لیڈی باؤنسر
پرویز شہریار، نئی دہلی
ایک دن مالتی نے چلتے چلتے یوں ہی مجھ سے پوچھ لیا تھا۔
” ندیم صاحب! کیا آپ رومینٹک ہیں؟”
میں نے ایک سیکنڈ کے لیے سوچا، اپنی پوری شاعری پر غور کیا اور کہا — ہاں!”
” لیکن تم یہ کیوں پوچھ رہی ہو؟”
” آپ کو دیکھنے سے لگتا ہے۔”
"وہ کیسے؟”
میں نے اپنی پینٹ کی جیب میں دوبارہ ہاتھ ڈالتے ہوئے، بس یوں ہی رک کر اس کی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھ لیا۔
سردی کی نرم دھوپ میں صبح صبح کینٹین جاتے وقت اس کے تازہ دم چہرے پر ایک غیر معمولی سی دمک تھی۔ اُس سے نے کہا:
” آپ کا ہیئر اسٹائل، آپ کے چُست دُرست ڈریس، آپ کے سینس آف ہیومر اور آپ کے بات کرنے کے انداز سے آپ کی جاذبِ نظر شخصیت کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔”
"توکیا میں رومینٹک دکھتا بھی ہوں؟ کمال ہے!”
” آف کورس! آپ دِکھتے ہیں۔”
” میں تو سمجھ رہا تھا کہ میں صرف رومینٹک لکھتا ہوں۔ آج پتہ چلا — وہ بھی تم جیسی خوبصورت لڑکی سے کہ میں رومینٹک دکھتا بھی ہوں۔”
وہ اپنی تعریف سن کر شرمانے کی کوشش کر نے لگی۔ کیونکہ اسے میں اکثر ٹام بواۓ کہہ کر مخاطب کیا کرتا تھا۔ وہ جنس پینٹ اور شرٹ میں ہی اکثر و بیشتر آفیس آیا کرتی تھی۔ وہ بھی آستین کہنیوں تک چڑھی رہتی تھی جیسے کسی بد معاش کی پٹائی کرنے جا رہی ہو۔ میں اُسے مزاق میں اکثر کہتا تھا۔ لوگ تمہیں میرے ساتھ دیکھ کر لیڈی باؤنسر سمجھتے ہوں گے۔
وہ اس بات پر کھلکھلا کر ہنس دیتی تھی۔
اس کی بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں کا رنگ بھورا تھا، دھوپ میں اس وقت جنگلی بلّی کی آنکھوں کی طرح اس کی آنکھیں شوخی سے چمک رہی تھیں۔ وہ چلتی تو سڑک کے بیچوں بیچ جیسے کوئی مرکھنی گاۓ چلتی ہے۔
میں کہتا میرا باس اگر مجھے تمہارے ساتھ دیکھ لے تو وہ اپنا رستہ بدل لے گا۔ وہ سمجھے گا کہ راجیش کمار کسی لیڈی باؤنسر کے ساتھ آ رہا ہے۔
میری اس بات پر مالتی اور اتُل بہت زور سے ہنس دیتے تھے۔ میں کہتا زندگی میں ہنسنا بہت ضروری ہے ۔ اس سے ذہنی تناؤ دور ہو جاتا ہے… میرے ساتھ رہو گے تو ہمیشہ یوں ہی ہنستے مسکرا تے رہو گے۔
چند ماہ قبل وہ دفتر میں آئی تھی۔ پہلی ملاقات میں اس کے چھوٹے چھوٹے ہوںٹھوں کے عقب سے جھانکتے ہوۓ دانت کی وجہ سے وہ مجھے ذرا بھی دلکش نہیں لگی تھی۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس نے مجھے ذرا بھی متاثر نہیں کیا تھا۔
