مرزا غالب کی شاعرانہ عظمت اور حسنِ بیان سے اردو زبان و ادب کا کوئی بھی عاشق انکار نہیں کر سکتا۔تاہم ان کے اشعار کی تفہیم ، ان کی تعظیم کی پہلی شرط ہونی چاہیے۔ شاعری کی تفہیم کسی ایک زاویے سے نہیں ہوتی اور ہونی بھی نہیں چاہیے۔ اس طرح ہم کسی بھی عظیم شاعری کا قد گھٹا دیتے ہیں۔ تفہیم ایک ایسی حقیقت ہے جس میں حرفِ آخرسبت کرنے کا حق کسی کو بھی نہیں، مگر تفہیم و تعبیر کی آزادی ہر ذی شعور کو ہوتی ہے۔ گوپی چند نارنگ نے اپنی کتاب ’’غالب معنی آفرینی، جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات‘‘ کی ابتدا میں یادگارِ غالب کا جو حصہ پیش کیا ہے اس کوہر زمانے میں الگ الگ زاویے سے غالب کی تفہیم کا جواز سمجھا جانا چاہیے۔ یادگارِ غالب کا وہ حصہ ملاحظہ فرمائیں۔
’’مولانا فضل حق کے شاگردوں میں سے ایک شخص نے ناصر علی سرہندی کے کسی شعر کے معنی مرزا صاحب سے جا کر پوچھے۔ انہوں نے کچھ معنی بیان کیے۔اس نے وہاں سے آ کر مولانا سے کہا ’’آپ مرزا صاحب کی سخن سنجی اور سخن فہمی کی اس قدر تعریف کیا کرتے ہیں؛ آج انہوں نے ایک شعر کے معنی بالکل غلط بیان کیے؛ اور پھر وہ شعر پڑھا؛ اور جو کچھ مرزانے اس کے معنی کہے تھے ، بیان کیے۔ مولانا نے فرمایا پھر ان معنوں میں کیا برائی ہے؟ اس نے کہا برائی ہو یا نہ ہو مگر ناصر علی کا یہ مقصود نہیں ہے۔ مولانا نے کہا اگر ناصر علی نے وہ معنی مراد نہیں لیے جو مرزا نے سمجھے ہیں تو اس نے سخت غلطی کی۔‘‘ (یادگارِ غالب)
ظاہر ہے کہ اس اقتباس کو کتاب کی ابتدا میں درج کرنا با مقصد ہے۔ مجھے اس کا مطلب تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ہر زمانے میں اس الہامی کتاب کی تفہیم کا حق اہل خرد کو حاصل ہے۔ وہ اگر چاہے تو کوئی اور معنی مراد لے سکتا ہے۔ ایسے میں اردو زبان کا ایک ایسا عاشق جس نے اس زبان کے عہدِ زریں کے نصف صدی کا مشاہدہ کیا ہو، گیسوئے اردو کے پیچ و خم سے واقف ہو، سات زبانوں پر جس کو عبور حاصل ہو، جس نے اردو کے نقادوں کی ایک بڑی صف سے براہِ راست استفادہ کیا ہو، جس کو دنیا میں اکیسویں صدی میں اردو کا برانڈ امبیسیڈر سمجھا جاتا ہو، جس کو اردو زبان بولے جانے والے تمام اہم ممالک نے اعزاز سے نوازا ہو۔ جس کی اردو دانی اور سخن فہمی کی قدر وہ ملک بھی کرتا ہو جس میں اردو سرکاری زبان ہے، جس کو ہندوستان کی مٹی سے محبت ہو ، جس کے مطالعے میں وید مقدس بھی ہو اور دیوانِ غالب بھی اور جس نے غالب کے تمام شارحین کو پڑھ رکھا ہو، جس کا ایمان الفاظ کو طے شدہ معنی کے قید و بند سے آزاد کر نے پر ہو اس کا استحقاق ہے کہ وہ غالب کی تفہیم کرے اور غالب کے معنیات کے عقدے کو ما بعد جدید سوچ کے پاسورڈ سے کھولنے کی کو شش کرے۔
مرزا غالب کی شاعری کے تعلق سے جب بجنوری نے یہ کہا کہ ’’ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں، وید مقدس اور دیوان غالب‘‘ تو ان کے اس بیان کو عقیدت پر مبنی تصور کیا گیا۔ اس بیان میں کچھ بات تھی جو توجہ طلب ہے۔ ایک تو یہ کہ دو ہندوستانی کتابوں میں وید مقدس اور دیوان غالب، یعنی بجنوری نے تلسی داس کے رامائن کا ذکر کیوں نہیں کیا؟ یا پھر ہندوستا ن کی عظیم گاتھا ’مہابھارت ‘ کا ذکر کیوں نہیں کیا۔ جب کہ یہ دونوں کتابیں بھی تقدس میں کم نہیںتسلیم کی جاتی ہیں۔ تو معاملہ یہاںا لہام کا ہے۔وید کو چونکہ الہامی کتاب تصور کیا جاتا ہے اور ہندوستان کی دوسری ایسی کوئی کتاب نہیں جس کو الہامی تصور کیا جاتا ہو سوائے وید کے تو چونکہ بجنوری کا مقصد یہاں یہ تھا کہ تخلیق کی عظمت یہ ہے کہ اس میں الہام کو دخل ہوتا ہے۔ اور دیوانِ غالب کو الہامی بتا کر اس کو اس تقدس کے قریب لانا چاہتے ہیں جس کا تصور وید سے تعلق رکھتا ہے۔ اس طرح دیوانِ غالب کو اس سے اعلٰی مرتبہ نہیں دیا جا سکتا۔میں ایک بہت بڑی بات کہنے کی جرأت کر رہا ہوں کہ غالب کے حوالے سے بجنوری کا یہ قول بہت خوب ہے لیکن یہ عقیدت پر مبنی ہے تجزیے پر نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عبد الرحمن بجنوری غالب کا اب تک کا سب سے بڑا عاشق تھا اور اس نے غالب کے تعلق سے جو روشن لکیر کھینچی وہ اب تک ماند نہیں ہوئی۔
بجنوری کے اس جملہ کو جس قدر شہرت ملی وہ اردو کی پوری تاریخ میں کسی دوسرے جملے کا مقدر نہ ہوئی۔ اس جملے کی تشکیل میں چار اہم الفاظ ہیں ہندوستان، الہامی، وید اور دیوانِ غالب۔ ان چاروں الفاظ نے غالب کے دیوان کو وہ مقبولیت دلا ئی جو غالب کا حق تھا۔ پہلا لفظ ہندوستان مرزا غالب کی شاعرانہ عظمت کے اوریجن( origin (کا امین ہے تو دوسرا اس کی عظمت کا اور تیسرا لفظ ہندوستان کی اس کتاب کا ہے جس کا موازنہ کسی دوسری کتاب سے ممکن نہیںجب کہ دیوانِ غالب کا نام وید کے ساتھ جوڑ کر اس دیوان کو وہ عظمت دے دی گئی جو ہندوستان میں کسی کتاب کا مقدر نہ ہوئی، اور شاید ہوگی بھی نہیں۔ باوجود اس کے تجزیہ کاحصہ پھر بھی تشنہ رہا ۔ حالانکہ محاسنِ کلامِ غالب میں غالب کے محاسن بیان کیے گئے لیکن جب یہ مفروضہ پہلے ہی قائم کر لیا گیا کہ دیوانِ غالب ایک الہامی کتاب ہے تو اس کے تجزیہ میں انصاف سوالوں کے گھیرے میں آ جاتا ہے۔
گوپی چند نارنگ نے اب تک غالب کے اشعار کے طے شدہ معنیاتی نظام کو چار الگ الگ زاویوں سے وسعت بخشاہے۔ وہ چار زاویے ہیں معنی آفرینی، جدلیاتی وضع، شونیتا، اور شعریات جو اس کتاب کے نام سے ظاہر ہیں۔ اب ایک بے حد اہم سوال یہاں یہ ہے کہ کیا غالب کی اتنی شرحیں ، اتنے تفاہیم جو پہلے سے وجود میں آ چکی ہیں ان میں کوئی کمی رہ گئی تھی جس کو پورا کرنے کے لیے اس کتاب کا وجود ضروری تھا؟ آخر اس کتاب سے غالب ڈسکورس میں کیا اضافہ ہونے والا ہے؟ یا یوں کہ لیجیے کہ یہ کتاب کیوں؟ اس سلسلے میں نارنگ کو یہ علم تھا کہ اس طرح کے سوالات قائم کیے جائنگے۔ اس کتا ب کی کیا ضرورت تھی اس تعلق سے انہوں نے اس کتاب کے مقصد پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے:
’’خاطر نشان رہے کہ ہمارا مقصد اردو کلامِ غالب کی نئی شرح فراہم کرنا نہیں ہے۔ یہ شارحین کا کام ہے۔ ہم جملہ شارحین و ماہرین کے کام کی قدر کرتے ہیں۔ لیکن ہمارا سفر الگ نوعیت کا ہے اور ہماری سعی و جستجو کی جہت دوسری ہے۔ یہ کسی کے رد یا تخالف میں بھی نہیں ہے۔ بلکہ اس اعتبار سے ہم جملہ ماہرین اور شارحین کے ممنون ہیں کہ اگر ان کے کاناموں اور دقیقہ سنجیوں کی بدولت غالب ڈسکورس یہان تک نہ پہنچا ہوتا جہاں وہ اس وقت ہے تو ہمارے لیے اس دقت طلب راہ میں قدم اٹھانا آسان نہ تھا۔ تاہم ماہرین نے غالب کے بارے میں سب گتھیوں کو حل کر لیاہو ایسا بھی نہیںہے۔ غالب کے تخلیقی سفر، ذہن و زندگی اور فکر و فن کے بہت سے گوشے ایسے ہیں اور بہت سے پیچیدہ سوال اس نوعیت کے ہیں کہ ان کے جواب ہنوز فراہم نہیں کیے جا سکے، غالب کے گنجینۂ معنی کے طلسم کے بھی کئی در ایسے ہیں جو ہنوز وا نہیں ہوئے۔ متن کی قوت زماں کے محور پر قاری کے تفاعل کے ساتھ مل کر معنی پروری کر رہی ہے اور کرتی رہے گی۔ یوں بھی کوئی تعبیر آخری تعبیر نہیں ہو سکتی نہ ہی کوئی تعبیر آئندہ تعبیروں کے امکانات ختم کر سکتی ہے۔ پھر غالب کا تو معاملہ ہی ایسا ہے کہ ہر تعبیر خواہ وہ کتنی ہی مکمل نظر آئے تشنۂ تکمیل رہتی ہے۔ ‘‘
