Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیمنصابی مواد

نئے افسانے میں موضوعاتی تنوع-محمد غالب نشتر

by adbimiras اگست 19, 2020
by adbimiras اگست 19, 2020 1 comment

اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں اردوافسانے کی ایک صدی مکمل ہوئی ۔گذشتہ ایک صدی میں اس صنف میں بہت سے تجربات ہوئے اورتمام تجربات نے اپنانقش افسانے پرضرور چھوڑاخواہ رومانیت پسندی کی لہرہو، حقیقت نگاری کادورہو، ترقی پسندی کے اصول وضوابط ہوں ،جدیدیت کارجحان ہویادوسرے مغربی افکارونظریات سے مستعارلی گئیں تھیوریز ۔ الغرض تمام رجحانات ونظریات نے اس صنف پرنقش ثبت کیاہے ۔اس کی ایک وجہ تویہ ہوسکتی ہے کہ افسانہ بہ ذات خودمغربی صنف ہے اوریہ کہ اس صنف میں ہرنظریات کوقبول کرنے کی صلاحیت بہ درجۂ اتم موجود ہے ۔ اردوافسانے کی ایک صدی گذرجانے کے بعدنوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ اسے بین الاقوامی شارٹ اسٹوریز کے ہم پلّہ رکھاجاسکتاہے ۔ ہیئت واسلوب کے حوالے سے بھی بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں تودوسری طرف موضوعاتی تنوع کاعمل بھی جاری وساری ہے ۔ اکیس ویں صدی تک آتے آتے اردوافسانے کے موضوعات میں حیرت انگیزطورپرتبدیلی واقع ہوئی ہے ۔ اردو افسانے کے ابتدائی دورمیں رومانی لہر، حسن وعشق کی واردات اورفوق الفطری عناصر کی بہتات  تھی جوترقی پسندتحریک کے دورمیں روبہ زوال ہوئی،معاشرتی مسائل اورخصوصاً دیہی مسائل کوافسانہ نگاروں نے اختیار کیا۔ اس کے بعد تقسیم کے المیے نے ہجرت ، کرب، قتل وغارت گری کاموضوع دیاتوترقی پسندی ماند پڑنے لگی اورساٹھ کی دہائی تک آتے آتے جدیدیت نے اپنے پَرپھیلانے شروع کردیے ۔ وجودیت کامیلان ساٹھ کے عشرے میںاس قدرحاوی رہاکہ تقریباً ہرافسانہ نگارنے بے چہرگی ، بیگانگی ، شکستگی اورفردیت کارونارویا۔ اسّی کی دہائی کے بعدیہ میلان بھی ردّی کی ٹوکری میں جا پڑا توتازہ دم افسانہ نگاروں نے روایات سے استفادہ بھی کیاساتھ ہی نئی روایات قائم کرتے ہوئے سماجی وسیاسی منظرنامہ بھی بیان کیا۔ اکیسویں صدی تک آتے آتے اردو افسانہ جن نئے موضوعات سے دوچارہواان میں چندکے موضوعات اس طرح سے بیان کیے جاسکتے ہیں:

فرقہ وارانہ فسادات اوردہشت کے ماحول کی عکاسی ،تقسیم کے دیرپااثرات ، دستانوی طرزکااظہار، نسائیت کے حوالے سے نئے چیلنجز،مغربی نظریات خصوصاً وجودیت ، بین المتونیت اورپوسٹ کولونیل ایج کی ترجمانی اورساتھ ہی میڈیاکے مضرومفیداثرات وغیرہ کو اکیس ویں صدی کی پہلی اوردوسری دہائی کے افسانوں میں صاف طورپرمحسوس کیا جاسکتاہے ۔ اکیسویں صدی ،انسانوں کے لیے بہت سارے چیلنجزکی سوغات لے کرآیا۔ پوری دنیامٹھی میںقید ہوگئی ہے ، ایک بٹن دباؤ پوری نوع انسانی کاصفایا۔توظاہرہے ایسے حالات میں پوری دنیاکاکرب ایک رائٹرکے قلم میں سمٹ آئے توکوئی عجب بات نہیں ۔نئے انسان نے جس طرح کے حالات کا سمجھوتہ کیا ہے وہ بیان سے قاصرہے ۔سائبرکرائم ،گلوبل وارمنگ ،انسان کی بنیادی ضرورتوں کابحران اورایسے کئی مسائل ہیں جس نے انسان کواڈجسٹ کر نے پرمجبور کیاہے اورانسان کررہاہے ۔ایک طرف آسمان کوچھوتی مہنگائی تودوسری جانب کسادبازاری میں بحران ایسے موضوعات ہیں جو اکیسویں صدی کے انسان نے محسوس کیااورایک فن کارنے انہی مسائل کواپنی تخلیقات میں بیان کیاہے ۔ چندسالوں قبل بچوں کی نفسیات اوران کوکسی خاص نظریے پرعمل پیراکرنے کے حوالے سے مشرف عالم ذوقی کاناول ’’پوکے مان کی دنیا‘‘کے عنوان سے چھپا تھا۔ اس میں انھوںنے ایک ایسے نکتے کی طرف اشارہ کیاتھاکہ مغربی اقوام کس طرح سے بچوں کے ذہن پرقابوپانے اوراپنی بات منوانے یااپنے نظریات کی طرف مائل کرنے کی کوشش میں سرگرداں ہیں اوراس کااثربچوں کی نفسیات پرزبردست طورپرہواہے ۔ ایک انسان کی ذہنی آزادی سلب کرکے اسے کسی خاص نہج پرزندگی گزارنے پرمجبورکرناغلامی نہیں تواورکیاہے ۔ یہی سبب ہے کہ عوام ذہنی طور پرغلامی پسندکررہی ہے ۔ اس کے علاوہ میڈیاکاپورے سماج پرقبضہ ہے وہ جس طرح سے چاہے اپنی بات منواسکتی ہے ۔ یہی سبب ہے کہ جنریشن گیپ ایک معمّابناہواہے جس کی واضح مثال ذوقی کاافسانہ ’’داداپوتا‘‘ہے ۔اس افسانے میں ذوقی نے دادااورپوتے کی ذہنی تضادکی طرف اشارہ کیاہے ۔ داداکوپوتے کے ہراس عمل سے جلن سی ہوتی ہے جس کودادانے اپنی زندگی میں کبھی نہیں کیا کیوں کہ بڈھااس وقت پیداہواتھاجب لوگوں کے پاس وقت ہی وقت تھااورپوتے نے اس وقت آنکھیں کھولیں جب دنیاتیزی سے بدلنے لگی تھی ۔ نئے زمانے کے نئے تقاضے تھے ۔داداکومحسوس ہوتاکہ ان کے گھروں کی دیواریں اونچی ہوگئی ہیں ،دھوپ رخصت ہوچکی ہے ، ہواکاآنابندہوگیاہے ،آنگن پاٹ دیاگیاہے ساتھ ہی پیڑپودے بھی کاٹ دیے گئے ہیں ۔لیکن پوتے کوان تمام باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتاہے ۔ وہ ایسی زندگی گزارنے کاعادی ہوچکاہے جب کہ بیٹا، ان دونوں کے درمیان پھنساپڑاہے ۔ذوقی کے اس افسانے میں دادا،بیٹااورپوتاکے مابین ذہنی تبدیلی اورجنریشن کودکھایاگیاہے ۔ اس افسانے میں جس نفسیاتی الجھن کوپیش کیاگیاہے ،دادااوربیٹے کے مابین ہورہے بات چیت سے بخوبی اندازہ لگایاجاسکتاہے ۔بوڑھااپنے بیٹے سے یوں مخاطب ہے :

