دور جدید میں اخلاقی قدورں میں کافی گراوٹ آئی ہے۔اخلاقی قدروں میں گراوٹ کی وجہ سے سماج کا شیرازہ منتشر ہو رہا ہے۔ خاص طور سے مسلمانوں میں اب اخلاقی قدروں کا فقدان پایا جاتا ہے۔ جب کہ مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اخلاقیات کی اعلٰی تعلیم دی گئی ہے۔ مسلمانوں کی تربیت اس نبی رحمت کے ذریعے کی گئی ہے جس کے بارے میں اللہ فرماتا ہے:’’وانک لعلیٰ خلق عظیم‘‘۔ ( ۱) ترجمہ:’’اور بے شک آپ اخلاق (حسنہ) کے اعلیٰ پیمانہ پر ہیں‘‘۔ اللہ کے رسول نے فرمایا:تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اخلاق کے اعتبار سے سب سے اچھاہو‘‘ (۲) اس کے باوجود مسلمان اخلاقیات کے میدان میں سب سے نیچے نظر آتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تعلیم و تعلم میں اخلاقیات کی کمی ہے۔ہمارا تعلیمی نصاب اور ہمارے پڑھانے کا طریقہ دونوں اخلاقیات سے خالی ہیں۔ آج ہم نے بہت اچھے ڈاکٹر ، بہت اچھے انجنئر، بیرسٹر ، اساتذہ اور جرنلسٹ تیار کردیا ہے ۔ مگر جب ہم ان کی زندگیوں میں جھانکتے ہیں تو وہ اخلاقی طور پر مردہ نظر آتے ہیں ۔ وہ ایک ایسے خوبصورت پھول کی طرح نظر آتے ہیں جس میں کوئی خوشبو نہیں،وہ ایک ایسے پھل کی طرح ہیں جس میں کوئی مزہ نہیں۔
احیاء العلوم الدین کے جلد سوم میں اما م غزالی نے’’بچوں کی تعلیم و تربیت اور ان کے اخلاق کی تہیذیب و تحسین ‘‘کے نام سے ایک باب باندھا ہے۔ امام رازی بچوں کی اخلاقی تربیت کو ایک اہم فریضہ قرار دیتے ہیں ، وہ لکھتے ہیں:
’’بچوں کی تعلیم اور انکی اخلاقی تربیت ایک اہم فریضہ ہے بچہ والدین کے پاس ا للہ کی امانت ہوتاہے، اس امانت کہ حفاطت ضروری ہیــ‘‘۔(۳)
امام غزالی بچے کے دل کو ایک صاف و شفاف شئے سے تعبیر کرتے ہیں ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جان لاک (John Locke) نے Tabula Rasa (Blank Salate) کا تصور امام غزالی سے اخذ کیا ہے۔ امام غزالی فرماتے ہیں:
’’بچے کا دل صاف ستھرا ،رواح کے عیوب سے پاک ، سادہ معصوم، اور ایک قیمتی موتی کی طرح نازک اور گراں قیمت ہوتا ہے، نہ اسکی سطح پرکوئی نقش ہوتا ہے ،نہ اس کے آئینے میں کوئی تصویر ہوتی ہے اس کی سطح پر جو بھی نقش کر دیا جائے وہ اسے قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے مثلاًاگر اسے خیر کی تعلیم دی جائے ، اور اسے نیک اعمال کا عادی بنا یا جائے تو اس کی نشو نما خیر اور نیک اعمال پر ہوگی‘‘۔(۴)
امام غزالی کہتے ہیں اگر انسان اپنی اولاد کی اچھی تربیت نہ کرے تو اسے آخرت میں اپنے غفلت کی سزا بھگتنی ہوگی وہ قرآن کی آیت یا ایھاالذین امنو قو انفسکم و اھلیکم نارا کو پیش کرتے ہیں۔اور بچوں کی تربیت کے متعلق فرماتے ہیں:
’’ جب ماں باپ اپنے بچوں کو دنیاکی آگ سے بچاتے ہیں تو آخرت کی آگ سے بچانا بدرجۂ اولیٰ ضروری ہے، آخرت کی آگ سے حفاظت کا طریقہ یہ نہیں کہ اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچ لیا جائے، اس کے لئے ضروری ہے کہ بچے کو ادب سکھلایا جائے، اس کے اخلاق کی تہذیب و تحسین کی جائے اسے بری صحبت سے دور رکھا جائے ، لذت کوشی ، آرام طلبی ، اور تزئین و آرائش کی خواہش کو اس کی نظر میں حقیر بنانے کی کوشش کی جائے تاکہ وہ جادۂ حق پر گامزن رہے،اور ابدی ہلاکت سے محفوظ رہے‘‘۔(۵)