(غالب معنی آفرینی ، جدلیاتی وضع ، شونیتااور شعریات، گوپی چند نارنگ، صفحہ ۲۹۹۔۳۰۰)
اس اقتباس سے اس کتاب کا جواز واضح ہے۔ اب آئیے نظر ڈالتے ہیں تفہیمِ غالب کے لیے وضع کر دہ ان چار زاویوں پر جس کی رو سے نارنگ نے غالب کی نئی تفہیم کا جوازتیار کیا ہے۔ ان چار میں جو سب سے غیر مانوس لفظ ہے وہ ہے شونیتا۔ اس لفظ کا مطلب کیا ہے ؟ نارنگ صاحب کی پیش کردہ غالب کی نئی تفہیم کی بنیادوں کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔ کلامِ غالب کے محاسن میں فلسفیانہ رنگ و آہنگ پر ہر ناقد کی توجہ گئی مگر ان فلسفیانہ افکار کے محرکات کیا تھے اس پر شاذو نادر ہی کسی نے غور کیا اور اگر کیا بھی تو اس کی توجہ غالب کی فارسی دانی، مغلیہ تہذیب اور سائنسی اشعار اور غالب کے فنی کمالات سے اوپر اٹھ کر کبھی کسی کو یہ خیال نہیں آیا کہ غالب کے ذہن میں ہندوستان کے قدیم افکار کا اس قدر رچاو رہا ہو گا کہ وہ شعری قالب میں ڈھل کر ایک نئے انداز میں دیوانِ غالب میں موجزن ہوگا۔
بقول انتظار حسین:
’’اصل میں غالب نے اپنی فارسیت پر اتنا زور دیا تھا اور اتنا فخر کہ یہ خیال کسی کو مشکل ہی سے آ سکتا تھا کہ اس شاعر (کے ذہن و لا شعور) نے کسی اور تہذیب سے بھی خوشہ چینی کی ہوگی۔ نارنگ صاحب کو تو یہ خیال آنا ہی تھا کہ اب ان کا اصرار اس بات پر ہے کہ اردو کی کلاسیکی شاعری حسن و عشق کے جس تصور کی امین ہے اس کاسر چشمہ قدیم ہند کے افکار و تصورات میں ہے۔ سو شاید انہوں نے غالب سے بھی کچھ ایسے اشارے لیے اور قدیم ہند کے افکار و تصورات میں لمبی غوطہ زنی کر ڈالی۔وہاں انہیں غالب کی فکر کے دو سر چشمے نظر آئے۔ ویدانتی فلسفہ اور بودھی فکر۔‘‘ (سبقِ اردو ، خصوصی شمارہ ، گوپی چند نارنگ اور غالب شناسی، مرتب دانش الٰہ آبادی، صفحہ ۱۵ )
غالب کی معنی آفرینی پر بات کر تے ہوئے نارنگ صاحب نے اپنی اس کتاب میں’حالی، یادگارِ غالب اور ہم‘ کے عنوان کے ذیل میں تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ طرزِ خیال اور طرزِ بیان کی بحث بھی چھیڑی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ حالی کے زمانے میں جس طرح ندرتِ خیال اور ندرتِ بیان کو دو الگ الگ شئے سمجھا جاتا تھا یہ دونوں اتنے الگ بھی نہیں۔ یہاں اس بحث پر غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ غالب کا پیچیدہ اسلوب بھی غالب کے پیچیدہ خیالات کی وجہ سے تھا ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ زبان اور اسلوب خیالات کی ترجمانی کرتے ہیں لہذا ایک دوسرے سے ہم آہنگ اور مربوط ہوتے ہیں۔ زبان و ادب کا مسئلہ تو زبان دانوں اور ناقدین کا ہے مگر خیالات کی پیچیدگی فلسفے کے ذیل میں آتی ہے۔ چونکہ نارنگ ایک لنگوسٹ بھی ہیں اور علمِ لسان میں مہارت رکھتے ہیں اس لیے اس بحث کے لیے وہ ایک موزوں ناقد ہیں۔ کیا واقعی خیالات کے وضع ہونے کا کوئی تعلق زبان وا سلوب سے ہوتا ہے یا یہ محض content کی حیثیت رکھتے ہیں ان کا شعر و ادب میں براہِ راست کوئی عمل دخل نہیں ہوتا تو اس ضمن میں ہم ادب کےneurolinguistشعبے سے مدد لے سکتے ہیں کہ کس طرح خیالات زبان و ادب کا جامہ پہنتے ہیں اور ان میں نیورو سائنس کے ساتھ ساتھ لسانیاتی علم کی مدد سے ہم اس عقدے کو سلجھا سکتے ہیں۔neorolingustic study کا تعلق در اصل میڈیکل سائنس سے ہے۔ یعنی یہ میڈیکل کی وہ برانچ ہے جس میں دماغ کے اس حصے کا مطالعہ مقصود ہوتا ہے جس سے زبان کی افزائش ہوتی ہے۔اس کو ہم اردو میں عصب لسانیاتی مطالعہ کہہ سکتے ہیں۔ اب غالب کی معنی آفرینی پر بات کرتے ہوئے خیال آفرینی اور عصب لسانیاتی مطالعے کی ظاہر ہے ضرورت تو ہوگی ہی۔ لفظ و معنی کے باہم ربط اور دریدائی رد تشکیل پر نارنگ صاحب نے تو بحث کی ہی ہے اور ان تمام امور کو ملحوظِ خاطر رکھ ر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اشعارِ غالب میں معنی آفرینی کے پس منظر اور محرکات کیا کیا ہیں۔ نارنگ معنی آفرینی کی تمام بحث اور تجزیہ کے بعد اپنی کتاب میں اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ جدتِ مضامین اور طرفگیِ خیالات جس پر حالی کا زور سب سے زیادہ ہے اس سے زیادہ اہم خصوصیت غالب کی معنی آفرینی میں جدتِ مضامین اور ندرتِ بیان کا محرک ہونا ہے۔ غالب ڈسکورس میں غالب کی معنی آفرینی اشعارِ غالب کے تجزیہ کا سب سے اہم میزان ہے۔ اس خصوصیت کی اہمیت یوں بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس زمانے میں معنی آفرینی کی مثال شاذ و نادر ہی نظر آتی ہے۔ معنی آفرینی میں خیال آفرینی اور ندرتِ بیان دونوں کا حسین امتزاج شامل ہے جو ما قبل شعرا میں اس اہتمام سے موجود نہیں۔ کیا افکار و خیالات کی افزائش میں صرف احساسات ہی کا عمل دخل ہوتا ہے یا دماغ کی physical condition بھی کارگر ہوتی ہے؟ اس کا جواب بہت مشکل ہے ۔ماہرینِ عصبیات دماغ کو دو حصوں میں تقسیم کر کے دیکھتے ہیں اور ان دونوں حصوں کے تعلق سے ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ خیالات جب ابتدائی مراحل میں ہوتے ہیں تو ان کی تشکیل میںدماغ کے ان دونوں حصوں کے خلیے خیالات کی افزائش سے لے کر ان کی زبانی شکل میں تقلیب تک کے مرحلے کا تعلق اعصاب سے زیادہ ہے۔ ممکن ہے کہ ان اعصاب کی کاری گری میں بھی کہیں نہ کہیں احساسات کا عمل دخل ہوتا ہو۔ ممکن ہے کہ اسی وجہ سے انسانی اذہان کے عصب لسانیاتی تجزیہ کا تعلق عصب نفسیاتی علوم سے بھی براہِ راست ہے۔ ہماری نیورو سائنس ابھی ارتقا کی اس منزل تک نہیں پہنچی ہے جہاں یہ معلوم کیا جا سکے کہ خیال آفرینی میں عصبیات، نفسیات، احساسات، لسانیات اور عصب لسانیات اور عصب نفسیات کتنے فی صد شراکت رکھتے ہیں۔ غالب کے یہاں معنی آفرینی کے محض یہی لوازم نہیں نارنگ صاحب نے غالب کے اشعار کی شعریات بیان کرتے ہوئے اپنی اس کتاب میں معنی آفرینی کے دیگر لوازمات کا ذکر بھی کیا ہے۔ اس کتاب کے اس حصے میں جہاں معنی آفرینی کی بات کی گئی ہے نارنگ صاحب نے حالی کے حوالے سے معنی آفرینی کے محرکات کا شمار اس طرح کیا ہے:
’’۔۔۔۔ان مختلف النوع اور مختلف الخیال اشعار میں حالی نے کہیں مضمون آفرینی کی دا دی ہے، کہیں خیال بندی کی، کہیں تمثیل نگاری کی ، کہیں نزاکت خیالی و طرفگی بیان کی، کہیں استعارہ سازی و تشبیہ کاری کی، کہیں نکتہ رسی تیز نگاہی، حاضر جوابی ، بذلہ سنجی، شوخی و ظرافت کی تو کہیں ندرت و جدت و اسلوب و اداکی، بے شک یہ سب لوازم شعری نیز ان جیسے دیگر لوازم غالب کی معنی آفرینی و حسن کاریکی شعری گرامر کے ارکان اساسی قرار دیے جا سکتے ہیں، اور ان کے بعد کے آنے والوں نیبار بار صاد کیا ہے۔ ان پر نظر رکھتے ہوئے اور حالی کی آرا سے استنباط کرتے ہوئے ہماری سعی ہوگی کہ ان سب رسومیات شعری کے پس پشت کیا کوئی اضطراری لا شعوری حرکی تخلیقی عنصر یا افتاد ذہنی ایسی بھی ہے یا دوسرے لفظوں میں کوئی ناگزیر شعری یا بدیعی منطق ایسی بھی ہے جو غالب کی نادرہ کاری کے پس پشت متن کی داخلی ساخت میںہمیشہ نہ سہی تو اکثر و بیشترکار گر رہتی ہے یا اس کا جواز پیدا کرتی ہے‘‘
(غالب معنی آفرینی ، جدلیاتی وضع ، شونیتااور شعریات، گوپی چند نارنگ، صفحہ۳۵۔۳۶)
اس طرح غالب کی معنی آفرینی کے رموز ٹٹولتے ہوئے حالی کی نظر سے اور اس کے ما سوا بھی اس کتاب میں نارنگ صاحب نے بہت سے عقدے اور ان کے پوشیدہ عوامل کی گرہ کشائی کی ہے۔ اشعارِ غالب کی مثالوں سے غالب کے گنجینٔہ معنی کے طلسم کا پاس ورڈ ڈھونڈتے ہوئے نارنگ نے ان کے معنیاتی نظام میں پوشیدہ ان وادیوں کی بھی سیر کی ہے جن میں حالی نے بھی صرف نگاہیں دوڑائی تھیں، ہائکنگ نہیں کی ۔ اور مزے کی بات تو یہ کہ ان وادیوں اور جنگلوں کی سیر کے لیے نارنگ صاحب نے کسی فلسفیانہ ہائکنگ بوٹ کا استعمال بھی نہیں کیا ہے۔
غالب کے مختلف اشعار اور اس کی تشریح بیان کرتے ہوئے غالب کی معنی آفرینی کے مختلف جواز کو ثابت کیا گیا ہے۔ عام طور سے ماہرین غالب اشعار غالب کو سمجھنے کے لیے شرح غالب کو رجوع کرتے ہیں یا اشعارِ غالب کی تشریح اپنے طور پر کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ کسی بھی شاعر کی شعری کائنات کو سمجھنے کے لیے عموماََ یہی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ معنی آفرینی کی گرہ کشائی کے لیے خیال آفرینی اور ندرتِ خیال کی بات کم ہی ناقدین کرتے ہیں۔ ہا ں، البتہ سارا زور علم بیان پر صرف کیا جاتا ہے۔ جب غالب کے خیالات پر غور و فکر کیا جاتا ہے تو کیسے کیسے نوادرات سامنے آتے ہیں۔ ان نوادرات کی مسلسل کئی کڑیاں ہیں، ان ہی میں سے ایک کڑی ہے ۔غالب کے اشعار کا تجزیہ گوپی چند نارنگ نے کچھ اس انداز میں کیا ہے کہ اس سے معنی آفرینی کی فضا بندی کے عوامل ظاہر ہو جاتے ہیں۔ کہیں کہیں تو نارنگ حالی سے بالکلیہ اتفاق کرتے ہیں اور کہیں ان کے ماخوذ کردہ نتائج سے پورے طور پر اختلاف کرتے ہوئے نئے معانی کو ترجیح دیتے ہیں، اور اس کی معقول وجہ بھی بیان کر دیتے ہیں۔ اس پورے عمل میں ان کا انداز کچھ اس طرح کا ہے کہیں بھی وہ بلند بانگ دعوے نہیں کر تے ۔ بس محض ایک دوسرے option کا اشارہ دے کر فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہیں کہ بھائی اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے اور اس کا جواز یہ ہے۔ اب اگر کوئی نارنگ سے اختلاف کرتا ہے تو وہ اس کے لیے پوری طرح آزاد ہے۔ لیکن اپنی جرح کو وہ جس مضبوطی کے ساتھ پیش کرتے ہیں کہ ان سے اختلاف کرنا نا ممکن سا ہو کر رہ جاتا ہے۔
مثال کے طور پر غالب کے ایک مشہور شعر کی تشریح میں وہ حالی سے اس انداز میں اختلاف کرتے ہیں :
’’
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
حالی کا کہنا ہے کہ غالب نے ’’نیستی کو ہستی پر ترجیح دی ہے اور ایک عجیب توقع پر معدوم محض ہونے کی تمنا کی ہے‘‘ شعر سے مناسبت نہیں رکھتا۔ عین ذات نہ تو نیستی ہے نہ معدوم محض ہے جبکہ تصوف کے رائج تصورات کی رو سے موجودات و ظواہر فریب حواس و اعتبار ی محض ہیں(ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسد / عالم تمام حلقۂ دامِ خیال ہے)۔ غور طلب ہے کہ کیا شعر میں لطف و انبساط و معنی آفرینی کی فضا استفہامیہ پیرایہ کی اس کشاکش سے نہیں بنتی جو خدا اور انسان دونوں کے روایتی تصور کے رد در رد سے پیدا ہوتی ہے؟ گویا اس شعر میں بھی کیا نتیجتاََ اس ارتداد سے ابھرنے والی معمولہ حقیقت کے قضایا کو متناقض قرار دے کر معنی کی طرفوں کو کھولنے اور اس طرح نئے سے نئے معنی پیدا کرنے کی وہی جدلیاتی افتاد ذہنی کارفرما نہیں ہے جسے ہم پہلے دیکھ آئے ہیں۔ پہلے مصرع میں دو کلمہ ہائے نفی آمنے سامنے لائے گئے ہیں۔ کچھ نہیں تھا تو خدا تھاجو عین ذات ہے۔ یہ ماضی پر دال ہے۔ دوسرا ٹکڑا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا شرطیہ ہے اور حال و استقلال کی صورت (حالات) سے متعلق ہے۔ کیا دونوں ٹکڑوں میں نفی کی حرکیات سے معنی کی جامد روایتی شکل زائل نہیں ہو گئی اور کیا ان تصورات سے وابستہ چلے آ رہے پرانے معنی سیّال نہیں ہو گئے یا گردش میں نہیں آ گئے۔ دوسرے مصرع میں بھی دو جدلیاتی نکات کارگر ہیں۔ اول یہ کہ میرے ہونے یعنی تعینات و موجودات میں مقید ہونے نے میرا مرتبہ گرا دیا۔ دوسرے یہ کہ میں اگر موجودات کے تعین میں نہ گھرا ہوتا تو عین ذات ہوتا۔ بتانے کی ضرورت نہیںکہ انسان کا اصل الاصول عین ذات ہے۔ پس ظاہر ہوا کہ یہ نیستی کا نہیں انسان کے اصل الاصول یعنی ذات کے اثبات کا مضمون ہے جو صوفیا اور یوگیوں کے تصورات یا مایا نیز وجودی فکری نہج سے مطابقت رکھتا ہے کہ حقیقت مطلقہ کائنات کے ذرّے ذرّے میں جاری و ساری ہے اور صفات عین ذات ہیں، انسان فی نفسہ کچھ نہیں، موجودات وتعینات اعتبار محض ہیں جو کچھ ہے ماورائی شعورِ کلّی ہے۔‘‘
(غالب معنی آفرینی ، جدلیاتی وضع ، شونیتااور شعریات، گوپی چند نارنگ، صفحہ۳۸)