’’میں تمہارا باپ ہوں ۔تم سے ایک نسل بڑا…پھرمت کہناکہ مجھے خبرنہ ہوئی …اس نے آزادی چاہی ،اُسے آزادی ملی ۔ وہ آزادی جومجھے اورتمہیں نہیں ملی تھی ۔تم اسے روکتے ،وہ تب بھی نہیں رکتا، تم اسے بندشوں میں جکڑنے کی کوشش کرتے ، تووہ یہ زنجیریں توڑدیتا۔ کیوں کہ وہ بہرصورت تمہاری طرح بزدل نہیں ہے ۔‘‘(1)

طبقاتی کش مکش اوردونوں نسلوں کے مابین تضادات کے علاوہ ذوقی کے افسانے اورناول عالمی مسائل کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں ۔ ’’بھوکا ایتھوپیا‘‘، ’’آتش رفتہ کاسراخ‘‘،’’بیان ‘‘وغیرہ اس ضمن میں خاصے اہم ناول ہیں ۔

اکیسویں صدی میں اردوافسانہ نگاروںنے فرقہ وارانہ فسادات اوردہشت کے ماحول کی عکاسی بھی کثیرتعدادمیں کی ہے ۔ اس حوالے سے کئی اہم افسانے مل جاتے ہیں جس کی بنیادی وجہ یہ ہے اکیسویں صدی تک آتے آتے ہندوستان میں مسلمانوں کی شناخت بہ حیثیت دہشت گرد کے قائم ہوئی ہے۔ مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کاعمل بھی اسی عہدکی پیداوارہے ۔ بے قصورنوجوانوں کو جیلوں میں قیدکرکے ان کی زندگیاں تباہ کرنے کاعمل تیزی سے چل رہاہے ۔طالبانیوں کاسراہندوستانی مسلم معاشرے سے جوڑا جاتا ہے اوراس کے نتیجے میں مسلم آبادی والے حصّے میں اس طرح کے فسادات برپاکیے جاتے ہیں گویاانسانیت مفقود ہوجارہی ہواور حکومت اقلیت کونیست ونابود کرنے کے درپے ہو۔ افسانہ نگاروں نے اس بات کوشدت سے محسوس کیاہے اوربے شمار افسانے اسی عہدکی پیداوارہیں ۔اقبال مجیدکا’’سوختہ ساماں‘‘، عابدسہیل کا’’دستک کس دروازے پر‘‘، اسرارگاندھی کا’’راستے بند ہیں سب ‘‘، طارق چھتاری کا’’بندوق ‘‘،غضنفر کا’’خالد کاختنہ‘‘، مظہرالزماں خاں کا’’سفاری پارک‘‘،مشرف عالم ذوقی کا’’احمد آباد 203میل ‘‘،سید محمد اشرف کا’’آدمی ‘‘،’’ڈارسے پچھڑے‘‘،شوکت حیات کا’’گنبدکے کبوتر‘‘اور’’گھونسلا‘‘اورشموئل احمدکے ’’بہرام کاگھر‘‘،’’چھگمانس ‘‘، ’’آنگن کا پیڑ‘‘ اور ’’بدلتے رنگ‘‘اس ضمن میںاہم ہیں ۔ دہشت اورفسادات کے حوالے سے وارث علوی نے ’’فسادات اورفن کار‘‘ کے حوالے سے مضمون باندھ کراس جانب یوں توجہ دلائی ہے ۔ ان کے بقول:

’’…اس میں ایک انسان نے انسان کونہیں مارابل کہ ایک ابھری ہوئی سیاسی تجریدنے ایک بھرے پرے انسان کومارا اور مارتے ہوئے یہی سمجھاکہ وہ انسان کو نہیں مار رہا بلکہ ایک تصوّرکومار رہاہے جس نے اتفاق سے انسانی جسم کی شکل اختیارکرلی ہے ۔ یہ آج کے انسان کے Dehumanizationکی سب سے عبرت ناک شکل ہے یعنی انسان ، انسان کوسمجھ کرنہیں ماررہابل کہ ایک مجرد تصورسمجھ کرماررہاہے ۔‘‘(2)