امام غزالی کے نزدیک بچے کی تربیت روز اول سے ہی شروع ہوجاتی ہے۔ اس کی اچھی نگہ داشت کے لئے اچھی خاتون کا انتخاب کرنا چاہئے اور مال حلال سے اس کی پرورش کرنی چاہئے۔ وہ فرماتے ہیں:
’’بچے کی تربیت روز اول ہی سے ضروری ہے، چناچہ اس کی پر ورش اور رضاعت کے لیے کوئی ایسی عورت متعین کی جائے جو نیک اور دین دار ہو ، حلال رزق کھاتی ہو کیونکہ حرام غذا سے پیدا ہونے والے دودھ میں برکت نہیں ہوتی،حرام غذا سے پرورش پانے والا بچہ بڑا ہوکر خبث اوربدی کی طرف مائل ہوتا ہے‘‘۔(۶)
امام غزالی بچے کے اخلاق کی درستگی کے لئے حیا ء کو بہت ہی اہم محرک مانتے ہیں۔جب انسان سے حیاء چلی جاتی ہے تو وہ ہر طرح کی شرمناک حرکتیں بے باکی سے کرتا ہے۔آج اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالیں تو ہر طرف بے حیائی کا دور دورہ ہے۔شراب نوشی،سگریٹ نوشی ،ایو ٹیزنگ(Eve-Teasing)،ہم جنس پرستی، عشق ومعاشقہ کے مناظر ہر طرف نظر آتے ہیں۔ یہ سب حیاء کے مفقودہو جانے کی وجہ سے ہے۔ امام غزالی فرماتے ہیں:
ــ’’بچے میں حیا ء کا ظہور اللہ تعالی کی ایک اہم ترین نعمت ہے، اور ایک ایسی بشارت ہے جو اخلاق کے اعتدال اور قلب کے تزکیہ پر دلالت کرتی ہے، اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بچہ بڑا ہوکر عقل میں کمال اور شعور میں پختگی حاصل کرے گا‘‘۔(۷)
ابتداء سے بچے کی تربیت کا طریقہ
کھانے کو خواہش
بچوں میں سب سے پہلے کھانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور وہیں سے بچوں میں اچھی اور بری عادتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔آج کل بائیں ہاتھ سے کھانا اور پینا ایک فیشن بن گیا ہے۔کھا نا کھاکر پلیٹ میں چھوڑ دینا ، گلاس میں تھوڑا مشروب چھوڑ دینا یہ سب بھی فیشن کا حصہ بن گیاہے، اگر بچپن سے ہی صحیح نہج پر بچوں کی تربیت ہو جائے تو ان کی عادتیں اور خصلتیں بہتر ہو جاتی ہیں۔ امام غزالی کھانے پینے سے متعلق کس طرح تربیت کی جائے اس کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’بچے پر سب سے زیادہ غلبہ کھانے کی خواہش کا ہوتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے بچے کو کھانے کے آداب سکھلائے جائیں، اور اسے بتلایا جائے کہ کھانا دائیں ہاتھ سے کھائے، کھانا شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ کہے ، اپنے سامنے سے کھائے ،اگر کچھ لوگ ساتھ کھا رہے ہوں تو ان سے پہلے کھانا شروع نہ کرے ،کھانے کو گھور کر نہ دیکھے، نہ کسی کو کھاتے ہوئے گھورے،کھانے میں جلدی نہ کرے، اچھی طرح چبا کر کھائے ۔‘‘(۸)
کپڑوں کا انتخاب