اقتباسِ بالا سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ غالب کے اس فلسفیانہ شعر میں حالی کا جو نظریہ ہے وہ عام استفہامیہ کے پیرائے میں ہے۔ جب کہ پروفیسر نارنگ کا ذہنی افتاد اس شعر کو بڑے گہرے فلسفے سے جوڑ کردیکھتا ہے۔ ہستی اور نیستی کے جس فلسفے کی بحث کتاب کے اس حصے میں کی گئی ہے وہ اتنی سلجھی ہوئی بحث نہیں ہے۔ یہ تو نارنگ کا کمال ہے کہ اس پیچیدہ فلسفے کی تفہیم اس طرح سے پیش کر دیا کہ اس کا سمجھنا ہی آسان نہ ہوا بلکہ اس پر بحث کے دروازے بھی کھول دیے۔ قبل اس کتاب کے غالب کی ایسی تفہیم کی جرأت کسی نے نہیں کی۔ وجودیت کے جس فلسفے کی بات یہاں نارنگ صاحب کر رہے ہیںاس سے دو باتیں ثابت ہو جاتی ہیں پہلی بات تو یہ جو ان کا عین مقصد ہے یعنی غالب کی معنی آفرینی میں خیال آفرینی کی ندرت کا کمال اور دوسرا جو وہ ثابت تو نہیں کرنا چاہتے مگر زیریں لہر میں یہ ثابت ہو جاتا ہے، وہ یہ کہ اس شعر کی تفہیم میں وجودیت کو اس شعر کی بنیاد بتایا گیا ہے۔ وجودیت چونکہ جدیدیت کا فکری محور ہے، اس لیے غالب کایہ شعر تو جدید فکر کا حامل شعر ہوا۔ اس طرح اس بات کی بھی وضاحت ہو جاتی ہے کہ نارنگ نے یہ کتاب غالب کو مابعد جدید شاعر ثابت کرنے کے لیے نہیں لکھی، ور نہ ان کے اس شعر کو بلکہ اس طرح کے اور بھی بہت سارے اشعار کی تفہیم میں وجودیت کے فلسفے کو بروئے کار نہیں لاتے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ کیا غالب کے اشعار کی تفہیم میں وجودیت کے عمل دخل کا علم حالی کو نہیں تھا ؟ یا عمداََ انہوں نے اشعارِ غالب کے ڈانڈے وجودیت سے ملانے سے گریز کیا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ حالی بھی یہاں روایتی معانی سے باہر نکل نہیں پائے اور غالب کے فلسفیانہ افکار کی تہہ میں پنہاں فلسفے کی مختلف دبستانوں کے تفاعل کی کار فرمائی کو سمجھنے اور روایتی معنی سے انحراف کا رسک اٹھانے کے بجائے سیدھے سیدھے ان اشعار کو سمجھنے اور سمجھانے کی سعی کی جو اصلاََ تفہیمِ غالب کا پہلا پتھر اور بھاری پتھر ثابت ہوا۔ اب نارنگ تفہیمِ غالب میں ایک قدم اور بڑھاتے ہیں اور اپنی اس کتاب سے انہوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غالب کے اشعار خارجی طور پر جتنے سادہ معلوم ہوتے ہیں داخلی طور پر ان پر معنی کے پردے تہہ در تہہ پڑے ہیں جن کو سمجھنے کے لیے اشعارِ غالب کے بہ جائے افکارِ غالب کا مطالعہ و تجزیہ کرنے کی اشد ضرورت ہے جن کی جہتیں بودھی فکر، جدلیاتِ نفی اور شونیتا کے مختلف دھاروں سے جا ملتی ہیں ۔ مطلب یہ کہ اشعارِ غالب کی روح افکارِ غالب میںہے اور افکارِ غالب قدیم ہندوستانی فلسفے کی پیداوار ہے۔
جس طرح اشعارِ غالب مختلف الجہات ہیں اسی طرح افکارِ غالب کا بھی معاملہ یہ ہے کہ ایسانہیں کہ ان کے تمام اشعار میں وجودیت کی کار فرمائی ہے۔ جب غالب پر تحریر کی جانے والی اس صدی کی سب سے اہم کتاب میں مصنف نے افکارِ غالب میں غوطے لگائے ہیں تو انہیں جو فکری تفاعل سب سے زیادہ کار فرما ملے وہ ہیں جدلیاتِ نفی، بودھی افکار اور شونیتا۔ جب اس کتاب کے پہلے باب میں بیس اشعار کی تشریح و تفہیم کی گئی وجودیت محض و جودیت نہیں بلکہ لا موجودیت معلوم ہونے لگی۔ یہی لا موجودیت نارنگ کو شونیتا کا پتہ دیتی ہے جو موجود ہوتے ہوئے بھی لا موجود ہے ۔ یہاں تک کہ شونیتا کا شونیہ بھی فنا ہو جاتا۔ یعنی شو نیہ خود کا وجود بھی باقی نہیں چھوڑتا۔
اس کتاب کے تیسرے باب میں جس کا عنوان ’دانشِ ہند اور جدلیاتِ نفی ‘ ہے مصنف نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہندستانی فلسفے کا کوئی تصور جدلیاتِ نفی کے بغیر ممکن نہیں۔ شونیتا کا گہرا رشتہ جدلیاتِ نفی سے ہے۔ اس باب کی ابتدا ہی میں ایک جملہ درج ہے در اصل یہی جملہ اس پورے باب کا نچوڑ ہے ۔ وہ جملہ ہے Knowledge of Abscence is not absence of knowledge یہ جملہHiriyannaکا ہے۔ اس باب کی ابتدا میں اس جملے کو جڑ دینا یونہی نہیں ہو سکتا۔ اس باب میں یہ وضاحت بالتفصیل ہے کہ کس طرح نفی مثبت حقیقت کی دلالت کرتا ہے یعنی نفی بھی اثبات کی دلالت کرتا ہے۔ بظاہر تو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی مگر جس طرح سے اس باب میں مصنف نے نفی اور اثبات کے اس فلسفہ کی مثالوں کے ذریعہ سے وضاحت کی ہے کہ اس کو بہ آسانی سمجھا جا سکتا ہے۔جب ہم یہ کہتے ہیں کہ کوئی شئے یہاں نہیں ہے تو در اصل ہم اس منفی بیان میں بھی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اس شئے کا وجود ہے ور نہ یہ کہنا ہی فضول ہوتا کہ فلاں شئے نہیں ہے۔ یعنی کسی شئے کا نہیں ہونا یعنی لا موجودیت اس شئے کے ہونے یعنی اس کے وجود کی گواہی دیتا ہے۔ اس جدلیاتِ نفی کی بحث سے اس دنیا کے ذہین ترین تسلیم کیے جانے والے شخص آئنسٹائن اور ٹیگور کے درمیان نفی کے مسئلے پر بحث کی یادآتی ہے۔ جب رابندر ناتھ ٹیگور ۱۴؍ جولائی ۱۹۳۰ کو برلن کے نزدیک کاپتھ میں آئنسٹائن کے گھر تشریف لے گئے تھے۔ ان دوعظیم ہستیوں کے مابین ہوئی گفتگو کو محفوظ رکھ لیا گیا تھا اور یہ ’ماڈرن ریویو ‘کے جنوری ۱۹۳۱ کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔اس انٹرویو میں جب ٹیگور نے آئنسٹائن سے پوچھا کہ جسے ہم سچائی کہتے ہیںوہ حقیقت کے معروضی اور تفصیلی پہلوئوں کے درمیان میںہوتا ہے۔اور ان دونوں کا تعلق مرد کامل انسان سے ہوتا ہے۔ تب اس کے جواب میں آئنسٹائن نے کہا تھا کہ ہم اپنے دماغ سے سوچتے ہیں اپنی روزمرہ کی زندگی میں بھی اور اس کے لیے ہم ذمہ دار نہیں ہیں۔ ہمارا دماغ حقیقتوں کی پہچان حقیقتوں کے باہر، آزاد رہ کر کرتا ہے۔ مثال کے طورپراس گھر میں کوئی نہ ہو تب بھی یہ میزیہیں رہتی ہے جہاں پر یہ ہے۔
تب ٹیگور نے کہا تھا ہاں، یہ انفرادی ذہن سے باہر رہتا ہے لیکن آفاقی ذہن سے باہر نہیں۔ میزکی حقیقت ہمارے شعور میں موجود ہے۔اس پر آئنسٹائن کی منطق یہ تھی کہ اگر اس گھر میں کوئی نہ ہو تب بھی اس میز کا وجود ویسے ہی رہتا جیسے یہ ہے۔مگر یہ تو آپ کے نظریہ کے مطابق غلط ہے کیونکہ ہم سمجھا نہیں سکتے کہ اس کا مطلب کیا ہے،کہ ہم سے آزاد میز کا وجود ہے، ۔ انسانیت سے پرے سچائی کے وجود کا ہمارا فطری نقطہ نظربیان یا ثابت نہیں کیا جا سکتا، مگر یہ وہ یقین ہے جس میں کسی کوشک نہیں یہاں تک کہ قدیم مخلوقات کو بھی نہیں۔ہم حقیقت کوما ورائے انسان معروضی قرار دیتے ہیں۔یہ ہمارے لیے ناگذیر ہے۔۔۔یہ حقیقت جو ہمارے وجود، ہمارے تجربات اور ہمارے ذہن سے آزاد ہے۔۔حالانکہ ہم کہہ نہیں سکتے کہ اس کا کیا مطلب ہے۔
آئنسٹائن کی اس منطق کے جواب میں ٹیگور نے کہا تھا کہ کسی بھی حالت میں، ایسی کوئی بھی حقیقت جس کا تعلق انسان سے نہیں ہے تو ہمارے لیے اس کاوجود نہیں وہ عدم وجود ہے۔
آئنسٹائن نے چٹکی لی تھی اور کہا تھا کہ میں آپ سے زیادہ مذہبی ہوں!اس کے جواب میں ٹیگور نے کہا تھا کہ میرا مذہب ماورائے ذات انسان کی تفہیم ہے، ایک آفاقی روح، میرا خود کا انفرادی وجود۔
وجود اور عدم وجود کے تعلق سے دنیا کے دو ذہین لوگوں کی یہ گفتگو بہت پر لطف ہے آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:
EINSTEIN: If nobody would be in the house the table would exist all the same — but this is already illegitimate from your point of view — because we cannot explain what it means that the table is there, independently of us.