اس کامطلب یہ ہواکہ انسانیت اس حدتک شکست خوردہ اوربے حس ہوچکی ہے کہ اسے ان حادثات وسانحات کا نہ تو غم ہے نہ حیرت بل کہ مذہب کے نام پرمعاشرتی تشدّد کاجذبہ اوربھی شدید ہوجاتاہے اور’فساد اورپانی اپناراستا خودبناتے ہیں ‘‘والی مثل معنی خیز معلوم ہونے لگتی ہے ۔ اس ضمن میں محمدمظہرالزماں خاں کاافسانہ ’’سفاری پارک ‘‘اس لحاظ سے اہمیت کاحامل ہے کہ اس میں بین الاقوامی دہشت گردی کے مسائل کوموضوع بنایاگیاہے ۔ایک خاص طبقے کونیست ونابود کرنے کے لیے پوری دنیامیں جس طرح کی سیاست چل رہی ہے انہی مسائل کو اس افسانے میں بیان کیاگیاہے ۔ مصنف کے بقول ’’انہوں نے اس کہانی کو۱۸۵۷ء میں لکھناشروع کیاتھاپھرکئی سال کے وقفے کے بعد ۱۹۴۷ء میں دوبارالکھناشروع کیااوراکیسویں صدی کے ابتدائی دورمیں اسے مکمل کیالیکن ایک لحاظ سے دیکھاجائے تویہ افسانہ ابھی بھی مکمل نہیں ہواہے بل کہ نئی کونپل پھوٹنے کے بعدیہ کہانی دوباراشروع ہوچکی ہے اوریہ سلسلہ قیامت تک چلتارہے گا۔ شیشے کے گھرمیں پھنسے مرد،عورتیں ،بچے اوربالغ لڑکیاں سب کے سب خوف ناک درندوں کے کھلے ہوئے جبڑوں اورخوںخوار پنجوں کودیکھ کر چمٹ رہے ہیں ،سہم رہے ہیں جب کہ نوآموز ڈرائیور انھیں تسلی دیتے ہوئے کہہ رہاہے :

’’اس گھرکے شیشے بڑے مضبوط ہیں کہ ان درندوں کے پنجے سے ٹوٹیں گے نہیں اس لیے آپ خوف نہ کھائیے کہ خوف نسلوں اورقوموں کی نیندحرام کردیتاہے کہ خوف بیج کوکونپل بننے نہیں دیتاکہ خوف بچّوں کوٹھٹرادیتاہے کہ خوف زمینوں کوبیدارنہیں ہونے دیتا کہ خوف سے دلوں پر رات آکرٹھہرجاتی ہے ۔ اس لیے خوف نہ کھاؤ۔‘‘(3)

شیشے کے گھرکوباہرسے جوخوں خوارجانورحملہ کررہے ہیں ،ان کے حلیے سے یوں لگتاہے کہ وہ مشہورزمانہ شخصیات ہیں اور وہ کسی خاص مذہب کونیست ونابود کرنے کے درپے ہیں ۔اس افسانے میں علائم کوحذف کردیاجائے توافسانہ مہمل اوربے معنی ہوجائے گا۔

فسادات کے ضمن میں شموئل احمدنے بھی چندعمدہ افسانے لکھے ہیں ۔ ’’چھگمانس ‘‘، ’’آنگن کاپیڑ‘‘، ’’بہرام کاگھر‘‘اور’’بدلتے رنگ‘‘اسی طرح کے افسانے ہیں ۔افسانہ ’’بدلتے رنگ‘‘کامنظرنامہ دوسرے فسادات پرلکھے گئے افسانوں سے مختلف اس طورپرہے کہ اس کازمان ومکان رکمنی بائی کاکوٹھاہے اورشہرمیںجب بھی دنگاہوتاہے توسلیمان وہی کوٹھا پکڑتاہے ،اس کے ساتھ وہسکی پیتااوردنگائیوں کو موٹی موٹی گالیاں دیتاہے ۔رکمنی بائی جو اُس سے میٹھی میٹھی باتیں کرتی ہے اورپولیس کو ’’بھڑوی کی جنی‘‘کہتی ہے۔سلیمان کومذہب سے کوئی دل چسپی نہیں ہے ۔اس کی اپنی Philosphyہے ۔وہ یہی کہتاہے کہ مذہب آدمی کونہیں جوڑتاہے جب کہ سلیمان آدمی کوجوڑنے کی بات کرتاتھا۔اس کی بیوی کوان باتوں سے کوفت ہوتی ہے۔جب وہ سلیمان سے ایمان ویقین کی باتیں کرتی تواُسے یہ حسرت ہوتی کہ کاش !کوئی ایساآدمی ملے جومذہب کارونانہ روئے بل کہ آدمی کی بات کرے ۔لے دے کے رنڈیاںہی تھیں جو ذات پات کے جھمیلے سے آزاد تھیں …سلیمان کوان کی یہ اداپسندتھی اسی لیے جب کہیںدنگاہوتاتوسلیمان رکمنی بائی کے کوٹھے کا رخ کرتا۔ایک دن شہرمیں یکایک دنگے کے آثارنمایاں ہوتے ہیں توسلیمان کوٹھے کی طرف چل پڑتاہے لیکن آج وہ محسوس کرتاہے کہ اس کے سمجھنے میںغلطی ہوگئی ہے ۔رکمنی بائی دروازے رتن کے کھڑی ہے ۔وہ عاجزی کررہاہے کہ پلیزمجھے اندرآنے دو،یہی توایک جائے امان ہے ۔اگرتم نے مجھے پناہ نہیں دی تو میں کہاں جاؤں گا۔کسی طرح سے وہ اندرجانے میں کام یاب ہوجاتاہے اوریہ رازکھلتاہے کہ پنچایت نے یہی فیصلہ کیاہے کہ …ملاحظہ ہویہ اقتباس:

’’اوردفعتاًسلیمان کومحسوس ہواکہ وہ واقعی کٹواہے …اپنے مذہب اورفرقے سے کٹاہوا… وہ لاکھ خودکوان باتوں سے بے نیازسمجھے لیکن وہ ہے کٹوا…۔اورسلیمان کوعدم تحفظ کاایک عجیب سااحساس ہوا…اس نے جلتی ہوئی آنکھوں سے رکمنی بائی کی طرف دیکھا۔وہ اسی طرح ہنس رہی تھی …اورسلیمان کادل غم سے بھرگیا۔وہ یکایک اس کی طرف مڑااوراس کے بازؤں میں اپنی انگلیاں گڑائیں……۔رکمنی بائی دردسے کلبلائی…۔