کہتے ہیں — انسان اور سکّے میں فرق ہے۔ کھوٹا سکّہ دونوں طرف سے کھوٹا ہوتا ہے، جبکہ انسان کا ایک پہلو اگر کمزور ہو تو کوئی ضروری نہیں کہ اُس کا دوسرا پہلو بھی کمزور ہو گا۔
ایک دن کچھ ایسا اتفاق ہوا کہ مالتی کو لے کر میری قائم کردہ راۓ سراسر غلط ثابت ہو گئی۔
میرے آفیس کے ایک اسٹاف نے کچھ کام کر کے مجھے نظر ثانی کے لیے دیا تو میں نے ٹیسٹ لینے کی غرض سے اس سے کہا۔
” مس مالتی سنہا ! میں ذرا مصروف ہوں دوسرے کاموں میں، اس لیے، آپ اس پر ایک نظر ڈال لیجیے، پلیز
اُس نے میرے ہاتھوں سے وہ دستاویز لے لیے اور اس کے دس منٹ بعد دو بہت ہی فاش غلطیاں نکال دیں۔
اس بات پر میں دل ہی دل میں اس سے مرعوب ہوگیا اور اس کی ذہانت کا بھی قائل ہوگیا۔ مجھے لگا، آج مجھے وہ اسٹاف مل گیا ہے جس پر میں واقعی اعتبار کر سکتا ہوں۔
میں نے اس کی موجودگی میں اپنے پرانے اسٹاف سے قدرے سختی سے کہا۔ ” یہ کیا بات ہے؟’
"آپ اتنے تجربہ کار ہیں، مشّرف صاحب، پھر بھی کل کی آئی ہوئی، اس لڑکی نے آپ کے کام میں دو دو فاش غلطیاں نکال دیں۔ حیرت ہے، آپ کو یہ غلطیاں کیوں نہیں نظر آئیں؟”
اس دن کے بعد سے، سبھی پرانے اسٹاف کو اس نے پیچھے چھوڑ کر میرے دل میں جگہ بنا لی تھی۔
وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھی۔
میں پڑھے لکھے شائستہ لوگوں کا شروع سے ہی قدردان رہا ہوں۔ کچھ وقت لگا لیکن رفتہ رفتہ ہماری ملاقات دوستی میں بدلنے لگی۔
ایک شام میرے شانے سے لگ کر وہ کہنے لگی۔
"مجھے انٹلیکچوئل لوگ بہت پسند ہیں۔
میرے بارے میں کیا خیال ہے؟ میں قدرے شوخی سے دریافت کیا۔
” آپ انٹلیکچوئل ہیں، اسی لیے آپ مجھے اچھے لگتے ہیں۔”
ایسی تعریف سن کر میں انکار بھی نہیں کر سکا اور اس نے اپنا مافی الضمیر بھی واضح کر دیا تھا۔ میں نے کہا۔
” میں خوش نصیب ہوں۔”
مجھے آپ جیسی تعلیم یافتہ دوست کی ضرورت تھی، جسے اگر کوئی برمحل شعر سناؤں تو وہ ماحول کے تناظر میں اسے سمجھ کر ریسپانس کر سکے۔
وہ میری طرف دیکھ کے معنی خیز نظروں سے مسکرائی۔
میں نے مزید کہا۔ ” یہ خوبی ہر تعلیم یافتہ شخص کے اندرہو، کوئی ضروری نہیں ہے ۔۔۔ یہ خدا داد صلاحیت ہے جو قدرت سے ودیعت ہوتی ہے۔
وہ صرف اتنا کہہ کر اپنے شرم سے تمتماۓ ہوۓ چہرے کو میری طرف اٹھا کر دیکھتے ہوئے بولی۔
"یو آر رائیٹ!”