Our natural point of view in regard to the existence of truth apart from humanity cannot be explained or proved, but it is a belief which nobody can lack — no primitive beings even. We attribute to Truth a super-human objectivity; it is indispensable for us, this reality which is independent of our existence and our experience and our mind — though we cannot say what it means.
TAGORE: Science has proved that the table as a solid object is an appearance and therefore that which the human mind perceives as a table would not exist if that mind were naught. At the same time it must be admitted that the fact, that the ultimate physical reality is nothing but a multitude of separate revolving centres of electric force, also belongs to the human mind.
In the apprehension of Truth there is an eternal conflict between the universal human mind and the same mind confined in the individual. The perpetual process of reconciliation is being carried on in our science, philosophy, in our ethics. In any case, if there be any Truth absolutely unrelated to humanity then for us it is absolutely non-existing.
It is not difficult to imagine a mind to which the sequence of things happens not in space but only in time like the sequence of notes in music. For such a mind such conception of reality is akin to the musical reality in which Pythagorean geometry can have no meaning. There is the reality of paper, infinitely different from the reality of literature. For the kind of mind possessed by the moth which eats that paper literature is absolutely non-existent, yet for Man’s mind literature has a greater value of Truth than the paper itself. In a similar manner if there be some Truth which has no sensuous or rational relation to the human mind, it will ever remain as nothing so long as we remain human beings.
EINSTEIN: Then I am more religious than you are!
TAGORE: My religion is in the reconciliation of the Super-personal Man, the universal human spirit, in my own individual being.
(Secondry web source)
) https://www.brainpickings.org/2012/04/27/when-einstein-met-tagore/(
یہ گرما گرم بحث بھی در اصل وجود اور عدم وجو د کی بحث ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ ٹیگور اور آئنسٹائن کے ذہن میں یہ خیالات یونہی گردش کر رہے تھے۔ در اصل یہ مباحثے افکار کے اس دھارے کی تلاش میں ہوئے ہیں، اشعارِغالب جن افکار کا نتیجہ ہیں۔ وجود اور عدم وجود کا جا بجا غالب کے اشعار میں ہونا در اصل ان کی فکر و خیال کی پرواز کا پتہ دیتا ہے۔ بات در اصل یہ ہے کہ اس مکالمے میں جو میز کی مثال دی گئی ہے، کہ آئنسٹائن کے مطابق وہ میز تب بھی وہاں ہوگی جب وہاں کوئی نہ ہو، جبکہ ٹیگور کا نظریہ مختلف ہے۔ اس پوری فلسفیانہ بحث کو غالب کی نظر سے دیکھا جائے تو اس ایک شعر میں اس بحث کا لب و لباب موجود ہیـ؛
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے ، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
اس شعر کی تشریح کرتے ہوئے پروفیسر نارنگ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:
’’پہلے مصرع میں دو کلمہائے نفی آمنے سامنے لائے گئے ہیں۔ کچھ نہیں تھا تو خدا تھاجو عین ذات ہے۔ یہ ماضی پر دال ہے۔ دوسرا ٹکڑا کچھ نہ ہو تا تو خدا ہوتاشرطیہ ہے اور حال اور استقلال کی صورت(حالات) سے متعلق ہے۔ کیا دونوں ٹکڑوں میں نفی کی حرکیات سے معنی کی جامدروایتی شکل زائل نہیں ہو گئی اور کیا ان تصورات سے وابستہ چلے آ رہے پرانے معنی سیال نہیں ہو گئے یا گردش میں نہیں آ گئے۔ دوسرے مصرع میں بھی دو جدلیاتی نکات کارگر ہیں۔ اول یہ کہ میرے ہونے ، یعنی تعینات اور موجودات میں مقید ہونے نے میرا مرتبہ گرا دیا۔ دوسرے یہ کہ میں اگر موجودات کے تعین میں نہ گھرا ہوتا تو عین ذات ہوتا ۔ بتانے کی ضرورت نہیں کہ انسان کا اصل الاصول عین ذات ہے۔ پس ظاہر ہوا کہ یہ نیستی کا نہیں انسان کے اصل الاصول یعنی ذات کے اثبات کا مضمون ہے جو صوفیا اور یوگیوں کے تصورات یا مایا نیز وجودی فکری نہج سے مطابقت رکھتا ہے کہ حقیقت مطلقہ کائنات کے ذرے ذرے میں جاری و ساری ہیاور صفات عین ذات ہیں ، انسان فی نفسہ کچھ نہیں ، موجودات تعینات اعتبار محض ہیںجو کچھ ہے ما ورائی شعورِ کلی ہے۔‘‘ (صفحہ ۳۸)
آگے اس بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے نارنگ نے لکھا ہے کہ
’’مندرجہ بالا بحث کی روشنی میں کیا ہم یہ مفروضہ قائم کرنے میں حق بجانب ہونگے کہ غالب کی معنی آفرینی کے یوں تو کئی ابعاد ، کئی پہلو ہیں (بسیار شیوہ ہا ست بتاں راکہ نام نیست) تخلیقی عمل یوں بھی بھید بھرا بستہ ہے۔ تنقید اس کی تھاہ پانے کا دعویٰ نہیں کر سکتی فقط قرأ ت کی بنا پر قیاسات قائم کر سکتی ہے وہ بھی صرف ان عوامل کے بارے میں جو تخلیقی عمل کی خصوصیات خاصہ سے تعلق رکھتے ہوں ۔ ‘‘
جب بھی کسی فن پارے کو تنقیدی نگاہ سے تجزیے کے مراحل سے گذارا جاتا ہے تو دو باتیں بے حد اہم ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ فن کار کی فکری اور فنی صلاحیت تنقید نگار کے علم میں ہو۔ نہ صرف یہ کہ اس کے علم میں ہو بلکہ اس کی استعداد یہ ہو کہ وہ فکر اور فن کے اعلی نمونوں کے حسن و قبح پر نظر رکھ سکتا ہو اور تبصرہ کر سکتا ہو۔ دوسرے یہ کہ فن پارے کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کی اہلیت رکھتا ہو اور کس فن پارے کو کس زاویے سے دیکھا جائے کہ اس کے حسن کی مکمل طور پر ترجمانی ہو سکے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک فن پارہ کا سارا رنگ تبھی کھلتا ہے جب اس کے حسن کو کسی خاص زاویے سے دیکھا جائے، اور اگر اس کو اس زاویہ خاص سے نہ پرکھا گیا تو اس فن پارہ کے کمالِ فن تک نہیں پہنچا جا سکتا یا اس کا حسن بہت معمولی بن کر سامنے آتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر خسرو کے اشعار کو ایک خاص سیاق و سباق میں رکھ کر سیدھے سیدھے پڑھا جائے تو کیا ’گوری سوئے سیج پر مکھ پر ڈالے کیس‘ جیسے اشعار کے حسن تک پہنچنا ممکن ہو پائے گا؟ یا پھر قرۃ العین کے ناول آگ کا دریا کے حسن کو پرکھنے کے لیے اگر ناقد کو تاریخی حقایق سے دلچسپی نہیں ہو یا ہندوستان کے ماضی اور ہندوستان کی تہذیبی ارتقا سے واقفیت نہیں ہو تو وہ آگ کا دریا ناول تو کیا اس کے فصلِ اول سے بھی محظوظ نہیں ہو پائے گا۔ اب ایسے میں کسی فن پارے کو ایک اچھا فن پارہ کہنے کے لیے ہمارے پاس کوئی absolute پیمانہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی فن پارہ کسی ناقد کی نظر میں اعلیٰ اور دوسرے ناقد کی نظر میں ادنیٰ ہوتا ہے۔ کچھ فن پارے ایسے ہوتے ہیں جس کو ہر ناقد فن کا اعلیٰ نمونہ گردانتا ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اس فن کے اصل حسن تک سب کی رسائی ہو چکی ہے۔ البتہ اس کا مطلب یہ ضرور ہوتا ہے کہ فن کار کا کمالِ فن یہ ہے کہ جس زاویہ سے بھی اس فن پارے کو دیکھا جائے یہ حسین نظر آتا ہے۔ تب بھی اس کے حسن کی اصل معراج تب ہوتی ہے جب اس کو اس زاویہ سے دیکھا اور پرکھا جائے جس سے وہ سب سے زیادہ حسین نظر آئے، اور اس کے تمام فنی کمالات کا ظہور ہو جائے۔ کچھ فن کار ایسے ہوتے ہیں جن کے فنی کمالات کو بروئے کار لاتے ہوئے ناقد کو ہمہ وقت یہ احساس ہوتا رہتا ہے کہ اس نے تمام نوک پلک اور اس کے محاسن کے ساتھ وفا نہیں کی۔ جتنا بالیدہ ناقد کا شعور ہوگا اتنی بالیدگی سے وہ فن پارے کے فکری و فنی عناصر پر گفتگو کرے گا۔ تخلیقی عمل ایک بہت ہی پر اسرار عمل ہوتا ہے۔ تخلیق کے تمام رموز کو آشکار کر دیا جائے یہ کوئی ضرری نہیں ۔ نارنگ کی زبان میں’’تخلیقی عمل یوں بھی بھید بھرا بستہ ہے۔ تنقید اس کی تھاہ پانے کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔‘‘ ظاہر ہے نارنگ کی تنقید کے تعلق سے بھی یہی بات صادق آتی ہے۔ یعنی نارنگ کی غالب تنقید بھی غالب کے بھید بھرے بستے کی تھاہ نہیں پا سکی ہے۔ غالب کے فنی کمالات اور فکری لوازمات کو سمجھنے کے لیے نارنگ جیسے ذہین ناقد کی ضرورت تھی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ماقبل شارحینِ غالب نے ذہانت کا ثبوت نہیں دیا تھا، ہاں البتہ یہ ضرور ہے کہ ما قبل شارحینِ غالب کا نظریہ اور زاویہ بالکل مختلف تھا۔ وہ فن پارے کو جس زمانی و مکانی سیاق و سباق میں دیکھتے تھے غالب کی شاعری اس سے کہیں بالاتر ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ پروفیسر گوپی چند نارنگ نے معنی آ فرینی ، جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات کے جن ابزاروں کو بروئے کار لا کر غالب کے اشعار میں پوشیدہ معانی پر جمی گرد کو ہٹایا ہے وہ آج کا تقاضا تھا۔ آنے والے وقت کا ظاہر ہے کچھ اور تقاضا ہوگا اور آنے والی نسل کے ذہنی افق پر یہ منحصر ہے کہ وہ تفہیم غالب کے کتنے نئے دریچے وا کرتے ہیں اور کتنے نئے معنیاتی نظام دریافت کرتے ہیں۔
گوپی چند نارنگ نے غالب کے تخلیقی رموز کو آشکارکرنے کی غرض سے روایتی اور گھسے پٹے زاویہ ٔ تنقید کے بجائے مختلف نئے تنقیدی زاویوں سے غالب کی تفہیم کا راستہ چنا۔ غالب کی نئے سرے سے تفہیم کی ایک نئی روایت شروع ہوئی۔ عندلیب گلشن نا آفریدہ کو اکیسویں صدی کا گلشن ملا۔ ظاہر ہے یہ حرف آخر نہیں ۔ اس کے بعد بھی مختلف زاویوں سے غالب کی تفہیم کے دروازے کھلے ہیں۔ مگر جن مختلف زاویوں سے پروفیسر نارنگ نے غالب کی تفہیم و تشریح کی ہے اس سے آگے بڑھ جانا ابھی تو قدرے مشکل معلوم ہو تا ہے۔ غالب ہندوستان میں پیدا ہونے والا شاعر تھا۔ اس کی شاعری لاکھ آفاقی سہی لیکن اس کی جڑیں ہدوستان کی مٹی میں پیوستہ ہیں۔ تو کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ اشعارِ غالب میں موجود فلسفیانہ افکار کے ڈانڈے بھی قدیم ہندوستان کے فلسفیانہ اساس سے ملتے ہوں؟ ممکن ہے کے افکارِ غالب کے سوتے بودھ مذہب اور ہندو مت کے ان فلسفوں سے مستعار ہوں جن کی خوشبو آج بھی ہندوستا ن کی مٹی میں پائی جاتی ہے، اور ایک زمانے میں پوری دنیا نے ان ان فلسفیانہ افکار کا لوہا مانا تھا۔ غالب کے مختلف اشعار کی تشریح کرتے ہوئے نارنگ نے بیشتر کو وجودی فکر کے قریب بتایا ہے، اور پھر بعد ازاں جب شونیتاکو متعارف کرایا اور اس کی تعبیر و تشریح کی تب جا کر یہ معلوم ہوتا ہے در اصل جس کو ہم وجودی فکر سمجھتے آ رہے تھے وہ وجودی فکر کے علاوہ کچھ اور تھا۔ اور اشعارِ غالب میں تو اسی ’کچھ اور ‘کی جلوہ گری ہے۔ شونیتا کو پروفیسر نارنگ نے اردو میں پہلی دفعہ متعارف کرایا ہے۔ اس سے پہلے اردو میں کسی نے شونیتا کے حوالے سے گفتگو کی ہو، یا کچھ لکھا ہو، یا شونیتا کی رو سے کسی فن پارے کا جائزہ لیا ہو اس کی کوئی تاریخ نہیں ملتی، یا کم از کم میری نگاہ سے تو نہیں گزری۔ شونیتا کو متعارف کراتے ہوئے نارنگ صاحب لکھتے ہیں:
’’حقیقت کی کُنہ کو یا آگہی کی انتہا کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا اظہار عارفوں یا اولیا نے بے زبانی کی زبان language of unsaying ہی میں کیا ہے۔ بدھ جو ذاتِ مطلق یا روح کے بارے میں خاموشی اختیار کرتا ہے، اس نے سرّالاسرارکے لیے جو اصطلاح استعمال کی ہے وہ ’شونیم‘ ہے۔ ’شونیم‘ کا لفظی ترجمہ ممکن نہیں، مطلق خالی پن ، مطلق خلا جہاں کچھ بھی نہ ہو، مکمل خاموشی، سنّاٹا۔ لیکن خالی پن سے منفیت کا تاثر پیدا ہوتا ہے، جیسے پہلے کچھ تھا اورکم ہو گیا، لیکن ’شونیم‘ اس معنی میں خالی پن نہیں ، بلکہ خالی پن سے بھری پُری کیفیت، یہ منفی نہیں ، عرف عام میں مثبت بھی نہیں ، بلکہ کچھ بھی نہ ہوناقطعاََ کچھ نہ ہونا، اکیلا، تنہا، بے لوث، وجودِ محض، بسیط، کراں تا کراں، خالی پن سے بھر پور، اسے بیان کرنا مشکل ہے۔
لفظ بدھ کا مطلب ہے ’آگاہ‘ جو جانتا ہو۔ بدھ نے کہا ہے میں کچھ بھی نہیں ما سوائے ’آگہی‘ کے۔ بدھ کو’ بدھ‘ کہا ہی اس لیے جاتا ہے، یہ نام گیان پانے کے بعد رائج ہوا۔ ورنہ اصل نام تو گوتم تھا۔ بدھی کا مطلب ہے آگہی ۔ مشرق کی استعاراتی زبان میں کم و بیش جو مفہوم ’آئینہ‘ کا ہے یا’ صیقل آئینہ‘ جس میں حقیقت کا اصل جھلکتا ہے ہر شئے کا عکس جیسی وہ ہے، لیکن گزراں، بے لوث، بے تعلق، بے غرض۔ اپنے آپ میں مگن’بے اصل‘’صفر‘’شونیم‘یہ آگہی محض ’بدھ کیفیت ‘ہے ، یعنی Buddhahood۔ یہ غیر متعینہ مفہوم کلیتاََ غیر مذہبی ہے۔ کسی مذہب و مسلک سے اسے کچھ لینا دینا نہیں۔
اسی طرح شونیتا بطور اصطلاح کا لفظی ترجمہ بھی نا ممکن ہے۔شونیہ کا لغوی مطلب ہے صفر، اندر سے خالی ۔ چنانچہ شنیتا کا مطلب ہواصفر اصل الاصولThe zero principle یعنی ہر شئے کا خالی ہونا ، اشیا کا بے اصل ہونا Emptiness/Voidness۔ ‘‘ (صفحہ ۹۰)