سلیمان نے بازؤں کاشکنجہ اورسخت کیا…۔رکمنی بائی پھرکلبلائی۔دفعتاًاس کومحسوس ہواجیسے رکمنی بائی طوائف نہیں ایک فرقہ ہے …اوروہ اس سے ہم بسترنہیں ہے …وہ اس کاریپ کررہا ہے …۔سلیمان کے ہونٹوں پر ایک زہرآلود مسکراہٹ رینگ گئی‘‘۔(4)

اس کے کچھ دیربعدرکمنی بائی باتھ روم میںگئی سلیمان کواپنادم گھٹتاسامحسوس ہوا۔وہ بسترسے اٹھااوررکمنی باکی ساڑی کوجلدی جلدی اپنے بیگ میں ٹھونسا۔ایساکرتے ہوئے اسے طمانیت کااحساس ہواگویارنڈی کو،جس کی شناخت ہی ننگاپن ہے ،ہمیشہ کے لیے ننگاکردیااور’’بھڑوی‘‘کہہ کرآہستہ سے مسکرایااوراپنے مکان کی طرف چل پڑا۔

ظاہرہے یہ واقعہ اس وقت ظہورپذیرہوتاہے جب شہرمیں دنگاپھیلتاہے ۔ایک شخص جسے اسلامی قوانین ونظریات سے کوئی دل چسپی نہیں ہے اوروہ ایسے حالات میں رکمنی بائی کے کوٹھے کاہی رخ کرتاہے لیکن وہاں جانے کے بعداسے یہ محسوس ہوتاہے کہ وہ کوٹھابھی دنگے کے زدمیں ہے اورایسے وقت میں سلیمان کے پیروں تلے زمین کھسک جاتی ہے ۔

احمد رشید زمانے سے کہانیاں لکھ رہے ہیں ۔ حال ہی میں اُن کے افسانوں کاتازہ مجموعہ ’’بائیں پہلوکی پسلی‘‘شائع ہواہے ۔ اس مجموعے میں چندکہانیاں فسادات اورسیاست کی رسّہ کشی کوموضوع بناکرلکھی گئی ہیں ۔’’حاشیے پر‘‘،’’مداری‘‘اور’’ایک خوب صورت عورت‘‘اسی ضمن کی کہانیاں ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان افسانوں پرتفصیلی طورپربحث جائے تاکہ نئے موضوعات واسالیب کامفہوم زیادہ واضح ہوسکے ۔

اکیسویں صدی کے پہلے عشراوردوسرے عشرے کے ابتدائی چندسالوں میں داستانوں کوبنیادبناکراورداستانوی اسلوب وضع کرکے کہانی بُننے کابھی رجحان عام ہواہے ۔فکشن کے زمرے میں داستانوں کواس لیے بھی اہمیت حاصل رہی ہے کہ ناول اورافسانے کی بنیادی جڑیں ،اسی میں پیوست ہیں ۔اسی لیے ہمارے فکشن نگاروں نے اورخصوصاًافسانہ نگاروں نے داستانوی ادب کی طرف رجوع کیاہے ۔ اس کاایک مقصد روایت کی طرف پلٹنے کابھی ہوسکتاہے ساتھ ہی اس طرزاظہارسے اپنی انفرادیت بھی قائم کرنے کی ہوسکتی ہے ۔ بعض افسانہ نگاروں نے اپنی تخلیقات کے ایسے عنوانات قائم کیے ہیں جن سے داستانوی عنصرکاگمان گزرتاہے ۔ ساتھ ہی انھوں نے ان فن پاروں میں داستانوی طرز بھی ملحوظ خاطررکھاہے ۔ سات منزلہ بھوت ، چوپال میں سناہواقصہ ، آئینہ فروش ،شہرکوراں ، شہرکوفے کامحض ایک آدمی وغیرہ ایسے ہی عنوانات کے ضمن میں آتے ہیں ۔ بعض افسانہ نگاروں نے تمثیلی انداز ،حکایتیں ، پرشکوہ اور فوق الفطری عناصر بیان کرکے افسانے میں داستانوی عنصرکواوربھی واضح کیاہے ۔ سلام بن رزاق ، عبدالصمد، انجم عثمانی ، شوکت حیات ، ابن کنول ،مظہرالزماں خاں ، سیدمحمداشرف وغیرہ کے بعض افسانوں میں یہ اسلوب واضح طورپردیکھنے کوملتاہے ۔ اس ضمن میں طارق چھتاری کے افسانے ’’باغ کادروازہ ‘‘کوکافی اہمیت حاصل ہے ۔ ان کے افسانوں میں داستانوی لب ولہجے کوواضح طورپردیکھنے کے لیے اقتباس ملاحظہ ہو:

’’شہزاد ے نے بادشاہت نہیں لی اوراپنے بھائیوں کی تلاش میں راج پاٹ چھوڑ کرچل پڑا۔ بھائی ملے مگرمارے حسدکے اسے سائیس بناکررکھا۔بھائی سویرے نکلتے ، شام کولوٹتے اوربہت فکرمندرہتے ۔ایک شب بھائی سمجھے وہ سوگیاہے مگروہ جاگ رہاتھا، بھائیوں کوکہتے سناکہ آج پھرمنادی ہوئی کہ جوشخص برج کی محراب میں بیٹھی شہزادی گلشن آراکومحل کے پہلے دروازے سے پھولوں کی گیندمارنے میں کامیاب ہوجائے گا،اسی کے ساتھ شادی کرے گی۔‘‘(5)

اس کہانی کاسراطارق چھتاری نے دادی پوتے کے حوالے سے باندھاہے ۔نوروز، رات کوسونے سے قبل دادی سے کہانی سنانے کے لیے اصرار کرتاہے اوردادی کہانی سناکرپوتے کوہزاروں سال پیچھے لے جاتی ہے اوربچہ کچھ دیرکے لیے نئی صدی کے مسائل کوچھوڑ چھاڑ کرداستانوی زندگی کے پراسرارماحول کی سیرکرآتاہے اوراسے نیندآجاتی ہے ۔ داستانوی اظہارکوبیان کرنادراصل کہانی کاروں کی اپنی روایت کی طرف مراجعت ہے ۔