پہلے بھی اس نے مجھ سے احسان مندی کا اظہار کیا تھا، جب وہ جذباتی ہو جاتی تو عموماً فرطِ جذبات سے مغلوب ہو کر انگلش میں اظہار خیال کرتی تھی۔ اور وہ میری کمزوری تھی۔ اُس کی باتوں سے لگتا تھا کہ وہ بے وفائی نہیں کرے گی۔ کیونکہ جس شخص کو آپ کے احسان کا احساس ہو وہ کبھی احسان فراموش نہیں ہو سکتا ۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ میرے قریب آتی چلی گئی ۔ یہاں تک کہ کبھی میں اسے اپنے پرانے شناساؤں کے ساتھ دیکھتا تو مجھے حسد ہونے لگتی تھی ۔
ایک بار میں نے کہا تھا۔
"آؤ! تمہیں میٹرو اسٹیشن تک چھوڑ آتا ہوں۔”
ہم جیسے ہی کار اسٹارٹ کر کے آگے بڑھے اسے جگل کشور نے فون گیا۔
"میرے ساتھ چلو۔ میں تمہیں گھر تک چھوڑ دوں گا۔”
یہ سنتے ہی مالتی نے مجھ سے کار روکنے کو کہا اور جلدی سے اترتے ہوۓ بولی۔
بائی سر! کل ملتی ہوں۔”
اُس وقت مجھے بہت برا لگا۔ میں نے اسی وقت ارادہ کر لیا۔
جگل کے بچے کو اگر اُس کی زندگی سے دودھ کی مکھی کی طرح نکال کر نہ پھینک دیا تو میرا نام بھی راجیش کمارندیم نہیں۔
وقت گزرتا گیا۔۔۔
حالات نے ہم دونوں کو ایک دوسرے سے بہت قریب کردیا۔ اتنا کہ اگر ہم میں سے کوئی دوسرا ساتھ نہ ہوتا تو ہمارے دوست احباب پوچھ لیتے کہ مالتی دکھ نہیں رہی ہے۔ اسی طرح مالتی سے لوگ پوچھ بیٹھتے راجیش کمار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ گویا عمر کی تفاوت کے باوجود ہم ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہو گئے تھے۔
ہم باغوں میں، جنگلوں میں پہاڑیوں پر گھومنے کے منصوبے بنانے لگے۔ ہمارے دوستوں کا اپنا چھوٹا سا حلقہ تھا، وہ سب ہماری دوستی کا لحاظ رکھتے تھے۔ مالتی کبھی ہماری کسی بات پر ناراض ہو جاتی تو وہ روٹھ کر ہم سے دور چلی جاتی تھی۔
ایک شام ہم دفتر سے نکل کر تنہائیوں کی پرسکون خاموشی میں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے سڑک پر چہل قدمی کر رہے تھے کہ اچانک سیل فون کی گھنٹی بجی۔ میں نے اس کے آئی فون کے ڈسپلے کی طرف دیکھا۔ میرے خیالی رقیب جگل کشور کا نام صاف نظر آرہا تھا۔ مالتی نے فوراً فون بند کر دیا۔
میں نے پوچھا کس کا فون کال تھا، کہنے لگی، "اسی یو کے پی کا”
میرے دریافت کرنے پر کہ یہ "یو کے پی” کیا ہے؟ مالتی نے مستی سے میری طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا، "الّو کا پٹھا”
مطلب؟ میں کچھ سمجھا نہیں۔ کہنے لگی، ” ارے وہی جگل کشور، یو کے پی کہیں کا۔”
اس بات پر ہم دونوں دیر ہنستے رہے۔ واقعی! اُس وقت مجھے مالتی پر بڑا فخر محسوس ہوا۔
شاید، میری انا کی تسکین ہو گئی تھی۔ مجھے مالتی سے بھی زیادہ خود پر فخر محسوس ہوا۔
"محبت اسے کہتے ہیں۔”
میں نے دونوں ہاتھوں سے اس کے چہرے کو آہستگی سے قریب لا کر اس کی پیشانی کو چوم لیا۔
وہ پوری طرح میری محبت میں رم چکی تھی۔ یا یوں کہیئے کہ ہم دونوں پوری طرح سے ایک دوسرے کی محبت میں رم چکے تھے۔ لیکن مجھے اس بات پر ناز تھا کہ ہماری محبت کسی بھی طرح کے حرص و ہوس سے پاک تھی۔
تبھی مالتی نے بڑی اپنائیت سے شکایت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
” شروع میں آپ میرے ساتھ بہت سخت رویہ رکھتے تھے۔ مجھے تب اچھا نہیں لگتا تھا۔ ” اس نے تھوڑے توقف کے بعد کہا۔
” مجھے معلوم تھا۔ آپ ایسے سنگ دل نہیں ہیں۔”
میں نے کہا۔” مجھے اس گنوارو جگل کشور کے ساتھ تمہارا ہر وقت گھومنا پھرنا بالکل پسند نہیں تھا۔ وہ تمہارے لائق نہیں ہے۔ وہ چھوٹے قصبے کا رہنے والا، اب بھی عورت کو اپنی جاگیر سمجھتا ہے۔
” عورت کی خوبصورتی اس کی آزادی میں نہاں ہے!”