مندرجہ بالا اقتباس سے اس بات کا اندازہ لگانا بالکل ہی مشکل نہیں کہ شونیتا اور اشعارِ غالب میں کیا رشتہ ہے۔ شونیہ کا اپنا ایک وجود ہے۔ وہ کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی کچھ ہے۔ nothingness بھی تو کچھ ہے۔ حقیقتreality، موہوم حقیقت Hallucinatory realism اور شونیتا یہ تینوں منازل ہیں۔ شونیتا ان تینوں میں آخری منزل ہے۔ شونیتا اور حقیقت یہ دونوں ایک دوسرے کی نفی ہیں۔ اس بودھی فکر کا ایک رشتہ ما بعد جدید فکر سے بھی بنتا ہے۔ ما بعد جدید فکر کا سب سے اہم نام ہے سوسیر ۔ سوسیر کی فکر بودھی فکر سے اس قدر مماثل ہے کہ یہ بعید از قیاس نہیں کہ سوسیر کے فکری اساس بودھی فکر سے مستعار ہوں۔ تو اس طرح آج کی ما بعد جدید تھیوری کا تعلق بودھی فکر سے نکلتا ہے وہ بودھی فکر جس کا محور شونیتا ہے۔ گویا ہماری تہذیب کی جڑیں جہاں ملتی ہیں ہماری آج کی تھیوری کا تعلق وہیں سے ہے اور اس طرح یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ جس ما بعد تھیوری کو ہم مغرب سے لے کر آئے تھے وہ در اصل ہند نژاد نظریہ کی پیداوار نکلی۔ اب آئیے ما بعد جدید اور شونیتا میں کیا مماثلت ہے، اور آیا یہ دونوں دو مختلف افکار ہیں یا ایک ہی فکر کی دو الگ کڑیاں ہیں ، سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شونیتا کی رو سے تمام نظریے ناقص ہیںکیونکہ یہ سب اپنی اصل سے عاری ہیں۔ اب ذرا غور کریں کہ یہ دریدا کے اس نظریے سے موافقت نہیں رکھتا کہ ہر متن اپنے ردتشکیل کا جواز رکھتا ہے۔ کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ مغرب کا پوسٹ ماڈرنزم بھی وہیں سے نکلا ہو جس کو اہلِ فارس فلسفہ بودائی کہتے ہیں یعنی بدھ کا فلسفہ؟
اب غالب کے کچھ اشعار ملاحظہ فرمائیں تا کہ یہ سمجھنے میں مدد مل سکے کہ غالب کے یہاں واقعی بودھی فکر شونیتا موجود ہے یا نہیں۔ غالب کا یہ شعر
آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا
اب اس شعر میں عالم تقریر کے مدعا کا عنقا ہونا کیا حقیقت کی حقیقت کے ’شونیم ‘ ہونے کا اعتراف نہیں؟
یا پھر یہ اشعار کہ:
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں
غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے
شکنِ زلفِ عنبریں کیوں ہے
نگہ چشمِ سرمہ سا کیا ہے
سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں
ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے
غالب کے ان اشعار میں جو سوالات ہیں ان کا جواب بھی شونیم کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ غالب کے ان اشعار کا تجزیہ اگر ہم ناگارجن کے اس قول کی روشنی میں کریں کہ All named things come to rest in Shunyaغالب کے ان اشعار میں معنوی وسعت اوربڑھ جاتی ہے۔ یہ کہنا تو ناممکن ہے کہ ان اشعار کی تخلیق کے وقت کیا بودھی فکر غالب کے ذہن میں تھی یا نہیں۔ لیکن یہ تو بہ آسانی کہا جا سکتا ہے کہ غالب کے بہت سے اشعار ایسے ہیں جن کے فکری دھارے بودھی فکر کے بے حد قریب ہیں۔
مندرجہ بالا اشعار میں پہلا شعر کھلے طور پر خدا کے وجود سے علاقہ رکھتا ہے۔ اور جو سوالات غالب نے قائم کیے ہیں ظاہر ہے اس کا مطلب خدا سے اس کا جواب طلب کرنا نہیں بلکہ خدا کے وجود کے تعلق سے سوال قائم کرنا ہے۔ جب وہ سوال کرتا ہے تو اس کو جاب نہیں ملتا اور اس طرح شونیم کی تصدیق ہو جاتی ہے۔ اس کتاب میں پروفیسر نارنگ نے جہاں ایک طرف شونیتا پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے ناگارجن اور شونیتا، ویدانت اور شونیتا کا فرق، شونیتا نظریہ ہے یا نہیں، شونیتا اور نراجیت ، شونیتا بطور آزادی و آگہی، شونیتا اور دریدا، اور شونیتا خود کو بھی کالعدم کر دیتی ہے وغیرہ عنوانات قائم کیے ہیں وہیں دوسری طرف بیدل ، غالب ، عرفان، اور دانشِ ہند جیسے عنوانات بھی قایم کیے ہیں جس کے ذیل میں نارنگ صاحب نے غالب کے ذہن پر بیدل کی گہرے اثرات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ اس بات سے تو شاید ہی کسی کو اختلاف ہو کہ غالب کی شاعری پر بیدل کے اثرات تھے۔ اب ان کا اثر کتنا گہرا تھا اس بات پر اختلاف کی گنجائش ہے۔ہاں البتہ ان دونوں کے درمیان کس قدر مماثلت تھی اس پر نارنگ صاحب نے اپنی کتاب میں تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ جس حصہ میں وہ غالب پر بیدل کے اثرات اور اس تعلق سے غالب کے اعترافا ت کا ذکر کیا ہے وہ حصہ بہت خوب ہے۔ ملاحظہ ہو:
’’غالب نے شروع نوجوانی میں بیدل کو اتنا پڑھا تھا کہ وہ ان کے شعور و لا شعور اور طبیعت میں رچ بس گئے تھے۔ اس زمانے کی شاعری میں غالب بار بار بیدل سے رجوع کرتے ہیں ۔ تعجب ہے کہ وہ بیدل کے جیسے مداح اور معتقد تھے کسی دوسرے ہندی یا ایرانی فارسی گو کے نہیں تھے۔ اگر وہ کسی کو اپنا استادِ معنوی ، ہادی و رہنما مانتے ہیں تو بیدل کو۔ نسخۂ بھوپال (کتب خانہ فوجدار محمد خاں ) جو نسخۂ حمیدیہ کے نام سے شائع ہوا ، اس میں گیارہ جگہ غالب نے (جو اس وقت تک اسد تخلص کرتے تھے ) بیدل کے اتباع پر فخر کیا ہیاور ان کو بار بار خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ وہ ’طرزِ بیدل‘ کی دل کھول کر مدح سرائی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کہ ’بیعتِ بیدل ‘کا یہ فیض ہے کہ میرا قلم اس قدر مسیحائی دکھاتا ہے۔ان کے اشعار میں’ نغمۂ بیدل‘ کی ’شوخی‘ اور ’بہار ایجادیِ بیدل‘ کا والہانہ اعتراف موجود ہے۔’خامۂ بیدل‘ کو خضرِ راہ بتاتے ہیں۔ انہیں ’دریائے بے ساحل‘ کہتے ہیں۔ ان سے معنی آفرینی کی درخواست کرتے ہیں، اور دعا مانگتے ہیں کہ بیدل اگر ’غنچہ کو شوکتِ گل ‘ عطا کرتے ہیں تو ان کی عنایت سے میری صلاحیتوں کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ ‘‘ (صفحہ ۱۷۴)
غالب کا منبعِ فیض اگر بیدل تھا تو بیدل کو فکری معرفت آخر کہاں سے حاصل ہوئی تھی۔ اسی جستجو سے ہم غالب کے فکری دھاروں کا پتہ لگا سکتے ہیں۔
اڑیسہ کے ایک درویش شاہ قاسم ہواللہی کا ذکر نارنگ صاحب نے اپنی کتاب میں کیا ہے جن سے بیدل کی ملاقات ہوئی تھی۔ جب شاہ صاحب خود بیدل سے آ کر ملے تھے۔ اسی طرح بیدل کی ملاقات ایک اور درویش شاہ یکہ آزاد سے بھی نسبت تھی جو بیدل سے آرہ میں ملے تھے۔ ایک واقعہ تو بہت ہی عجیب و غریب اور چونکا دینے والا ہے۔ یہ واقعہ ایک مجذوب شاہ کابلی سے ملاقات کا ہے۔ جس واقعہ کا نارنگ صاحب نے ذکر کیا ہے وہ یہ ہے کہ بیدل کی ملاقات دلی میں ایک مجذوب سے ہوئی کسی نے ان کو کابل میں دیکھا تھا، اور وہ خود اپنے بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتاتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ شاہ قاسم کی طرح وہ بھی خود آ کر ان سے ملے تھے۔دورانِ ملاقات انہوں نے وہ شعر پڑھا جو کٹک میں عالمِ خواب میں ایک دفعہ بیدل نے سنا تھا۔ جب بیدل نے دریافت کیا کہ یہ شعر کس کا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ ’’از ماست شبہہ چیست! ‘‘ یہ کہہ کر وہ سو گئے اور تھوڑی دیر بعد بیدل پر بھی نیند کا غلبہ طاری ہوا۔ جب آنکھ کھلی تو مجذوب شاہ کابلی وہاں سے جا چکے تھے۔ شعر یہ تھا
از ما با ماست ہر چہ گوئیم
ما ہمچو توئی دگر چہ گوئیم
ان سب واقعات سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بیدل کی زندگی میں اور ان کی شاعری میں صوفیانہ رنگ و آہنگ کا کیا عمل دخل تھا۔ بیدل کو ویدوں کا بھی علم تھا چونکہ ان کی پیدائش گوتم بدھ کی کرم بھومی بہار ہے اس لیے کچھ بعید نہیں کہ انہوں نے بودھی فکر سے بھی استفادہ کیا ہو۔ حالانکہ غالب نے بعد کے زمانے میں بیدل کی تقلید ترک کر دی تھی البتہ ناقدین نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ غالب لاکھ بیدل کی تقلید کا انکار کر لیں لیکن بیدل کے اثرات ان کی سائکی میں جذب ہو چکے تھے۔
پروفیسر نارنگ نے اپنی اس کتاب میں بیدل اور غالب کے اشعار یکے بعد دیگرے درج کر کہ غالب پر بیدل کے اثرات کی نشاندہی کی ہے۔ علاوہ ازیں غالب کے تقریباََ پانچ سو اشعار کی تشریح ایک نئے زاویے سے کی ہے ۔کل ملا کر غالب کی شعریات پر پوری فلسفیانہ بحث کرنے کے بعد نارنگ صاحب اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ غالب کی فکر اور موضوع دونوں کا محور ہندوستان ہی ہے۔ غالب کی شاعری کے سمندر میں صدہا غوطے لگانے کے بعد نارنگ صاحب نے جن موتیوں کی بازیافت کی ان کو ہندوستانی سیپ میں الگ سے سجانے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ وہ موتی تھے جن کی افزائش ہی ہندوستانی سیپ میں ہوئی اور اس میں کسی کا کمال نہیں اب ابر نیساں اگر اسی سیپ میں آ ٹپکا تو تو یہ ہندوستان کا مقدر تھا، غالب بھی ہندوستان کا مقدر اور ہندوستان غالب کی خوش قسمتی، کہ بودھی فکر ، وید کا علم، مختلف علوم و فنون کا وفور، جدلیاتی فکر سے پیدا ہونے والا آزادی کا احساس یہ سب اس ہندوستانی فضا کا کرشمہ تھا جس نے غالب کو غالب بنا دیا۔ غالب کی شاعری میں شناوری کے بعد نارنگ نے جو موتی نکالے اس کا نچوڑ انہوں نے کچھ اس طرح پیش کیا ہے:
’’غالب کے جدلیاتی ذہن کی نادرہ کاری کو ہم دیکھتے آئے ہیں ۔ غالب کا مسئلہ چونکہ ما ورائیت نہیں ارضیت ہے، یعنی سلوک و عرفان نہیں، انسان ، حیاتِ انسانی اور اس کی بو قلمونی ہے، اس لیے غالب کے یہاں جدلیاتی فکر سے پیدا ہونے والا آزادی کا احساس پا بستگیِ رسم و رہ ِ عام کے زنگ کو کا ٹنے اور قیدِ کیش و ملت سے ورا ہونے یعنی وسعتِ مشرب اور بنی نوع انسان سے محبت کی گونا گوں شکلوں ، جمال آفرینی اور آزادگی و کشادگی کے طرح طرح کے پیرا یوں میں ڈھل جاتا ہے۔یہ اس نوع کی شعریات کی ایک خاص جہت ہے جس پر توجہ ضروری ہے۔
اقرار باللسان اپنی جگہ لیکن جیسا کہ ہم دیکھتے آئے ہیں ، غالب تک پہنچتے پہنچتے ہندوستان میں وجودی خیالات اور تصوف میں خاصی توسیع ہو چکی تھی۔تصوف ملک کے طول و عرض میں رائج تو تھا ہی، چونکہ شاعری کی روح و رواں بھی تھا، عشقیہ شاعری میں حسن و نشاط ، جنون و ہوش، ذوق و شوق، سوز و ساز، فنا و بقا سب اسی کے فیضان ِ جاریہ سے جڑے ہوئے تھے۔ مقامی اثرات کے تحت تبدیلیاں نہ ہوئی ہوں ، ایسا قرینِ قیاس نہیں۔ شبلی جیسے صاحب الرائے محقق اقرار کرتے ہیں کہ ان خیالا ت کا اصل ماخذ ہندوستان تھا کیوں کہ جب تصوف میں وجودی خیالات کا ظہور ہوا تو سوائے ہندوستان کے اس نوع کے خیالات کہیں اور نہیں پائے جاتے تھے۔‘‘
(صفحہ ۵۳۴)
باوجود اس کے کہ نارنگ نے غالب کی تفہیم میں کوئی بھی کسر نہیں چھوڑی ان کا دعویٰ یہ قطعی نہیں ہے کہ انہوں نے تما م گتھیوں کو سلجھا لیا ہے۔ ہر چند کہ ہندوستانی فلسفۂ وجود کو غالب کا فکری محور تسلیم کیا گیا ہے ساتھ ہی اس بات سے انکار بھی نہیں کہ یہ حتمی فیصلہ نہیں ہے۔ تفہیم کی ایک صورت یہ بھی ہے۔اب ایک قاری کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ ان باتوں کا کیا فائدہ ۔ زمانہ بہت ترقی کر چکا ہے ۔ ہم نے سائنسی میدان میں فتوحات کے جھنڈے گاڑ دیے ہیں۔ ایسے میں ان فلسفیانہ نظریات کا کیا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ بحثیں لا یعنی ہیں۔ مغرب دن رات سائنسی ترقی میں زور صرف کر رہا ہے اور ہم غالب کے فلسفے کے عقدوں کو حل کرنے میں لگے ہیں۔ کیا ان کا کوئی فائدہ بھی ہے؟ سائنس اور فلسفے کے مسائل الگ ہیں اور تخلیقِ شعر کا مسئلہ الگ ہے۔ لیکن اتنا الگ بھی نہیں۔اپنی اس کتا ب میں ’اکیسویں صدی کا منظر نامہ اور غالب شعریات ‘ کے عنوان کے تحت پروفیسر نارنگ نے اس مسئلہ پر بھی بحث کی ہے وہ کہتے ہیں :
’’ سائنس شاعری نہیں ہو سکتی، شاعری سائینس نہیں ہو سکتی۔ لیکن فنونِ لطیفہ یا شاعری سے جو جمالیاتی مسرت حاصل ہو تی ہے وہی مسرت کسی سائنسی مسئلہ کو حل کرنے سے بھی حاصل ہوتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ سرحدیں پر اسرار طور پر کہیں نہ کہیں مل بھی جاتی ہیں ۔ حالانکہ تخلیقِ شعر کے مسائل الگ ہیں اور سائنس و فلسفہ کے مسائل الگ ہیں ۔ لیکن کہیں نہ کہیں یہ اتنے الگ نہیں بھی، اور ان کا وجدانی و لا شعوری تفاعل ایک ہو جاتا ہے۔‘‘ (صفحہ ۵۶۳)
اس طرح کے سیکڑوں پر پیچ مسائل پر پُر مغز بحث اس کتاب کی زینت ہے۔ پچھلی ایک صدی میں غالب پر جتنی کتابیں اور جتنے مضامین وجود میں آئے ان میں یہ کتاب ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ یہ کتاب غالب کے اشعار کی تشریح محض نہیں بلکہ غالب کے اشعار کے تہذیبی تفاعل، تھیوری، فلسفہ، معنیاتی نظام، اور اس طرح کے بہت سے راز سے پردا اٹھا تی ہے۔ اس کتاب میں فکرِ غالب کا شاید ہی کوئی ایسا کاش ہو جس سے پر مغز، پر لطف، اور بھر پور بحث نہ کی گئی ہو۔
گوپی چند نارنگ کی یہ کتاب’غالب معنی آفرینی، جدلیاتی وضع، شونیتا، اور شعریات‘ غالب کے بھید بھرے بستے کے مختلف ابعاد پر پر مغز بحث کا دروازہ کھولتی ہے۔
ڈاکٹر انوارالحق
صدر، دی ونگس فائونڈیشن ، نئی دہلی ۔۲۵
٭٭٭
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں۔ |