مغربی نظریات کے اطلاق کارواج اردوادب میں قدیم رہاہے ۔ اردوافسانے کے ابتدائی نقوش میں یہ اثرواضح طورپردکھائی دیتاہے۔ وقت اورحالات کی تبدیلی کے ساتھ جس طرح سے ان نظریات میں تبدیلی واقع ہوئی ،شارٹ اسٹوری بھی متاثرہوئے بغیر نہ رہ سکی ۔یہی وجہ ہے کہ اکیسویں صدی میں یہ رجحان عام ہوچلاہے کہ مغربی نظریات کی تقلیدمیں کثیر تعداد میں تخلیقات لکھی جائیں ۔نئے نظریات کے حوالے سے وجودیت اوربین المتونیت کافی اہم ہیں چہ جائے کہ مغرب میں ان نظریات کااطلاق ایک عرصے سے کیاجارہاہے البتہ اردومیں یہ بیسویں صدی کے نصف آخرکی پیداوارہے اوراکیسویں صدی کے ابتدائی دورمیں بھی اس کے اثرات صاف طورپرمحسوس کیے جاسکتے ہیں ۔

اردومیں جدیدافسانہ نگاروں کے بہت سے کرداروجودی ہوتے ہیں جن کے نظریات واعتقادات سے ان کے وجودی ہو نے کاپتا چلتاہے لیکن خالد جاویداس ضمن میں اس اعتبارسے اہم ہیں کہ ان کے افسانوں کی بنیاد وجودیت پرہی قائم ہے ۔ انھوں نے اس حوالے سے کئی بہترین کہانیاں لکھی ہیں ۔ان کے افسانوی مجموعے ’’برے موسم میں ‘‘اور’’آخری دعوت‘‘میں ایسے کئی افسانے بکھرے پڑے ہیں جن میں ’’ہذیان‘‘،’’پیٹ کی طرف مڑے ہوئے قدم ‘‘،’’کوبڑ‘‘اور’’عکس ناآفریدہ ‘‘خاص طورپراہمیت کے حامل ہیں ۔ افسانہ ’’کوبڑ‘‘ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جس کاوجوداپنے ہونے کے کرب سے وابستہ ہے ۔ وہ ساری زندگی اپنے وجودکی تکمیل کے احساس میں گذاردیتاہے جواُسے نہیں ملتااورآخرمیں وہ مذہب کی طرف رجوع کرتا ہے تاکہ اپنے وجودکی تکمیل کرسکے ۔وہ ساری زندگی اسی کوشش میں لگارہتاہے کہ خودکواپنوں سے اورمعاشرے سے جوڑے رکھے ،عزت ومحبت کے ساتھ زندگی گذارے لیکن ہمیشہ اُسے ذلت ورسوائی کاسامناکرنا پڑتا ہے ۔ لڑکپن میں،جوانی میں حتّی کہ شادی کے بعدبیوی سے بھی وہ رسوائی وصول کرتاہے ۔ایک مردکے لیے اِس سے بری ذلت کیاہوسکتی ہے کہ جس شخص سے وہ بچپن سے نفرت کرتاہے ،اُس کی بیوی اُسی سے محبت کرتی ہے اوراس کردارکواپنے بچّوںکے چہرے بھی اسی نفرت انگیزشخص سے مشابہ نظرآتے ہیں۔اس کہانی کامرکزی کرداروجودی ہے ۔وجودی کرداروں میں ایک خاص بات یہ نظرآتی ہے کہ وہ دوسرے کرداروں سے زیادہ حسّاس نظرآتے ہیں اورمعمولی بات بھی اُس کے وجودکومتزلزل کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے ۔مندرجہ ذیل اقتباس سے یہ بات اوربھی واضح ہوجاتی ہے :

’’دراصل بیس پچیس سال کے طویل عرصے سے اس نے نماز نہ پڑھی تھی ۔کل رات موم بتی کی روشنی میں وہ نماز کی کتاب سے ’’نماز‘‘یادکرنے کی کوشش کرتارہاتھااوربڑی حدتک کامیاب بھی ہوگیاتھا۔وضوکے سلسلے میں بھی جب اس کی یاد داشت نے کام نہیں دیا تواس نے ’’ترکیب وضو‘‘کوکتاب میں نشان لگاکرباربار پڑھالیکن وضو کرتے وقت شایدوہ ایک دوباتیں بھول گیاتھایاٹھیک سے سمجھ نہیں پایاتھا۔‘‘(6)

تمام کوششوں کے بعد وہ شخص ذہنی تسکین کے لیے وضوبناکرعیدگاہ کی جانب نکل پڑتاہے لیکن اسے نماز نہیں ملتی ہے ۔ قبرستان کی مسجد تک پہنچ کرتھکن سے چورمسجدکے عقبی دروازے پربیٹھ جاتاہے ۔پورے قبرستان میں اندھیراپھیل چکاہے اوروہ ڈرامائی صورت حال سے گزرکردارفانی سے کوچ کرجاتاہے ۔ ایک ایساشخص جوپچیس تیس سالوں سے نماز ادانہیں کرتااور آخری وقت میں جب وہ دنیاکی الجھنوں سے تنگ آچکاہوتاہے تواللہ سے لَولگانے کی کوشش میں اپنی جان دے دیتاہے ۔

