختلف ادوار میں متعدد اہلِ قلم عطا کیے ہیں۔ یہاں کی ادبی تاریخ کسی ایک شخصیت یا ایک ادارے تک محدود نہیں۔ اس تاریخ میں شعرا، افسانہ نگار، محقق، ناقد، صحافی، اساتذہ، ادبی تنظیمیں اور رسائل سب اپنا حصہ رکھتے ہیں۔ایسے میں ”دربھنگہ ٹائمز“ جیسے رسالے کی ذمہ داری محض موجودہ ادبی سرگرمیوں کی عکاسی تک محدود نہیں رہتی۔ اسے ماضی کو محفوظ کرنا، حال کو ریکارڈ کرنا اور مستقبل کے لیے مواد فراہم کرنا بھی ہوتا ہے۔موجودہ شمارہ اسی ذمہ داری کی ایک قابل ذکر مثال ہے۔ خصوصی گوشوں کے ذریعے اہم شخصیات کا تعارف و تجزیہ، تحقیقی مضامین کے ذریعے ادبی موضوعات کا مطالعہ، افسانوں اور شاعری کے ذریعے تخلیقی ادب کی پیش کش، سفرنامے کے ذریعے جغرافیائی و تہذیبی تجربے کی منتقلی، اطفال ادب کے ذریعے نئی نسل سے رشتہ اور ادبی رپورٹوں کے ذریعے موجودہ سرگرمیوں کا اندراج—یہ تمام عناصر مل کر ایک وسیع ادبی دستاویز تشکیل دیتے ہیں۔
ڈاکٹر منصور خوشتر کی ادارت میں ”دربھنگہ ٹائمز“ کا یہ شمارہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک مدیر اگر اپنے کام کو محض پیشہ ورانہ ذمہ داری کے بجائے ادبی مشن سمجھ لے تو ایک رسالہ اپنے معمول کے دائرے سے کہیں آگے جا سکتا ہے۔ایک طرف صفحات کی کثرت، دوسری طرف موضوعات کی وسعت، پھر مختلف اہلِ قلم کو یکجا کرنا، خصوصی گوشوں کی ترتیب، نئی اور پرانی ادبی شخصیات کو ایک ہی شمارے میں جگہ دینا، تخلیقی ادب کے ساتھ تحقیق و تنقید کو شامل کرنا اور آخر میں ادبی سرگرمیوں کو بھی محفوظ کرنایہ سب کسی مسلسل اور غیر معمولی محنت کے بغیر ممکن نہیں۔یہاں ”جنون“ سے مراد بے سمت جوش نہیں بلکہ نادب کے لیے ایک ایسی مسلسل وابستگی ہے جو وقت، محنت اور ذاتی سہولت سے آگے بڑھ کر کام کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ یہی وابستگی ڈاکٹر منصور خوشتر کی ادارت کی نمایاں خصوصیت محسوس ہوتی ہے۔
”دربھنگہ ٹائمز“ اپریل تا ستمبر 2026 کا شمارہ اپنی وسعت، تنوع اور موضوعاتی گہرائی کے اعتبار سے اردو کے موجودہ ادبی رسائل میں خاص توجہ کا مستحق ہے۔ پروفیسر جمال اویسی اور پروفیسر ایم۔ کمال الدین کے خصوصی گوشے اس کی علمی اہمیت کو بڑھاتے ہیں، جب کہ فکشن، تحقیق، تنقید، شاعری، ترجمہ، سفرنامہ اور اطفال ادب کے حصے اسے ہمہ جہت ادبی جریدہ بناتے ہیں۔اس شمارے کی ایک اور بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں صرف بڑے اور معروف ناموں کے گرد ادب کی دنیا نہیں بسائی گئی بلکہ مختلف ادبی سرگرمیوں، کتابوں، رسائل، نشستوں اور نئی تحریروں کو بھی جگہ دی گئی ہے۔ اس طرح یہ شمارہ اپنے عہد کے ادبی ماحول کی ایک وسیع تصویر سامنے لاتا ہے۔اسے صرف مضامین کا مجموعہ کہنا اس کی معنویت کو محدود کرنا ہوگا۔ یہ دراصل بہار، بالخصوص دربھنگہ اور خطہمتھلا کی ادبی زندگی، اس کے علمی سرمائے اور معاصر ادبی سرگرمیوں کا ایک اہم ریکارڈ ہے۔ آنے والے وقت میں جب اس خطے کی اردو ادبی تاریخ مرتب کی جائے گی تو ”دربھنگہ ٹائمز“ جیسے رسائل کے شمارے یقیناً بنیادی ماخذ کی حیثیت اختیار کریں گے۔
ڈاکٹر منصور خوشتر کی ادارت میں شائع ہونے والا یہ خصوصی شمارہ اس اعتبار سے بھی قابل تحسین ہے کہ اس نے ادب کو صرف کتابوں اور شخصیات تک محدود نہیں رکھا بلکہ ادب کے پورے ماحول کو اپنے اندر سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔یہی کوشش ”دربھنگہ ٹائمز“ کو ایک عام ادبی رسالے سے ممتاز کرتی ہے اور یہی اس شمارے کی اصل کامیابی بھی ہے کہ اس نے اپنے عہد کے ادبی لمحوں کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ استفادہ ادبی دستاویز میں تبدیل کر دیا ہے۔9234772764
٭٭٭
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