کاش! ہر مرد آپ جیسے ہوتے۔ وہ اس بات کو سمجھ سکتے کہ عورت اپنی مرضی سے ملتفت ہونا چاہتی ہے۔ اُسے زور زبردستی سے آمادہ نہیں کیا جا سکتا۔
بزرگوں کا قول ہے کہ ہم پیا سے گھوڑے کو پانی پینے سے روک سکتے ہیں، لیکن جس گھوڑے کو پیاس نہیں لگی ہو اسے زبردستی پانی نہیں پلا سکتے۔۔۔۔۔
وقت کے پنچھی اپنے پنکھ پھیلاۓ سبک روی کے ساتھ آسمان کی کھلی فضا میں اڑتے رہے۔
ہماری ملاقات جب بھی ہوتی، ہم ایک دوسرے کی تعریف کیا کرتے تھے۔ شہر میں ایسے کئی مقامات تھے، جہاں کی پر سکون تنہائیوں میں ہم اکثر وقت گزارنے لگے تھے۔
"کاش! ہم دونوں ایک دوسرے سے کبھی جدا نہ ہوں۔ مالتی نے دل کی گہرائیوں سے یہ بات کہی تھی۔
"ندیم صاحب!”
"میں آپ سے کبھی بے وفائی نہیں کروں گی۔”
لیکن، میں نے سوچا۔ یہ رٹا رٹایا ڈائیلاگ ہے۔ کہیں سے سن لیا ہوگا اس نے۔
بات آئی گئی ہو گئی۔
لیکن آج اچانک چودہ سال بعد دہلی ہوائی اڈے پر میری ملاقات جب مس مالتی سے ہوئی تو اس کی پُر وقار شخصیت کو دیکھ کر چند ثانیے کے لیے میں دنگ رہ گیا۔ نیلی شیفون کی ساڑی میں وہ بہت گریس فل لگ رہی تھی، ہلکی پنک کلر کی لپ اسٹک ، ناک میں حسب معمول روبی جیم اسٹون کی گلابی نیوز پن چمک رہی تھی۔ مالتی ہو بہو ویسی ہی تھی جیسی برسوں پہلے مجھ سے ملی تھی۔ صرف بالوں میں ہلکی سی چاندی اتر آئی تھی۔
میں نے اپنے بیوی بچوں کا تعارف کراتے ہوئے، عجلت میں پوچھ لیا:
"تم کس کے ساتھ ہو؟”
"میرا مطلب تمہارے ہسبینڈ کہاں؟”
اس نے چند لمحوں کے لیے اپنی نظریں جھکا لیں۔
پھر پوری اعتماد کے ساتھ اپنے دونوں ہاتھوں کو سینے پر لپیٹ کر اور سر کو قدرے بلند کرتی ہوئی بولی:
"میں نے آپ سے کہا تھا ناں…
میں بے وفائی نہیں کروں گی۔”
آپ کے تبادلہ، پروموشن اور ممبئی منتقل ہو جانے کے بعد بہت رشتے آئے۔ ایک سے بڑھ کر ایک پیسے والوں کے…
لیکن۔۔۔۔۔۔
میں نے شادی نہیں کی۔ جانتے ہیں کیوں؟
مالتی نے، اس بار، ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بڑی قطعیت کے ساتھ کہا۔
"میری قسمت میں شاید، کوئی انٹلیکچوئل تھا ہی نہیں۔”
یہ سن کر میں شرمندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبتا چلا گیا۔۔۔۔ وہی رٹا رٹایا جملہ
دفعتاً مجھے لگا، کسی نے میرے منہ پر ایک زوردار گھونسہ جڑ دیا ہے اور خودبخود میری زبان سے یہ فقرہ نکلا اور ہوا میں تحلیل ہوگیا:
"لیڈی باؤنسر!”