وجودیت کے علاوہ بین المتونیت کی اصطلاح بھی اردومیں ستّر اور اسّی کی دہائی میں مروج رہی ۔سریندرپرکاش، عابد سہیل ،اقبال مجید،شفق ،سلام بن رزاق وغیرہ کی تخلیقات میں ایسی روایات کی پاسداری توملتی ہی ہے البتہ نئے لکھنے والوں میں غزال ضیغم کاافسانہ ’’شکنتلا‘‘،شائستہ فاخری کا’’بھولاکی واپسی ‘‘، احمدرشیدکا’’بن باس کے بعد‘‘،محمودایوبی اورمظہرسلیم کے ’’بجوکاسرینر‘‘کے افسانے اس ضمن میں خاص طورپراہم ہیں ۔ شائستہ فاخری کاافسانہ ’’منگلاکی واپسی ‘‘ہندی کے مشہورکہانی کاریش پال کی کہانی ’’منگلا‘‘ کوبنیادبناکرلکھاگیاہے ۔ شائستہ فاخری نے عورت کی زندگی کوہرزاویے سے دیکھنے،سمجھنے اور بیان کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ایک عورت جومنگلاکے روپ میںذلیل وخوارہورہی ہے وہیں دوسراروپ دھارن کرکے کام یابی کی اعلاعہدے پرفائز ہے ۔لچھمی دت سے بیاہی منگلاچوراہے پر کھڑی کھڑی بوڑھی ہوچکی ہے تودوسری جانب سیاست کے مکروفریب کے جال میں پھنس کر وہاں بھی اڈجسٹ نہیں کرپاتی البتہ کوشش ضرور کرتی ہے کہ وہ بیچ کی راہ نکال کرفلاح وبہبود کے لیے اپنی زندگی وقف کردے ۔ ایک طرف منگلاکی سماج میں کوئی عزت نہیں تھی تو دوسری طرف الیکشن جیتنے کے بعداس کی پوجا ہورہی ہے۔منظرملاحظہ ہو:

’’الیکشن جیتنے کے بعد باکیسر کازمین آسمان منگلاکے لیے بدل گیا۔ جوگیارنگ کی قیمتی ساڑی ، رودراکشن کی مالا، ماتھے پر بڑا ساچندن کاٹیکہ ، انگلی میں چمکتی ہوئی ہیرے کی انگوٹھی ،کھلے بال ،ایک نئی شکل وصورت نئے رنگ روپ میں منگلاکا جنم ہوا،خود اعتمادی بڑھی تو وہ بھیڑکابھی سامناکرنے لگی ۔‘‘(7)

سادھوی ماں منگلاکے روپ میں عورت کوپیش کرناعورت کی حرمت وعزت کی طرف اشارہ کرتاہے اورفن کارنے یہاں اس شکل کوواضح کرنے کی پوری کوشش کی ہے ۔ایک ایساسماج جہاں مذہب اورسیاست یوں گڈمڈ ہوگئے ہیں گویاباہم مل کرایک دوسرے کی تکمیل کے لیے کوشاں ہوں ۔اس ضمن کاایک اورافسانہ ’’بن باس کے بعد‘‘ہے جس میں احمدرشیدنے نہایت خوب صورتی سے ہندو دیومالا کی وضاحت کرکے عہدجدیدسے رشتہ استوارکیاہے ۔ نئے تناظرمیں منظرنامہ بدلاہواہے ۔ یہاں صورت حال یہ ہے کہ جانکی چودہ دن گھرسے غائب رہنے کے بعدگھر واپس آچکی ہے ۔ معاشرہ اسے قبول کرنے کوتیارنہیں ہے، پنث کی سبھابیٹھی ہے ۔ ایک شخص چہ می گوئیاں کررہاہے کہ ’’چودہ دن کسی غیرمرد کے یہاں گزارنے سے بہترتھاکہ وِ ش پی لیاہوتا‘‘۔ دوسری جانب راگھویندرکوجانکی کی پاکیزگی کایقین ہے لیکن وہ معاشرے کے بنائے اصول کی پاسداری میں کچھ نہیں کرسکتا۔ وہ سوچتاہے کہ چودہ دن کاچاند کتنا روشن ہوتاہے لیکن اس کے بعداس کی چمک ماند پڑنے لگتی ہے کہ اُس کے ساتھ بھی ایساہی ہوگا۔ وہ اسی کیفیت میں رات گزارتاہے ۔ منظر ملاحظہ ہو:

’’کل سورج نکلے گا۔ اس کی پہلی کرن جانکی کی موت کاپیغام ہوگی ۔اس کی آنکھوں سے زاروقطار آنسو بہہ رہے ہیں اوررات کی سیاہی آہستہ آہستہ کھل کھل کرہلکی ہورہی ہے ۔‘‘(8)

جانکی کاشوہراس لیے پریشان ہے کہ اگنی پرکشا کے بعدجانکی کی کیاحالت ہوگی ،ہوسکتاہے وہ اس سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو جائے لیکن کہانی کے اخیرمیں ایسانہیں ہوتا۔ طوطے کوآزادکرنااس بات کی علامت ہے کہ جانکی کاشوہراب شکوک وشبہات سے بھی آزاد ہوچکاہے اوراپنی پتنی کوصدق دل سے اپنالیتاہے ۔یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ افسانے کی ابتدا سورہ بقرہ کی کچھ آیتوں کے تراجم سے ہوتی ہے جن میں اس بات کی نشان دہی کی گئی ہے عورت ہی ایسی ذات ہے جوزمین پرفساد برپاکرے گی ۔ اس کے  بعد جانکی اورراگھویندر کے نام رام اور سیتاکی یاد دلاتے ہیں جوان کے اصل نام ہیں ۔اس طرح افسانے میں اوربھی کئی علائم پوشیدہ ہیں ۔

نئے افسانہ نگاروں کی تخلیقات میں علاقائیت کی سطح پرزبان وبیان کے لحاظ سے ہونے والی تبدیلیوں کی طرف واضح اشارے مل جاتے ہیں ۔ایساہرگزنہیں کہ افسانہ نگاروں کی تمام تخلیقات علاقائی رنگ میں ڈوبے ہوئے ہیں بل کہ چندافسانوں میں یہ واضح اشارے موجود ہیں ۔ ہندوستان میں ایسے افسانہ نگاروں میں علی امام نقوی ، بیگ احساس ، انیس رفیع ، یٰسین احمد، عبدالعزیز خاں ، طارق چھتاری ،م ناگ ، صدیق عالم ،ش اختر، غزال ضیغم ،صغیررحمانی ، اخترآزاد ،احمدصغیر، مظہرسلیم ،شبیراحمد اورکئی دوسرے افسانہ نگاروں کی تخلیقات پڑھ کرایک مخصوص علاقے کے طورطریقے ، عادات ،ملبوسات ، زبان وبیان میں واضح طورپر علاقائی زبان اورتہذیبی حسّیت مل جائے گی ۔ موضوع کی مناسبت سے فقط دوافسانہ نگاروں کی تخلیقات کاسرسری جائزہ سردست موزوں ہے تاکہ حقیقت حال کی عکاسی ہوسکے ۔ اس ضمن میں ایک نام مظہرسلیم کاہے جنھوں نے بمبئی کی مقامی زبان کے ساتھ وہاں کی بھاگتی دوڑتی زندگی کاجس خوش اسلوبی سے نقشا کھینچاہے وہ قابل ستائش ہے ۔