امام غزالی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بچوں کو سادہ لباس پہنانا چاہئے، زرق برق کے لباس پہنانے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ایسے کپڑے بھی ان کے جسموں پر نہ ہوں جسمیں زنانہ شباہت ہو، اور ان لوگو ں سے بھی بچوں کو دور رکھنا چاہئے جو اعلیٰ قسم کے لباس زیب تن کرتے ہیں۔امام غزالی فرماتے ہیں:
لڑکے کو سفید کپڑے پہننے کی عادت ڈالنی چاہیے ، اسے بتلا دینا چاہیے کہ رنگین شوخ اور بھڑک دار کپڑے عورتیں پہنتی ہیں ، مردوں کو اس طرح کا لباس زیب نہیں دیتا ، جو لڑ کے زنانہ لباس میں ملبوس نظر آئیں اپنے بچے کے سامنے ان کی برائی کرنی چاہئے اور ان کے لباس کی مذمت کرنی چاہئے ، اپنے بچوں کو ان لڑکوں کی صحبت و ہم نشینی سے بچائے جنہیں آرام طلبی کی عادت ہو ، اور بھڑکیلے ریشمی کپڑے پہنے کا شوق ہو‘‘(۹)
مکتب کی تعلیم
بچوں کی اچھی تربیت کے لئے اما م رازی مکتب کی تعلیم کو اہمیت دیتے ہیں۔ اگر چہ بچے کی بنیادی تربیت گھر سے ہی شروع ہوجاتی ہے،اس وقت ان کی صحیح نگہداشت نہ کی جائے تو وہ بہت ساری بری عادتو ں میں ملوث ہو جاتا ہے جیسے چغل خوری، چوری، حسد، بدتمیزی وغیرہ۔ بچوں کی صحیح تربیت اور ان میں اخلاق حسنہ کو پیدا کرنے لے لئے امام رازی کچھ نصاب بھی پیش کرتے ہیں ۔ وہ فرماتے ہیں:
’’ابتدائی تربیت کا تعلق گھر سے ہے ، اس کے بعد بچے کو مکتب بھیجنا چاہئے ، تاکہ وہ کسی نیک اور ماہر استاذ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کر سکے،اور اس سے قرآن کریم حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم، اکابر اولیاء اللہ کے واقعات، احوال اور حکایات کا علم حاصل کرے ‘‘۔(۱۰)
امام رازی کے اس قول سے ہمیں اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ بچوں میں اخلاق حمیدہ پیدا کرنے کے لئے ہمیں نیک اور ماہر استاد کی بھی ضروت ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں مولانا آزاد کا تصوّرِ تعلیم – ڈاکٹر صفدر امام قادری)
بچوں کی دل جوئی
بچوں میں اچھے اخلاق کو پراون چڑھانے کے لئے وقتاََ فوقتاََ ان کی دل جوئی بھی کرتے رہنا چاہئے ۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنے کاموں کی تعریف چاہتا ہے ، وہ چاہتا ہے کہ اس کے اچھے کاموں کو سرہا جائے ۔ اس سے اسے تقویت ملتی ہے اور وہ مستقبل میں بہتر سے بہتر کر کے دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ امام رازی فرماتے ہیں:
اگر بچہ کوئی قابل تعریف کام کرے مثلاََ امتحان میں کامیاب ہو ، یا کسی کے ساتھ حسن سلوک کرے، یا دیانت داری کی کسی آزمائش میں پورا اترے تو اسے انعام بھی دینا چاہئے ، اس سے بچے میں اچھے اچھے کام کرنے کے جذبے کو تحریک ملتی ہے ، انعام کے ساتھ لوگو ں میں بچے کی تعریف بھی کرنی چاہئے ، بعض اوقات قیمتی سے قیمتی انعام بھی اتنا موثر نہیں ہوتا ، جتنا موثر تعریف کا ایک لفظ ہو جاتا ہے‘‘(۱۱)۔
پردہ پوشی
بچپن میں اکثر بچوں سے غلطیاں سرزد ہوتی ہیں۔ کبھی وہ جان بوجھ کر اور کبھی انجانے میں کرتے ہیں۔اکثر غلطیاں کر لینے کے بعد وہ پشیماں ہوتے ہیں ۔ اس صورت میں ہمیں ان کے احساسات کا خیال رکھانا چاہیے۔ اگر غلطی بہت بڑی نہیں ہے تو ہمیں در گزر اور پردہ پوشی سے کام لینا چاہئے۔ امام غزالی فرماتے ہیں:
’’اگر بچے سے اتفاقاً کو ئی غلطی سرزد ہوجائے اور جانتا ہو کہ یہ غلطی اس کی عادت نہیں بلکہ بچپن کے تقاضے سے ایسا ہوگیا ہے تو چشم پوشی سے کام لینا چاہیے ، اور دوسرے لوگو ں کے سامنے بھی اس کے راز سے پردہ نہ اٹھانا چاہیے، خاص طور سے اس وقت جب بچہ اپنی غلطی خود چھپانا چاہتا ہو‘‘۔(۱۲)
باپ کا رعب
باپ گھر کا سر پرست ہوتا ہے، گھر کی تمام چیزیں اس کے زیر اثر ہوتی ہیں۔گھر کی ہر اچھے اور برے معاملات کا وہ ذمہ دار ہوتا ہے۔ گھر کے اندر اسے ایک ایسا رول ادا کرنا ہوتا ہے جس میں محبت کے ساتھ ساتھ رعب بھی ہوتا ہے۔ اگر وہ خالی محبت کا پہلو ظاہر کرے تو بچے بہت زیادہ شوخ ہوجاتے ہیں اور باپ کا ڈر ختم ہو جاتا ہے، اگر باپ صرف رعب کا پہلو اختیار کرے تو بچوں پر اس کے بہت منفی اثرات پڑتے ہیں۔ بعض دفعہ بچے بہت ساری نفسانی الجھنوں میں ملوث ہوجاتے اورانکی شخصیت اثر انداز ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں امام رازی فرماتے ہیں:
’’باپ کو اپنے بیٹے سے اتنا بے تکلف نہ ہونا چاہئے کہ وہ اس کی کسی بات کو کئی اہمیت ہی نہ دے کلام کی ہیبت باقی رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ بچے کو ہر وقت ملامت اور عتاب کاہدف نہ بنائے رکھے، بچوں کے دلوں میں باپ کا ادب اور خوف اتنا ہونا چاہیے کہ ماں انہیں باپ کے حوالے سے ڈرا سکے، اور انہیں منکرات سے باز رکھے‘‘۔(۱۳)
آرام طلبی سے پرہیز
آرام طلبی ایک ایسی بیماری ہے جس سے انسان کے اندر سستی اور کاہلی پیدا ہو جاتی ہے۔ سستی اور کاہلی کی وجہ سے انسان اپنی زندگی کے تمام اچھے مواقع کھو دیتا ہے۔ وہ آج کا کام کل پر اور کل کا کام پرسوں پہ ٹالتا رہتا ہے ، نتیجتاً وہ کوئی بھی کام نہیں کرپاتا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم بچپن سے ہی بچوں کو محنت کا عادی بنائیں تبھی وہ زندگی کی مشکلات کا سامنا کر پائے گیں، بچوں سے محنت کا کام نہ کرانے کی وجہ سے وہ آج موٹاپے(Obesity)کا شکار ہو رہے ہیں ۔ Indian Express مطابق چائنا کے بعد ہندوستان میں سب سے زیادہ Obese بچے پائے جاتے ہیں۔ہندوستان میں ایسے بچوں کی تعدا د14.4ملین ہے۔ ’’India has the second heighest number of obese childern in the world after the China,according to an alarming study which found that 14.4 million kids in the country have excess weight ‘‘(۱۴)موٹاپے کی وجہ سے جسمانی ساخت خراب ہو رہی ہے اور وہ کند ذہن بھی ہو رہے ہیں۔ایر کنڈیشن میں رہنے کی وجہ سے ان کی ہڈیاں خراب ہو رہی ہیں۔ کمپوٹر اور الیکڑانک گیجٹ کے زیادہ استعمال سے ان کی ذہنی صلاحیت اور آنکھوں کی بینائی دو نو ں متاثر ہو رہی ہیں۔ امام غزالی آرام طلبی اور عیش پسندی کے متعلق فرماتے ہیں:
’’بچے کو دن میں سونے سے منع کرنا چاہیے، کیونکہ دن میں سونے سے جسم میں سستی پیدا ہو جاتی ہے، اور عمل کی قوت میں اضمحلال آجاتا ہے،البتہ رات میں سونے سے ہر گز منع نہ کرے، بچوں کو نرم گداز بستروں پر سلانے کی بجائے سخت اور کھردرے بستر پر سونے کی عادت ڈالنی چاہیے تاکہ آرام طلبی پیدا نہ ہو، اور اعضاء سخت رہیں، اس کے جسم کو فربہ کرنے کی کوشش نہ کرے ، کیوں کہ فربہ بدن آدمی کو عیش پسند بناتاہے، بستر اور لباس میں سادگی ملحو ظ رہنی چاہئے‘‘۔ (۱۵)
فخر و تکبر سے اجتناب
بچوں کو فخر وتکبر اور مال کی نمائش کرنے سے روکنا چاہئے ، ان کی اس طرح تربیت کرنی چاہئے کی وہ اپنے ساتھیوں کے اوپر فخر وتکبر نہ دکھائے۔ اس سے ان بچوں کی دل آزاری ہوتی ہے جو غریب اور پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ امام رازی فرماتے ہیں:
’’اگر اس کا باپ کسی خاص چیز کا مالک ہو تو اپنے ہم عصروں میں اس پر فخر نہ کرے چاہے وہ چیز کھانے پینے سے متعلق ہو ،یا پہنے اوڑھنے سے یا لکھنے سے بچے کو انکساری ،تواضع ، رفقاء کرام اور ہر شخص کے ساتھ مہربانی سے پیش آنے کا عادی بنانا چاہئے ‘‘۔(۱۶)
خوداری کی تعلیم
بچوں کی بچپن سے ہی ایسی تربیت ہونی چاہیے کی انکے اندر خوداری پیدا ہو۔ انکے ماں باپ کی امیری اور غریبی کا ان پر ایسا اثر نہ ہونا چاہیے کہ انکی شخصیت خوداری سے خالی ہو۔ اگر بچہ امیر گھرانے سے ہو تو اسے سمجھانا چاہیے کی وہ اپنا دل بڑا رکھے اور ضرورت مندوں کی حسب ضرورت مدد کرے۔ اگربچہ غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہو تو اسے سمجھانا چاہیے کی کمی پر قناعت کرنا بہت ثواب کا کام ہے اور دورسروں سے لینا یا مانگنابہت بری بات ہے۔ ایسے لوگ جو اپنی ضروریات کے لیے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے ،امام غزالی اسے کتّے سے اس کی مثال دیتے ہیں۔اس ضمن میں امام غزالی فرماتے ہیں:
’’اگر بچہ امیر زاداہ ہو تو اسے سمجھانا چاہئے کہ تمہاری شان دینے میں ہے لینے میں نہیں ہے۔کسی سے کچھ لینا ذلّت کی بات ہے، اگر غریب ہے تو کہنا چاہئے کہ کسی سے کچھ لینا خوداری کے خلاف ہے، اور کتّے کا شیوہ ہے، کتّا ہی ایک لقمہ کی خاطردم ہلاتا فرتا ہے‘‘۔(۱۷)
مجلس کے آداب
انسان کا لہجہ اور اس کے طور طریقے اس کی تربیت کا پتہ دیتے ہیں۔ کھانے پینے اور بیٹھنے کے طریقہ سے ہی لوگ اس بات کا اندازہ لگا لیتے ہیں کی یہ انسان کتنا با ادب ہے یہ کتنا بے ادب ہے۔امام غزالی فرماتے ہیں:
’’بچوں کو یہ عادت ڈالنی چاہئے کہ وہ بیٹھنے کی جگہوں پر تھوکنے سے گریز کریں ،دوسروں کے سامنے جمائی نہ لیں، کسی کی طرف پشت نہ کریں، مجلس میں ایک پائوں پر دوسرا پائوں نہ رکھیں، نہ ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھیں ، نہ ہاتھ کو تکیہ بنائیں، یہ سب امور سستی کی علامتیں ہیں، بچوں کو بیٹھنے کا طریقہ بتلا دینا چاہئے، زیادہ بولنے سے بھی منع کرنا چاہئے اور بتلانا چاہئے کہ زیادہ بولنا بے شرمی پر دلالت کرتا ہے، اور یہ کمینوں کی عادت ہے‘‘۔(۱۸)
اس موضوع سے متعلق امام غزالی اور بھی نصیحتیں کرتے ہیں مثلاًزیادہ قسمیں نہ کھانا،مجلس میں سب سے پہلے نہ بولنا،بڑوں کی بات غور سے سننا، زیادہ سوال نہ کرنا،بڑوں کو جگہ دینا ، آنے والوں کو جگہ دینا وغیرہ وغیرہ۔
Corporal Punishment (جسمانی سزا)
بچوں کی تربیت کے لئے کبھی کبھی انہیں ہلکی سزا بھی دینی پڑتی ہے۔ کچھ لوگ اس کے لئے ہاتھوں کا استعمال کرتے ہیں، کچھ حضرات چھڑی کا، کوئی مرغا بنا دیتا ہے، اور کبھی کدھار کچھ سخت گیر استاد کافی تشدد پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ ہندوستان اور مغربی ملکوں میں Corporal Punishment پر پوری طرح پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اگر کوئی استاد اس میں ملوث پایا جاتا ہے تو اس پر قانونی کاروائی ہو جاتی ہے ۔ سزائوں پر پابندی عائد ہو جانے سے کافی مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں اور منفی بھی۔ منفی اثر یہ پڑا ہے کہ طلبا ء کے اندر سے استادوں کا خوف نکل گیا ہے ۔ مار کے ڈر سے جو طلبا کلاس کے نظم و ظبط کے پابند تھے اب وہ آزاد ہو گئے ہیں۔ بڑی بے باکی سے وہ اب ایسے کام کر گزرتے ہیں جن کا پہلے کر پانا بڑا مشکل تھا۔ اب استاد بے بس اور شاگرد آزاد نظر آتے ہیں۔مار کے ڈر سے جو بچے اپنا ہوم ورک اور دوسرے کام وقت پر کر لیاکرتے تھے ، اب وہ بچے بڑی بے باکی کا ثبو ت پیش کر رہے ہیں۔جسمانی سزائوں پر پابندی عائد کر دینے سے جو منفی اثرات مرتب ہو ئے ہیں اس پر اب مغربی ممالک نظر ثانی کر رہے ہیں۔ اب دوبارہ سے یہ رجحان پیدا ہورہاہے کہ ہلکی جسمانی سزا بچوں کی تعلیم تربیت کے لئے ضروری ہے۔۳۰ اگست ۲۰۱۷ کی Parent.com کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے بائیس سٹیٹ میں اب بھی جسمانی سزائیں دینے کی اجازت ہے۔’’The US Depatmnet of education put the number a bit differently, with only 28 states banning corporal punishment and 22 allowing it”.(۱۹) امام رازی بھی کسی حد تک جسمانی سزا دینے کے قائل نظر آتے ہیں۔وہ بچوں کو نصیحت کرنے کہتے ہیں کہ:
’’بچوں کو سمجھایا جائے کہ وہ استاد کے مارنے پر زیادہ شور و غل نہ کریں، نہ سفارشی تلاش کریں،بلکہ صبر کریں، صبر کرنا بہادورں اور مردوں کا شیوہ نہیں ہے، واویلا کرنا عورتوں کی عادت ہے‘‘۔ (۲۰)
مصادر و مراجع
۱۔سورۃ القلم:۴
۲۔ترمذی
۳۔ غزالی، ابوحامد محمد،احیاء العلوم الدین،دارالاشاعت اردو بازار، کراچی، جلد سوم، ص۔۱۲۲
۴۔ایضاً،ص۔۱۲۲
۵۔ایضاً،ص۔۱۲۲
۶۔ایضاً،ص۔۱۲۲
۷۔ایضاً،ص۔۱۲۲
۸۔ایضاً،ص۔۱۲۲
۹۔ایضاً، ص۔۱۲۳
۱۰۔ایضاً،ص۔۱۲۳
۱۱۔ایضاً،ص۔۱۲۳
۱۲۔ایضاً،ص۔۱۲۳
۱۳۔ایضاً،ص۔۱۲۳
۴۱۔The Indian Express,June 13, 2017
۱۵۔غزالی، ابوحامد محمد،احیاء العلوم الدین،دارالاشاعت اردو بازار، کراچی، جلد سوم،،ص۔۱۲۳
۱۶۔ایضاً،ص۔۱۲۴
۱۷۔ایضاً،ص۔۱۲۴
۱۸۔ایضاً،ص۔۱۲۴
۱۹۔http://www.parent.com/19-satates-still-legal-school-official-hit-children/
۲۰۔غزالی، ابوحامد محمد،احیاء العلوم الدین،دارالاشاعت اردو بازار، کراچی، جلد سوم،،ص۔۱۲۴
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