مظہرسلیم کے تقریباً تمام افسانے شہری زندگی کے پس وپیش میں بیان ہوئے ہیں۔ انھوں نے شہری زندگی کی چکاچوند زندگی اوراس کے عقب میں ہونے والے کرائم کوموضوع خاص بنایاہے ۔ ساتھ ہی انھوں نے نفسیات کے حوالے سے کئی کام یاب کہانیاں بھی خلق کی ہیں ۔ ’’واگھ مارے نے خودکشی کیوں کی؟ ‘‘، ’’بئیر بار‘‘، ’’وامن رائو کی واپسی‘‘، ’’دیمک ‘‘،’’دستک‘‘،’’اپنے حصے کی دھوپ‘‘اور کئی لازوال کہانیاں مظہرسلیم نے تخلیق کی ہیں ۔افسانہ ’’واگھ مارے نے خودکشی کیوں کی؟‘‘بمبئی میں فٹ پاتھ پرروزی کمانے والے دودوستوں کی کہانی ہے ۔تقسیم کے بعددونوں علاحدہ طورپرکام کرتے ہیں البتہ وہ ابھی تک ایک دوسرے کے لیے قربانی دینے کوتیارہیں ۔ ابوبکر بھنڈی بازارمیں فٹ پاتھ پہ دوکان لگاتاہے اورواگھ مارے دادرمیں ۔ایک دن ابوبکر کوپتاچلتاہے کہ دادرمیں پولیس حملے میں واگھ مارے ہلاک ہوگیاہے ۔ بالکل یہی صورت حال ابوبکرکے ساتھ اس وقت پیش آتی ہے جب اس کے اسٹال کوپولیس برباد کررہی ہوتی ہے اوروہ لاٹھی چارج میں وہ بے ہوش ہوجاتاہے ۔ بعد میں گھروالے اسے کوس رہے ہوتے ہیں کہ تم سے اچھاتوواگھ مارے تھاجس نے پولیس کی تشدّد کے سامنے اپنی شکست تسلیم نہیں کی ۔ اس کے بعدابوبکرکے دل میں واگھ مارے کی عزت اوربھی بڑھ جاتی ہے ۔ افسانے کے آخری اقتباسات ملاحظہ ہوں:

’’اورتب ہی اسے احساس ہواکہ واگھ مارے نے خودکشی نہیں کی تھی بل کہ خودکشی اس نے کی ہے اوربرسوں سے وہ خودکشی ہی کرتارہاہے ۔کب تک کرتارہے گا، کچھ پتانہیں …؟پھروہ سوچنے لگا’’کاش! کوئی واگھ مارے اس کے اندربھی کروٹ لے یاکہیں سے اُترآئے تاکہ وہ اپنے زندہ سپاہی کااعلان کرسکے !!!‘‘(9)

موضوع کی مناسبت سے بات کریں تویہاںمظہرسلیم نے علاقائی زبان وبیان اورتہذیب وثقافت کوبیان کرنے کی کوشش کی ہے ۔ بمبئی کی زبان کے حوالے علی امام نقوی نے بھی کام یاب افسانے لکھے ہیں اورناولٹ ’’تین بتی کے راما‘‘کی شہرت کادارومدار اسی باعث بھی قائم ہے ۔ بمبئی نگری کے علاوہ شہرکلکتہ کی تہذیب وزبان کوجن افسانہ نگاروںنے اختیارکیاہے ان میں انیس رفیع ،فیروز عابد، صدیق عالم کے نام نمایاں ہیں ۔ ابھی حال ہی میں شبیراحمداپنے تازہ افسانوی مجموعے ’’چوتھافن کار‘‘کے ساتھ وارد ہوئے ہیں ۔ یہ ان کااکلوتامجموعہ ہے جو۲۰۱۲ء میں منظرعام پرآیاالبتہ مجموعے میں شامل افسانے تین چارسالوں سے مختلف رسائل وجرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں ۔انھوںنے ارضِ بنگالہ کوجس شدت اورفنی خوبیوں کے ساتھ اپنے افسانوں میں پیش کیاہے وہ لائق تحسین ہے ۔انہی خصائص کومد نظررکھ کرانیس رفیع نے نہایت معقول بات کہی ہے کہ ’’علاقائی صداقت نگاری مابعد جدید فکشن کااختصاص ہے اورشبیر احمد کے افسانوں کاوصف بھی یہی ہے ۔یہ وصف ان کے لاشعور کاحصہ ہے ،کسی ذہنی کسرت کانتیجہ نہیں ‘‘۔ اس حوالے سے ان کے افسانوں پرنظرڈالی جائے توخاص طورپر ’’پاورتی سے پاروتک ‘‘،’’چوتھا فن کار‘‘، ’’پنر جنم ‘‘،’’مد وجزر‘‘، ’’انفکشن‘‘ وغیرہ اپنی جانب کھینچتے ہیں جب کہ تقریباً ان کے ہرافسانے میں بنگال کی سرزمین کی بوباس موجود ہے۔سردست ان کے افسانے ’’پاروتی سے پارو تک ‘‘کاتجزیہ کیا جاتا ہے تاکہ افسانے کاپس منظر واضح ہوسکے ۔

یہ افسانہ شمالی کلکتہ میں بسے سوناگاچھی جیسے علاقے سے تعلق رکھتاہے جہاں پاروتی جسم فروشی کادھندہ کرتی ہے ۔پاروتی سے پارو تک کاسفراس نے چندٹکوں کے لیے طے کیاہے تاکہ اس کاباپ بیماری سے مکمل طورپر صحت یاب ہوسکے ۔ پاروتی کے باپ کے علاج کا سارا ذمہ مہیش بابو نے لے رکھاہے اوراسی کے توسّط سے پارو، موسی تک آپہنچی ہے ۔پاروتی نے اپنی تمام ترخواہشات کوماردیاہے سوائے اس کے کہ وہ میلے جاکرماں درگاکی سندھی پوجادیکھے ۔وہ اس خواہش کااظہار دیب سے بھی اس انداز میں کرتی ہے:

’’بلا ٹلتے ہی پاروتی مارے خوشی کے دیب سے لپٹ گئی ۔بولی ’’دیبو، میں بہت خوش ہوں ۔میں کبھی مہااشٹمی کے دن ٹھاکر دیکھنے نہیں گئی ۔ آج جاؤں گی ۔ماں درگا کی سندھی پوجا دیکھوں گی ۔دکھوں گی مہیسہ شُرکے بدھ کے سمئے ماں کاجلال !اس کاوجے اُتسو !! باغ بازار، اہری ٹولہ ،جوڑابگان ،ٹلاپارک ، محمدعلی پارک ،کالج اسکوائر ،سیالدہ ،سبھی پنڈالوں میں جاؤں گی !الگ الگ روپ میں ماں شکتی کی درشن کروں گی !!۔‘‘(10)

نفس مضمون سے گریز کرتے ہوئے زبان کی بات کی جائے تویہ کہنے میں کوئی تأمل نہیں کہ شبیراحمدنے کلکتے کے مخصوص علاقے کو یہاں پیش کیاہے ساتھ ہی ایک عورت کے دل میں میلے میںماں کے مختلف روپ کودیکھنے کی للک کوبھی بیان کیاہے لیکن وہی عورت باپ کی صحت یابی کے چکّر میں مہیش بابوکے جال میں پھنس چکی ہے اوراسے استعمال کرنے کے لیے فقط جھوٹے دلاسے دیتاہے ۔

مندرجہ بالاتمام موضوعات کے علاوہ نسائیت کے حوالے سے بھی کئی اچھی تحریریں سامنے آئی ہیں ۔خواتین افسانہ نگاروں کی دوڑ میں وہ بھی شامل ہیں جنھوں نے اسّی یااس کے بعدکے عشرے میں اپنی پہچان بنالی تھی لیکن اب تک ان کاقلم رواں ہے ۔ ذکیہ مشہدی ،ترنم ریاض، قمرجمالی، نگارعظیم ،غزال ضیغم ، فریدہ زین ،شروت خان ، شائستہ فاخری، صادقہ نواب سحر، رخشندہ روحی، تبسم فاطمہ ، قمر جہاں ،کہکشاں پروین اورکئی دوسرے فن کارجن کانام اس فہرست میں شامل نہ ہوسکا، تمام نے اپنی اپنی سطح پر اکیسویں صدی کے نئے ماحول اورچیلنجز کواپنے افسانوں کاموضوع بنایاہے ۔ اس لحاظ سے انھوںنے گھرکی دہلیز سے قدم باہرکم ہی نکالاہے اورگھریلو ماحول کی عکاسی کے درمیان ہی ان کے بیش ترافسانوں کامحوررہاہے پھربھی نسائیت کے حوالے ان کی تحریریں قابل ستائش ہیں ۔ابھی فن افسانہ کی اوربھی منزلیں آنی باقی ہیں ،نئے تجربات ہونے باقی ہیں اورسلسلہ یوں ہی چلتارہے گاکیوں کہ کہانی ہی حقیقت کومحفوظ رکھنے کاواحد ذریعہ ہے ۔

 

حوالہ جات :

1۔مشرف عالم ذوقی ۔صدی کوالوداع کہتے ہوئے ۔ ساشا پبلی کیشن ،نئی دہلی ۔2000ء ۔صفحہ نمبر52

2۔وارث علوی ۔فسادات اورفن کار ،مشمولہ تیسرے درجے کامسافر۔اَمِت پرکاشن ،جودھپور۔1981ء ۔صفحہ نمبر 230

3۔مظہرالزماں خاں ۔ شوریدہ زمین پردم بخود شجر۔ ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس ،نئی دہلی ۔2004ء ۔صفحہ نمبر17

4۔شموئل احمد۔سنگھار دان۔معیار پبلی کیشنز،نئی دہلی۔1996ء۔صفحہ نمبر 46

5۔طارق چھتاری ۔باغ کادروازہ ۔ ایجوکیشنل بک ہائوس ،علی گڑھ ۔2001ء ۔صفحہ نمبر 45

6۔خالد جاوید ۔برے موسم میں ۔ ایڈشاٹ پبلی کیشنز ،ممبئی ۔ 2000ء ۔صفحہ نمبر 153

7۔شائستہ فاخری ۔اداس لمحوں کی خودکلامی ۔ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ،نئی دہلی ۔ 2011ء ۔صفحہ نمبر211

8۔احمدرشید ۔وہ اورپرندہ ۔ایجوکیشنل پبلشنگ ،نئی دہلی ۔2002ء ۔صفحہ نمبر72

9۔مظہرسلیم ۔نیامنظرنامہ (مرتب )ابراہیم اشک ۔تکمیل پبلی کیشنز ،ممبئی۔2007ء ۔صفحہ نمبر49

10۔شبیراحمد ۔چوتھافن کار۔ گلستاں پبلی کیشنز ،کلکتہ ۔ 2012ء ۔صفحہ نمبر 45

٭٭٭

 

اکیسویں صدیتقسیمجنسیہجرت
1 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
قصیدہ کی صنفی شناخت اور امتیازی پہلو- پروفیسر کوثر مظہری
اگلی پوسٹ
قاضی عبدالستار کے افسانوں میں تہذیبی کشمکش کی عکاسی-محمد غالب نشتر

یہ بھی پڑھیں

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

افسانہ ‘ عید گاہ’ اور ‘عید گاہ سے...

اگست 7, 2024

اندھیری آنکھوں کے سامنے سورج اُگانے والا افسانہ...

اگست 4, 2024

1 comment

mir hazar Khan نومبر 28, 2021 - 3:51 شام

رضیہ مشکور کا ایک تبصرہ افسانہ کے احوالے سے نظر سے گزرا تھا جس کو میں نے ریفرنس میں لیا تھا لیکن اب وہ نظر نہیں آرہا ہے ۔ براٸے مہربانی اس احوالے سے رہنماٸی کیجیے۔

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں